کیا عصر کے بعد نماز کسوف ادا کرنا جائز ہے؟
(سرفراز احمد۔ مربی سلسلہ شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ آنحضورﷺ نے بڑے واضح الفاظ میں اپنی امت کو یہی ارشاد فرمایا ہے کہ عصر اور مغرب کے درمیانی وقت میں نماز ادا نہ کی جائے
نوٹ: کچھ ہفتے قبل برطانیہ میں کسوف ہوا اور اس پر یہ بحث چل نکلی کہ نماز عصر کے بعد نماز کسوف کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اس پر خاکسار کو کچھ تحقیق کرنے کا موقع ملا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ سے ہمیں یہ علم عطا فرمایا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں ضرور عقل مندوں کے لیے نشان ہیں۔ اور ساتھ یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جسمانی اور روحانی عالم میں ایک خاص مطابقت ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا اقرار کرنا ضروری ہے کہ کسوف و خسوف، جو کہ قانون قدرت کے تحت نمودار ہوتے ہیں، جسمانی تاثیرات کے ساتھ ساتھ روحانی تاثیرات کے بھی مظہر ہوتے ہیں۔
آنحضور ﷺ کی سنت سے یہ بات ثابت ہے کہ کسوف و خسوف کے وقت رسول کریم ﷺ نماز ادا کرتے تھے۔ نیزاحادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے اس موقعہ پر فرمایا صحابہ کرامؓ کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا: فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهٖ وَدُعَائِهٖ وَاسْتِغْفَارِهٖ۔ (صحیح البخاری کتاب الکسوف باب الذکر فی الکسوف۔ شرح بخاری جلد۲ صفحہ ۴۶۳) یعنی جب تم ایسا دیکھو تو (اللہ تعالیٰ کے) ذکر کرنے اور اس سے دعا مانگنے اور مغفرت چاہنے کے لیے مضطرب ہوکر لپکو۔
حالیہ دنوں کے کسوف کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ نماز ہر حال میں واجب الادا ہے، خصوصاً ایسے اوقات میں بھی جن میں عام طور پر نماز پڑھنے کی مناہی ہے؟ اس مضمون کو سمجھنے کے لیے احادیث مبارکہ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اور آپؑ کے خلفاء کے طرز عمل سے راہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔
اوقات ممنوعہ اور مکروہہ میں فرق
احادیث کی رو سے نماز ادا نہ کرنے کے واسطے تین اوقات ایسے ہیں کہ جن میں ہر قسم کی نماز منع ہے۔ یہ اوقات اپنے دورانیہ کے لحاظ سے بہت معمولی ہیں یعنی پانچ سے دس منٹ پر محیط ہوتے ہیں۔ اور وہ اوقات یہ ہیں:
۱۔ جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ طلوع ہو جائے۔
۲۔ دوپہر کے وقت جب سورج عین نصف النہار پر ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے۔ سوائے جمعہ کے روز کہ اس کا استثناء احادیث میں بیان ہوا ہے۔ (سنن ابی داؤد کتا ب الصلاۃ بَاب الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الزَّوَالِ)
۳۔ جب سورج غروب ہو رہا ہو یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔ (صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا بَاب الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ الصَّلَاةِ فِيهَا)
جبکہ اوقات مکروہہ دو ہیں۔نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک۔اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک۔ ان اوقات میں نوافل پڑھنا منع ہے۔ (صحیح بخاری کتاب فضل الصلاۃ باب مسجد بیت المقدس۔ شرح بخاری جلد ۲صفحہ۵۷۴) (صحیح بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ بَاب الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ۔ شرح بخاری جلد۱ صفحہ۶۷۷)
