مسجد فضل برطانیہ کی صدسالہ جوبلی

آج سے سو سال پہلے بیج جو بویا گیا
رفتہ رفتہ اِک شجر بن کر وہ ہر سُو چھا گیا
اک بشیرِ آرچرڈ نے بن کے احمدؐ کا غلام
پا لیا درگاہِ مولیٰ میں بہت عالی مقام
آیا تھا فتحِ محمدؐ بن کے نصرت کا نشاں
کامیابی نے قدم چومے، ہوا وہ کامراں
قدرتِ ثانی کے مظہر بھی یہاں آتے رہے
اور عطا سب کو خُمِ عرفان فرماتے رہے
رات کی تاریکیوں میں سجدہ گہ کو تَر کیا
اُس کی آہوں کو خدا نے آسماں پر سُن لیا
یہ بنے گا مسکنِ طاہر، تھا کس کو یہ گماں
اور پھر تو بن گیا مرکز خلافت کا یہاں
مہدیٔ موعودؑ کے اصحابؓ بھی آتے رہے
مرکزِ تثلیث میں توحید پھیلاتے رہے
جلوہ گر نورِ خلافت پھر ہوا کس شان سے
پانچویں مظہر کا آنا بام پر کس آن سے
اِن ستاروں کی بدولت روشنی ہونے لگی
اہل مغرب سے جدا سب تیرگی ہونے لگی
بن گئی ہے مرکزِ رشد و ہدایت یہ جگہ
نور کا چشمہ رواں ہے روز و شب صبح و مسا
شہرِ لندن میں جو راؔشد! اوّلیں مسجد بنی
رہتی دنیا تک رہے گی بن کے آثارِ جلی
حضرتِ مسرور کی آواز عالَم کی زباں
گونجتی ہے شش جہت میں اب نوائے قادیاں
عورتوں نے دے کے زیور باب اک نادر لکھا
جگمگائے گا جبینوں پر یہ اِک جھومر سدا
آ رہے ہیں رفتہ رفتہ اُڑ کے روحانی طُیور
مہدیٔ مسعود کے الفاظ کا تازہ ظہور
واقفینِ زندگی نے روز و شب تبلیغ کی
گھپ اندھیروں میں بکھیری دینِ حق کی روشنی
آئے گی اک روز مہدی کے حدیقہ میں بہار
’’ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار‘‘
(عطاءالمجیب راشد۔ امام مسجد فضل لندن)
مزید پڑھیں: امینِ خلافت ہیں خُدّام سارے




