افریقہ (رپورٹس)

آئیوری کوسٹ میں ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل کے تحت مسرور سنٹر فار ہیلتھ کیئر کا افتتاح

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہیومینٹی فرسٹ کے شعبہ ہیلتھ کیئر کو ۱۴؍ستمبر ۲۰۲۶ء بروز سوموار آئیوری کوسٹ کے معاشی دارالحکومت آبی جان میں واقع جماعتی مرکز ’مہدی آباد‘ میں مسرور سنٹر فار ہیلتھ کیئر (Masroor Centre for Healthcare) کے افتتاح کی توفیق ملی۔ ہسپتال کی تعمیر کا آغاز چند سال قبل ہیومینٹی فرسٹ ہیلتھ کیئر کے چیئرمین مکرم ماجد خان صاحب کی زیرنگرانی ہوا جبکہ باقاعدہ سنگ بنیاد کی تقریب ۲۷؍نومبر ۲۰۲۱ء کو منعقد ہوئی تھی۔ (رپورٹ سنگ بنیاد کے لیے ملاحظہ ہو الفضل انٹرنیشنل ۱۰؍دسمبر۲۰۲۱ء)

افتتاحی پروگرام میں شرکت کے لیے مختلف ممالک سے مہمانان کرام کی آمد ۹؍ستمبر سے شروع ہوگئی تھی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم موسیٰ میوا صاحب امیر جماعت احمدیہ سیرالیون کی بطور مرکزی نمائندہ شرکت کی منظوری عطا فرمائی تھی۔

فیری ٹرپ:۱۳؍ستمبر کو مہمانان کرام کے لیے فیری ٹرپ کا انتظام کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز صبح ۱۰؍بجے دعا سے ہوا۔ Treichville سے روانگی کے بعد کشتی مختلف مقامات سے گزرتی ہوئی Baie de Milliardaires پہنچی جہاں کچھ وقت قیام کے دوران مہمانان نے آئیوری کوسٹ کے یادگاری تحائف خریدے۔ کشتی میں نماز ظہر و عصر اور ظہرانے کا بھی انتظام تھا۔ پروگرام سہ پہر ۳؍بجے اختتام پذیر ہوا۔

مہمانان کے اعزاز میں عشائیہ:اسی روز شام کو سلور مون ہوٹل، آبی جان میں مہمانان کرام کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت مکرم امیر صاحب سیرالیون نے کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ بعد ازاں مکرم ڈاکٹر شبیر احمد صاحب وائس چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ نے ہسپتال کے منصوبے کے آغاز اور اس کی تکمیل کے مراحل پر روشنی ڈالی۔ مکرم ڈاکٹر مسعودالحسن نوری صاحب نے ہیومینٹی فرسٹ کے تعارف اور خدمت انسانیت کے مختلف منصوبہ جات کا ذکر کیا۔

مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب امیر جماعت احمدیہ جرمنی نے ہسپتال کی عمارت، قدرتی ماحول اور سولر سسٹم کو سراہا جبکہ مکرم محمد بن صالح صاحب امیر و مبلغ انچارج جماعت احمدیہ گھانا نے ہسپتال کی تعمیر کو جماعت احمدیہ کی خدمت انسانیت کی عملی مثال قرار دیا۔ مکرم منیرالدین شمس صاحب مینیجنگ ڈائریکٹر ایم ٹی اے انٹرنیشنل نے ابتدائے احمدیت میں مالی قربانیوں اور موجودہ دور میں خدمت انسانیت کے لیے ہونے والی قربانیوں کا ذکر کیا۔ بعدازاں مکرم عبدالقیوم پاشا صاحب امیر و مبلغ انچارج آئیوری کوسٹ نے ہسپتال کی ضرورت اور اس منصوبے کی تکمیل کے مراحل بیان کیے۔ مکرم مقبول ثانی صاحب نے مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔

عشائیہ کے دوسرے حصے میں ہیومینٹی فرسٹ کی فنڈ ریزنگ کاوشوں کا ذکر کیا گیا۔ ڈاکٹر اسلم داؤد صاحب چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ کینیڈا اور مکرم عزیز حفیظ صاحب چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ یوکے نے اس سلسلے میں ہونے والی مالی قربانیوں اور مشکلات کا ذکر کیا۔ مکرم احمد یحییٰ صاحب چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل نے منصوبے میں تعاون کرنے والے افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کیا اور بالخصوص مکرم وقاص ظفر صاحب سول انجینئر، مکرمہ مریم حیات صاحبہ، مکرمہ لبنیٰ باجوہ صاحبہ اور مکرم جابی مصطفیٰ صاحب کی خدمات کو سراہا۔

