امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا کے پَریری (Prairies) ریجن کے اراکین مجلس عاملہ و قائدین مجالس کی ملاقات
قائدین اگر قائد بن کے رہیں، اچھے اخلاق ہوں، آپ کا جو روحانی مقام ہے، وہ بہتر ہو، نمازیں آپ پڑھتے ہوں، دینی علم بہتر ہو، خدام کو پتا ہو کہ آپ نمازیں پڑھنے والے بھی ہیں، دعائیں کرنے والے بھی ہیں، دین کے حکم پر عمل کرنے والے بھی ہیں، اللہ رسول کی اطاعت کرنے والے بھی ہیں، خلافت کے وفادار بھی ہیں اور جماعت کی خدمت کرنے والے بھی ہیں، تو جب آپ بات کہیں گے تو آپ کا اثر ہوگا۔ پھر آپ ان کےلیے جب دعا کریں گے، دو نفل پڑھا کریں، تو ان پر اثر ہو جائے گا
مورخہ ۱۱؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا کے پَریری (Prairies) ریجن کے اراکین مجلس عاملہ و قائدین مجالس کو بالمشافہ شرف ملاقات حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے کینیڈاسے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔
جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
ملاقات کا باقاعدہ آغاز دعا سے ہوا۔ بعدازاں تمام شاملین مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے اور اپنی مفوّضہ ذمہ داریوں کی بابت بیش قیمت راہنمائی حاصل کرنے کا بھی موقع ملا۔
ناظم تبلیغ سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ تبلیغ کا ٹارگٹ کیا رکھا ہوا ہے؟ جواباً انہوں نے عرض کیا کہ پیارے حضور! ہمیں اس دفعہ جو ٹارگٹ ملا تھا،وہ دو سپیشل ایونٹس کروانے کا تھا، جن میں سے ایک ’’True History of Jesus ‘‘ اور دوسرا ’’Islam Understood‘‘ تھا۔

جس پر حضورِ انور نے تبلیغی اہداف کے تعیّن کے حوالے سے راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ ملا کیا تھا؟ ناظم تبلیغ آپ ہو، خود اپنے ٹارگٹ بنایا کرو۔ اس پر موصوف نے انتہائی ادب سے عرض کیا کہ جی پیارے حضور! تب حضور انور نے مزید نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ کام کے لیے انسان کو خود ambitious ہونا چاہیے۔
ناظم تربیت سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ تربیت پر مَیں نے پچھلی دفعہ کافی باتیں کہہ دی تھیں، سُن لی تھیں؟ اثبات میں جواب عرض کیے جانے پر حضورِ انور نے مزید استفسار فرمایا کہ جو انہوں نے This Week میں دکھایا، وہی سنا؟ اس پر بھی اثبات میں جواب عرض کیا گیا، تو حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ جو اس کے علاوہ مَیں نے باتیں کی ہیں، وہ نہیں سنی۔ بہت کام کرنے والا ہے۔
پھر حضورِ انور نے ذاتی عملی اصلاح، تربیتی ذمہ داریوں کی احسن رنگ میں ادائیگی اور شعبہ تربیت کی اہمیت کے حوالے سے جامع راہنمائی عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ پہلے تو یہ ہے کہ خود ناظم تربیت کو پانچ نمازوں کا پابند ہونا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ پانچ نمازیں باجماعت پڑھے۔ پھر قرآنِ کریم باقاعدہ پڑھے۔ پھر قرآنِ کریم کا ترجمہ پڑھے۔ پھر قرآنِ کریم کی تفسیر پڑھے۔ پھر جماعت کا لٹریچر پڑھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھے۔ اس میں سے اقتباس نکالے۔ لوگوں کی تربیت کے لیے کیا کرنا ہے۔ خلفاء کی جو باتیں ہیں ان کو سنیں۔ تقریریں جو پڑھ سکتے ہیں پڑھیں۔ باقاعدہ خطبات سُنیں۔ پھر اس میں سے ہر ہفتے ہر خطبے میں کوئی نہ کوئی سبق ہوتا ہے، وہ نکالیں، اپنے لوگوں کو بھیجیں۔ تو اس طرح تربیت ہو گی۔ نہیں تو دنیا داری میں پڑے رہیں گے۔ بہت کام ہے۔ چھوٹا موٹا کام نہیں ہے۔ سب سے بڑی ذمہ داری ناظم تربیت کی ہے۔
ناظم صنعت و تجارت سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے کینیڈا کی معاشی صورتحال اور حالیہ امریکی تجارتی پالیسیوں کے تناظر میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے اور خدام کی راہنمائی کے حوالے سے توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ٹرمپ نے آپ لوگوں کا کینیڈا میں بزنس ختم کر دیا ۔ آپ نے اس کا کیا توڑ کیا ہے، کیا کر رہے ہیں؟ کس طرح اس crisesسے باہر نکلیں گے، سوچا ہے؟ آپ خدام کو کیا گائیڈ کریں گے؟ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے جو ٹیرف لگا دیے ہیں اور ساری اکانومی کو ٹرمپ نے shatter کرنے کی کوشش کر دی ، اپنے لیول پرسوچنا چاہیے تھا کہ اس کا توڑ ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ اس سے کس طرح ہم اپنے خدام کو بچا سکتے ہیں ؟ کس طرح ان کی بہتری کے حالات پیدا کر سکتے ہیں؟
