ہمارے پیارے استادمحترم سید میرمحموداحمد صاحب ناصر
(محموداحمد انیس۔مربی سلسلہ چائنیز ڈیسک یوکے)
مکرم ومحترم سید میر محموداحمد صاحب ناصر ہمارے نہایت پیارے استاد تھے۔ آپ کی وفات کا سن کر خاکسار کوبہت افسوس ہوا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن
آپ ایک عالم باعمل اور ایک ولی اللہ بزرگ تھے۔ آپ اپنے طالب علموں سےدوران تعلیم اور جامعہ کے بعد بھی نہایت محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ آپ نہایت خوش اخلاق تھے اورہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ نظر آتے تھے۔
آپ کی قرآن کریم سے محبت اور نمازوں کو خشوع و خضوع سے اداکرنا ہم سب کے ليے ایک نیک نمونہ تھا۔ آپ قرآن شریف کے ترجمہ پر بہت زور دیتے تھے۔ ہمارے جامعہ کے آخری مہینوں میں کچھ عملی ٹریننگ کے پروگرام تھے جن میں شمولیت کے ليے میر صاحب نے یہ شرط لگائی تھی کہ ساری کلاس کا قرآن شریف کے ترجمہ کا امتحان ہوگا جو طلبہ سو فیصد نمبرلیں گے وہی اس پروگرام میں حصہ لے سکیں گے۔ اسی طرح ہمارا جب جامعہ کا آخری دن تھا تو جامعہ کے ہال میں ہم ان کے ساتھ تھے۔ فرمانے لگے پین اور کاغذ لے لیں، میں آپ کو ایک کتاب کا نام لکھواتاہوں جو آپ کے کام آتی رہے گی۔ پھر سب سے پوچھا کہ تیارہیں؟ اس کے بعد بلیک بورڈ پر لکھا : قرآن کریم۔
آپ ہمیں موازنہ مذاہب پڑھایاکرتے تھے بالخصوص عیسائیت۔ کلاس میں آنے سے لے کر پیریڈختم ہونے کی گھنٹی بجنے تک مسلسل نوٹس لکھواتے رہتے۔ نہایت نایاب حوالہ جات لکھواتے جو آپ نے بڑی محنت سے جمع کيے ہوئے تھے۔
ایک موقع پر اپنا یہ واقعہ بتایا کہ ایک دفعہ جب میں امریکہ میں تھا تووہاں عیسائیوں کی ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی۔ میں حالات کی آگاہی کے ليے اس میں ضرور شامل ہونا چاہتاتھا۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ ہال میں داخل ہونے والے کے ليے ضروری ہے کہ وہ منہ سے اقرار کرے کہ وہ مسیح پر ایمان لاتاہے۔ فرمانے لگے کہ اس کا حل بھی میرے ذہن میں آگیااورمیں قطار میں آگے بڑھتارہا۔ جب میری داخلے کی باری آئی تو میں نے کہاکہ میں مسیح پر دوبار ایمان لاتاہوں۔ چنانچہ انہوں نے مجھے اندرجانے دیا۔
آپ جب وکیل التعلیم تھے تو اس وقت ہم کچھ مربیان کو اسلام آباد (پاکستان) مختلف زبانیں سیکھنے کے ليے بھجوایا گیا۔ آپ نے ہمیں جانے سے پہلے دعاکے ليے جامعہ میں ہی بلا لیا۔ وہاں آپ نے ہمیں درود شریف کی نصیحت کی اور اپنا ایک واقعہ بتایا کہ بارہ ربیع الاول کا دن تھا۔ میں فجر کے بعد سے ہی درود شریف پڑھ رہا تھا۔ میں لاہورمیں اپنے بیٹے سے ملنے کے ليے ایک ویگن میں بیٹھا اور غلطی سے جہاں اترنا تھا اس سے پہلےکسی سٹاپ پر اترگیا۔ آپ نے بتایا کہ آپ ابھی اترے ہی تھے کہ ایک کار آپ کے پاس آکر رکی اور ڈرائیورنے کار میں بیٹھنے کے ليے کہا۔ شاید آپ اسے احمدی یا واقف کار سمجھ کر بیٹھ گئے۔ کارچل پڑی تو کار والا شخص آپ سے پوچھنے لگا کہ آپ کو کہیں دیکھا ہواہے۔ آپ نے کہا امریکہ میں؟کہنے لگا نہیں۔ پھر کہا سپین میں؟کہنے لگانہیں۔ اسی طرح باتیں کرنے کے بعد اس نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے کہاں جانا ہے۔ آپ نے اپنے بیٹے کا بتایا تو وہ انہیں نہیں جانتاتھا لیکن کہنے لگا کہ میں آپ کو وہاں چھوڑ آتاہوں اورپھراس نے آپ کو وہاں پہنچادیا۔ فرمانے لگے یہ درود شریف کی برکت تھی اس ليے درود شریف پڑھاکرو۔
میرصاحب کو حضورﷺ اور آپؐ کی احادیث سے بہت محبت تھی۔ آپ مسجد مبارک میں نماز مغرب کے بعد درس حدیث دیاکرتے تھے جسے جامعہ کے دوران اور اس کے بعد بھی سننے کا موقع ملتارہا۔ آپ پہلے قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھتے۔ پھر حدیث کا عربی متن۔ پھرکسی مسئلہ کو اجاگر کرتے جس کی اس حدیث میں تائید موجود ہوتی اور اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسی حوالے سے کوئی اقتباس پیش فرماتے تھے۔ یہ درس نہایت شانداراور جامع ہوتاتھا۔ لوگ بڑے شوق سے یہ درس سنا کرتے تھے۔
آپ کو خاکسار نے جامعہ احمدیہ کے برآمدے میں فرش پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے بھی دیکھاہواہے۔ چونکہ آپ کا ہرکام آنحضرت ﷺ کے کسی حکم یا سنت کی تعمیل میں ہوتا تھا۔ اس ليے آپ کے اس عمل کی بھی یقیناً یہی وجہ ہوگی۔ چنانچہ خاکسارکو ’’تذکرۃ المہدی ‘‘پڑھتے ہوئے ایک روایت سامنے آئی جس میں ننگے پاؤں چلنے والوں کی ایک خاص بات بیان کی گئی ہے۔ حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحبؓ بیان فرماتے ہیں: ایک روز حضرت اقدس علیہ السلام سیر کے ليے تشریف لے چلے۔ ابھی تھوڑا دن چڑھا تھا سردی کا موسم تھا پندرہ سولہ احباب ساتھ تھے پھر پیچھے سے اَور بہت سے آملے حضرت خلیفہ ثانی دام فیضہ اور حضرت مرزا بشیراحمد صاحب بھی آگئے اور ایک دو لڑکے اَور بھی ان کے ساتھ تھے چھوٹی عمر تھی ننگے پاؤں اور ننگے سر میاں بشیر احمد تھے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تبسم فرماکر فرمایا کہ میاں بشیر احمد جوتا ٹوپی کہاں ہے کہاں پھینک آئے۔ میاں بشیراحمد صاحب نے کچھ جواب نہ دیا اورہنس کر بچوں سے کھیلتے کھیلتے آگے بڑھ گئے اور کچھ فاصلہ پر دوڑ گئے یہ بات چیت یہاں ہوئی جہاں اب میاں نظام الدین صاحب احمدی کی پختہ کپڑے وغیرہ کی دوکان ہے۔ آپؑ نے فرمایا بچوں کی بھی عجیب حالت ہوتی ہے جب جوتا نہ ہو تو روتے ہیں کہ جوتا لاکے دو اور جب جوتا منگادیاجاتاہے توپھر اس کی پرواہ نہیں کرتے اور نہیں پہنتے یوں ہی سوکھ سوکھ کر خراب ہوجاتاہے یا گم ہوجاتاہے کچھ بچوں کی جبلت ہی ایسی ہوتی ہے کہ کچھ کسی چیز کی پرواہ نہیں ہوتی عجیب بے فکری کی عمر ہوتی ہے اوراکثراپنے آپ کو پا برہنہ رکھنا ہی پسند کرتے ہیں ابھی دوچار دن کا ذکر ہے کہ جوتا کا تقاضا تھا جب منگاکر دیا تو اس کی پرواہ نہیں میں نے عرض کیا کہ کسی نے کہا ہے کہ درطفلی پستی درجوانی مستی و در پیری سستی پس خداراکے پرستی یہ سن کر ہنسے تو پھر میں نے عرض کیا کہ حافظ حامدعلی کو بھیج دیا جائے وہ جوتا ٹوپی لے آئیں فرمایا جانے دو خداجانے کہاں ہوں گے۔ خیر آپ چل پڑے دو ہی قدم چلے ہوں گے اسی ذکر میں فرمایا کہ حدیث شریف میں آیاہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پابرہنہ شخص خداکو دیکھ لیتاہے شاید اس میں بھید یہ ہے کہ بچوں کی معصومیت کی مشابہت سے یہ عمل خداتعالیٰ کو پسند ہوپھر فرمایا کہ ایک بزرگ تھے انہوں نے جوتا پہننا چھوڑ دیاتھا یہ خیال کرکے کہ جب امیروں کے فرش پر لوگ جوتا نہیں پہنتے تو امیر الامراء خداتعالیٰ کے فرش زمین پر کیوں جوتا پہنوں وہ بڑے کامل گزرے ہیں۔ فرمایا فقراء صوفیاء کے بھی عجیب حال گزرے ہیں وہ خدامیں محو ہوتے تھے اور خدامیں ہوکر وہ سب کام کرتے تھے ایک بزرگ کا ذکر ہے کہ ان کے مرید نے توجہ الی اللہ کا سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ فلاں مقام پر ایک بزرگ ہیں ان کے پاس جاؤ یہ بات وہاں حل ہوگی۔ اس نے عرض کیا کہ جناب راستہ میں ایک دریا ہے اس سے کس طرح پار ہوں گا انہوں نے کہا کہ دریا سے کہنا کہ میرے مرشد نے کبھی کھانا نہیں کھایا یہ سچ ہے تو اے دریا مجھے راستہ دے دے وہ شخص چل پڑا لیکن خیال کیا کہ ہر روز میرے سامنے یہ کھاتے پیتے ہیں میں کیونکر دریا سے جھوٹ بات کہوں اسی خیال میں کئی منزلیں طے کرکے دریا کے اوپرپہنچا اور دریا کو یہ پیغام اپنے مرشد کا سنادیا دریا کا پانی کم ہو گیا اور وہ اس میں سے آسانی سے پار ہوگیا جب ان بزرگ کے پاس پہنچا تو ان سے یہ سب کیفیت توجہ الی اللہ کے سوال اور دریا اور مرشد کے جواب کی سنائی تو ان بزرگ نے چند روز کے بعد جواب دیا کہ اپنے مرشد سے ہمارا سلام کہو اور پھر یہ کہو کہ ہم نے یہ سوال حل کردیا اس نے کہا کہ دریا سے میں کس طرح پار ہوں گا میرے مرشد نے تو یہ کہا تھا ان بزرگ نے کہا کہ میری طرف سے دریا کو کہہ دینا کہ جس کے پاس سے میں آیا ہوں وہ کہتے ہیں کہ میں نے تمام عمر میں اپنی بیوی سے صحبت نہیں کی۔ یہ سن کر وہ شخص اَور بھی حیران ہو گیا اور دل ہی دل میں خیال کرتا ہوا چلا کہ ان کے ایک چھوڑ دو بیویاں ہیں اور لڑکے لڑکیاں ہیں پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی بیوی سے ہم بسترنہیں ہوئے۔ آخر دریا کے پاس آکر وہی ان کا ارشاد دریا سے کہہ دیا۔ دریا یہ سن کر پایاب ہوگیا اور یہ شخص آسانی سے پار ہوگیا اور سفر طے کرکے مرشد کے پاس آیا اور سب حال بیان کیا اور کہا کہ وہ سوال وصول الی اللہ اور توجہ باللہ کا تو الگ رہا مجھے آپ کی اور ان کی باتوں پر تعجب ہے ان باتوں میں کیا بھید ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہم جو کام کرتے ہیں خداتعالیٰ کے حکم کے ماتحت اور ابْتغَاء لوَجْہ اللّٰہ کرتے ہیں ہمارا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ پس وہ شخص اپنے سوال کا جواب پاکر سمجھ گیا۔
میں نے اسی روز سے حضرت اقدس علیہ السلام کی یہ بات سن کر جوتا پہننا چھوڑ دیا اور ایک سال تک نہ پہنا یہ مصمّم ارادہ کرلیا تھا کہ اب میں جوتا نہ پہنوں گا بعض احباب نے مجھ سے یہ سوال بھی کیا کہ جوتا کیوں نہیں پہنتے ننگے پاؤں کیوں رہتے ہو بعض نے کسی تکلیف کا سبب سمجھا بعض نے تنگدستی پر خیال کرکے مجھے اپنے پاس سے جوتا خرید کر دیا میں نے ان کوکچھ جواب نہ دیا اور نہ کسی سے جوتا لیا۔
جب ایک سال مجھے ننگے پاؤں رہتے رہتے گذر گیا تو ایک روز میں صبح کی نماز سے پہلے درود شریف پڑھ رہا تھا جودوشخص خوبصورت جوان موٹے تازے لمبے قد کے سفید کپڑے پہنے ہوئے آئے اور میرے دونوں بازو پکڑ کر کہا اٹھو چلو تمہیں فری میسن بنائیں گے میں یہ سن کر ان کے ساتھ ہو لیا اور دل میں خیال کرتاتھا کہ فری میسن کا نام تو سنتے سنتے ایک مدت گزرگئی اور اس کی نسبت مختلف باتیں بھی سنی ہیں شنیدہ کے بود ماند دیدہ اب خود ہی دیکھ بھال لوں گا۔ وہ دونوں آدمی مجھے ایک عالی شان پختہ چونہ گچ خوبصورت مکان کی طرف لے گئے ایک بہت بڑا عظیم الشان دروازہ دکھائی دیا اس کے اندر ایک فراخ کشادہ صحن پختہ بنا ہواہے مگر انہوں نے ابھی تک میرے دونوں بازو نہیں چھوڑے اور میرے دل میں انبساط سرور اور از حد خوشی تھی میں نے بہت سے مکان بادشاہوں راجوں اور نوابوں کے دیکھے مگر یہ خوبصورتی اور عمدگی کسی میں نہیں دیکھی روشنی کا یہ عالم تھا کہ سورج کی روشنی اس کے آگے کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھی پھر باایں ہمہ خوبی و نوارنی ہونے کے آنکھوں میں خیرگی یا تاریکی یا چکاچوند نہ تھی بلکہ آنکھوں میں ٹھنڈک اور زیادتی روشنی چشم تھی اور اس فرش کے اوپر ایک اور سربفلک اس سے بھی زیادہ خوبصورت ایک عظیم الشان دروازہ مگر بند اس کے اوپر بالاخانہ کی صورت مکان اور اس کے تین یا پانچ دروازے درمیانی تھے اور ان دروازوں پر نورانی سرخ سرخ چلمنیں پڑی تھیں اور اندر بہت کثرت سے روشنی تھی ان دو شخصوں نے مجھے اس دروازہ کے سامنے چلمنوں والے بالا خانہ کے نیچے کھڑا کردیا اس جھل مل جھل مل روشنی و نور کی شعاعوں میں معلوم ہوا کہ یہ دو شخص دو فرشتے اور اس مکان میں اللہ جل شانہ و عم نوالہ ہے اور یہ سب اسی کی تجلی ہے میں مؤدب دست بستہ کھڑا ہوگیا اور نیچے کی طرف نگاہ رکھی ہاں کبھی کبھی اس تجلی الٰہی کی طرف کچھ یوں ہی سی نظر اٹھاکر دیکھ لیتا تھا۔
میں اور وہ دونو فرشتے وہاں کھڑے رہے اندر سے آواز آئی کہو اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ میں نے کہا اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پھر فرمایا توحید کو میری قائم کرو۔ توحید مجھے محبوب ہے غرض اسی طرح لمبے عرصہ تک یہ وعظ فرمایا ہر جملہ کے ساتھ توحید کا لفظ تھا میرے پیر نہیں تھکے نہ میں گھبرایا ایک لذت اور سرور اور انشراح مجھے حاصل تھا اور میں ذوق وشوق اور طمانیت قلب اور روح سے یہ سب سنتا رہا پھر یہ نظارہ غائب ہو گیا۔ وہ تمام وعظ لفظ بلفظ مجھے یا د تھا میں نے اپنی یادداشت اور حافظہ پر بھروسہ کرکے یہ خیال کیا کہ اب اذان ہو گئی ہے بعد نماز کے سب لکھ لوں گا مگرافسوس مجھے یاد نہ رہا۔ اگر میں اسی وقت لکھ لیتا تو لکھ ہی لیتا۔ خیر جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہی ہوا اور میرا حافظہ اور ذہن کام نہ آیا پھر میں تازہ وضو کرکے مسجد میں گیا ابھی دوسنت ہی پڑھی تھیں جو حضرت اقدس علیہ السلام تشریف لائے نماز پڑھ کے بیٹھ گئے آپ کی اکثر عادت تھی کہ بعد نماز فجر دن نکلنے تک بیٹھے رہتے اور دینی باتیں جن میں تعلیم و ہدایت اور معرفت ورشد کے متعلق ہوتی تھیں اور اپنے الہام اور رویاء بھی سناتے اور لوگوں کے خواب سنتے میں نے بھی یہ واقعہ آپ کو سنایا غور سے سنتے رہے اور فرمایا بہت ہی اچھا ہے خداتعالیٰ مبارک کرے اور بیش از بیش انعام عطافرمائے۔ فرمایا کیا اچھا ہوتا کہ اسی وقت لکھ لیتے ہمیں بھی ایک دو دفعہ ایسا ہی ہوا کہ بعض باتیں ہمیں خدا کی طرف سے معلوم ہوئیں ہم نے اپنی یاد اور حافظہ پر بہت بھروسہ کرکے خیال کیا کہ دن کو لکھ لیں گے مگر وہ باتیں یاد سے اترگئیں اب ہم نے یہ التزام کیا ہواہے کہ دوات وقلم یا پنسل رکھ کے سوتے ہیں اور جو کچھ امر معلوم ہوتاہے اسی وقت لکھ لیا جاتا ہے اس واقعہ کے کئی روز بعد آپ نے خود محسوس کیا یا واللہ اعلم حافظ حامد علی صاحب نے آپ سے ذکر کیا ہو کہ صاحبزادہ صاحب کے پاس جوتا نہیں ہے۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک جوڑا جوتا کا نیا نکور سرخ زری کا شاید فضل النساء بی بی کے ہاتھ یا امام بی بی کے ہاتھ میرے پاس بھیجا اور فرمایا یہ پہن لو میرا اور تمہارا پیر ایک ہی ہے۔ میں نے پہن لیا کیونکہ میرا جو مقصد تھا وہ حاصل ہو گیا یہ سب کچھ برکات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت بابرکت کااثر تھا۔ الحمدللہ علی ذٰلک۔ (تذکرۃ المہدی، حصہ دوم صفحہ ۲۸۶ تا۲۹۱)
