ہجرت ِمدینہ
“اللہ جل شانہ نے اپنے نبی معصوم کے محفوظ رکھنے کے لئے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجودیکہ مخالفین اس غار تک پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرت کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنادیا اور انڈے بھی دے دئیے اور اسی طرح اذنِ الہی سے عنکبوت نے اس غار پر اپنا گھر بنا دیا جس سے مخالف لوگ دھو کہ میں پڑ کر نا کام واپس چلے گئے‘‘ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)
رؤساء قریش ایک مرتبہ پھر خانہ کعبہ کے سامنے واقع مکان دار الندوہ میں جمع تھے جہاں رسول کریم ﷺ کے خلاف مشاورت کا سلسلہ جاری تھا۔ ان لیڈروں کے چہروں پر غصہ اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔ وقت اب گویا ان کے ہاتھوں سے نکلتا جارہا تھا۔ مسلمانوں کا ایک قافلہ پہلے ہی حبشہ کی سرزمین میں پناہ لے چکا تھا اور اب یثرب میں بھی اسلام کافی تیزی سے پھیلنے لگا تھا۔ سرداران قریش یہ جان چکے تھے کہ اگر ابھی اور اسی وقت کوئی قدم نہ اٹھایا گیا، تو وہ دن دور نہیں جب مکہ اور یثرب کی گلیاں اللہ اکبر کی صداؤں سے گونجنے لگیں گی۔
اس اجلاس میں باہم مشاورت کی غرض سے رؤساء مکہ کے ساتھ ایک ابلیس صفت نجدی بوڑھا ( شیخ نجدی) بھی شامل تھا اور یہ سب لوگ اس مکان میں صرف ایک ہی مقصد لے کر اکٹھے ہوئے تھے کہ اب کسی طرح محمدؐ کے اس مشن کا قلع قمع کردیا جائے۔ ایک تجویز جو اس موقع پر پیش کی گئی وہ یہ تھی کہ محمد(ﷺ) کو قید کر کے ایک کمرہ میں بند کردیا جائے اور پھر آپؐ کی موت کے آنے کا انتظار کیا جائے۔ اس پر اس بوڑھے نے کہا کہ نہیں، یہ تدبیر ٹھیک نہیں ہے، اگر تم نے محمد (ﷺ) کو قید کیا تو یہ خبر اس کے ساتھیوں کو پہنچ جائے گی اور وہ ضرور تم پر حملہ کرکے اسے رہا کروا لیں گے۔ پھر ایک تجویز یہ پیش ہوئی کہ ہم اسے شہر سے جلا وطن کردیتے ہیں۔ جب وہ ہم سے الگ ہوجائے گا تو ہم سکون سے اپنی پہلی حالت پر لوٹ آئیں گے۔ وہ شیخ پھر اٹھا اور بولا کہ یہ رائے بھی مناسب نہیں ہے۔ تم سب جانتے ہو کہ اس کی باتیں کتنی پُر اثر اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہیں۔ وہ تو باہر نکل کر عرب قبائل پر اپنا اثر قائم کر کے گا اور پھر انہی قبائل کے ساتھ مل کر تمہارے خلاف نکلے گا۔ لہٰذا کوئی اور اچھی تجویز ہے تو پیش کرو۔ ابوجہل رئیس الکفار اُسی لمحہ کھڑا ہوا اور کہا کہ میری رائے تو یہ ہے کہ قریش کے ہر قبیلے سے ایک جوان چنا جائے اور وہ سب (نعوذباللّٰہ) ایک ساتھ محمد (ﷺ) پر حملہ کر کے اسے قتل کردیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ محمد (ﷺ) کے قتل کا خون ہر قبیلے کے ذمہ تقسیم ہوجائے گا اور وہ قریش کے ہر قبیلے سے جنگ کرنے کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے چپ ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ اس پر اس نجدی شیخ نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ یہی سب سے بہترین حل ہے۔ قریش کی اس مجلس میں ایک دم سے سکون کی کیفیت پیدا ہوگئی اور وہ اس زعم میں گرفتار ہوگئے کہ اب ہم نے سب سے بہترین تدبیر بنالی ہے، اب ضرور ہم کامیاب ہوں گے۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس کے برخلاف اپنے برگزیدہ نبی کے واسطے دشمن کے بد منصوبے کی روک تھام کے لیے نئے راستے کھول رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کے لیے متحرک کیے جاچکے تھے۔(تلخیص از سیرت ابن ہشام جزء ۱ صفحہ ۴۸۱، ۴۸۲ مکتبہ مصطفیٰ البابی، مصر طبعہ ثانیہ ۱۹۵۵ء) (تلخیص ازسیرت حلبیہ جزء ۲ صفحہ ۳۴، ۳۵ دار اکتاب العلمیۃ۔ بیروت طبعہ ثانیہ ۱۴۲۷ھ)
ہجرت کی اجازت
اللہ تعالیٰ رسول کریمﷺ کو قریش کے اس بدارادے کے حوالہ سے پہلے سے ہی خبردار فرما چکا تھا۔ قریش کے اس خونی منصوبے کے فیصلے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپﷺ کو مدینہ ہجرت کر جانے کا حکم مل گیا تھا، جس کی طرف اشارہ خواب و الہام اور مختلف پیشگوئیوں کی صورت میں جابجا کیا جاچکا تھا۔ بدھ کا دن اور دوپہر کا وقت تھا جب ہجرت کا حکم آپؐ پر نازل ہوا۔ آپؐ شدید گرمی میں حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لے گئے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے آپؐ کو آتے دیکھا تو کہا ابا جان! اللہ کے رسول ﷺآرہے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے جب آپؐ کو آتے دیکھا تو تعجب سے کہا کہ اِس وقت؟ اِس گرمی میں ؟ ضرور کوئی خاص بات ہے۔ آنحضرتﷺ اندر داخل ہوئے اور آپؓ سے کہا کہ سب کو باہر بھیج دو۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہؐ! یہاں تو سب گھر والے ہی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ابو بکرؓ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکرؓ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں خوشی سے نم ہو گئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ، کیا میں بھی آپؐ کے ساتھ جاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ (صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۸) اس پر حضرت ابو بکرؓ کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے اس دن کے لیے پہلے سے ہی دو اونٹنیاں خرید کر تیار رکھی ہیں، چنانچہ اس میں سے ایک میں آپؐ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ میں اس کی قیمت ادا کروں گا۔ یوں آپؐ نے وہ اونٹنی حضرت ابو بکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ سے ۴۰۰ درہم میں خریدی اور یہ وہی مشہور اونٹنی ہے جو قصویٰ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری حدیث ۳۹۰۵) ظالم دشمن کی سختی اور ناانصافی کے باعث جس اونٹنی پر آپؐ نے مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی، بالآخر اسی اونٹنی کے ساتھ ۸ سال بعد فتح و نصرت کے دن آپؐ مکہ میں داخل ہوئے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جن کا رسول کریمؐ سے ابھی صرف نکاح ہوا تھا رخصتی نہیں ہوئی تھی، فرماتی تھیں کہ میں اور میری بہن اسماء نے جلدی سے اپنے ابا جان حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور آنحضرت ﷺ کا سامان تیار کرنا شروع کردیا اور سارا سامان ایک تھیلے میں ڈال دیا۔ بغیر وقت ضائع کیے سامان تیار کیا گیا یہاں تک کہ اس تھیلے کے منہ کو بند کرنے کے لیے وقت پر کچھ نہ مل سکا تو حضرت اسماءؓ نے اپنا کمر بند ہی کاٹ کر اسے باندھ دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے حضرت اسماءؓ کو ذات النطاق یعنی کمر بند والی کا نام دیا۔ (تلخیص از سیرت حلبیہ جزء ۲ صفحہ ۴۲ تا ۴۴ دار اکتاب العلمیۃ۔ بیروت طبعہ ثانیہ ۱۴۲۷ھ)