مزید برآں حضورِ انور نے موجودہ معاشی صورتحال میں سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لیکن میرا خیال ہے کہ آپ کے ٹیرف لگنے سے ایک فائدہ ہوا ہے، یہ اسی کا اثر ہے یا کسی اَور چیز کا کہ جو real estateکی قیمتیں ہیں وہ نیچے چلی گئی ہیں۔ گھروں کی قیمتیں نیچے آ گئی ہیں ۔اب گھر خرید لیں۔ یہ بھی کام ہے۔ جو لوگ انویسٹ کر سکتے ہیں، ان کو بتائیں کہ یہاں انویسٹ کرو، کیونکہ کل کو پھر real estateاُوپر چلی جائے گی۔ پھر اسی طرح گولڈ پرائس بھی بہت اُوپر چلی گئی تھی۔تھوڑی سی اب آجکل نیچے آئی ہے۔ جن کے پاس پیسے ہیں خرید لیں۔ کیونکہ چھ مہینے سال بعد دوبارہ اُوپر چلی جانی ہے۔جنہوں نے آج سے دس سال پہلے خریدا تھا، ان کو تین گنا فائدہ ہو گیا۔
مجلس فورٹ میک مرے (Fort McMurray) کے قائد نے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ انہیں بطورمربی سلسلہ ییلو نائف (Yellowknife) اور فورٹ میک مرے بھی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے بطورمربی سلسلہ اور قائد مجلس دُہری ذمہ داری کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ تو مربی کے لیے تو دُہری ذمہ داری ہے۔ایک تو مربی ہونے کی ذمہ داری۔ایک قائد ہونے کی ذمہ داری۔ اور آپ کو پتا ہے کہ آپ کے سپرد کتنی بڑی ذمہ داریاں ہیں؟
اثبات میں جواب عرض کیے جانے پر حضورِ انور نے ایک مربی اور قائد کے لیے ذاتی عملی نمونے اور دینی معمولات کی پابندی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ نمونہ بننا پڑے گا۔ اپنا نمونہ قائم کریں گےتو تبھی لوگ آپ کے پیچھے چلیں گے۔پانچ وقت کی نمازیں باجماعت، قرآنِ کریم کی باقاعدہ تلاوت، قرآنِ کریم کی تفسیر پڑھنا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنا، احادیث پڑھنا، لٹریچر پڑھنا، خُطبات باقاعدہ سننا، اس میں سے پوائنٹ نکال کر دینا۔
اسی طرح حضورِ انور نے جماعت اور مجلس خدام الاحمدیہ کی تربیت کی وسیع ذمہ داریوں کے ساتھ ذاتی اصلاح اور تعلق باللہ کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مربی ہوتے ہوئے آپ کے پاس تو دو پلیٹ فارم ہیں۔ پُوری جماعت کی تربیت بھی آپ کے ذمہ ہے اور خدام الاحمدیہ کی بھی ہے۔ تو آپ کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔ آپ کی دو ذمہ واریاں ہیں۔ اس لیے اپنے لیے علیحدہ دو نفل پڑھا کرو، علاوہ ان نفلوں کے جو پڑھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ سیدھے راستے پر چلائے اور تعلق باللہ بھی پیدا کروائے۔
مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورانور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ ہم خدام بھائیوں ،بالخصوص ان نوجوان خدام کے ساتھ جو اطفال الاحمدیہ سے خدام الاحمدیہ میں شامل ہو رہے ہیں ، مضبوط تعلق اور گہرا رشتہ کیسے قائم کر سکتے ہیں تا کہ وہ خدام الاحمدیہ کے ساتھ جُڑے رہیں، فعّال کردار ادا کریں اور انہیں مناسب راہنمائی اور تعاون حاصل ہوتا رہے؟
اس پر حضورِ انور نے بچپن کی تربیت اور پندرہ سے اٹھارہ سال کی عمر کی نازک نوعیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ بچپن میں اطفال میں تربیت ایسی کریں کہ جب وہ بڑے ہوں تو وہ اپنے آپ کو جوڑے رکھیں ، نہ کہ یہ صرف اس خوف سے کہ ابھی ہم ماں باپ کے dependent ہیں یا ہمیں آزادی نہیں ہے، اٹھارہ سال کے ہوں گے تو ہم آزاد ہو جائیں گے پھر جو مرضی کریں۔ یہ جو تصوّر ہے وہ دماغ میں سے نکالیں۔یہ سوچ نہیں ہونی چاہیے۔ اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ اور بچوں کی تربیت اگر اچھی طرح ہو تو جُڑے رہیں گے اور بڑے ہو کے بھی پھران کی ایکٹیوٹیز دیکھیں کہ کیا ہیں، نظر رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ پندرہ سال کے بعد آپ اس کو چھوڑ دیتے ہیں کہ خادم ہو گیا، حالانکہ پندرہ سے لے کے اٹھارہ سال تک بھی خدام پر بہت زیادہ نظر رکھنی چاہیے۔ رکھیںگے تو جوڑے رکھیں گے۔
