مرزا صاحبؑ ۔ قادیان
(محمد اشرف کاہلوں۔ آسٹریلیا)
مولانا ابوالکلام آزاد کے سفرِ قادیان کا ذکر ان کی زبانی
مولانا ابوالکلام آزاد صاحب گہرے فکر و نظر کے مالک اور صاحب علم و دانش انسان تھے۔ اوائل عمری میں سر سید کی تقلید اور متجسس روح انہیں کشاں کشاں قادیان لے گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کی۔ آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ذات و شخصیت اور عالی صفات کی خاکہ نگاری کو سپرد الفاظ و قلم کیا ہے وہ ذاتی دیدونگاہ کے بدوں نہیں
’’وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھااور زبان جادو۔ وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔ جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ جسکی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جسکی مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔ وہ شخص محض مذہبی دنیا کے لیے تیس سال زلزلہ اور طوفان رہا۔ جو شور قیامت ہوکر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا،خالی ہاتھ دنیا سے چلا گیا۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے اور مٹانے کے لیے اسے امتداد زمانہ کے حوالہ کر کے صبر کیا جائے۔ ایسے لوگ جن سے مذہبی یاعقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔ یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کرکے دکھا جاتے ہیں۔‘‘
یہ مولانا ابوالکلام آزاد صاحب کے وہ تحسین آفرین اور خراج عقیدت کے حقیقت افروز الفاظ ہیں جو موقر جریدہ وکیل امرتسر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے موقع پر شائع کیے گئے۔ آپ ایک مرتبہ بنفس نفیس قادیان تشریف لائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بسلسلہ کانگڑہ زلزلہ مع رفقاء باغ میں قیام پذیر تھے۔ کانگڑہ کا زلزلہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کو آیا تھا۔ یہیں آپ کو شرف ملاقات حاصل ہوا۔ واقف حال ہوئے۔ سفر قادیان اور قیام قادیان کا احوال ایک کتاب ’’آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی بروایت جوش ملیح آبادی‘‘ میں بیان ہیں۔ طباعت۔ اعتقاد پبلشنگ ہاوس پرائیویٹ لمیٹڈ دہلی۔ ۲۰۰۸ءہے۔ ای میل: info@ategad.com ہے۔
کتاب کی تالیف کا پس منظر یوں ہے کہ ۱۹۲۱ء میں مولانا آزاد اور جوش ملیح آبادی صاحب دونوں جیل میں تھے اور ان کے اصرار پر مولانا صاحب برجستگی کے انداز میں واقعات بیان کرتے اور یہ لکھتے جاتے۔ اور رات اس مسودہ کی نوک پلک درست یہ کرتے۔ اس طرز پر ’’تذکرہ‘‘ کی جلد ثانی تیارہوگئی۔ مؤلف نے عنوان بالا کے تحت مولانا آزاد کے سفر قادیان کو رقم کیا ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ سفر پنجاب کے دوران قادیان بھی گیا۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم کے دعاوی اور بعض رسالے دیکھ چکا تھا۔ طبیعت میں ہر نئی بات کے تجسّس اور واقفیت کا شوق تھا ہی، خیال ہوا کہ انہیں بھی دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ بٹالہ گیا اور وہاں سے قادیان روانہ ہوا۔ سخت گرمی شروع ہوچکی تھی اور سڑک بالکل کچی تھی۔بڑی تکلیف ہوئی۔