آنكھوں پر پردہ پڑ گیا
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت ملنے کے بعد، وہ رات بھی آ پہنچی جب قبائل قریش کے چنیدہ جوان تلواریں لیے رسول اللہ ﷺ کے گھر کے باہر پہنچ گئے اور صحیح موقع کا انتظار کرنے لگے۔ اس دوران وہ بار بار اندر جھانک کر رسول کریم ﷺ کے بستر کو دیکھتے تھے تاکہ یہ اطمینان رہے کہ آپؐ وہاں موجود ہیں اور وہ اپنی ظالمانہ کارروائی کرسکتے ہیں۔ وہ سب وہیں موجود تھے کہ اچانک ایک سایہ ان کے پہلو سے گزرا، وہ سب چونک گئے اور گھبرائے کہ یہ کون ہے؟ سب نے جلدی سے خود کو دیوار کے پیچھے چھپالیا کہ کہیں ہم پکڑے نہ جائیں۔ چنانچہ کچھ لمحے بعد سکون ہوا تو دوبارہ ان کی نظریں بستر پر جم گئیں۔ جب دو تہائی رات گزر گئی تو ان سب نے یہ سوچا کہ اب صحیح وقت ہے اندر داخل ہونے کا چنانچہ وہ تلواریں لے کر اندر گھسے اور بستر کی طرف لپکے، چادر اٹھائی تو ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ وہاں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے بلکہ ان کی جگہ حضرت علیؓ سوئے ہوئے تھے۔ یہ تو علی ہے!سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور تب ان پر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ رات جس شخص سے ہم چھپنے کی کوشش کر رہے تھے، وہ دراصل محمدؐ ہی تھے۔ پس یوں اللہ تعالیٰ نے ان شریروں کے خلاف ہمارے پیارے نبیؐ کی حفاظت فرمائی۔ (تلخیص از سیرت ابن ہشام جزء ۱ صفحہ ۴۸۲ مکتبہ مصطفیٰ البابی، مصر طبعہ ثانیہ ۱۹۵۵ء) (تلخیص از سیرت حلبیہ جزء ۲ صفحہ ۳۷ دار اکتاب العلمیۃ۔ بیروت طبعہ ثانیہ ۱۴۲۷ھ)
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: تمام مخالفین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کر رہے تھے سو خدائے تعالیٰ نے جیسا کہ سورۂیٰسین میں اس کا ذکر کیا ہے ان سب اشقیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور آنحضرت ان کے سروں پر خاک ڈال کر چلے گئے۔(سرمہ چشمہ آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۶ حاشیہ)
خدا ہمارے ساتھ ہے
رسول کریم ﷺ مکہ سے نکلے تو بجائے سیدھا مدینہ کے معمول کے راستہ پر جانے کے آپؐ مدینہ کے بالکل مخالف سمت بڑھے اور وہاں ایک غار میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا جسے غار ثور کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کے رفیق سفر حضرت ابو بکر صدیقؓ آپؐ کے ساتھ تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے خیال سے وہ مستقل فکر مند تھے کہ کہیں دشمن ہمیں دیکھ نہ لے۔ جب غار کے قریب پہنچے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ پہلے میں اندر جا کر دیکھ لیتا ہوں۔ آپؓ نے غار کو صاف کیا اور اس میں موجود سوراخ کو کپڑا ڈال کر بند کردیا۔ اور پھر درخواست کی کہ آپﷺ اندر تشریف لے آئیں۔ آپ ﷺ اندر غار میں داخل ہوگئے اور آرام کی غرض سے حضرت ابو بکرؓ کی ران پر سر رکھ کر لیٹ گئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے دیکھا کہ ایک سوراخ ایسا ہے جس پر ان کی پہلے نظر نہیں پڑی۔ آپؓ نے اسی وقت اپنا پاؤں اس سوراخ پر رکھ دیا کہ کہیں اس میں سے کوئی زہریلا جانو ر نہ نکل آئے۔ چنانچہ آپؓ کا اندیشہ درست ثابت ہوا اور روایت میں یوں درج ہے کہ کوئی بچھو یا سانپ آپؓ کو اس سوراخ سے ڈستا رہا، مگر اس سچے رفیق نے باوجود تکلیف کے کوئی حرکت نہ کی کہ کہیں ہلنے سے نبی کریم ﷺ کے آرام میں خلل نہ آجائے۔ جب نبی ﷺ بیدار ہوئے تو ابو بکرؓ کے چہرے کا رنگ کچھ بدلا ہوا دیکھ کر آپؐ نے پوچھا، کیا ہوا سب خیریت ہے؟ انہوں نے ساری بات عرض کی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا لعاب مبارک اُس جگہ لگایا۔ اللہ کے حکم سے فوراً شفا ہو گئی، اور اُن کے پاؤں پر کسی قسم کی تکلیف کا احساس باقی نہ رہا۔ چنانچہ مدینہ کی طرف روانگی سے قبل یہی وہ غار تھی جہاں آپ ﷺ نے اگلے تین دن قیام فرمانا تھا۔ (شرح زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۲۱)
دوسری طرف کفار آپ ﷺ کی تلاش میں ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ کھوجیوں کو مکہ کی ہر سمت میں بھجوایا گیا۔ رئیس مکہ امیہ بن خلف خود ایک کھوجی کو ساتھ لے کر آیا۔ یہ کھوجی اپنے کام میں نہایت مہارت رکھتا تھا۔ وہ رسول کریم ﷺ کے قدموں کے نشانات کا تعاقب کرتے ہوئے غار ثور کے منہ تک آ پہنچا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ ہم اندر غار میں بیٹھے دشمنوں کے پیر دیکھ سکتے تھے اور اگر وہ ذرا سا نیچے جھانک لیتے تو ضرور ہمیں دیکھ لیتے۔ مگر اس خوف اور مصیبت کے وقت میں یہ دو ہستیاں تنہا نہیں تھیں ، بلکہ خدا ان کے ساتھ تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت ابو بکرصدیقؓ کو تسلّی دیتے ہوئے فرمایا: لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنا (التوبہ : ۴۰)یعنی غم نہ کرو! یقیناً ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے۔(تاریخ الخمیس جلد۲ صفحہ۱۵) (المواھب الدنیا جلد ۱ صفحہ ۲۹۲-۲۹۳) (تلخیص از سیرت حلبیہ جزء ۲ صفحہ ۴۵ تا ۵۶ دارالکتب العلمیۃ۔ بیروت طبعہ ثانیہ ۱۴۲۷ھ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: “اللہ جلّ شانہٗ نے اپنے نبی معصوم کے محفوظ رکھنے کے لیے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجودیکہ مخالفین اس غار تک پہنچ گئے تھے۔ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرت کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنادیا اور انڈے بھی دے دئیے اور اسی طرح اذنِ الہی سے عنکبوت نے اس غار پر اپنا گھر بنا دیا جس سے مخالف لوگ دھوکا میں پڑ کر نا کام واپس چلے گئے‘‘۔(سرمہ چشمہ آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۶ حاشیہ)