پھر حضورِ انور نے اپنے مشاہدے کی روشنی میں بچپن سے قائم ہونے والے تعلق کے دیرپا اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو اصل میں بچوں کی ٹریننگ ہے۔ اگر بچپن میں تربیت کر کے جوڑے ہوئے ہیں، تو کام آتی رہتی ہے۔ ہم نے تو یہی دیکھا ہے۔ ربوہ میں بھی جو اطفال activeتھے، بچپن سے جُڑے ہوئے تھے اور تنظیمی کاموں میں حصّہ لیتے تھے، باقی ایکٹیوٹیز میں حصّہ لیتے تھے، وہ بڑے ہو کے بھی جماعت سے بھیattach رہے ہیں، خدام الاحمدیہ کے کام بھی کرتے رہے ہیں۔ جو ذرا پرے ہٹے ہوئے تھے یا تھوڑا سا ان میں ذرا سا ٹیڑھا پن تھا ، وہ بڑے ہو کے پھر علیحدہ ہو گئے، حالانکہ وہاں تو قانون ان کی کوئی ایسی مدد نہیں کر رہا ہوتا۔ لیکن سوچ ہوتی ہے۔ نوجوانوں کی سوچ ایک وقت میں آ کے بدل جاتی ہے، چاہے قانون اس کی مدد کرے یا نہ کرے۔
اسی ضمن میں حضورِ انور نے قرآنِ کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بچپن سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی اہمیت کو مزید واضح فرمایا کہ اس لیےبچپن سے ہی اس طرح اپنے ساتھattach کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوال کے جواب میں یہی لکھا تھا کہ کس طرح اپنے ساتھ attach کرتے ہیں۔ صُرْهُنَّ اللہ تعالیٰ نے لفظ استعمال کیا تھا۔ ان کو اپنے ساتھ اس طرح attachکرو کہ تمہارے ساتھ جُڑ جائیں۔ پھر ان کو مختلف جگہوں پر بھی اگر تم رکھو گے تو وہ جب تم آواز دو گے، تمہاری طرف دَوڑتے ہوئے آئیں گے۔ تو بچپن میں یہ ٹریننگ ایسی ہونی چاہیے کہ جب آپ بڑے ہو بھی جائیں تو آپ کی آواز پر آپ کی طرف آئیں۔
اسی طرح حضورِانور نے انفرادی حالات کے مطابق حکمتِ عملی اور کیٹیگریز بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو آپ اپنا جماعت سے بچوں کی ٹریننگ کا ایکcomprehensiveپروگرام بنائیں اور پھر ہر ایک individual کےحالات کے مطابق مختلف اس کو سلوک کرنا پڑتا ہے۔یہ دیکھنا ہےکہ کوئی زیادہ بگڑے ہوئے ہیں تو ان کو کس طریقے سے دیکھنا ہے، کم بگڑے ہوئے ہیں تو کس طریقے سے دیکھنا ہے، جو اچھے ہیں، ان کو کس طرح دیکھنا ہے، تو مختلف کیٹگری بنا کے ان کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائیں اور ان کی تربیت کریں۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے پیشِ نظر ہم اطفال اور خدام کو مستقبل میں پیش آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور اپنےلیے مناسب پیشوں کے انتخاب کے حوالے سے بہتر طور پر تیار کرنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں، نیز جماعتی سطح پر انہیں اے آئی کے درست اور مؤثر استعمال کی تربیت کیسے دی جا سکتی ہے؟
اس پر حضورِ انور نے اے آئی کے بانیوں اور ماہرین کے بدلتے نظریات اور اس کے ممکنہ نقصانات سے نئی نسل کو آگاہ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ آپ اے آئی سے اتنا conscious ہیں، تو آپ کو پتا بھی ہوگا کہ اے آئی جو بنانے والے ہیں یا اے آئی کا بزنس کرنے والے ہیں، اے آئی کا جو اصل پروگرام دینے والا ہے ، ان کے نظریات کیا ہیں، بدل رہے ہیں ؟ تو خود یہ لوگ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ مَیں تو پہلے دن سے کہہ رہا ہوں۔اب خود وہی بیان دے رہے ہیں، اس لیے لوگوں کو awarenessدینا تو آپ لوگوں کا کام ہے کہ یہ تم لوگ جو اس طرف جا رہے ہو، توصرف اسی پرdependنہ کرو، اس کے اچھے پہلو تو ہیں لیکن بُرے پہلو زیادہ ہو رہے ہیں۔
پھر حضورِ انور نے شراب کی مثال کے ذریعے فوائد اور نقصانات کے تقابل کا قرآنی اصول واضح کرتے ہوئے اے آئی کے استعمال میں احتیاط اور توازن کی اہمیت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے شراب بھی منع کی ہے، بعض گناہ کی چیزوں سے روکا، اس نے کہا ہے کہ ٹھیک ہے کہ ان میں تم لوگ کہتے ہو کہ بعض چیزیں اچھی ہیں، ٹھیک ہے کہ اس کے بعض فائدے ہیں ، لیکن ان کے جو نقصان ہیں وہ فائدوں سے زیادہ ہیں۔ اس لیے نہ پیئو۔ فائدہ تو آپ یہی کہتے ہیں کہ الکوحل کو دوائی میں ڈال دیا تو فائدہ دے دیا، یا ہومیو پیتھک دوائی میں بالکل dilute کرکے ڈل گیا، تو اس کا اتنا اثر نہیں رہتا یا اَور دوائیوں میں، لیکن اس کو جب بڑی مقدار میں پیتا ہے تو نشہ ہونے لگ جاتا ہے۔ تو یہ اصول سامنے رکھنا پڑے گا کہ اس کے جو نقصان ہیں وہ اس کے فائدے سے زیادہ ہیں اور فائدہ اُٹھانے کے لیے آپ نے اپنے طور پر کس طرح فائدہ اُٹھانا ہے، اُٹھایا بھی جا سکتا ہے۔ تو اس کو اگر آپ کوئی جماعتی نظام میں لے کے آ رہے ہیں، تو اس کو ایسے طریقے سے اختیار کریں کہ اس کے جو نقصانات ہیں، وہ کم ہو جائیں اور فائدے زیادہ ہو جائیں۔ اس میں فائدے ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اس کو ذرا سا اِدھر سے اُدھر کریں گے، ایک بڑی subtle سی لائن ہے، اس کو اِدھر crossکریں گے تو وہیں آپ کو نقصان ہونا شروع ہو جائے گا۔