پروگرام کے آخری حصے میں مکرم کیپٹن (ر) ماجد خان صاحب، چیئرمین ہیلتھ کیئر ہیومینٹی فرسٹ نے مہمانان کے سوالات کے جواب دیے اور ہسپتال کے لیے ڈاکٹرز کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے خدمت کی دعوت دی۔ مکرم امیر صاحب سیرالیون نے خدمت انسانیت کی اسلامی تعلیمات اور حضرت مسیح موعودؑ و خلفائے کرام کی اس سلسلہ میں کاوشوں کا ذکر کیا۔ دعا کے بعد مہمانان کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا۔

افتتاحی تقریب: ۱۴؍ستمبر کو بعد از دوپہر افتتاحی پروگرام منعقد ہوا۔ شام ۴؍بجے چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ نے ہیومینٹی فرسٹ جبکہ مکرم ڈاکٹر جاہا کواکو الیکسس (Dr. Djaha Kouakou Alexis) صاحب (خواتین و بچگان و خاندان کی وزیر کے خصوصی نمائندہ) نے آئیوری کوسٹ کا پرچم لہرایا۔ بعد ازاں مکرم امیر صاحب سیرالیون نے تختی کی نقاب کشائی کی اور دعا کروائی۔ مکرم ڈاکٹر مسعودالحسن نوری صاحب، آئیوری کوسٹ میں یوکے کے ڈپٹی ایمبیسیڈر مکرم ولیم ٹرنر صاحب اور مکرم محمود اختر صاحب، ایمبیسیڈر آف پاکستان برائے آئیوری کوسٹ، نے ہسپتال کے داخلی راستے پر فیتہ کاٹا۔ اس کے بعد مہمانان کرام کو ہسپتال کا دورہ کروایا گیا۔

ہسپتال کا تعارف:مسرور سنٹر فار ہیلتھ کیئر ۱۰؍ہزار مربع میٹر رقبہ پر قائم ہے جبکہ عمارت ساڑھے ۳؍ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔ ہسپتال میں ایمرجنسی اور عمومی داخلے کے لیے الگ الگ راستے ہیں۔ اس میں دو آپریشن تھیٹرز، ICU، ڈینٹل روم، اینڈوسکوپی سنٹر، ڈسپنسری، کارڈیالوجی، ریڈیالوجی، ایکوگرافی، سات آؤٹ پیشنٹ رومز، میٹرنٹی بلاک، ۱۲؍ان پیشنٹ رومز، ECG روم، سیکیورٹی روم، سردخانہ اور کیفے ٹیریا شامل ہیں۔ مریضوں کی سہولت کے لیے وسیع پارکنگ اور ہسپتال کے سامنے گرین ایریا بھی بنایا گیا ہے۔

ہسپتال کے داخلی دروازے پر ’ڈونر ٹری‘ قائم کیا گیا ہے جس پر اس منصوبے میں حصہ لینے والے افراد کے نام مختلف کیٹیگریز کے تحت درج ہیں۔ ہسپتال میں ۲۵۰؍KVA کا سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے جس میں ۴۰۰؍سولر پینلز شامل ہیں۔ سولر سسٹم کے علاوہ نیشنل بجلی کا نظام اور جنریٹر بھی موجود ہیں۔

ہسپتال کے دورے کے بعد مہمانان مین مارکی میں تشریف لائے۔ تلاوت قرآن کریم اور اس کے فرانسیسی ترجمہ کے بعد مکرم سیّد احمد یحییٰ صاحب نے افتتاحی تقریر کی اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا افتتاح کے موقع پر عطا فرمودہ انگریزی میں پیغام پڑھ کر سنایا جس کا فرانسیسی ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔

بعد ازاں چیئرمین صاحب مسرور سنٹر فار ہیلتھ کیئر نے ہسپتال کے قیام کے مقاصد اور اس کی تکمیل کے مختلف مراحل کا ذکر کیا۔ یوکے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے افریقہ میں برطانیہ کے مختلف منصوبہ جات اور ہسپتال کی تعمیر کو سراہا۔ مکرمہ مادام طورے میمونہ صاحبہ لیگل ایڈوائزر ہیومینٹی فرسٹ آئیوری کوسٹ نے فرانسیسی زبان میں تقریر کی۔ ایمبیسیڈر صاحب پاکستان نے اس منصوبے کو عظیم خدمت انسانیت قرار دیا۔