اس غار میں حضرت ابو بکرؓ کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن ابو بکرؓ رات کو کھانا لے کر آتے تو مکہ کی دن بھر کی خبریں بھی دیتے۔ پھر رسول کریم ﷺ سے ہدایات لینے کے بعد صبح ہونے سے پہلے مکہ واپس چلے جاتے۔ اسی طرح عامر بن فہیرہ حضرت ابو بکرؓ کے آزاد کردہ غلام، ہر روز اس غار میں دودھ دینے کے لیے آتے۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر : ۳۹۰۵)
تین دن گزرنے پر وعدہ کے مطابق صبح عبداللہ بن اریقط اونٹ لے کر آگیا، جو مسلمان تو نہیں تھا مگر چونکہ اپنے کام میں مہارت رکھتا تھا اس لیے اسے اجرت دے کر بطور راہنما مقرر کردیا گیا۔ آپ ﷺ اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہوئے، دوسری اونٹنی پر حضرت ابو بکرؓ اور آپؓ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ سوار ہوئے اور عبداللہ بن اریقط راہنمائی کے لیے آگے رہے۔ اس وادی سے نکلتے ہوئے رسول کریمﷺ کی نظر جب مکہ کی طرف پڑی تو آپؐ نے فرمایا: اے مکہ کی بستی! تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ اس وقت حضرت ابوبکرؓ نے کہا۔ ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے۔ اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔ (تلخیص از سیرت خاتم النبیین صفحہ ۲۴۰)
سراقہ! تیرا کیا حال ہو گا…
دوسری طرف مکہ والے جب کافی تلاش کے بعد آپﷺ کو ڈھونڈنے میں ناکام ہوگئے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کے بعد یہ عام اعلان کروایا کہ جو بھی محمد (ﷺ) کو زندہ یا مردہ لے کر آئے گا اسے ایک سَو اونٹ انعام دیا جائے گا۔ سراقہ بن مالک جو اس وقت مسلمان نہیں تھے، اسلام لانے کے بعد خود یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ مکہ والوں نے آنحضرت ﷺ کو پکڑنے یا قتل کرنے کا سَو اونٹ انعام مقرر کیا تھا۔ ایک دن میں اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ساحل سمندر کے ساتھ تین افراد کا قافلہ جاتے دیکھا ہے، میرا خیال ہے کہ کہیں وہ محمدؐ ہی نہ ہوں۔ کہتے ہیں میں جان گیا کہ وہ محمد ؐکا ہی قافلہ ہے لیکن اس خیال سے کہ کہیں کوئی اور اس انعام میں شریک نہ ہو میں نے فوراً کہا کہ نہیں نہیں وہ محمد ؐکا قافلہ نہیں ہوسکتا، وہ جن کا تم ذکر کر رہے ہو تو وہ ابھی ہمارے سامنے سے ہی ہو کر گئے ہیں۔ میں کچھ دیر وہیں رہا کہ کسی کو مجھ پر شک نہ ہو۔ پھر تیزی سے گھر آیا اور اپنی خادمہ کو اپنی تیز رفتار گھوڑی تیار کرنے کو کہا۔ نکلنے سے پہلے میں نے فال نکالی جو اس سفر کے خلاف نکلی لیکن میں انعام کے لالچ میں پھر بھی آپؐ کا پیچھا کرنے کے لیے مکہ سے نکلا۔ کہتے ہیں جب میں آپؐ کے قافلے کے قریب پہنچا تو گھوڑی نے خلاف معمول ٹھوکر کھائی اور میں وہیں گر گیا۔ میں کھڑا ہوا اور دوبارہ فال نکالی اور اس مرتبہ بھی فال میرے حق میں نہ نکلی۔ میں نے اس کی پرواہ نہ کی اور دوبارہ گھوڑی پر بیٹھ گیا۔ اب میں اس قافلہ کے اور بھی قریب آگیا اور مجھے یقین ہوگیا کہ واقعی یہ نبی کریم ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ ہی ہیں۔ اسی دوران گھوڑی نے دوبارہ ٹھوکر کھائی اور اس کی ٹانگیں ریت کے اندر دھنس گئیں۔ میں نے اس موقع پر ایک مرتبہ پھر فال نکالی جو تیسری مرتبہ بھی میرے خلاف ہی نکلی۔ آخر کار میں نے رسول کریم ﷺ کے قافلے کو آواز دی۔ رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ سے فرمایا کہ پوچھو وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ میں سو اونٹ کے انعام کے لالچ میں آپؐ کا تعاقب کر رہا تھا لیکن جو میرے ساتھ ہوا ہے اس سے میں یہ سمجھ چکا ہوں کہ تعاقب کرنا بے سود اورغلط ہے۔ میں آپؐ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں کسی کو آپؐ کے بارہ میں نہیں بتاؤں گا۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن آپؐ کو بادشاہت حاصل ہوگی اس لیے مجھے امان نامہ تحریر کردیجیے۔ چنانچہ میری اس درخواست کو آپ ﷺ نے قبول فرمایا اور مجھے امان کی تحریر لکھ دی گئ۔(صحیح بخاری حدیث نمبر : ۳۹۰۶)
سراقہ ابھی واپس لوٹنے ہی لگا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: سراقہ ! تیرا کیا حال ہو گا جب کسریٰ کے کنگن تیرے ہاتھ میں ہوں گے۔ سراقہ حیرت زدہ ہو کر پلٹا اور کہا کہ کسریٰ بن ہرمز ؟ آپؐ نے فرمایا ہاں وہی کسریٰ بن ہرمز۔ چنانچہ آپ ﷺ کی یہ پیشگوئی حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں اس وقت پوری ہوئی جب ایران فتح ہوا اور کسریٰ کا خزانہ مسلمانوں کے پاس آیا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ’’حضرت عمرؓ کے سامنے جب اموالِ غنیمت لاکر رکھے گئے اور ان میں انہوں نے کسریٰ کے کنگن دیکھے تو سب نقشہ آپؓ کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔ وہ کمزوری اور ضعف کا وقت جب خدا کے رسول کو اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا تھا۔ وہ سراقہ اور دوسرے آدمیوں کا آپؐ کے پیچھے اس لیے گھوڑے دوڑانا کہ آپؐ کو مار کر یا زندہ کسی صورت میں بھی مکہ والوں تک پہنچادیں تو وہ سو اونٹوں کے مالک ہو جائیں گے اور اس وقت آپؐ کا سراقہ سے کہنا، سراقہ اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔ کتنی بڑی پیشگوئی تھی۔ کتنا مصفّٰی غیب تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے سامنے کسریٰ کے کنگن دیکھے تو خدا کی قدرت ان کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔ انہوں نے کہا سراقہ کو بلاؤ۔ سراقہ بلائے گئے تو حضرت عمرؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ کسریٰ کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنیں۔ سراقہ نے کہا اے خدا کے رسول کے خلیفہ ! سونا پہننا تو مسلمانوں کے لیے منع ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہاں منع ہے مگر ان موقعوں کے لیے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو تمہارے ہاتھ میں سونے کے کنگن دکھائے تھے یا تو تم یہ کنگن پہنو گے یا میں تمہیں سزا دوں گا۔ سراقہ کا اعتراض تو محض شریعت کے مسئلہ کی وجہ سے تھا ورنہ وہ خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھنے کا خواہش مند تھا۔ سراقہ نے وہ کنگن اپنے ہاتھ میں پہن لیے اور مسلمانوں نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔‘‘(انوار العلوم جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۵ تا ۲۲۶)
امّ معبد کے ہاں ایک معجزہ
