از افاضاتِ خلفائے احمدیت

حضرت مسیح موعودؑ کے کارہائے نمایاں(قسط اوّل)

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۵؍ستمبر ۱۹۲۵ء)

حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے کارناموں کے مضمون پر روشنی ڈالی۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

آپؑ نے توحید کی جو تعریف کی وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ ہیں جواس کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا تعلق مخلوق سے نہیں۔…اور خدا کی کچھ صفات ایسی ہیں جن کا تعلق بندوں کے ساتھ ہے۔ وہ ادنیٰ طور پر بندوں میں بھی پائی جاتی ہیں

میں نے اس امر کے متعلق پچھلے جمعہ کے خطبہ میں کچھ بیان کیا تھا کہ یتلوا عليهم اٰیٰتک کے ما تحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق کیا کچھ تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی۔ وہ تعلیم قرآن کریم میں تو ہے اور رسول اللہﷺ نے دنیا کے سامنے رکھی تھی۔ لیکن بعد کے لوگ جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا۔ نبوت کے بُعد کی وجہ سے اسے بھول گئے تھے اور باوجود اس کے کہ علماء موجود تھے۔ باوجود اس کے کہ فاضل موجود تھے۔ باوجود اس کے کہ پیر موجود تھے۔ باوجود اس کے کہ صوفی موجود تھے۔ مگر پھر بھی وہ قرآن شریف سے اس کو نکال نہ سکے اور دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکے۔ نیز میں نے بتایا تھا کہ جب کہ ایسی تعلیم بھی موجود تھی اور جب کہ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اپنے آپ کوعلماء میں سے گنتے تھے اور فاضل یا پیر یا صوفی یا مولوی کہلاتے تھے اور پھر بھی وہ کچھ نہ کر سکے۔ اور دنیا کے سامنے اس تعلیم کو قرآن کریم سے اخذ کر کے پیش نہ کر سکے۔ دنیا ان کے سامنے تباہ ہو رہی تھی مگر وہ کچھ نہ کر سکے۔ دنیا ان کے دیکھتے دیکھتے شرک میں مبتلا ہوتی چلی گئی مگر وہ اس کا کوئی علاج نہ کر سکے۔ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ

اس زمانہ میں ضرورت تھی کہ خدا کی طرف سے کوئی آئے تا قرآن شریف سے اس تعلیم کو پیش کرے۔

آج میں پھر اسی مضمون کے ایک حصہ توحیدِ باری تعالیٰ کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔ پہلے میں نے تفصیلات بیان کی تھیں اور کہا تھا کہ توحید کا مسئلہ ایک نہایت ہی اہم مسئلہ ہے لیکن علماء اس کام کو نہ کرسکے یا یہ کہ خود اس کے برخلاف تعلیم دیتے تھے۔ آج میں توحید کی وہ تعریف بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے اور وہ ایسی ہے کہ اس کے ساتھ تمام شرک مٹ جاتے ہیں اور شرک واضح طور پر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور مسلمانوں کے نہ صرف اعمال بلکہ عقیدہ بھی اس کو سمجھتے ہوئے ہر قسم کے شرک سے پاک ہو جاتا ہے۔