نماز کسوف و خسوف کیونکہ ایک نفلی نماز ہے، اس لیے اگر سرسری نظر سے ہی اس معاملہ کا جائزہ لیا جائے تو عصر کے بعد اس کا ادا کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں یہ بھی بات قابل غور ہے کہ آنحضور ﷺ نے جو اس وقت دعا، استغفار اور ذکر الٰہی کی تاکید فرمائی ہے، اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسوف ایسے وقت میں ہو جس میں نماز ادا کرنا منع ہو تو ایسے موقع پر ذکر الٰہی وغیرہ کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔
غور طلب امور: بعض قارئین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ بعض نفل نمازوں کی عصر کے بعد ادائیگی سے یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ شائد شریعت میں نماز عصر کے بعد نماز کسوف کے ادا کرنے کا بھی کوئی جواز ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل امور قابل غور ہیں:
۱۔ روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ آنحضور ﷺ نے عصر کی نماز کے بعد چند ایام باقاعدگی سے نوافل ادا کیے۔
۲۔ عصر کے بعد نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے۔
۳۔ بعض صحابہ کرامؓ اور فقہاء نے عصر کے بعد طواف کے دو نوافل ادا کرنے کو جائز سمجھا ہے۔
یہ ایسے سوالات ہیں جو بعض ذہنوں میں پیدا ہو سکتے ہیں، لہٰذا ان سوالات کی قدرے تفصیل بیان کردینا ضروری ہے۔
آنحضور ﷺ کا نماز عصر کے بعد دو نوافل ادا کرنا
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ آنحضورﷺ نے بڑے واضح الفاظ میں اپنی امت کو یہی ارشاد فرمایا ہے کہ عصر اور مغرب کے درمیانی وقت میں نماز ادا نہ کی جائے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْح حَتّٰى تَشْرُقَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ۔ (صحیح بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ بَاب الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ۔ شرح بخاری جلد۱ صفحہ۶۷۸) یعنی آپ ﷺ نے فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔
نیز حضرت ابو سعید الخدریؓ سے بھی روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ۔ (صحیح بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ بَاب الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ۔شرح بخاری جلد۱ صفحہ۶۸۰)یعنی عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں ہوتی۔
یہ روایات حضرت ابو سعید الخدریؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت معاویہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہیں جس سے ثابت ہے کہ کبار صحابہؓ نے آنحضور ﷺ کے اس فرمان کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔
اس تناظر میں جب ہم ان روایات کو سامنے رکھیں جن میں حضور ﷺ کے عصر کے بعد نوافل ادا کرنے کا ذکر ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آنحضور ﷺ کا ذاتی فعل تھا جسے آپﷺ نے اپنی امت کے لیے پسند نہیں فرمایا۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتّٰى لَقِيَ اللّٰهَ، وَمَا لَقِيَ اللّٰهَ تَعَالٰى حَتّٰى ثَقُلَ عَنِ الصَّلَاةِ، وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهٖ قَاعِدًا تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَلَا يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثْقِلَ عَلٰى أُمَّتِهٖ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ۔ (صحیح البخاری كتاب مواقيت الصلاة باب ما يصلّى بعد العصر من الفوائت ونحوها۔ شرح بخاری جلد صفحہ۶۸۱) یعنی اس ذات کی قسم جو آپ ﷺ کو لے گیا ہے، آپ ﷺ نے وہ دو رکعتیں نہیں چھوڑیں یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے نہیں ملے جب تک کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے مجبور نہیں ہوگئے اور آپؐ اپنی بہت سی نمازیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ یعنی عصر کے بعد کی دو رکعتیں اور نبی ﷺ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ مسجد میں ان کو نہیں پڑھتے تھے۔ اس خوف سے کہ امت پر بوجھ ڈال دیں گے اور آپ وہ بات پسند کرتے تھے جوان سے (بوجھ کو) ہلکا کرے۔