سفر ہجرت کے دوران نبی کریم ﷺ کا قافلہ ایک خیمے کے پاس آرام اور خورد و نوش کے لیے رکا۔ یہ خیمہ امّ معبد عاتکہ بنت خالد کا تھا۔ آپؓ بڑی مضبوط اور ہمدرد خاتون تھیں۔ راہ گیروں کو کچھ نہ کچھ کھلاتی پلاتی تھیں۔ جب آپﷺ نے ان سے کچھ کھانا خریدنے کے لیے پوچھا تو اس وقت چونکہ ان کی قوم قحط سے گزر رہی تھی اس وجہ سے ان کے پاس دینے کو کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں ضرور دیتی۔ آپ ﷺ نے اس عورت کے ہاں ایک بکری دیکھی اور پوچھا کہ کیا اس میں دودھ ہے؟ ام معبد نے کہا کہ یہ کمزور سی بکری ہے تو ممکن نہیں کہ اس میں دودھ ہو۔ آپ ﷺ نے دوبارہ پوچھا کہ اگر اجازت ہو تو میں اس کا دودھ دوہ لوں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بکری منگوائی اور اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور بکری میں برکت کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ وہ بکری آپؐ کے سامنے آرام سے کھڑی ہو گئی اور اس کے تھنوں میں دودھ اتر آیا۔ پھر آپؐ نے ان سے ایک برتن منگوایا اور اس سے اتنا دودھ نکلا جو پوری جماعت کو سیر کرسکتا تھا۔ چنانچہ ام معبد اور آپؓ کے تمام ساتھیوں کو وہ دودھ پلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ اور آخر میں خود آپؐ نے اس میں سے نوش فرمایا۔ (سبل الھدیٰ و الرشاد جلد ۳ صفحہ ۲۴۴-۲۴۵)
نبی کریم ﷺ کا ہجرت کا یہ سفر جاری رہا اور دوران سفر آپؐ کی زبان ذکر الہی اور دعاؤں سے تر رہی۔ ایک خاص قرآنی دعا جس میں ہجرت اور بعد میں ملنے والی فتح کی طرف اشارہ تھا اس کو بھی آپؐ دہراتے جاتے۔
وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّاجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا۔ (بنی اسرائیل : ۸۱) اور تُو کہہ اے میرے ربّ! مجھے اس طرح داخل کر کہ میرا داخل ہونا سچائی کے ساتھ ہو اور مجھے اس طرح نکال کہ میرا نکلنا سچائی کے ساتھ ہو اور اپنی جناب سے میرے لیے طاقتور مددگار عطا کر۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ’’ان معنوں پر ایک اعتراض ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ خروج مکہ پہلے ہوا ہے۔ اور دخول مدینہ بعد میں۔ پھر قرآن کریم نے دخول کو پہلے کیوں بیا ن فرمایا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خروج کی خبر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو لازما ً تکلیف ہونی تھی۔ اور یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ مکہ سے نکل کر ہم کہاں جائیں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی محبت کی وجہ سے اس امر کا پہلے ذکر فرمایا کہ عنقریب تجھ کو ایک مبارک مقام ملنے والا ہے اور مکہ سے نکلنے کے ذکر کو اس کے بعد رکھا۔ تاکہ تسلی پہلے مل جائے اور غم کی خبر بعد میں ملے۔‘‘(تفسیر کبیر جلد ۶ صفحہ ۴۱۰ جدید ایڈیشن)
قبا میں نزول
آٹھ دن کے سفر کے بعد بالآخر رسول کریم ﷺ مدینہ سے كچھ ۲ میل پہلے قبا نامی بستی پہنچے۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ اور سوموار کا دن تھا، روایات میں یوں آتا ہے کہ سوموار کے دن آپ ﷺ پیدا ہوئے، سوموار کے دن آپؐ مکہ سے ہجرت کے لیے نکلے، اور سوموار کے ہی دن آپؐ مدینہ پہنچے اور سوموار کے ہی دن آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔ (معجم البلدان جلد۴ صفحہ۳۷۷ زیر لفظ ’’قبا‘‘)