اسی طرح حضورِ انور نے خدام و اطفال کو ماہرین کی زبان میں بیدار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تو یہ تو بچوں کو شروع میں بتانا پڑے گاکہ ان کے اپنے جو founders ہیں، جو بنانے والے ہیں، پروگرام دینے والے ہیں یا اس فیلڈ میں جو ہیں، وہ کیا اس کے خلاف بول رہے ہیں، ان کی چیزیں اپنے خدام کو بھی اور اطفال کو بھی بتائیں تاکہ وہ اس سے ہوشیار رہیں ۔ اپنے طور پر سمجھائیں گے تو وہ آپ کو نہیں سمجھیں گے۔ ان لوگوں کی اپنی زبان میں سمجھائیں گے تو سمجھ جائیں گے۔
بعدازاں حضورِ انور نے اے آئی پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے اس کی فراہم کردہ معلومات، تراجم اور دینی مسائل سے متعلق جوابات کی تصدیق کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ہاں! اس کے فائدے ہیں، فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ ہم پوری طرح کسی کے اُوپر rely کرنے لگ جائیں گے، یا ٹرانسلیشنکرنی ہے تو وہ اے آئی پر کروا لیں، خط لکھ لیں۔ بعض دفعہ ٹرانسلیشنبھی غلط ہو جاتی ہے ، بعض انفارمیشن بھی غلط ہوتی ہے۔ دینی سوال آپ اے آئی سے کرتے ہیں، تو وہ آپ کو غلط گائیڈ کر رہا ہوتا ہے، اب جس کو علم ہے، تو وہ کہہ دے گا کہ تم نے غلط کیا اور وہ اے آئی مان جاتے ہیں ۔ ایسے ہی واقعات ہوئے ہیں، مَیں نے چیک کروائے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہاں! یہ انفارمیشن ہم نے غلط دی تھی، تمہاری بات ٹھیک ہے، لیکن جس کو علم نہیں ہے، وہ کہے گا کہ ہاں! اے آئی نے کہہ دیا توبس یہ ٹھیک ہو گیا، تو وہ اس کو مان لے گا اور اگر بچپن سے اس نے دیکھا ہے توایسا misguide ہوگا کہ وہی اس کی بنیاد بن جائے گی۔
مزید برآں حضورِ انور نے بچوں کو انٹرنیٹ اور اے آئی کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف ممالک میں ہونے والی قانون سازی اور ماہرین کے خدشات سے آگاہ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے اب انٹرنیٹ سے بھی لوگوں کو ہوش آنے لگ گئی ہے۔ اب آسٹریلیا میں قانون پاس ہو گیا ہے۔ یو کے والے بھی کر رہے ہیں، کئی ملکوں میں ہو رہا ہے کہ وہ اب کہتے ہیں کہ پندرہ سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کو آئی فون یا انٹرنیٹ نہیں دینا ، misguide کرتا ہے، اور آجکل تو زیادہ کرتا ہے، کیونکہ یہ اے آئی ہر چیز میں اندر گھس جاتا ہے۔ آپ کوئی بھی پروگرام دیکھ رہے ہوں گےتو کوئی اشتہار آ جائے گا۔ اب وہ بچہ اس کو دیکھنے کے لیے بڑا anxious ہوتا ہے ، وہ جب اس میں intrest لیتا ہے، تو وہ اے آئی اس کو کہیں کا کہیں لے جاتا ہے۔ اس لیے ان کی زبان میں ان کو سمجھانا ہوگا اور ان کے آجکل کے اپنے جو experts ہیں، ان کے جو concern ہیں ان کو ذرا ہائی لائٹ کر کے ان کو بتانا ہوگا۔
ایک خادم نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ مجلس خدام الاحمدیہ میں ہمیں اپنے عہدیداران مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن بہت سے خدام میں اپنی سپرد کردہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے جذبے اور اخلاص کی کمی ہوتی ہے، نیز اس ضمن میں راہنمائی کی درخواست کی کہ بطور قائدین ہم اپنے ممبران میں کس طرح تحریک پیدا کر سکتے ہیں اور ان کے اندر یہ احساس پیدا کر سکتے ہیں کہ وہ خود آگے بڑھ کر پہل کریں اور اپنے متعلقہ شعبہ جات کو اخلاص کے ساتھ چلائیں؟