وہاں پہنچا تو قصبے کے باہر ایک باغ میں اتاراگیا۔ معلوم ہوا کہ مرزا صاحب اور انکے وابستہ اشخاص یہیں مقیم ہیں۔ اس سال مشہور کانگڑہ کا زلزلہ آیا تھا اور اس کے بعد عرصہ تک کچھ کچھ وقفے کے بعد زلزلوں کا ظہور ہوتا رہا۔ یہ زیادہ نقصان رساں نہ تھے لیکن آئندہ کے لیے کھٹکا پیدا ہو گیا تھا۔ زلزلے ہی کی وجہ سے مرزا صاحب عمارات چھوڑ کر باغ میں آگئے تھے۔ شام کو مغرب کے بعد پہنچا۔ یکے والا مرزا صاحب کا مرید تھااس لیے وہ ٹھیک منزل مقصود پرلے گیا۔ انجمن کے جلسے میں قادیان کے کئی شخصوں سے ملاقات ہوگئی تھی انہی میں مولوی یعقوب علی ایڈیٹر ’’الحکم‘‘ بھی تھے۔ انہوں نے بڑا اصرار کیا تھاکہ قادیان جاؤں اور وعدہ لیا تھا کہ روانگی سے قبل پہلے اطلاع دے دینا لیکن میں نے کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔
ایک درخت کے نیچے چارپائی پر مولوی عبد الکریم مرحوم بیٹھے تھے، میں نے ان کی بیساکھی سے جو پاس پڑی تھی پہچان لیاکہ مولوی عبد الکریم یہی ہیں کیونکہ میں پہلے سن چکا تھا۔ ان کے بعض عزیز والدمرحوم کے مرید تھے اور کلکتے میں ذکر کیا کرتے تھے۔ میں ان سے ملا اور اپنے آنے کا مقصدمرزا صاحب سے ملاقات بتلایا۔ وہ بڑے اخلاص سے ملے اور فوراً لوگوں سے کہا کہ میرے لیے کھانا لے آئیں اور کہا کہ اکرامِ ضیف تو ہمارا فرض ہے۔ میں یکے کے سفراور کچی سڑک کی وجہ سے ہچکولوں سے بالکل چور ہورہا تھا۔ عشاء کی نماز مولوی عبد الکریم کے پیچھے پڑھ کر ایک درخت کے نیچے چارپائی پر لیٹ گیا اور صبح چاربجےاٹھا تو نماز کے چبوترے پر لوگوں کو نماز صبح کے لیے تیار پایا اور اس سے طبیعت متاثر ہوئی۔ نماز کے بعد مرزا صاحب باہر نکلے اور ایک چارپائی پر بیٹھ گئے۔ معتقدین نے ہر طرف ہجوم کیا بعض لوگ پاؤں دبانے لگے۔ انہوں نے مولوی نورالدین مرحوم کو بلایا۔ میں ان کا نام مرزا صاحب کی جماعت کا ایک خاص رکن کی حیثیت سے سن چکا تھا۔ وہ خضاب حنا کی وجہ سے ڈھاٹاباندھے آئے اور مرزا صاحب نے شب گذشتہ کے تازہ الہامات سنانا شروع کئے ایک الہام یہ تھا ’’اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡن‘‘ مولوی نورالدین مرحوم سے وہ پوچھتے تھے کہ اس کا مقصد کچھ سمجھ نہیں آتا، اس پریاد نہیں کہ مولوی صاحب نے کیا جواب دیا۔پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور میرے حالات پوچھتے رہے اور کہ جب آپ آئے ہیں تو کم سے کم چالیس دن تک ضرور رہیں ۔اس طرح آنے سے اور جلد جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد مرزا صاحب اندر چلے گئے اور مولوی عبد الکریم مرحوم نے مجھے پھر مولانا نورالدین مرحوم اور جماعت کے بڑے بڑے لوگوں سے ملایا۔ نواب محمد علی مالیرکوٹلہ کے بھی وہیں تھے۔ جمعہ کی نماز ایک میدان میں ہوئی، میں گیا تو لوگوں نے مجھے پہلی صف میں جگہ دی۔ اتنے میں مرزا صاحب آئے اور منبر کے جنوب میں مصلے پر بیٹھ گئے اس وقت مولوی عبدالکریم نے خطبہ دیا۔ خطبہ کاموضوع یہ تھاکہ بہت سی برکتیں جو انبیاء سلف کے حصے میں نہیں آئیں ان سے خدا نے مرزا صاحب کوسرفراز فرمایا۔ ازاںجملہ یہ کہ اعلان تبلیغ و رسالت کے یہ وسائل ان انبیاء کے زمانہ میں کہاں تھے۔ ریل، تار،ڈاک، گراموفون، اخبارات، پریس اور ان وسائل سے کس طرح ہر صدا مشرق و مغرب میں پھیلائی جاسکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔
