بےسامان طالب کی پکار

حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کا عارفانہ کلام (سو سال قبل کے الفضل سے)
مرے ہمراز! بےشک دل محبت کا ہے پیمانہ
ہے اس کا حال رِندانہ تواس کی چال مستانہ
مئے جاں بخش بٹتی ہے جہاں ہے یہ وہ مےخانہ
مگر وہ کیا کرے جس کا کہ دل ہو جائے ویرانہ
نظر آئیں تمنّاؤں کی چاروں سمت میں قبریں
وہ خوش قسمت ہیں جو گر پڑ کے اس مجلس میں جا پہنچے
کبھی پاؤں پہ سر رکھا کبھی دامن سے جا لپٹے
غرض جس طرح بن آیا مطالب اُن سے منوائے
مرے ہمراز !پر وہ پر شکستہ کیا کریں جن کے
ہوا میں اڑ گئے نالے ،گئیں بیکار فریادیں
مرے ہمراز !کہتے ہیں کہ اک شے نور ہوتی ہے
جب آتی ہے تو تاریکی معاً کافور ہوتی ہے
علاجِ رنج و غم ہائے دلِ رنجور ہوتی ہے
طبیعت کتنی بھی افسردہ ہو مسرور ہوتی ہے
مگر ہم کیا کریں جن کے کہ دن بھی ہو گئے راتیں
بجا ہے ساری دنیا میں اک لفظِ ’’میں‘‘ کا ہے نقشہ
جدھر دیکھو چمک اس کی جدھر دیکھو ظہور اس کا
مرے ہمراز! سب دنیا کا کام اس ’’مَیں‘‘ پہ ہے چلتا
مگر ’’مَیں‘‘ بھی تبھی ہوتی ہے جب ہو سامنا تُو کا
بھلا وہ کیا کریں ’’مَیں ‘‘کو جو ان کی یاد سے اُتریں
مرے ہمراز! آنکھیں بھی خدا کی ایک نعمت ہیں
ہزاروں دولتیں قربان ہوں جس پر وہ دولت ہیں
بِنائے جسم میں سچ ہے کہ بابِ علم و حکمت ہیں
مثالِ خضر ہمراہِ طلب گارِ زیارت ہیں
مگر وہ منہ نہ دکھلائیں تو پھر ہم کیا کریں آنکھیں
دلِ مایوس سینہ میں اندھیرا چاروں جانب میں
نہ آنکھیں ہیں کہ رہ پائیں نہ پَر ہیں جن سے اُڑ جائیں
نہ احساسِ انانیت کہ اس کے زور سے پہنچیں
مرے دِلدار! ہم پر بند ہیں سب وصل کی راہیں
سِوااس کے کہ اب خود آپ ہی کچھ لُطف فرمائیں
ہمارے بے کسوں کا آپ کے بِن کون ہے پیارے؟
نظر آتے ہیں مارے غم کے اب تو دِن کو بھی تارے
نہیں دِل اپنے سینوں میں دھرے ہیں بلکہ انگارے
پُھنکے جاتے ہیں سَر سے پاؤں تک ہم ہجر کے مارے
بس اب تو رحم فرمائیں چلے آئیں چلے آئیں!
(منظوم کلام حضرت مصلح موعودؓ اخبار الفضل قادیان۔ ۲۸؍ستمبر۱۹۲۶ء)
مزید پڑھیں: جدھر دیکھو ابرِ گنہ چھا رہا ہے