آپ کا خاکسار کے ساتھ جامعہ میں اور بعد میں ہمیشہ نہایت شفقت کا سلوک رہا۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ مسجد اقصیٰ ربوہ سے عیدپڑھ کر باہر نکلے تووہاں گلے ملےپھر آپ نے مجھے پانچ روپے کا نوٹ بطور عیدی دیا۔ پھر خاکسار جامعہ کی سڑک پر چل رہاتھا۔ جامعہ کی ٹک شاپ کے قریب پہنچا تو پیچھے سے آتی ہوئی ایک بائیسکل میرے قریب رکی۔ دیکھا تو میرصاحب تھے۔ آپ نیچے اترے۔ مجھے پھر ملے۔ میں خوش بھی ہوا اور حیران بھی کہ ابھی آپ سے مل کر اور عیدی لے کر آرہاہوں۔ بہرحال میرصاحب ایک دفعہ پھر عید ملے اورمجھے دوبارہ پانچ روپے عیدی دی۔
جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد ایک دفعہ خاکسار خلافت لائبریری میں بیٹھا تھا۔ ان دنوں خاکسار کو لائبریری میں کچھ کام ملاہواتھا۔ میرصاحب لائبریری میں آئے اورچلتے ہوئے میرے قریب آگئے۔ میں نے اٹھ کر سلا م کیا۔ فرمانے لگے۔ دعاکریں میں نے آپ کے ليے حضورکو کچھ لکھاہواہے۔ پھر کچھ دنوں بعد اسی طرح لائبریر ی میں ملے اورفرمانے لگے کہ میں نے حضور کو آپ کو چینی زبان سکھانے کے ليے لکھاہے کیا آپ کو دفتروالوں نے بلایا نہیں ؟ میں نے کہا نہیں۔ کہنے لگے وہ بلائیں گے۔ اس کے بعد پھر آپ نے ایک دفعہ لائبریری میں ہی ملنے پر فرمایاکہ کیا آپ کو دفتر والوں نے ابھی تک نہیں بلایا۔ چنانچہ اس کے کچھ دنوں بعد ہی مجھے دفتر تحریک جدید میں بلایا گیااورمجھے چینی زبان سیکھنے کے ليے منتخب کیا گیا۔
پھر جب چینی زبان سیکھنی شروع کردی تو کبھی کبھی ملتے ہوئے چینی زبان کے الفاظ’’ نی ہاؤ‘‘ کہہ دیاکرتے جو چینی لوگ ایک دوسرے کو ملتے وقت ہیلو کہنے کے ليے بولتے ہیں۔ ایک دفعہ خاکسار فضل عمر ہسپتال کی جانب سےصدرانجمن کے کوارٹروں میں داخل ہونے لگا تو پہلے ہی کوارٹر کے گیٹ پر آپ محترمہ بی بی صاحبہ کے ساتھ کھڑے تھے۔ یہ کوارٹرآپ کے بیٹے کا تھا۔ میں نے قریب سے گزرتے ہوئے سلام کیا۔ میرصاحب نے سلام کے بعد مجھے کچھ کہا لیکن میں رکنے کی بجائے مسکراتے ہوئے آہستہ آہستہ چلتارہا۔ مجھے پھر پیچھے سے بھی کچھ آواز آئی لیکن میرصاحب کے ساتھ بی بی صاحبہ تھیں اس ليے خاکسارنے شرم محسوس کی۔ اس کے بعد ایک دفعہ ملے تو فرمانے لگے ہم نے آپ کو چینی زبان میں ’’نی ہاؤ‘‘ کیا تھا آپ نے جواب ہی نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ ایک تو میں نے پوری طرح سنا نہیں تھا دوسرے محترمہ بی بی صاحبہ کی وجہ سے رُک نہیں سکا۔