خواتین و خاندان و بچگان کی وزیر کے نمائندہ مکرم ڈاکٹر جاہا کواکو الیکسس صاحب نے حکومت آئیوری کوسٹ کی جانب سے ہسپتال کی تعمیر پر شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ آخر میں مکرم امیر صاحب سیرالیون نے اپنی تقریر میں اسلام اور جماعت احمدیہ کی خدمت انسانیت کی تعلیمات و خدمات کا ذکر کیا۔ نیز ۱۹۶۰ء میں سیرالیون سے احمدیہ طبی خدمت کے آغاز، نصرت جہاں سکیم کے تحت قائم طبی مراکز اور ہیومینٹی فرسٹ کے گوئٹے مالا و آئیوری کوسٹ کے ہسپتالوں کا ذکر کرتے ہوئے کارکنان کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ دعا کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پروگرام میں ۲۵؍ممالک کی نمائندگی کے ساتھ ۴۰۰؍سے زائد افراد نے شرکت کی۔ مختلف ممالک کے امراء، ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل، یوکے، جرمنی، امریکہ اور کینیڈا کے عہدیداران، آئیوری کوسٹ کی نیشنل عاملہ، مرکزی مبلغین، معلمین، ڈاکٹرز اور احمدی و غیر احمدی احباب شامل تھے۔ سرکاری و دیگر اہم شخصیات میں یوپوگوں کے میئر کے نمائندہ، صدر مملکت کی پروٹوکول ٹیم کے سربراہ، وزارت داخلہ کے دو نمائندگان، آبی جان کے گورنر، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پولیس اور آبی جان کے مختلف علاقوں کے ۷؍قبائلی چیف شامل تھے۔

پروگرام کی تیاریوں میں مکرم ماجد خان صاحب کی صدارت میں مرکزی مبلغین کرام، مکرم وقاص ظفر صاحب سول انجینئر اور ان کی اہلیہ سمیت متعدد کارکنان نے خدمات سرانجام دیں۔ ایم ٹی اے گھانا کی ٹیم نے پروگرام کی لائیو کوریج کی جبکہ ہیومینٹی فرسٹ کے یوٹیوب چینل پر بھی کارروائی براہ راست نشر کی گئی۔ آئیوری کوسٹ کے سرکاری چینلز RTI، NCI اور دیگر میڈیا نمائندگان نے بھی تقریب میں شرکت کی اور ہسپتال کے بارے میں رپورٹس نشر کیں۔

ہسپتال کا 3D ماڈل بھی تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے دنیا بھر میں کہیں سے بھی ہسپتال کا ورچوئل دورہ کیا جاسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس ہسپتال کی تعمیر کو بابرکت فرمائے، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات کے مطابق تمام ڈاکٹرز اور عملہ خلوص و ہمدردی کے ساتھ انسانیت کی خدمت کی توفیق پائے اور یہ ادارہ مریضوں کے لیے شفا کا ذریعہ بنے۔ آمین

(رپورٹ:عبدالنور۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مسرور سنٹر فار ہیلتھ کیئر، آئیوری کوسٹ کے افتتاح کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم

معزز مہمانان کرام

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج کا دن ہیومینٹی فرسٹ کی تاریخ میں ایک عظیم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ آئیوری کوسٹ میں مسرور سینٹر فار ہیلتھ کیئر کا افتتاح کر رہی ہے۔ ہسپتال کے ڈیزائن کے نقشوں کا جائزہ لینے اور عمارت کی تصاویر دیکھنے کے بعد یہ بات واضح ہے کہ اللہ کے فضل سے یہ نیا ہسپتال جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہے اور اس میں آئیوری کوسٹ، بلکہ یقیناً پورے افریقہ میں طبی برتری کا ایک نمایاں مرکز بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ انشاء اللہ

بہرحال، جدید طبی آلات اور ٹیکنالوجی سے آراستہ ایک متاثر کن عمارت بذات خود اس ہسپتال کے مقاصد کو پورا نہیں کر سکتی۔ بلکہ یہ ہسپتال اپنے حقیقی مقاصد تب ہی پورے کرے گا جب اس کے تمام ڈاکٹرز، نرسیں، منتظمین اور معاونین کا عملہ خلوص دل، محبت، ہمدردی اور انسانی مصائب کو دور کرنے کی شدید خواہش کے ساتھ خود کو ہر اس مریض کی خدمت کے لیے وقف کر دیں جو اس کے دروازوں سے داخل ہوتا ہے۔