اس پر حضورِ انور نے خدام میں عملی نمونے کے ذریعے اثر پیدا کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اُسوۂ مبارکہ کی روشنی میں ایمان افروز راہنمائی عطافرمائی کہ اصل چیز آپ کا اپنا نمونہ ہے، اس ضمن میں مَیں نے بتایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام جو پھیلا، وہ تعلیم سے زیادہ آپؐ کے عمل دیکھ کے پھیلا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے جو احمدی ہوئے، وہ آپؑ کے دعووں سے زیادہ آپؑ کے عمل دیکھ کے ہوئے۔ جس طرح وہ مولوی سے بحث ہو رہی تھی، غالباً منشی اروڑے خان صاحب رضی الله عنہ کی، وہ ان کو دلیلیں دینے لگ گیا ، تو انہوں نے کہا کہ مَیں نے اس چہرے کو دیکھ لیا ہے، اس چہرے کو دیکھنے کے بعد مجھے اَور کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہے، تو میرا تو ایمان اس پر مضبوط ہو گیا ہے۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ حضورِ انور کے ارشاد کے مطابق مذکورہ واقعہ حضرت منشی محمد اروڑے خان صاحب رضی اللہ عنہ ہی کا ہے، جبکہ دلیلیں دینے والا شخص مولوی ثناء اللہ امرتسری تھا۔ اس کی کوئی دلیل بھی کارگر ثابت نہ ہوئی اور تمام دلائل آپ رضی اللہ عنہ کے کامل مشاہدے اور مضبوط ایمان کے سامنے دھرے کے دھرے رہ گئے۔(ماخوذاز تفسیر کبیر جلد۳ صفحہ ۳۶)]
پھر حضورِ انور نے قائدین کو مؤثر قیادت کے لیے اعلیٰ اخلاق، روحانی معیار اور دینی احکامات پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح اپنے لیول پر آپ لوگوں کو اپنے نمونے دکھانے ہوں گے۔ قائدین اگر قائد بن کے رہیں، اچھے اخلاق ہوں، آپ کا جو روحانی مقام ہے، وہ بہتر ہو، نمازیں آپ پڑھتے ہوں، دینی علم بہتر ہو، خدام کو پتا ہو کہ آپ نمازیں پڑھنے والے بھی ہیں، دعائیں کرنے والے بھی ہیں، دین کے حکم پر عمل کرنے والے بھی ہیں، اللہ رسول کی اطاعت کرنے والے بھی ہیں، خلافت کے وفادار بھی ہیں اور جماعت کی خدمت کرنے والے بھی ہیں، تو جب آپ بات کہیں گے تو آپ کا اثر ہوگا۔ پھر آپ ان کےلیے جب دعا کریں گے، دو نفل پڑھا کریں، تو ان پر اثر ہو جائے گا۔
اسی طرح حضورِ انور نے اصلاحِ احوال اور ریجن میں انقلاب لانے کی کنجی بیان کرتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ اصل چیز تو ہے کہ set your own example، اپنی مثالیں قائم کریں، رول ماڈل اپنے آپ کو بنا لیں، مسئلہ ختم ہو جائے گا ۔ اتنی عاملہ بیٹھی ہے، جو چالیس آدمی بیٹھے ہیں ، یہ اگر اپنے آپ کو اپنے علاقے میں رول ماڈل بنا لیں تو پریری ریجن میں تو انقلاب آ جاتا ہے۔ تو بس انقلاب پیدا کرنے کے لیے اپنے آپ کو دیکھنا ہوگا۔ اپنے آپ کو دیکھیں کہ مَیں کیا ہوں۔ جب مَیں ٹھیک ہوں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ ایسے خدام جو کہ کال اور میسجز کا جواب نہیں دیتے اگر ان کے گھر جائیں تو وہ دروازہ نہیں کھولتے اور یہ بھی نہیں چاہتے کہ جماعت کا کوئی ممبر ان سے رابطہ کرےانہیں ہم کیسے نماز باجماعت اور جماعت کے دیگر پروگرامز کےلیے راغب کریں؟
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ کبھی کبھی نماز پر تو آ جاتے ہوں گے، کبھی جمعہ پر آ جاتے ہوں گے، عید پر آ جاتے ہوں گے۔ تو ان کو السلام علیکم کہیں، عید مبارک کہیں۔ اگر عید پڑھنے آئے ہیں تو عید مبارک دیں۔ بس ختم اور ساتھ مختصر لفظوں میں یہ بھی کہہ دیا کہ مَیں نے تمہیں ملنے کی کوشش کی تھی ، پر مَیں مل نہیں سکا، کوئی وجہ ہو گی، کیا وجہ تھی؟ تو اس طرح آہستہ آہستہ کوشش کرتے رہیں، مہینے دو مہینے کی بات نہیں ہے، یہ تو بعضوں کو کئی مہینے بلکہ سال لگ جاتے ہیں ۔ بعض خدام انصار میں چلے جاتے ہیں۔ جو کوشش ہے وہ آپ نے کرتے رہنا ہے اور اسی کا ہمیں حکم ہے۔
پھر حضورِ انور نے خدام کی اصلاح کے سلسلے میں نصیحت کرنے کی ذمہ داری اور اس کی حدود واضح کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی تعلیم کی روشنی میں بیان فرمایا کہ جن کی اصلاح ہونی ہوگی، وہ اصلاح ہو جائے گی، جو دین کی طرف سے ہٹ کے دنیا کی طرف جا رہے ہیں ان کو ہم کچھ کر نہیں سکتے۔ قرآنِ شریف نے ہمیں یہی کہا ہے، جمعہ والے دن جو سورت پڑھتے ہیں ، اس میں یہی ہے کہ تم نصیحت کرو، تمہارا کام نصیحت کرنا ہے۔ لَسۡتَ عَلَیۡھِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ۔ تم ان پر داروغہ نہیں بنائے گئے۔ ان کو فورس نہیں کر سکتے ۔ نصیحت کرو ، چاہے وہ غیروں کے لیےہے یا اپنوں کے لیےہے۔ اپنوں کےلیے تو بتانا پڑے گا کہ یہ کرو کہ یہ نیک کام ہیں ، ہمیں کرنے چاہئیں۔