اس روایت سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نماز عصر کے بعد کے نوافل مسجد میں نہیں ادا کرتے تھے اور انہیں اپنی امت کے لیے پسند نہیں فرماتے تھے جو کہ الفاظ مَخَافَةَ أَنْ يُثْقِلَ عَلٰى أُمَّتِهٖ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ سے ظاہر ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ازواج مطہرات (یعنی حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ) ان نوافل کا ذکر کرتی ہیں جنہیں آنحضورﷺ کی گھریلو زندگی کا زیادہ علم تھا۔ جبکہ عصر کے بعد نماز سے منع کرنے والی روایات کے راوی مرد صحابہؓ ہیں۔
اسی طرح حضرت ام سلمہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا عبدالقیس کے لوگوں نے مجھے ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے نہیں دیں، (وہ میں نے اب ادا کی ہیں)۔ (صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ مِنَ الْفَوَائِتِ وَنَحْوِهَا۔شرح بخاری جلد ۱ صفحہ۶۸۱)
لہٰذا حضورﷺ کے اس ذاتی فعل کوجسے آپؐ نے صرف اپنے گھرمیں کیا اور جسے آپؐ نے اپنی امت کے لیے ناپسند فرمایا، بنیاد بنا کر آپؐ ہی کے ایک واضح حکم کو ترک کردینا کسی لحاظ سے بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔
شریعت کی بنیاد اطاعت ہے
حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ نے اپنی شرح بخاری میں ان روایات کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے: خلاصہ یہ کہ اس لطیف ترتیب سے روایات کا اختلاف رفع کیا ہے۔ عصر کے بعد دو رکعتیں نبی ﷺ نے اپنے لیے خاص رکھی ہیں جو مسجد میں نہیں بلکہ گھر میں آپ پڑھا کرتے تھے۔ مَخَافَةَ أَنْ يُثْقِلَ عَلٰى أُمَّتِهٖ وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُم (روایت نمبر ۵۹۰) اس سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد نفلی نماز پڑھنا حرام نہیں بلکہ مکروہ ہے اور اس کراہیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی امت کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہا۔ پس نبی ﷺ اگر اچھی بات سے بھی روکیں تو ادب اسی میں ہے کہ انسان اس اچھی بات سے بھی رُک جائے۔ کیونکہ دین کی اصل روح اطاعت ہے نہ اعمال کی کثرت۔
عصر کے بعد جنازہ پڑھنا
جہاں تک نماز جنازہ کا سوال ہے تو یہ نماز عرف عام کی نماز کی طرح نہیں بلکہ مرحومین کے لیے دعائے مغفرت ہے۔ اس کے لیے عربی زبان میں صلّی علی کی ترکیب استعمال ہوتی ہے (الصلاة علی الجنازة) جس کے معنی موقع اور محل کے مطابق بیان کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا۔ (الاحزاب: ۵۷) اللہ یقیناً اس نبی پر اپنی رحمت نازل کر رہا ہے اور اس کے فرشتے بھی (یقیناً اس کے لیے دعائیں کر رہے ہیں پس) اے مومنو! تم بھی اس نبی پر درود بھیجتے اور ان کے لیے دعائیں کرتے رہا کرو اور (خوب جوش و خروش سے) ان کے لیے سلامتی مانگتے رہا کرو۔
اس آیت میں دو مرتبہ یہ ترکیب استعمال ہوئی ہے لیکن کہیں بھی اس کا ترجمہ ’’نماز پڑھنا‘‘ نہیں ہے۔ اس طرح کی اور بھی آیات قرآن کریم میں موجود ہیں۔ (ملاحظہ ہو الاحزاب:۴۴، البقرة:۱۵۸، التوبة:۱۰۳)
لغت سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ مفردات القرآن میں حضرت امام راغب اصفہانیؒ فرماتے ہیں: بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے، تحسین و تبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں۔ چنانچہ محاورہ ہے صلّیتُ علیہ (یعنی) میں نے اسے دعا دی، نشو نما کی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے۔ إذا دُعي أحدكم إلى طعام فليجب وإن كان صائماً فليصلّ یعنی جب کسی کو کھانے پر بلایا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرے، اگر روزہ دار ہے تو دعا کرے۔ (مفردات القرآن اردو ترجمہ از مولانا محمد عبدہ فیروزپوری جلد ۲ صفحہ ۲۸)
احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریمﷺ نے بھی جنازہ کے متعلق صلّی علی کی ترکیب استعمال فرمائی ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری کتاب الجنائز میں زیرعنوان باب سنۃ الصلاۃ علی الجنائز حضرت امام بخاریؒ تحریر فرماتے ہیں: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ؟ وَقَالَ: صَلُّوا عَلٰى صَاحِبِكُمْ وَقَالَ: صَلُّوا عَلَى النَّجَاشِيِّ۔ یعنی نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے جنازہ کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کی اور فرمایا اپنے ساتھی کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کرو۔ نیز فرمایا نجاشی کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کرو۔
پس حضور ﷺ نے بھی جنازہ کے لیے صلّی علی کے الفاظ ہی استعمال فرمائے ہیں اور صلاۃُ الجنازۃ کی ترکیب استعمال نہیں فرمائی۔ البتہ محدثین نے احادیث کی تبویب کرتے ہوئے صلاۃُ الجنازۃ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
علماء و فقہاء کا بھی اس معاملہ میں اختلاف ہے۔ (ملاحظہ ہو شرح صحیح البخاری، جلد دوم صفحہ ۶۹۸)
جنازہ پڑھنے کے متعلق ایک اور اہم بات یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس کے جلد ادا کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے مجھے فرمایا: ’’یا علی ثلاث لاتؤخرھن، الصّلٰوۃ اذا اتت والجنازۃ اذاحضرت والایم اذاوجدت لھاکفوا۔‘‘ (سنن الترمذی کتاب الصلوۃ، باب ما جاء فی الوقت الاول) یعنی اے علی !تین چیزوں میں دیر نہ کرنا۔ نماز جب اس کاوقت ہو جائے، جنازہ جب حاضر ہو، بیوہ کی شادی جب اس کا کفو مل جائے۔
حضورﷺ کے اس فرمان میں حکمت یہ ہے کہ کسی کی وفات کے بعد کا وقت مرحوم کے لواحقین کے لیے ایک نازک اور ہم و غم کا وقت ہوتا ہے۔ اس لیے تدفین کے انتظامات، رشتہ داروں اور افسوس کرنے والوں کی آمد اور واپسی کے پیش نظراسے جلد ادا کرنے کی ہدایت فرمائی اور اس کی ادائیگی میں اوقات مکروہہ کی پابندی نہیں لگائی گئی۔ نیز یہ بات بھی اس میں قابل غور ہے کہ اس میں کوئی رکوع یا سجدہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ عرف عام کی نماز سے مختلف ہے اور اس کا مقصد مرحوم کے لیے دعائے مغفرت ہی ہے۔ اس لیے نماز جنازہ کی مکروہہ اوقات میں ادا کرنے کی اجازت سے نماز کسوف کو مکروہہ اوقات میں ادا کر لینے کا جواز پیدا کر لینا درست نہیں۔
طواف کے دو نوافل
مکروہ اوقات میں طواف کے بعد کے دو نوافل ادا کرنے کے متعلق اگرچہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن کبار صحابہؓ کا طریق ہمیں یہی ملتا ہے کہ وہ فجر کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک ان نوافل کو مؤخر کر دیتے تھے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عمرؓ طواف کی دو رکعت اس وقت تک نہ پڑھتے جب تک کہ سورج نہ نکلتا۔ اور حضرت عمرؓ نے صبح کی نماز کے بعد طواف کیا۔ پھر آپؓ سوار ہوئے اور یہ دو رکعتیں(سورج طلوع ہونے پر) ذی طویٰ میں پہنچ کرپڑھیں۔
اسی طرح حضرت عائشہؓ کے ایک ارشاد سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھی مکروہ اوقات میں ان نوافل کا پڑھنا ناپسند فرماتی تھیں۔ (صحیح بخاری کتاب الحج بَاب الطَّوَافِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ۔ شرح بخاری جلد۳ صفحہ۳۰۷)
پس ان نوافل کی مکروہہ اوقات میں ادائیگی کے بارے میں واضح اختلاف موجود ہے، لہٰذ اس اختلافی عمل کو نماز کسوف کے عصر کے بعد پڑھنے کی دلیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