چونکہ ان ایام میں معین اندازہ نہیں ہو سکتا تھا کہ حضورؐ کب مدینہ پہنچیں گے اس لیے مدینہ کے مسلمان ہر روز صبح نبیﷺ کا بستی سے باہر نکل کر استقبال کرنے کے لیے نکلتے اور دوپہر کو اپنے گھر واپس آ جاتے۔ اس دن بھی مسلمان کافی انتظار کرنے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ ایک یہودی نے جب دور سے سفید کپڑوں میں ملبوس قافلہ کو آتے دیکھا تو بلند آواز سے یہ اعلان کرنے لگا کہ اے مسلمانو! تمہارا وہ سردار آگیا ہے جس کا تم انتظار کر رہے تھے۔ لوگوں کا ہجوم اس قافلہ کے گرد اکٹھا ہوگیا۔ آپ ﷺ بڑی سادگی سے بیٹھ گئے۔ چونکہ انصار میں سے اکثریت نے آپؐ کو دیکھا ہوا نہیں تھا اس لیے وہ بجائے آپ ﷺ کو سلام کرنے کے حضرت ابوبکرؓ رضی اللہ عنہ کو سلام کرنے لگے۔ نبی کریم ﷺ کے چہرے پر دھوپ پڑ رہی تھی۔ حضرت ابو بکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور حکمت کے ساتھ فوراً ایک چادر لی اور اس سے آپؐ پر سایہ کر دیا تاکہ لوگ رسول کریم ﷺ کو پہچان سکیں۔ اس بستی میں آپ ﷺ نے کلثوم بن الہدم کے ہاں قیام فرمایا۔ قبا میں آپ ﷺ نے کتنے دن قیام فرمایا اس حوالہ سے مختلف روایات ملتی ہیں لیکن عام طور پر ۱۰ یا ۱۴ دنوں کا ذکر ملتا ہے۔ یہاں قیام کے دوران رسول کریم ﷺ نے ایک مسجد کی بھی بنیاد رکھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس مسجد کی تعمیر میں بھی اپنے صحابہؓ کا بھر پور ساتھ دیا، بھاری بھاری پتھر خود اٹھا کر لاتے اور یوں اس مسجد کا تعمیراتی کام مکمل ہوا۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر: ۳۹۰۶) چند دن قیام کے بعد جمعہ کے روز آپؐ قبا سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں بنو سالم بن عوف کی آبادی میں جب نماز جمعہ کا وقت ہوا تو آپؐ ﷺ نے مسلمانوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی اور یہ پہلا جمعہ تھا جو آپؐ نے مدینہ میں پڑھایا۔(تلخیص از سیرت ابن ہشام جزء ۱ صفحہ ۴۹۴مکتبہ مصطفیٰ البابی، مصر طبعہ ثانیہ ۱۹۵۵ء)
مدینہ میں ہر چھوٹے، بڑے، مرد و عورت کی نگاہیں مدینہ کے داخلی راستے پر جمی ہوئی تھیں۔ ہر دل اپنے آقا کا بےصبری سے منتظر تھا۔ ہر آنکھ اس نورانی چہرے کو دیکھنے کے لیے بے قرار تھی۔ عورتوں اور بچیوں نے استقبالیہ ترانے تیار کر رکھے تھے۔ جن میں سب سے مشہور ترانہ ’’طلع البدر علینا‘‘ آج بھی دلوں میں ارتعاش پیدا کر دیتا ہے اور اس محبت کو ظاہر کرتا ہے جو انصار مدینہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آپ ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ رضی اللہ عنہ کو اپنی اونٹنی پر پیچھے بٹھایا اور اس شہر کی طرف بڑھے جو اسلامی تہذیب و تمدن کا ایک مثالی شہر بننے والا تھا۔ یہ محض ہجرت نہیں تھی بلکہ یہ نقطہ آغاز تھا اس روحانی تبدیلی کا جس نے نہ صرف عرب بلکہ پوری انسانیت کی تاریخ کا رخ بدلنا تھا۔ (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صفحہ ۲۶۶-۲۶۷)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور کسرِ صلیب کے مختلف پہلو