اسی طرح حضورِ انور نے ایسے خدام تک دینی پیغام پہنچانے اور ان سے مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کے لیے پیغامات کے مؤثر استعمال کی طرف راہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وقتاً فوقتاً اور کچھ نہیں کرتے تو ان کے فون نمبر تو آپ کے پاس ہیں، تو ان کو ویسے ہی کوئی اقتباس، کوئی قرآن کا، کوئی حدیث کا، کوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب کا دو تین لائنوں کا میسج بھیج دیا۔ بے شک وہ پڑھیں یا نہ پڑھیں، دیکھ کے ڈیلیٹ کر دیں گے یا پڑھ لیں گے۔ کبھی کبھی ایک جو اس کے اُوپر قطرہ قطرہ trickleہوتا رہے گا، تو کہیں نہ کہیں سوراخ پڑ ہی جائے گا، تو اپنے میسج بھیجتے رہیں۔
جواب کےآخر میں حضورِ انور نے خدام کی اصلاح کے لیے مسلسل کوشش جاری رکھنے اور مایوس ہوئے بغیر اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہی ہمارا کام ہے۔ تو اسی کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ نصیحت کرتے جاؤ، جو جو طریقہ اختیار کر سکتے ہو کرتے جاؤ۔ جب تک وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ،آہستہ آہستہ ان کو پیغام پہنچاتے رہیں، کوئی disappointed ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا کام ہے کہتے جانا۔تھکنا نہیں ہے، جہاں تھک گئے، آپ وہاں مار کھا گئے۔
ایک خادم نے راہنمائی کی درخواست کی کہ دنیا کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کیسے کرنی چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت میں والدین کے عملی نمونے کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے نمونے قائم کرو۔ خود نمازیں پڑھ رہے ہو گےتو بچہ دیکھ رہا ہوگا کہ میرے ماں باپ نمازیں پڑھ رہے ہیں، اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ قرآنِ شریف کی تلاوت صبح اُٹھ کے کر رہے ہو ، تو نماز کے بعد بچے سکول جانے کےلیے تیاری کر رہے ہیں، تو ان کو پتا لگا کہ تلاوت کی آواز آرہی ہے۔ اچھے اخلاق ظاہر کر رہے ہو تو ٹھیک ہے۔ دینی کتابیں گھر میں رکھی ہوئی ہیں، توبچوں کو پتا لگے گا۔
پھر حضورِ انور نے بچوں کی تربیت پر والدین کے قول و فعل کے گہرے اثرات بیان کرتے ہوئے انہیں اپنے طرزِ عمل میں یکسانیت پیدا کرنے اور منافقانہ طرزِ عمل سے بچنے کی تاکید فرمائی کہ ٹی وی پروگرام اگر فضول قسم کے دیکھ رہے ہو، تو بچے کہیں گے یہ دیکھو، نصیحت تو ہمیں یہ کرتا ہے اور آپ یہ پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اگر غلط پروگرام دیکھ رہے ہیں، تو بچے کہیں گے کہ یہ اپنی مثالیں تو قائم نہیں کرتے اور ہمیں کہتے ہیں۔ نصیحت کرو تو ہر جگہ اپنی مثال قائم کریں گے، اپنے آپ کو ٹی وی کو بھی کنٹرول کرنا پڑے گا، انٹرنیٹ کو، فون کو، اپنے گھر میں اچھے اخلاق دکھانے ہوں گے، بیوی سے حُسنِ سلوک کرنا ہوگا، تو بچوں کی تربیت بھی اچھی ہوگی۔
اسی طرح حضورِ انور نے بچوں کی باریک بینی اور والدین کے باہمی رویّے کے ان کی سوچ اور والدین کے احترام پر پڑنے والے اثرات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کئی لوگ مجھے لکھتے ہیں ، بچے بھی، تو یہی ہوتا ہے کہ ہمارا باپ جو ہے، وہ ماں سے اچھا سلوک نہیں کرتا، تو ہم کس طرح اس کی عزت کر سکتے ہیں، کس طرح ہم اس کی بات مانیں؟ ان کی بات ٹھیک ہے ۔ آجکل بچے بڑاobserve کرتے ہیں ۔
بعدازاں حضورِ انور نے موجودہ دَور کے بچوں کی ذہانت، دینی معلومات حاصل کرنے کے شوق اور حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت کی مثال پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مَیں نے کل ہی حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ کی مثال دی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توکّل کے لیے کہانی سنائی ، ان کی عمر نو سال تھی، لیکن مَیں نے دیکھا ہے کہ اب موجودہ بچے دس گیارہ سال کی عمر کے بھی ایسے بچے ہیں کہ جو بڑا علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خود پڑھنے کا شوق ہے، وہ پڑھتے ہیں یا گھر میں بھی دیکھتے ہیں کہ اچھا ماحول ہے تو اس کے مطابق چلتے ہیں۔ یہیں ایک بچہ گیارہ سال کی عمر میں سکول میں گیا، چرچ سکول میں ہے، مشن سکول میں ہے۔ وہاں religious study کی ٹیچر نے کہا کہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) زندہ ہیں یا خدا کے بیٹے ہیں، اس طرح کی کوئی بات کی، تو اس نے کھڑے ہو کے کہا کہ مَیں نے سوال کرنا ہے، دس یا گیارہ سال کا بچہ کلاس میں کہہ رہا ہے، تو اس نے کہا کیا ہے؟ اس نے کہا کہ بائبل میں تو یہ لکھا ہے، اس نے بائبل کی verse کوٹ(quote) کر دی،کوئی نہیں خدا کے بیٹے، وہ تو مانتے ہی نہیں، تم کس طرح کہتی ہو؟ تو ٹیچر کو اور کوئی جواب نہیں پڑا، کہنے لگی کہ اچھا! ہم کوئی اور بات کرتے ہیں، ٹاپک چینج کر لیتے ہیں۔ تو اس طرح کے چیلنج کرنے والے بچے بھی ہیں۔
