خلاصہ خطبہ جمعہ

قناعت اور سادگی کے حوالے سے سیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۳۰؍اکتوبر ۲۰۲۶ء

٭… رسول اللہﷺ اگر ایک طرف سادگی کا نمونہ تھے تو دوسری طرف رہبانیت کو بھی ناپسند فرماتے۔ اگر اعلیٰ سے اعلیٰ غذا بھی پیش کی جاتی تو اسے بھی استعمال کرتے

٭… کھانے پینے میں آپ ﷺ سادگی کو ملحوظ رکھتے تھے۔کبھی نمک زیادہ ہو جائے یا نہ ہو یا خراب پکا ہو تو کبھی اظہار ناراضگی نہیں فرماتے تھے ۔جہاں تک ممکن ہوتا تھا ایسا کھانا کھا کر کھانا پکانے والے کو دل شکنی سے بچا کے رکھتے اور اگر پسند نہ آتا تو ہاتھ روک لیتے لیکن ظاہر نہ فرماتے ہیں۔ جب کوئی چیز آتی تو صحابہؓ میں بانٹ کر کھاتے ۔ایک دفعہ کھجوریں آئیں تو سات سات کھجوریں صحابہؓ میں بانٹ دیں(حضرت مصلح موعودؓ)

٭… آج کل کی دنیا کا مشکلات میں یہی شور اٹھ رہا ہے کہ یہ نہیں ملتا، وہ نہیں ملتا اور اگر عالمی جنگ شروع ہو گئی تو پھر پتانہیں اَور مزید کیا حالات خراب ہوں۔مَیں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ بڑھتی ہوئی جنگ کے حالات پیدا ہوتے جارہے ہیں اور اگرمزید جنگ ہوتی ہے تو یورپ بھی اور تمام دنیا بھی خوراک کے لحاظ سے مشکل دَور میں سےگزرے گی

٭… ہمیں بھی اپنی حالتوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور قناعت پیدا کرنی چاہیے ۔سادہ زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کے نمونہ اور اس وقت کو سامنے رکھنا چاہیے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳۰؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۳۰؍اخاء ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۳۰؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت دانیال تصوّر صاحب(مربی سلسلہ) کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

آنحضرت ﷺ کی سادہ زندگی اورسادہ رہن سہن کے بارے میں ذکر ہو رہا تھا ۔گذشتہ ہفتے اس سلسلے میں آپؐ کے کھانے پینے میں سادگی اور کھانے پینے کے طریقے کے بارے میں بیان کیا تھا اوریہ کہ آپؐ کے سادہ رہن سہن کاکیا معیار تھا۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ

آنحضرت ﷺ کا ہر ایک فعل اپنے اندر ایک سادگی اور بے تکلّفی کا رنگ رکھتا تھا۔

جو لوگ عمدہ کھانے کے عادی ہیں وہ تو خیال کرتے ہوں گے کہ رسول اللہﷺ عمدہ عمدہ کھایا کرتے ہوں گے اور شاہانہ دسترخوان آپؐ کے آگے بچھتا ہوگا لیکن وہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ واقعات اس کے خلاف تھے۔ا گر ایک طرف رسول اللہؐ  سادگی کا کامل نمونہ تھے تو دوسری طرف سادہ زندگی میں بھی آپؐ دنیا کے لیے نمونہ تھے۔

حضور انور نے فرمایا کہ حضرت عائشہؓ نےاپنے بھانجے عروہ کو فرمایا کہ اے میرے بھانجے! ہم لوگ تو ہلال کے بعد ہلال دیکھا کرتے تھے یہاں تک کہ تین ہلال دیکھ لیتے۔ یعنی چاند کے دو ماہ گزر جاتے اور آپ ﷺ کے گھر پہ آگ نہ جلتی۔ سوال کرنے والے نے پوچھا پھر آپؐ کیا کھاتے تھے ؟حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ پانی اور کھجور کھایا کرتے تھے اور انصار پڑوسی بکریوں کا دودھ بھجوایا کرتے تھے۔