در حقیقت، ضرورت مندوں کی خدمت کا یہ عظیم الشان وژن ہی وہ بنیادی سنگ بنیاد ہے جس پر جماعت احمدیہ مسلمہ نے دنیا بھر میں ہسپتال اور کلینکس قائم کیے ہیں۔ اگرچہ ہیومینٹی فرسٹ ایک آزاد خیراتی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے، لیکن یہ ہمیشہ جماعت احمدیہ سے منسلک رہی ہے اور انسانیت کی خدمت کے اس کے مشن سے گہرا اثر قبول کرتی ہے۔

لہٰذا میری دلی امید اور توقع ہے کہ اس ادارے کے تمام ڈاکٹرز، منتظمین اور عملہ تمام مریضوں کی خدمت غیرمتزلزل جذبہ ہمدردی، محبت اور لگن کے ساتھ کریں گے۔ اس کے علاوہ انہیں ہمیشہ مریضوں کو علاج معالجے اور مہارت کا بہترین معیار فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ہسپتال کی خدمات اور علاج تمام لوگوں کے لیے قابل رسائی اور سستے ہوں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کے پاس وسائل کی کمی ہے۔

دوسروں کی خدمت کرنے کی ہماری خواہش اور عزم کا براہ راست سرچشمہ بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، جنہیں احمدی مسلمان مسیح موعود اور امام الزماں تسلیم کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اپنے خالق کے قریب لانے اور اس کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کے بنیادی مقاصد کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا۔

یقیناً آپؑ کے مشن کے بنیادی حصے میں انسانیت کی خدمت اور غربت، محرومی یا کسی بھی طرح سے کمزور لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنا شامل ہے۔ چنانچہ آپؑ کی تمام زندگی میں نزدیک و دور سے لوگ آپؑ کی مدد اور مختلف بیماریوں سے شفا حاصل کرنے کے لیے آپؑ کے پاس آتے تھے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ کون تھے یا کہاں سے آتے تھے آپ علیہ السلام نے سب کے ساتھ یکساں شفقت اور دیکھ بھال کا سلوک فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے ان مصیبت زدہ افراد کو دوائیں بھی فراہم کیں اور ذاتی طور پر ایسی ادویات منگوا کر دیں جو بآسانی دستیاب نہیں ہوتی تھیں تاکہ ان کی تکلیف کو دور کیا جا سکے۔

یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تمام تر زندگی اور اسوہ آپؑ کی اس بے قراری اور دلی خواہش کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ ان تمام لوگوں کی مدد کی جائے جو تکلیف میں ہیں، بالخصوص وہ جو غریب اور محروم ہیں۔ لہٰذا جماعت احمدیہ کے آغاز ہی سے دوسروں کے درد کو دور کرنا اس کا ایک بنیادی مقصد رہا ہے اور یہی ہیومینٹی فرسٹ کے لیے راہنما اصول رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا کے بعض دور دراز قصبوں اور دیہاتوں میں ہسپتال اور کلینک بناتے رہتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ہیومینٹی فرسٹ نے اب آئیوری کوسٹ میں یہ شاندار نیا ہسپتال قائم کیا ہے۔

انشاءاللہ یہ ہسپتال اس وقت تک پھلے پھولے گا اور بے شمار برکات سے نوازا جائے گا جب تک اس میں خدمت کرنے والے تمام افراد انسانیت کی بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار رہیں گے۔ اگر محبت، عقیدت اور دوسروں کی خاطر قربانی دینے کا یہ جذبہ غالب رہے گا تو ہی یہ ہسپتال اپنے مشن کو پورا کرے گا اور آئیوری کوسٹ اور اس سے آگے کے لوگوں کے لیے امید اور خدمت کا ایک تاریخی اور سنگ میل ادارہ بنے گا۔ انشاء اللہ

آخر میں مَیں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس عظیم الشان منصوبے میں خدمات انجام دیں یا اپنا تعاون پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو برکت اور جزا سے نوازے۔ آمین

اس کے علاوہ، اللہ تعالیٰ تمام ڈاکٹروں، نرسوں اور عملے کو اس ہسپتال میں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس نئے ادارے کو بے پناہ وسعت اور مسلسل کامیابیوں سے نوازے۔ اللہ کرے کہ یہ ادارہ اپنے عظیم مقاصد کو سمجھے اور بنی نوع انسان کے لیے امید اور شفا کی حقیقی کرن بن جائے۔ آمین

مزید پڑھیں: مجلس انصاراللہ فرانس کا اکتیسواں سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button