مزید برآں حضورِ انور نے والدین کے قول و فعل میں تضاد کے نتیجے میں بچوں میں پیدا ہونے والی ذہنی اُلجھن اور بغاوت کے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی ذہانت کو صحیح رُخ پر استعمال کرنے اور اپنے عملی نمونے پیش کرنے کی نصیحت فرمائی کہ جب اس طرح کے ذہین بچے ہوں گے، جب دیکھیں گے کہ ماں باپ کے عمل کچھ ہیں اور نصیحتیں ہمیں کچھ اَور طرح کرتے ہیں، تو وہ اثر نہیں لیں گے۔ ایک وقت آئے گا وہ پھر باغی ہو جائیں گے۔ ابھی ان کا جو فرٹائل ذہن ہے، وہ اگر دین کی طرف راغب ہے، تو اس لیےکہ ماں باپ کے پُوری طرحinfluence میں نہیں آئے۔ لیکن آہستہ آہستہ جب دیکھتے ہیں کہ ماں باپ کے عمل کچھ اور ہو رہے ہیں اور نصیحتیں کچھ اَور ہیں، کتابیں کچھ اَور کہتی ہیں تو پھر وہconfuseہو جاتے ہیں ۔ تو ان بچوں کی ذہانتوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیے اور ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اس لیے اپنے نمونے دکھاؤ۔
ایک خادم نے عرض کیا کہ پیارے حضور! میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جماعتی عہدیدار کے طور پر خدمت کر رہا ہواَور پھر اسے کسی ذیلی تنظیم کے سربراہ مثلاً قائد مجلس کے طور پر منتخب کر لیا جائے ، لیکن اپنی پوری کوشش کے باوجود اسے محسوس ہو کہ وہ ملازمت اور خاندانی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے دونوں ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہا، تو اس معاملے میں پیارے حضور کی کیا راہنمائی ہے؟
اس پر حضورِ انور نے منتخب اور نامزد کردہ عہدوں میں فرق واضح کرتے ہوئے دونوں ذمہ داریوں کے درمیان ترجیح کے تعیّن اور انصاف کے تقاضوں کی بابت راہنمائی فرمائی کہ اگرقائد کے طور پرelect ہو گیا، تو جو elected پوسٹ ہے، تو وہاں جماعت والوں کو کہہ دینا چاہیے کہ میری یہ ذمہ داری ہے، مجھے یہ کرنے دیں۔ اور اگر صرف قائد نے اپنی عاملہ کے لیےnominate کیا ہے، تو پھر جماعت کی جو responsibility پہلے ملی ہوئی ہے، وہ زیادہ اس کو preference دینی ہے۔لیکن جسٹس ہونا چاہیے۔ تو یہ آپ کی بات ٹھیک ہے۔ اگر دونوں کام نہیں کر سکتے ، تویا یہ کام کرو یا وہ کام کرو، اگر اتنی capability نہیں ہے تو پھرٹھیک ہے۔
پھر حضورِ انور نے افراد کی تعداد اور ان کی صلاحیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ذمہ داریاں نبھانے اور دوسروں کو بھی خدمت کے مواقع فراہم کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اور اگر اتنا پوٹینشل ہے کہ دونوں کام کر سکتے ہیں تو پھر کرنا چاہیے۔ اگر لوگ تھوڑے ہیں توٹھیک ہے۔ اور اگر بہت سارے ہیں، تو لوگوں کو موقع دیں۔ ہر ایک عہدہ اپنے قابو میں نہ رکھ لیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ذمہ داریوں میں انصاف نہ کر سکنے کی صورت میں نامزد کردہ عہدے سے رخصت لینے اور منتخب عہدے کو ترجیح دینے کے اصول کی وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تو انصاف تو یہی ہے کہ اگر سمجھتے ہو کہ مَیں دوکام نہیں کر سکتا ، تو چھوڑ دو، جوelected پوسٹ ہے اس کو رکھو، دوسری کو چھوڑ دو۔ اگر جماعتیelected ہے تو وہ پہلےہے۔ اگر یہ ہے تو یہ پہلے۔ ایک سے چھٹی لے لیں ، ہم آرام سے چھٹی دے دیتے ہیں ، کوئی فکر کی بات نہیں۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بات یا عمل سے ہمارے دل کو دُکھائے اور ہمارے جذبات مجروح ہوں، تو ایسی صورتحال میں اسلام ہمیں کیا طرزِ عمل اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، خصوصاً اگر وہ شخص ہمارے خاندان کا قریبی فرد ہو اور بار بار ایسی صورتحال پیدا ہو، تو ہمیں اپنے دل کو رنجش و ناراضگی سے بچاتے ہوئے اس رشتے کو کیسے نبھانا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے دوسروں کی باتوں سے دل آزاری کی صورت میں صبر و تحمل، حوصلے اور وسعتِ قلبی سے کام لینے کی تلقین فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جوان آدمی ہو، دل مضبوط کرو، ذراذرا سی باتوں پر زود رنج نہ ہو جایا کرو۔ کیا دل دُکھائے گا، دل پر آکےمُکّےمارتا ہے ؟ چَرکے لگاتا ہے، taunting الفاظ ہوتے ہیں یا مجلس میں بیٹھے ہوئے مذاق اُڑا دیا، کوئی ایسی بات کر دی کہ جو جذبات کو ذرا تکلیف دیتی ہے، بُرا بھلا کوئی کہتا ہے، کوئی گالیاں بھی دیتا ہے۔