اللہ اللہ !کیسی سادہ زندگی ہے کہ دو دو ماہ تک آگ ہی نہیں جلتی اور صرف کھجور، پانی اور دودھ پر گزارا ہوتاہے۔ اس تاریخ کو دیکھ کر مسلمانوں کو شرمانا چاہیے۔بعض امیر لوگ مسلمانوں میں بھی ہیں جوآج کل اسی اکل و شرب کی مرض میں گرفتار ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی کم حیثیت والے بھی زیادہ خرچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا روپیہ کھانے پینے میں زیادہ خرچ ہو جاتا ہے اور مقروض رہتے ہیں۔

حضور انور نےفرمایا کہ آج کل ڈیمانڈ زیادہ ہو رہی ہوتی ہیں کہ ہمارے کھانے پینے کے معیار اچھے نہیں۔حالانکہ جو بھی آمد ہو اس میں گزارہ کرنا چاہیے۔

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ

رسول اللہﷺ اگر ایک طرف سادگی کا نمونہ تھے تو دوسری طرف رہبانیت کو بھی ناپسند فرماتے۔ اگر اعلیٰ سے اعلیٰ غذا بھی پیش کی جاتی تو اسے بھی استعمال کرتے۔

یہ نہیں کہ نفس کُشی کے لحاظ سے کھانے سے انکار کر دیتے۔ یہی معیار آپؐ کو دوسروں پر فضیلت دیتا ہے کیونکہ آپؐ تمام دنیا کے لیے آئے تھے نہ کہ کسی خاص گروہ کے لیے۔ اس لیے آپؐ کا کامل ہونا لازمی تھا۔ ایک طرف آپؐ سادہ زندگی میں کمال رکھتے تھے تو دوسری طرف طیّب اشیا کے استعمال سے اجتناب نہ فرماتے لیکن عموماً آپؐ کا گزارہ سادہ زندگی پر ہوتا اور کھانا اس لیے کھاتے کہ زندگی کا تعلق برقرار رہے اور کام کرنے کی طاقت پیدا ہوتی رہے۔

آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں یہ نمونہ بھی دکھا دیا کہ ہر قسم کی اعلیٰ سے اعلیٰ غذائیں بھی استعمال فرمائیں اور دوسری طرف سادہ زندگی سے ہمارے امراء کے لیے بھی نمونہ قائم کر دیا جن کی زندگی کا انتہائی مقصد اعلیٰ خوراک اور پوشاک ہوتی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ اچھا کھانا تناول کرنے کے متعلق ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بکری کے شانے سے گوشت تناول فرما رہے تھے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا اور یہ فعل اس لیے کیا کہ اُمّت کو تکلیف نہ ہو۔جائز ضرورتوں پر اس طرح کھانا جائز ہے لیکن اس کا پابند ہونا اور تکلّف کرنا اور دوسرے طریقوں کو حقیر جاننا منع ہے۔ اگر دوسری قوموں کی پیروی کرنے لگ جائیں تو انسان طہارت بھی چھوڑ دیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض اوقات کام کرتے ہوئے میز پر بھی کھا لیتے تھے۔زمین پر بھی بیٹھ کر بھی کھا لیتے۔

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایاکہ آنحضرت ﷺ کی شادی اور ولیمہ کے متعلق یہ روایت ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت صفیہ ؓکو آزاد کر دیا اور ان سے شادی کی۔ ان کا آزاد ہونا ہی ان کا مہر تھا۔ اسی سفر کے دوران رسول کریم ﷺ نے صبح کے وقت دسترخوان بچھا دیا اور سب کو کہا کہ جس کے پاس جو بھی ہے وہ لے آئے۔ کوئی کھجوریں لے آیا ،کوئی گھی اور کوئی ستّو۔پھر ان سب کو ملا کر آپس میں گوند ھ دیا اور یہی رسول اللہ ﷺ کا ولیمہ تھا۔