باقی ہو سکتا ہے کہ کوئی کہے کہ حج کے موقعہ پر بھی تو طواف کے یہ نوافل عصر کے بعد ادا کیے جاتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ حج ایک خاص عبادت ہے، جس کے مناسک عام حالات سے مختلف ہیں اور جس میں اعلیٰ دینی اغراض کی خاطر نیز امت میں ایک وحدت پیدا کرنے کے لیے عام دستور عمل سے ہٹ کر بعض احکام موجود ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں مذکورہ صیدالبر یعنی زمینی شکار کی حرمت کا جو حکم ہے وہ عام حالات سے ہٹ کر ہے۔ اسی طرح ان دنوں میں اگر طواف کے نوافل اوقات مکروہہ میں پڑھے جائیں تو یہ حج کے ساتھ کا ایک خاص عمل ہے، جسےعام حالات کے لیے حجت نہیں قرار دیا جا سکتا۔
فقہاء کا موقف
حنفی فقہ کی کتابوں میں بالاتفاق حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا اس معاملہ کے متعلق یہ واضح فیصلہ موجود ہے کہ مکروہ اوقات میں نماز کسوف ادا نہیں کی جاتی۔ چنانچہ علامہ السرخسی کی کتاب المبسوط میں امام موصوف کا قول درج ہے کہ (قَالَ): وَلَا يُصَلَّى الْكُسُوفُ فِي الْأَوْقَاتِ الثَّلَاثَةِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ لِأَنَّهَا تَطَوُّعٌ كَسَائِرِ التَّطَوُّعَاتِ۔ یعنی نماز کسوف اوقات مکروہ میں ادا نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ باقی نوافل کی طرح ایک نفلی نماز ہے۔ (المبسوط، كتاب الصلاة، باب صلاة الكسوف ۲/۷۶)
اس کا ذکر امام الکاسانی کی کتاب بدائع الصنائع میں بھی ملتا ہے۔ احناف کی کتب سے امام ابو حنیفہ کا یہ موقف بغیر کسی اختلاف کے ثابت ہے۔ بلکہ احناف کے اس مسلک کا ذکر علامہ ابن عبد البر نے اپنی کتاب ’’ التمھید‘‘ میں بھی فرمایا ہے۔
مالکی اور حنبلی فقہ میں اگرچہ ابتدائی زمانہ میں اس مسئلہ کے بارہ میں اختلاف نظر آتا ہے لیکن بعد کے زمانہ میں ان آئمہ کے شاگروں کی اکثریت نے نماز کسوف مکروہ وقت میں نہ ادا کرنے کے موقف کو اپنایا۔ مذاہب اربعہ میں سے صرف شافعی مذہب کے پیروکار اسے اوقات مکروہہ میں واجب الاداء سمجھتے ہیں۔
اصحاب احمد کی ایک روایت میں نماز ظہر وعصر جمع کرنےکے بعد نماز کسوف ادا کرنے کی بابت ایک روایت ملتی ہے۔ چنانچہ حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ اپنی ۲۲؍جنوری ۱۸۹۸ء کی ڈائری میں تحریر فرماتے ہیں: اس کے بعد نماز کسوف کے لیے جامع مسجد گئے۔ پہلے نماز ظہر اور عصر ملا کر پڑھی گئیں پھر نماز کسوف ہوئی اور جس درد اور آہ وزاری کے ساتھ یہ نماز پڑھی گئی وہ ایک عجیب تھی اور پھر قریب اختتام کسوف نماز شکر یہ پڑھی گئی۔ آج قریباً تمام دن عبادت میں گزرا۔ مخالفوں کو یہاں آکر دیکھنا چاہیے کہ آیا ان کی مخالفت چاہیے یا نہیں۔(اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۵۱۸)
حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کی اس روایت کی تائید میں ہمیں کسی اَور صحابی کی نہ روایت ملی ہے اور نہ ہی ملفوظات، اخبار بدر، اخبار الحکم یا تاریخ احمدیت میں اس نماز کسوف کی ادائیگی کے بارہ میں کوئی بات ہے کہ اس روز قادیان میں واقعی نماز عصر کے بعد کسوف کی یہ نماز پڑھی گئی۔ پھر اس روایت میں یہ بھی ذکر نہیں کہ اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس نماز میں شرکت فرمائی ہو۔ اس لیے یہ ساری باتیں بھی قابل غور ہیں۔
اسی طرح اگرعمومی طور پر نماز کسوف کی ادائیگی کی بات کی جائے تو ۱۴؍جنوری ۱۹۰۷ء کو بھی قادیان میں نماز کسوف ادا کی گئی تھی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ نے یہ نماز پڑھائی تھی اور اس میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شمولیت کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ (خطبات نور، صفحہ ۲۴۲)جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ضروری نہیں کہ امام وقت ہی ہر نماز کسوف کی امامت کروائیں یا اس میں شامل ہوں۔