جون ۲۰۰۸ء میں خاکسار یہاں یوکے سے اپنی والدہ صاحبہ کی وفات کے موقع پر ربوہ گیا۔ واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر جب انتظارگاہ میں پہنچا تووہاں محترم میر صاحب اوران کی اہلیہ محترمہ پہلے سے انتظارگاہ میں بیٹھے تھے۔ خاکسار نے میرصاحب کے قریب جاکر سلام کیا۔ آپ برطانیہ آرہے تھے۔ آپ نے مجھ سے پوچھا کہ کیسے آئے تھے؟ میں نے والدہ کی وفات کا بتایاتو مجھ سے افسوس کیا اور محترمہ بی بی صاحبہ کو بھی بتایا۔ پھر مجھے اسی جہاز میں سفرکا موقع ملا جس میں یہ بابرکت وجود سفرکررہے تھے۔
مکرم ومحترم میرصاحب جب یوکےتشریف لاتے تو لوگ آپ سے مل کر خوشی محسوس کرتے۔ لیکن آپ عاجزانہ انداز میں رہتے اور نمایاں ہونے کوپسندنہ کرتےتھے۔ ا یک دفعہ جلسہ سالانہ کے بعد مسجد فضل کے قریب گیسٹ ہاؤس کے پیچھے ایک ڈنر تھا جس میں حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بھی تشریف لائے۔ اس ڈنر میں مبلغین شامل تھے۔ اس موقع پر حضورکے تشریف لانے سے پہلے جب محترم میر صاحب آئے تو آپ کو مین ٹیبل پر آپ کی مقررہ کرسی بتائی گئی جہاں آپ بیٹھ گئے۔ اس کے بعد آپ کے ایک شاگرد آپ کے پیچھے آکھڑے ہوئے اور سامنے کسی کو تصویر بنانے کےليے اپنا موبائل فون دیا۔ پھر ایک دو اور شاگرد مربیان آگئے اورکچھ مزید تصویریں بنیں۔ جب آپ نے ایسے لوگوں کا گروپ بڑاہوتا محسوس کیا تو آپ اپنی کرسی سے اٹھے اورقریب ہی اسی مین ٹیبل پر بیٹھے محترم عثمان چینی صاحب کی کرسی کے پیچھے جاکر کھڑے ہوگئے اوراپنے شاگردوں سے کہا کہ آئیں یہاں تصویر بناتے ہیں چنانچہ وہاں ایک تصویر بنائی گئی۔
آپ جب کبھی یوکے تشریف لاتے تو محترم عثمان چینی صاحب کو ضرور ملنے آتے تھے۔ ان دونوں بزرگوں کا آپس میں خاص تعلق تھا اور ایک دوسرے کو بڑی محبت سے ملا کرتے تھے اور بعض اوقات ہنستے ہوئے بڑی بے تکلفی میں ہلکی پھلکی باتیں کیاکرتے تھے۔ ایک دفعہ محترم میر صاحب اسلام آباد(یوکے) کے پرانے دفاترمیں چینی ڈیسک میں آئے۔ آپ محترم چینی صاحب سے ملے پھر آپ کے ساتھ آئے ہوئے دوست جب چینی صاحب سے مل رہے تھے تو اس دوران آپ نے خاکسار سے پوچھا کہ آجکل چینی صاحب کس کام میں مصروف ہیں۔ خاکسار نے بتایا کہ آجکل ’’ملائکۃاللہ‘‘ کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ آپ نے چینی صاحب سے ہنستے ہوئے پوچھا۔ کیا آجکل بھی فرشتے آتے ہیں۔ چینی صاحب نے بھی ہنستے ہوئے کہا جی آتے ہیں۔ میرصاحب نے پھر ہنستےہنستے اپنی بات دہرائی تو چینی صاحب کہنے لگے ہاں ہاں فرشتے آتے ہیں آج بھی آئے ہوئے ہیں۔ پھر دونوں بزرگ بہت ہنسے۔
اللہ تعالیٰ محترم میر صاحب کے درجات بہت بلند فرمائے اورانہیں جنت کے بالاخانوں میں جگہ دے۔ آمین
مزید پڑھیں: سیرالیون کا ایک اور دیوانہ : بلالِ احمدیت پا سعیدو بنگورا