شرک کی لوگوں نے مختلف تعریفیں کی تھیں۔ بعضوں نے تو یہ کی تھی کہ خدا جیسی اور ذات ماننا یہ شرک ہے مگر ایسے لوگ بھی نکل آئے جو خدا کی طرح تو کسی اور وجود کو نہیں مانتے تھے مگر یہ کہتے تھے بعض ایسے وجود ہیں جو خدا سے طاقتیں پاکر دنیا میں آئے اور انہوں نے اس کی قدرتوں کا اظہار کیا۔ اس لیے ہم ان کی پرستش کرتے ہیں۔ کیونکہ ان سے خدا کی صفات اور قدرتیں اور طاقتیں ظاہر ہوئیں۔ جب ان لوگوں نے جو توحید کے قائل تھے۔ یہ دیکھا تو انہوں نے توحید کے لیے یہ قرار دیا ہے کہ خدا کے سوا کامل عبودیت کسی کے سامنے نہیں کرنی چاہیے اور اگر کوئی کرتا ہے تو شرک کرتا ہے۔ مگر یہ تعریف بھی ناقص رہی۔ کیونکہ ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے جو خدا کے سوا کسی کے آگے کامل عبودیت کا تو اظہار نہ کرتے تھے۔ مگر خدا کی صفات اَوروں کو دیتے تھے۔ یہ دیکھ کرشرک کی یہ تعریف بنائی گئی کہ خدا کی صفات کسی اَورکو دینا شرک ہے مگر اس میں بھی اختلاف ہو گیا کہ خدا کی صفات دوسرے کو دینے سے کیا مراد ہے۔ مثلاً خدا کی صفت ہے کہ وہ سنتا ہے۔ سب مانتے آئے ہیں کہ وہ سنتا ہے اب کیا یہ کہنا کہ انسان بھی سنتا ہے۔ یہ خدا کی صفت اسے دینا ہے؟ اسی طرح خدا تعالیٰ دیکھتا ہے۔ کیا یہ کہنا کہ کوئی اَور بھی دیکھتا ہے شرک ہے؟ یا خدا تعالیٰ رزق دیتا ہے تو کیا یہ کہنا کہ فلاں بھی رزق دیتا ہے شرک ہے؟ پھر اگر کہا جائے کہ جس طرح خدا تعالیٰ سنتا ہے، دیکھتا ہے ،رزق دیتا ہے اسی طرح کسی اَور کے متعلق کہنا کہ وہ سنتا ،دیکھتا اور رزق دیتا ہے تو یہ شرک ہے۔ لیکن مشرک کہتے ہیں ہم جن کی پرستش کرتے ہیں ان کے متعلق ہم کب کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرح دیکھتے،سنتے اور رزق دیتے ہیں۔ ہم بھی یہ مانتے ہیں کہ خدا جس طرح سب کچھ دیکھتا ہے۔ اس طرح دوسرے نہیں دیکھتے۔ خدا ہی سب کا محافظ اور سب کا متصرف ہے۔ اس کی طرح اَور کوئی نہیں۔ سب کچھ اس کے قبضے میں ہے۔ ہم کب کہتے ہیں کہ سب کچھ بتوں کے قبضے میں ہے۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ خدا نے اپنی صفات اور طاقتوں میں سے کچھ ان بتوں اورمعبودوں کو دے دی ہیں۔ اس طرح شرک کی یہ تعریف بھی کہ خدا کی صفات میں کسی اور کو شریک کرنا شرک ہے نامکمل اور ناقص ہوگئی۔ غرض شرک کی مختلف زمانوں میں مختلف تعریفیں ہوتی رہی ہیں۔ اور لوگ جیسا جیسا ان کو ضرورت پڑتی گئی شرک کی تعریف کو ڈھالتے گئے۔ اس لیے شرک کی مختلف تعریفیں ہو گئیں۔ یہاں تک کہ قرآن کریم دنیا میں آیا اوراس نے شرک کی ایسی تعریف بتائی۔ جس سے کوئی بات باہر نہ رہ گئی۔ لیکن افسوس کہ نبوت سے بُعد کی وجہ سے وہ تعلیمیں تو رہ گئیں جو پہلے تھیں اور جو اسلام نے تعلیم دی تھی وہ مٹ گئی اور مسلمان بھی مختلف قسم کے شرکوں میں مبتلا ہو گئے۔

مسلمانوں میں سے موحّد کہلانے والے اپنے آپ کو شرک سے بالکل پاک کہتے ہیں۔ لیکن

کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص موحّد کہلائے۔ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھے اور پھر یہ بھی عقیدہ رکھے کہ سینکڑوں سالوں سے حضرت عیسیٰؑ زندہ آسمان پر بغیر کسی جسمانی تغیّر کے جوں کے توں بیٹھے ہیں۔

پھر کیا ایسا شخص موحّد کہلا سکتا ہے۔

جو یہ مانے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردے زندہ کیا کرتے تھے۔ حالانکہ مردے زندہ کرنا صرف خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ پھر کیا اسے مشرک نہ کہا جائے گا۔ جو اس بات کو مانتے ہوئے کہ خلق کی صفت صرف خدا تعالیٰ ہی کی ہے۔ یہ بھی مانے کہ حضرت عیسیٰؑ پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔ یہ عقائد رکھنے والے لوگ ہرگز موحّد نہیں کہلا سکتے بلکہ وہ بھی شرک میں مبتلا ہیں۔

