سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

اے میرے احمد تجھے بشارت ہو۔ تو میری مراد ہے۔ اور میرے ساتھ ہے۔ مَیں نے اپنے ہاتھ سے تیرا درخت لگایا۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ اور تو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔ مَیں نے اپنے لئے تجھے چنا۔ تو مجھ سے ایساہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔ پس وقت آگیا ہے کہ تو مدد دیا جائے۔ اور لوگوں میں تیرے نام کی شہرت دی جائے۔ اے احمد! تیرے لبوں میں نعمت یعنی حقائق اور معارف جاری ہیں۔ اے احمد! تو برکت دیا گیا۔ اور یہ برکت تیرا ہی حق تھا۔

ایک اورجگہ اسی دلیل صداقت کے تسلسل کے طور پر حضرت اقدسؑ اپنے الہامات کاتفصیل سے ذکرفرماتے ہوئے اپنے مکالمات اور الہامات کودوحصوں میں تقسیم فرماتے ہیں۔ ایک حصہ ان الہامات کا کہ جن سے یہ دلیل لی گئی ہے کہ ان الہامات پر ۲۳؍برس سے بھی زیادہ کاعرصہ گزرچکاہے۔ چنانچہ آپؑ تحریرفرماتے ہیں: ’’یہ خدا کی قدرت ہے کہ اُس نے منجملہ اور نشانوں کے یہ نشان بھی میرے لئے دکھلایا کہ میرے وحی اللہ پانے کے دن سیدنا محمد مصطفیٰﷺکے دنوں سے برابر کئے جب سے کہ دنیا شروع ہوئی ایک انسان بھی بطور نظیر نہیں ملے گا جس نے ہمارے سیّد و سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تیئیس برس پائے ہوں اور پھر وحی اللہ کے دعوے میں جھوٹا ہو یہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو ایک خاص عزت دی ہے جو اُن کے زمانہ نبوت کو بھی سچائی کا معیار ٹھہرا دیا ہے۔ پس اے مومنو! اگر تم ایک ایسے شخص کو پاؤ جو مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور تم پر ثابت ہو جائے کہ وحی اللہ پانے کے دعوے پر تیئیس برس کا عرصہ گذر گیا اور وہ متواتر اس عرصہ تک وحی اللہ پانے کا دعویٰ کرتا رہا اور وہ دعویٰ اس کی شائع کردہ تحریروں سے ثابت ہوتا رہا تو یقینا ًسمجھ لو کہ وہ خدا کی طرف سے ہے) کیونکہ ممکن نہیں کہ ہمارے سیدو مولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی وحی اللہ پانے کی مدّت اُس شخص کو مل سکے جس شخص کو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ ہاں اس بات کا واقعی طور پر ثبوت ضروری ہے کہ درحقیقت اس شخص نے وحی اللہ پانے کے دعوے میں تیئیس برس کی مدّت حاصل کرلی اور اِس مدّت میں اخیر تک کبھی خاموش نہیں رہا اور نہ اس دعوے سے دست بردار ہوا۔ سو اس اُمت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں تیئیس برس کی مدّت دی گئی ہے اور تیئیس برس تک برابر یہ سلسلہ وحی کا جاری رکھا گیا۔ اِس کے ثبوت کے لئے اوّل میں براہین احمدیہ کے وہ مکالمات الٰہیہ لکھتا ہوں جو اکیس برس سے براہین احمدیہ میں چھپ کر شائع ہوئے اور سات آٹھ برس پہلے زبانی طور پر شائع ہوتے رہے جن کی گواہی خود براہین احمدیہ سے ثابت ہے اور پھر اس کے بعد چند وہ مکالماتِ الٰہیہ لکھوں گا جو براہین احمدیہ کے بعدوقتاً فوقتاً دوسری کتابوں کے ذریعہ سے شائع ہوتے رہے۔ سو براہین احمدیہ میں یہ کلمات اللہ درج ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوئے اور میں صرف نمونہ کے طور پر اختصار کرکے لکھتا ہوں۔ مفصل دیکھنے کے لئے براہین موجود ہے۔