حضرت مصلح موعودؓ کا موقف
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ایک ایسے کسوف کا ذکر ملتا ہے جو رمضان میں اور عصر کی نماز کے بعد ہوا۔ یہ واقعہ الفضل کے ۲۳؍اگست ۱۹۱۴ء کے شمارہ میں شائع شدہ ہے۔ لکھا ہے: حضرت صاحبزادہ عالیمقام کی طبیعت جمعہ کے روز نسبتاً زیادہ ناساز تھی۔ مگر جمعہ حضورؓ نے خود ہی پڑھا۔ خطبہ میں موجودہ جنگ کا ذکر کر کے گورنمنٹ کے ساتھ عہد وفاداری نبھانے اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی۔…
جمعہ کے روز ۲/۱-۶(یعنی ساڑھے چھ)کے قریب سورج گرہن ہوا۔ نماز کسوف نہیں پڑھی گئی۔ استغفار و صدقہ کے ارشاد کی تعمیل ہوئی۔ (الفضل قادیان نمبر۲۹، جلد۲، مؤرخہ ۲۳ اگست ۱۹۱۴ء صفحہ ۱)
ممکن ہے کہ اس واقعہ کے متعلق کوئی یہ بات کرے کہ حضورؓ کی طبیعت ناساز تھی، اس لیے حضورؓ نے نماز نہیں پڑھائی تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضورؓ سخت علالت کے باوجود اپنی دینی ذمہ داریوں کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ چنانچہ اسی جگہ سورج گرہن کی خبر سے ایک خبر پہلے یہ درج ہے کہ علالت کے باجود نماز جمعہ آپؓ نے پڑھائی اور خود خطبہ ارشاد فرمایا۔ نیز اگر واقعتاً آپؓ نے علالت کہ وجہ سے یہ نماز نہیں پڑھائی تو آپؓ اس کے لیےکسی دوسرے کو بھی امام مقرر فرما سکتے تھے جو احباب جماعت کو یہ نماز پڑھا دیتا۔ لیکن چونکہ آپؓ کے نزدیک عصر کے بعد یہ نماز نہیں ہو سکتی تھی اس لیے آپؓ نے آنحضورﷺ کے ایک دوسرے ارشاد کی تعمیل میں دعا و استغفار کرنے اور صدقہ دینے کا ارشاد فرمایا۔
صدقہ اور استغفار کا اشاد بھی دراصل آنحضورﷺ کا ہی ہے، جس کا اوپر ذکر گزر چکا ہے اور آپؓ نے اس موقعہ پر جماعت کی توجہ اس ارشاد کی طرف کروائی تا کہ یہ بات بھی واضح ہو کہ اگر نماز والی سنت پوری نہیں ہو سکتی تو عند الکسوف باقی سنن پر عمل کیا جائے۔
حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی راہنمائی
جب یہ معاملہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش ہوا تو حضور انور نے بھی یہی فیصلہ فرمایا کہ نماز عصر کے بعد نماز کسوف کا ادا کیا جانا جائز نہیں۔ اس لیے یہاں برطانیہ میں یہ نماز ادا نہیں کی گئی۔
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ فیصلہ آنحضورﷺ کے واضح ارشادات، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعودؓ کےطرز عمل اور فقہاء کی اکثریت کے فتاویٰ کے عین مطابق ہے۔
ہمیں بحیثیت احمدی مسلمان یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ قائم ہونے والی خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی بابرکت نعمت ہمیں میسر ہے، جس کی برکت سے ہمیں اپنے ایسے معاملات حل کرنے کے لیے کافی و شافی راہنمائی میسر ہے۔ پس ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم حضور ﷺ کے اس فرمان کہ إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهٖ وَيُتَّقٰى بِهٖ یعنی امام تو ایک ڈھال ہے۔ جس کے پیچھے ہو کر لڑا جاتا ہے اور جس کے ذریعہ بچا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری، كتاب الجهاد والسير، باب : يُقَاتَلُ مِنْ وَرَاءِ الْإِمَامِ وَيُتَّقَى بِهِ۔ شرح بخاری جلد۵ صفحہ۳۱۰) پر عمل کرتے ہوئے اس نعمت عظمیٰ سے بھرپور استفادہ کریں اور اس بابرکت پناہ کے نتیجہ میں اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی حفاظت کے سامان کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
مزید پڑھیں: تورات اور بائبل میں جنگ کی تعلیمات اور اسلام سے ان کا موازنہ