کس قدر رنج اورافسوس کا مقام ہے کہ ہندو اور عیسائی وغیرہ جو حقیقتاً توحید کے قائل نہیں اورجن کے مذہب میں شرک کی تعلیم پائی جاتی ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو توحید پرست کہنے لگ گئے ہیں۔ لیکن مسلمان جن کے مذہب میں سب سے زیادہ زور توحید پر دیا گیا ہے۔ مشرکانہ عقائد میں پھنس کر توحید سے غافل ہو گئے۔ چونکہ علی الاعلان شرک کی تعلیم کو کوئی قبول نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہندو اورعیسائی اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ لوگ ہمارا مذہب قبول نہیں کریں گے۔ اپنے مشرکانہ عقائد کے ساتھ یہ دعویٰ بھی رکھتے ہیں کہ ہم توحیدپرست ہیں۔ مگر مسلمانوں کی حالت اس کے الٹ ہے۔ ان کا مذہب شرک پر نہیں کہ انہیں بناوٹی طور پر توحید کا ذکر کرنے کی ضرورت ہو بلکہ ان کا مذہب توحید پر ہے۔ لیکن مسلمان اسلام کی اس پاک اور مقدس تعلیم کو اپنے باطل عقائد سے بری شکل میں پیش کر رہے ہیں۔ دیگر مذاہب کی بنیاد چونکہ شرک پر ہے۔ اس لیے ان کے پیرواپنی فطرت کو تسلی دینے کے لیے مشرکانہ تعلیم کو ہی کہتے ہیں یہ بھی توحید ہے اورلوگوں کو خوش کرنے کے لیے کہہ دیتے ہیں۔ ہمارا مذہب بھی توحید پر ہے۔ مگر مسلمانوں کو اپنی تسلی کے لیے یا دوسروں کو خوش کرنے کے واسطے فرضی طور پر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارا مذہب بھی توحید پر ہے۔ بلکہ مسلمانوں کا مذہب فی الواقع ہے ہی توحید پر۔ اور

اگرخالص توحید کسی مذہب نے پیش کی ہے تو اسلام نے ہی پیش کی ہے۔ اور اسی نے ایسے اصول بتائے ہیں کہ آج بھی اگر ساری دنیا انہیں سمجھ لے تو شرک کا نام و نشان مٹ سکتا ہے۔

مگر افسوس مسلمانوں کی حالت دیگر مذاہب کے لوگوں کے الٹ ہے۔ وہ شرک پر تھے اورتوحید بناوٹی طور پر اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ لیکن یہ توحید پر تھے اورشرک میں پھنس گئے۔ مشرکانہ عقائد اختیار کرلیے۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں میں یہ خواہش تھی کہ توحید پر قائم ہوں اوراس کے لیے کوشش بھی کرتے رہے لیکن کچھ تو مولویوں کی سستی اور نادانی کی وجہ سے اورکچھ شرک اورتوحید کی تعریف کی وجہ سے اس بات کو حاصل نہ کر سکے۔ بلکہ اور زیادہ شرک میں مبتلا ہو گئے۔

ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجا اورآپؑ نے توحید کو اس رنگ میں دنیا میں پیش کیا کہ شرک بالکل واضح ہو گیا۔

آپؑ نے توحید کی جو تعریف کی وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ ہیں جواس کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا تعلق مخلوق سے نہیں۔

یعنی تنزیہی صفات میں کسی مخلوق کو ظاہری اور باطنی مشابہت نہیں ہو سکتی اور

خدا کی کچھ صفات ایسی ہیں جن کا تعلق بندوں کے ساتھ ہے۔ وہ ادنیٰ طور پر بندوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

مگر

ان سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ ان صفات کا تعلق بندوں سے پیدا کرکے خدا نے خود اپنے بندوں کو شریک بنا لیا۔ بلکہ یہ محض اپنی عظمت اور جلال کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔

یا ایسی صفات الوہیت کے متعلق شک و شبہ سے بچانے کے لیے بعض بندوں میں رکھ دی جاتی ہیں۔ مگران کو یونہی نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ان کی حد بندیاں مقرر ہیں کہ فلاں حد تک بندوں میں پائی جاتی ہیں اور فلاں طریق پر بندوں میں پائی جاتی ہیں۔

اب یہ بات واضح ہو گئی۔ جن امور کے متعلق انعکاسی طور پرانسان کچھ اخذ نہیں کر سکتا۔ خواہ وہ باذن اللہ کہہ کر ہی کیے جاویں شرک ہیں۔ اور جن امور کو بطور انعکاس اور ظل کے پیدا کر سکتے ہیں وہ شرک نہیں۔ مثلاً شنوائی کی طاقت ہے۔ یہ انسان پیدا شدہ ہی لاتا ہے اور یہ خدا خود اسے دیتا ہے۔ اسی طرح بینائی ہے وہ بھی پیدا شدہ ہی لاتا ہے۔ گویائی ہے وہ بھی پیدا شدہ ہی لاتا ہے اور یہ خدا خود اسے دیتا ہے۔ خدا خود بھی سنتا ہے اور انسان کو بھی سننے کی طاقت بخشتا ہے۔ خدا خود بھی دیکھتا ہے اور انسان کو بھی بینائی عطا فرماتا ہے۔ خدا خود بھی بولتا ہے اور انسان کو بھی قوت گویائی دیتا ہے لیکن یہ ان صفات میں شرکت شرک نہیں بلکہ انعام ہے۔ جو انعکاسی رنگ میں بندوں پر کیا جاتا ہے تا ان کے یقین وایمان میں ترقی ہو۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button