گذشتہ خطبے میں بھی ذکر ہوا تھا کہ آپﷺ چھوٹے سے چھوٹا تحفہ بھی قبول فرما لیا کرتے تھے۔ اس بارے میں حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کی دستی یا پایہ بھی کھانے کی دعوت دی جائے تو میں اس دعوت کو ضرور قبول کروں گا ۔اور اگر کوئی بکری کی دستی یا پایہ مجھے تحفہ بھی بھجوایا جائے تو میں قبول کر لوں۔یعنی چھوٹے سے چھوٹا تحفہ بھی قبول کر لوں۔

حضرت سیدزین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی مراد یہ ہے کہ مَیں معمولی سی دعوتِ طعام یا ادنیٰ سا ہدیہ بھی ردّ نہ کروں گا۔ قرآن مجید نے ردّی شے کو قبول کرنا عمدہ اخلاق میں سے شمار فرمایا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایاکہ ہر ایک کی دعوت آپؐ قبول فرمایا کرتے تھے۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہؐ  کو مدعو کیا۔ کہتے ہیں کہ مَیں بھی رسول اللہ ﷺکے ساتھ دعوت میںگیا۔اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا جس میں کدو اور خشک گوشت کے ٹکڑے تھے ۔ حضرت انسؓ  کہتے ہیں کہ مَیں نے دیکھا کہ آپؐ پیالے کے اطراف سے کدو چن چن کر کھا رہے ہیں ۔اس دن سے مَیں بھی کدو پسند کرنے لگا ہوں ۔

حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ کدو آپؐ کو بہت مرغوب تھے۔پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب آپؐ کو کھانا نصیب نہ ہوا ۔ وہ شخص احمق ہے جو کہتا ہے کہ محمد رسول ﷺ نے عمدہ گوشت کیوں کھایا، جو کہتا ہے محمد رسول اللہ ﷺ نے عمدہ و شاہانہ شربت کیوں پیئے،عمدہ شے کیوں کھائی۔ کیونکہ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے فاقے بھی کیے اور اپنے پیٹ پر پٹکے بھی باندھے۔ ایسے دن بھی آپؐ پر آئے کہ ایک فقیر عورت آپؐ کے گھر پر مانگنے آئی تو حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ اس دن ہمارے گھر پر کچھ نہیں تھا اور تلاش کرنے پر صرف ایک کھجور ملی۔ اس عورت نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور اپنی دونوں بیٹیوں کو دے دیے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس واقعے کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر کسی کے گھر پر دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی پرورش کرے تو اللہ اس پر جنت واجب کر دیتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایاکہ

رسول اللہ ؐکی سیرت جب کوئی سنتا یا پڑھتا ہے تو اس میں بیان کیے ہوئے ہرواقعے میں تربیت اور حکمت و نصیحت کے کئی پہلو نظر ا ٓجاتے ہیں

اور یہی ہمیں اس روایت میں نظر آتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ دیباچہ تفسیر القرآن میں حضرت مصلح موعود ؓسیرت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

کھانے پینے میں آپ ﷺ سادگی کو ملحوظ رکھتے تھے۔کبھی نمک زیادہ ہو جائے یا نہ ہو یا خراب پکا ہو تو کبھی اظہار ناراضگی نہیں فرماتے تھے ۔جہاں تک ممکن ہوتا تھا ایسا کھانا کھا کر کھانا پکانے والے کو دل شکنی سے بچا کے رکھتے اور اگر پسند نہ آتا تو ہاتھ روک لیتے لیکن ظاہر نہ فرماتے۔ جب کوئی چیز آتی تو صحابہؓ میں بانٹ کر کھاتے۔ایک دفعہ کھجوریں آئیں تو سات سات کھجوریں صحابہؓ میں بانٹ دیں۔

حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ مَیں نے رسول کریمؐ  کو کبھی گالی دیتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی آپؐ کے لیے کبھی کوئی کپڑا تہ کیا گیا۔ یعنی ایک ہی جوڑا ہوتا تھا، کوئی دوسرا نہیں تھا جو تہ کر کے رکھا جاتا۔ کپڑوں کو دھونا ضروری ہوتا تو اسی طرح دھو کر باہر تشریف لے جاتے کہ پانی کا نشان بھی اس پر نظر آتا ۔