پھر حضورِ انور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ایک ایمان افروز واقعے کی روشنی میں دوسروں کی تلخ باتوں کو برداشت کرنے، اعلیٰ اخلاق پر قائم رہنے اور اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کا طریق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا کہ فلاں میرا جو رشتہ دار ہے، مجھے ہر وقت چَوکیں لگاتا رہتا ہے، کبھی کوئی بات، کبھی کوئی بات کہ جو میرے دل کو تکلیف دیتی ہے، تو مَیں اس کے ساتھ کیا سلوک کروں ؟ آپؐ نے فرمایا کہ جب تک تم اس کی یہ باتیں برداشت کر رہے ہو، تمہاری طرف سے اللہ تعالیٰ اس کو آپ ہی جواب دیتا رہے گا۔ پھر آگے اگلےجہان میں جا کے آپ ہی جواب مل جائے گا یا فرشتے جواب دے دیں گے، تم بس پروٹیکشن میں رہو گے۔ لیکن جب تم نے جواب دینے شروع کر دیے، اسی طرح جس طرح وہ behave کر رہا ہے، تو پھر اللہ تعالیٰ بیچ میں سے ہی نکل جائے گا۔ اس لیے اگر اللہ کی مدد چاہیے، تو پھر چپ کر کے سُن لو باتیں، برداشت کرو۔اور اگر سمجھتے ہو کہ مَیں بدلہ لوں گا، تو پھر ٹھیک ہے، پھرجواب دے دو۔ انسان میں برداشت ہونی چاہیے۔ اعلیٰ اخلاق تو یہی ہیں۔
اسی طرح حضورِ انور نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں لغویات سے اعراض کرنے اور جھگڑے و رنجش سے بچنے کے لیے نامناسب مجلس سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی راہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اور قرآنِ شریف میں بھی اللہ تعالیٰ یہی کہتا ہے کہ جب لغویات سُنو تو تم اس مجلس میں ہی نہ جاؤ۔ اگر سُنتے ہو تو ایک کان سے سُنو اور نکال دو۔ اگر مجلس میں بیٹھا کوئی ہے تو اس مجلس سے اُٹھ کے آ جاؤ۔ لغو سے اعراض کرو۔ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ۔ جو لغویات فضول چیزیں ہیں، ان سے بچ کے رہو، یہی اللہ تعالیٰ کہتا ہے۔ تو یہ لغو باتیں جو کرتا ہے، فضول باتیں جو کرتا ہے، ان سے بچ کے وہاں سے مجلس سے اُٹھ جاؤ ، بجائے اس کے کہ جھگڑا پیدا ہو، دل میں رنجشیں پیدا ہوں۔ تو لوگ تو کرتے ہیں، کسی کو روک نہیں سکتے، اپنے آپ کو کنٹرول رکھو۔ اپنے آپ کو تو کر سکتے ہیں۔
بعدازاں حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کی خاطر دوسروں کی زیادتیوں کو برداشت کرنے اور اپنی اَنا کی بجائے رضائے الٰہی کو ترجیح دینے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر اپنے آپ کو کنٹرول کر لیں گے توآخر ایک وقت میں آ کے وہ خود شرمندہ ہو جائے گا۔ ایسے بہت سارے لوگ ہوتے ہیں ، بعد میں کہتے ہیں کہ معاف کر دیں، ہم نے غلط کیا۔ آپ کے خلاف بولتے تھے یا غلط باتیں کرتے تھے، اب ہمیں معاف کر دو، ہم نہیں کریں گے۔ تو ٹھیک ہے! اللہ کی خاطر برداشت کر لو، پھر اللہ تعالیٰ جواب دے گا، اگر اللہ کی خاطر کرو گے تو اللہ جواب دے دے گا۔ اگر اپنی ego اور اَنا ہے تو پھر اللہ بیچ میں سے ہٹ جائے گا۔ اب دیکھ لو کہ کیا پسند ہے، اللہ یا خودی، کیا چاہتے ہو؟
اس پر سائل کے الله عرض کرنے پرحضورِ انور نے دوسروں کے نامناسب رویّوں کے باوجود اپنے اخلاق بلند رکھنے، صبر و برداشت سے کام لینے اور خُطباتِ جمعہ سے عملی سبق حاصل کرنے کی نصیحت فرماتے ہوئے فرمایا کہ بس پھر برداشت کر لو۔ ہر ایک کو لوگ کہتے ہیں، لوگ گالیاں دیتے ہیں، دینے دو، کیا فرق پڑتا ہے؟ رشتہ داروں میں سے اس کے اپنے فعل اس کے ساتھ ہیں، تمہارے اخلاق اپنے ساتھ ہونے چاہئیں۔ اخلاق اور یہ اور وہ اتنی دیر سے میں خُطبات دے رہا ہوں، اس لیے دے رہا ہوں کہ ان سے مثالیں لو اور سیکھو ، جو سیکھ سکتے ہو۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصاویر بنوانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
٭…٭…٭