وہ مکالماتِ الٰہیہ جن سے مجھے مشرف کیا گیا اور براہین احمدیہ میں درج ہیں: بُشْرٰی لَکَ اَحْمَدِیْ۔ اَنْتَ مُرَادِیْ وَمَعِیْ۔ غَرَسْتُ لَکَ قُدْرَتِیْ بِیَدِیْ۔سِرُّکَ سِرِّیْ۔ اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ۔ اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔ یَا اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔ بُوْرِکْتَ یَا اَحْمَدُ۔ وَکَانَ مَا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ حَقًّا فِیْکَ۔ الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُھُمْ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ وَیَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُاللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَتْرُکَکَ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ۔ وَ اِنَّ عَلَیْکَ رَحْمَتِیْ فِی الدُّنْیَا وَالدِّیْنَ۔ وَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ وَ اِنَّکَ مِنَ الْمَنْصُوْرِیْنَ۔ وَاَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْخَلْقُ۔ وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔ یَآ اَحْمَدُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ۔ یَآ اٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ۔ ھٰذَا مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّکَ لِیَکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۔ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ لِیُقِیْمَ الشَّرِیْعَۃَ وَ یُحْیِ الدِّیْنَ۔ جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآءِ۔ وَجِیْہٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔ کُنْتُ کَنْزًا مَّخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ۔ وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا وَ کَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔ یَآ عِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ یُخَوِّفُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ۔ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ وَ لَوْ لَمْ یَعْصِمْکَ النَّاسُ۔ وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا۔ یَحْمَدُکَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔ نَحْمَدُکَ وَ نُصَلِّی۔ وَ اِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ وَ قَالُوْٓا اِنْ ھُوَ اِلَّآ اِفْکُ افْتَرٰی۔ وَمَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِیْ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ۔ وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔ کَذَالِکَ لِتَکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۔ وَجَحَدُوْا بِھَا وَ اسْتَیْقَنَتْھَآ اَنْفُسُھُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ وَقَالُوْٓا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُ وَ اِنْ یَرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ۔ وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ۔ وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْنَ۔ وَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا۔ اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ۔ وَیَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَایُبْصِرُوْنَ وَاِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْ کَفَّرَ۔ اَوْقِدْ لِیْ یَا ھَامَانُ لَعَلِّیْٓ اَطَّلِعُ عَلٰٓی اِلٰہِ مُوْسٰی وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ۔ مَا کَانَ لَہٗ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْھَآ اِلَّا خَائِفًا۔ وَمَآ اَصَابَکَ فَمِنَ اللّٰہِ۔ اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوالْعَزْمِ۔ اَلَآ اِنَّھَا فِتْنَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ لِیُحِبَّ حُبًّا جَمًّا۔ حُبًّامِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْاَکْرَمِ۔ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ۔ وَفِی اللّٰہِ اَجْرُکَ وَیَرْضٰی عَنْکَ رَبُّکَ وَیُتِمُّ اسْمَکَ۔ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ ترجمہ: اے میرے احمد تجھے بشارت ہو۔ تو میری مراد ہے۔ اور میرے ساتھ ہے۔ مَیں نے اپنے ہاتھ سے تیرا درخت لگایا۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ اور تو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔ مَیں نے اپنے لئے تجھے چنا۔ تو مجھ سے ایساہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔ پس وقت آگیا ہے کہ تو مدد دیا جائے۔ اور لوگوں میں تیرے نام کی شہرت دی جائے۔ اے احمد! تیرے لبوں میں نعمت یعنی حقائق اور معارف جاری ہیں۔ اے احمد! تو برکت دیا گیا۔ اور یہ برکت تیرا ہی حق تھا۔ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی قرآن کے اُن معنوں پر اطلاع دی جن کو لوگ بھول گئے تھے۔ تاکہ تُو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے بے خبر گذر گئے۔ اور تاکہ مجرموں پر خدا کی حجت پوری ہو جائے۔ ان کو کہہ دے کہ مَیں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی وحی اور حکم سے یہ سب باتیں کہتا ہوں۔ اور مَیں اس زمانہ میں تمام مومنوں میں سے پہلا ہوں۔ ان کو کہدے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پَیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ اور یہ لوگ مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا۔ اور خدا بہتر مکر کرنے والا ہے۔ اور خدا ایسا نہیں کرے گا کہ وہ تجھے چھوڑ دے جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرلے۔ اور تیرے پر دُنیا اور دین میں میری رحمت ہے اور تو آج ہماری نظر میں صاحب ِ مرتبہ ہے۔ اور ان میں سے ہے جن کو مدد دی جاتی ہے۔ اور مجھ سے تو وہ مقام اور مرتبہ رکھتا ہے جس کو دنیا نہیں جانتی اور ہم نے دُنیا پر رحمت کرنے کے لئے تجھے بھیجا ہے۔ اے احمد! اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو۔اے آدم! اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو۔ یعنی ہر ایک جو تجھ سے تعلق رکھنے والا ہے گو وہ تیری بیوی ہے یا تیرا دوست ہےنجات پائےگا۔ اور اس کو بہشتی زندگی ملے گی اور آخر بہشت میں داخل ہو گا اور پھر فرمایا کہ مَیں نے ارادہ کیا کہ زمین پر اپنا جانشین پیدا کروں۔ سو مَیں نے اس آدم کو پیدا کیا۔ یہ آدم شریعت کو قائم کرے گا۔ اور دین کو زندہ کر دے گا۔اور یہ خدا کا رسول ہے نبیوں کے لباس میں۔ دنیا اور آخرت میں وجیہ اور خدا کے مقربوں میں سے۔ مَیں ایک خزانہ پوشیدہ تھا۔ پس مَیں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔ اور ہم اس اپنے بندہ کو اپنا ایک نشان بنائیں گے۔ اور اپنی رحمت کا ایک نمونہ کریں گے۔ اور ابتدا سے یہی مقدّر تھا۔ اے عیسیٰ مَیں تجھے طبعی طور پر وفات دوں گا۔ یعنی تیرے مخالف تیرے قتل پر قادر نہیں ہوسکیں گے اور مَیں تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔ یعنی دلائل واضحہ سے اور کُھلے کُھلے نشانوں سے ثابت کردوں گا کہ تُو میرے مقر ّبوں میں سے ہے اور اُن تمام الزاموں سے تجھے پاک کروں گا جو تیرے پر منکر لوگ لگاتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو مسلمانوں میں سے تیرے پَیرو ہوں گے مَیں اُن کو اُن دوسرے گروہ پر قیامت تک غلبہ اور فوقیت دُوں گا۔ جو تیرے مخالف ہوں گے۔ تیرے تابعین کا ایک گروہ پہلوں میں سے ہوگا۔ اور ایک گروہ پچھلوں میں سے۔ لوگ تجھے اپنی شرارتوں سے ڈرائیں گے۔ پر خدا تجھے دشمنوں کی شرارت سے آپ بچائے گا گو لوگ نہ بچاویں۔ اور تیرا خدا قادر ہے۔ وہ عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔ یعنی لوگ جو گالیاں نکالتے ہیں ان کے مقابل پر خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ اور جو ٹھٹھا کرنے والے ہیں ان کے لئے ہم اکیلے کافی ہیں۔ اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو جھوٹا افترا ہے جو اس شخص نے کیا۔ ہم نے اپنے باپ دادوں سے ایسا نہیں سنا۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ کسی کو کوئی مرتبہ دینا خدا پر مشکل نہیں۔ ہم نے انسانوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پس اسی طرح اس شخص کو یہ مرتبہ عطا فرمایا تاکہ مومنوں کے لئے نشان ہو۔ مگر خدا کے نشانوں سے ان لوگوں نے انکار کیا۔ دل تو مان گئے مگر یہ انکار تکبر اور ظلم کی وجہ سے تھا۔ ان کو کہدے کہ میرے پاس خاص خدا کی طرف سے گواہی ہے پس کیا تم مانتے نہیں۔ پھر ان کو کہدے کہ میرے پاس خاص خدا کی طرف سے گواہی ہے۔ پس کیا تم قبول نہیں کرتے اور جب نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو ایک معمولی امر ہے جو قدیم سے چلا آتا ہے…..خدا نے قدیم سے لکھ رکھا ہے یعنی مقرر کر رکھا ہے کہ مَیں اور میرے رسول ہی غالب ہوں گے یعنی گو کسی قسم کا مقابلہ آپڑے جو لوگ خدا کی طرف سے ہیں وہ مغلوب نہیں ہوں گے اور خدا اپنے ارادوں پر غالب ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ خدا وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین ِ حق کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ کوئی نہیں جو خد اکی باتوں کو بدل دے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو کسی ظلم سے آلودہ نہیں کیا ان کو ہر ایک بلا سے امن ہے اور وہی ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ کلام نہ کر وہ تو ایک غرق شدہ قوم ہے۔ اور تجھے ان لوگوں نے ایک ہنسی کی جگہ بنا رکھا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو خدا نے مبعوث فرمایا۔ اور تیری طرف دیکھتے ہیں اور تُو اُنہیں نظر نہیں آتا۔ اور یاد کر وہ وقت جب تیرے پر ایک شخص سراسر مکر سے تکفیر کا فتویٰ دے گا…وہ اپنے بزرگ ہامان کو کہے گا کہ اس تکفیر کی بنیاد تو ڈال کہ تیرا اثر لوگوں پر بہت ہے اور تُو اپنے فتویٰ سے سب کو افروختہ کرسکتا ہے سو تُو سب سے پہلے اس کفر نامہ پر مُہر لگا۔ تا سب علماء بھڑک اُٹھیں اور تیری مُہر کو دیکھ کر وہ بھی مہریں لگا دیں اور تاکہ مَیں دیکھوں کہ خدا اس شخص کے ساتھ ہے یا نہیں کیونکہ مَیں اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں (تب اس نے مُہر لگادی) ابو لہب ہلاک ہوگیا۔ اوراس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے۔ (ایک وہ ہاتھ جس کے ساتھ تکفیر نامہ کو پکڑا اور دوسرا وہ ہاتھ جس کے ساتھ مُہر لگائی یا تکفیر نامہ لکھا) اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس کام میں دخل دیتا۔ مگر ڈرتےڈرتے۔ اور جو تجھے رنج پہنچے گا۔ وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔ جب وہ ہامان تکفیر نامہ پر مُہر لگادے گا تو بڑا فتنہ برپا ہوگا۔ پس تو صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔… یہ فتنہ خدا کی طرف سے فتنہ ہوگا۔ تا وہ تجھ سے بہت محبت کرے جو دائمی محبت ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ اور خدا میں تیرا اجر ہے۔ خدا تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے نام کو پورا کرے گا بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم چاہتے ہو مگر وہ تمہارے لئے اچھی نہیں۔ اور بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم نہیں چاہتے اور وہ تمہارے لئے اچھی ہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۴-۱۹، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۵۸۔ ۶۵)

یہی مضمون اربعین نمبر ۳، روحانی خزائن جلد۱۷ میں بھی صفحات ۴۰۹تا ۴۱۸ پر بیان ہواہے۔

مزید پڑھیں: امن و اماں کا سارے عالم میں ہے وہ رہبر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button