نماز مولوی عبد الکریم نے پڑھائی …۔ نماز کے بعد پھر میری طرف ملتفت ہوئے اور اصرار کیا کہ چندے قیام کروں۔ میں نے معذرت کی اور اس دن روانگی کا ارادہ ظاہر کیا۔ میرا مقصد اس سفر میں صرف وہاں کے طور طریقہ دیکھ لینا تھاتاکہ معلومات سے باہر کوئی معاملہ باقی نہ رہے، اس سے زیادہ کوئی خواہش نہ تھی۔ وہاں کوشش تھی کہ میں کوئی معین خیال بھی ظاہر کروں۔ مرزا صاحب نے کئی باتیں،دعاوی اور منصب کی نسبت ایسی کہیں جو سامع کو نفیاًیا اثباتاً کسی بات پر مجبور کرنے والی تھیں لیکن میں خاموش رہا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میری تمام کتابیں تم نے دیکھی ہیں۔ جو رسائل دیکھے تھےان کاذکر کیا۔ اس پر انہوں نے چند کتابیں مجھے دینے کے لیے مولوی صاحب ایڈیٹر ’’بدر‘‘سے کہا۔ جواس صحبت کے نوٹ لے رہے تھے۔ انہوں نے وفات مسیحؑ کا بھی ذکر چھیڑا اور کہا کہ یہی مسئلہ ہے جس کے اعلان نے کسر صلیب کی خبر پوری کردی ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ سے پہلے بعض مفسرین مثلاً صاحب ’’اسرارالغیب‘‘ اور اس عہد میں مولوی چراغ علی اور سر سید کا اس کا بڑے زور شور سے اعلان کرچکے ہیں۔ یہ بات ان پر گراں گزری۔ انہوں نے کہا کہ چراغ علی اور سر سید نے جو کچھ کہا ہے وہ مادی رنگ میں تھا اور میں نے روحانی رنگ میں ثابت کیا ہے۔ یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی لیکن میں بحث کا رویّہ اختیار نہیں کرنا چاہتا ،اور نہ کوئی اس طرح کا جذبہ اپنے اندر رکھتا تھا۔ میرے خیالات اس وقت سر سید کی تقلید پر مبنی تھےاس لیے ان کے مشن سے مجھے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس کے بعد کچھ دیر تک مولوی نورالدین مرحوم اور بعض دیگر وہاں کے اعیان سے ملا۔ واپسی پر نواب محمد علی نے اپنی رتھ بٹالے تک دے دی جو کچی سڑک پر آرام دیتی اور واپسی میں مجھے بہت اس پر آرام رہا۔ (ماخوذ ازصفحہ ۲۱۳تا۲۱۵)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی رحلت پر مولانا آزاد صاحب نے شذرہ تحریر کیا ہے اس وقت رسالہ ’’وکیل امرتسر‘‘ کے مدیر مسئول تھے اور اس جریدہ کے مالک شیخ غلام محمد تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد صاحب ایک جہاں دیدہ اور ذی علم و بصیرت انسان تھے اور ژرف نگہی سے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیبہ کو دیکھا اور پرکھا ہے اور پھر ایک نپی تلی رائے قائم کرتے ہوئے اسے با لائے لومۃ لائم رکھتے ہوئے اس واشگاف الفاظ میں خراج ِتحسین پیش کیا ہے کہ’’مرزاصا حب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مقاومت پر مسلمانوں کے ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرادیا کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جداہوگیا اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے مقابل ایک فتح نصیب جنرل کا فرض پورا کرتے رہے۔ ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تاکہ وہ مہتمم بالشان تحریک جس نے ہمارے مخالفین کو عرصہ تک پشت اور پامال بنائے رکھا، آئندہ بھی رہے۔ مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اورآریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور آیا ہے، قبول عام کی سند تسلیم کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدر و منزلت آج اب کےوہ آج اپنا کام کر چکا ہےہمیں تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے وہ وقت ہرگز لوح قلب سے نسیا منسیا نہیں ہو سکتا کہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گر چکا تھا اور مسلمان حافظ حقیقی کی طرف عالم اسباب و وسائط میں حفاظت کا واسطہ ہوکراس کی حفاظت پر مامور تھے۔ اپنی قصوروں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے اور اسلام کے لیے کچھ نہ کرتے تھےیا نہ کرسکتے تھے۔ ایک طرف حملوں کی ابتداء کی یہ حالت تھی کہ ساری مسیحی دنیا اسلام کی شمع عرفانی حقیقی کو سرراہ منزل مزاحمت سمجھ کر مٹا دینا چاہتی تھی اور عقل و دولت کی زبردست طاقت اس حملہ آور کی پشت گری کے لیے ٹوٹ پڑی تھی اور دوسری طرف ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ توپوں کے مقابلہ میں تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت کا وجود نہ تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحبؑ کو حاصل ہوا۔ اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ کے ہونے کی وجہ سے حقیقت میں جان کی جان تھااور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں اڑنے لگا۔
غرض مرزا صاحبؑ کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں ہوکراسلام سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے گا اور قائم رہے گا۔ اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحبؑ نے اسلام کی بہت خاص خدمت انجام دی ہے۔ مرزا صاحب اور مولوی قاسم صاحب نے اس وقت سے کہ سوامی دایاناندنے اسلام کے متعلق اپنی دماغی مفلسی کی نوحہ خوانی جابجا کی تھی ان کا تعاقب شروع کردیا۔ ان حضرات نے عمر بھر سوامی جی کا قافیہ تنگ رکھا جب وہ اجمیر میں آگ کے حوالے کردیئے گئے۔ اخیر عمر تک مرزا صاحب آریہ سماج کے چہرہ سے انیسویں صدی کے ہندو ریفارمز کا چڑھایا ہوا ملمع اتارنے میں مصروف رہے۔ ان کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعوٰی پرنہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہوجائے ناممکن ہے کہ یہ تحریریں شکرانہ ادا نہ کر سکیں۔ فطری ذہانت، مشق،مہارت اور مسلسل بحث مباحثہ کی عادت نے مرزا صاحبؑ میں ایک شاندار خاصیّت پیدا کردی تھی۔ اپنے مذہب کے علاوہ مذہبِ غیر پر ان کی نظر نہایت وسیع تھی اور اپنی ان معلومات کا نہایت سلیقے سے استعمال کرتے تھے۔ تبلیغ و تلقین کا یہ ملکہ ان میں پیدا ہوگیا تھا کہ مخاطب کسی قابلیت یا کسی مشرب و ملت کا ہو ان کے برجستہ جواب سے ایک دفعہ ضرور گہرے فکر میں پڑ جاتا ہے۔ ہندوستان آج مذاہب کا عجائب کارخانہ ہے اور جس کثرت سے چھوٹے اور بڑے مذاہب یہاں موجود ہیں اور باہمی کشمکش سے اپنی موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں اس کی نظیر غالباً دنیا کی کسی جگہ سے نہیں مل سکتی۔ مرزا صاحب کا دعویٰ تھاکہ میں ان سب کے لیے حکم و عدل ہوں۔ لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کو نمایاں کر دینے میں ان میں بہت مخصوص قابلیت تھی اور نتیجہ ان کی فطری استعداد کا ذوق مطالعہ اور کثرت مطالعہ مشق کا آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلیٰ خواہشیں محض اس طرح مذاہب کے مطالعہ میں صرف کر دے۔‘‘
مولانا ابوالکلام آزاد صاحب گہرے فکر و نظر کے مالک اور صاحب علم و دانش انسان تھے۔ اوائل عمری میں سر سید کی تقلید اور متجسس روح انہیں کشاں کشاں قادیان لے گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کی۔ آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ذات و شخصیت اور عالی صفات کی خاکہ نگاری کو سپرد الفاظ و قلم کیا ہے وہ ذاتی دیدونگاہ کے بدوں نہیں۔
صلائے عام ہے صاحبان قلم کے لیے
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خدام الاحمدیہ کی ذمہ داریاں