یہ سادگی کا وہ نمونہ ہے جو کوئی صاحبِ حیثیت نہ دکھا سکتا ہے اور نہ کبھی کسی نے دکھایا۔

حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓنے عطارد تمیمی کو ایک دھاری دار ریشمی کپڑا بازار میں بیچتے ہوئے دیکھا۔وہ شخص بادشاہوں کے پاس جا کر انعام حاصل کرتا تھا۔ اس پر حضرت عمر ؓنے عرض کیا یا رسول اللہؐ میں نے عطارد کو ایسا کپڑا بیچتے ہوئے دیکھا ہے۔جب کوئی وفود آپؐ کے سامنے حاضر ہوں تو وہ پہن لیں تو اس کا اچھا اثر ہوگا یا عرض کیا کہ جمعہ کے دن پہن لیا کریں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اس دنیا میں ریشم وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔

ان واقعات کے ذکر کے بعد حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ لباس میں رسول اکرم ؐاس قدر سادگی فرماتے تھے کہ درحقیقت یہ حالات پڑھ کر مجھے شرم ا ٓجاتی ہے۔ بے شک اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی یہ واقعات پڑھ کر شرم آجاتی ہے۔اگر لباس کے فرق کو نکال بھی دیں تو بھی رسول اکرم ؐکی زندگی بہت سادہ تھی اور اس کے بغیر دنیا کی ترقی کا سامان نہیں ہو سکتا تھا ۔

حضرت سمرہ بن جندبؓ نے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا کہ سفید کپڑے پہنو،کیونکہ یہ زیادہ پاکیزہ اور زیادہ عمدہ ہیں۔اور اس میں اپنے مُردہ کو کفن دو ۔

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ کسی شخص نے پیٹ سے زیادہ خراب برتن نہیں بھرا۔ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں۔ یعنی پیٹ بھی ایک برتن ہے اسے بھرتے جاؤ تواس میں خرابی ہی پیدا ہوتی جائے گی ۔فرمایا کہ ایک تہائی کھانے کے لیے رکھو، ایک تہائی پانی کے لیے ہے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھو۔یعنی بھوک چھوڑ کر کھا ؤ۔

معدے کی تکلیف والوں کو ڈاکٹر یہی مشورہ دیتے ہیں جو آج سے چودہ سو سال پہلے رسول اللہؐ نے دیا۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ سادہ زندگی کی وجہ سے لوگ اس بات کے عادی ہوں گے کہ تکالیف کو برداشت کر سکیں اورباوجود تکلیف دہ ایام کے انہیں تکلیف کا احساس نہ ہوگا۔ فرمایا جیسے آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ یورپ کے نزدیک جو مشکلات ہیں وہ ہمارے روزمرّہ زندگی کا مشغلہ۔ جن کو وہ آفتیں اور مصیبتیں خیال کرتے ہیں وہ ہمارے نزدیک راحت اور آرام ہے۔ اس لیے ان تکلیفوں کا ہمیں پتا بھی نہیں لگتا۔

حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ تھوڑے دن ہوئے بعض نے مجھ سے کہا کہ کپڑوں کا ملنا مشکل ہو رہا ہے جبکہ ایک مومن کی تو حالت یہ ہوتی ہے کہ کپڑا مل گیا تو پہن لیا نہیں ملا تو پرانے کپڑے کو پیوند لگا کر گزارہ کر لیتا ہے ۔رسول کریم ﷺ کے کپڑوں کو پیوند لگے ہوتے تھے ۔کیا ہم ان سے بڑے ہیں کہ ہم اپنے کپڑوں کو پیوند نہ لگا سکیں ۔

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ

آج کل کی دنیا کا مشکلات میں یہی شور اٹھ رہا ہے کہ یہ نہیں ملتا ،وہ نہیں ملتا اور اگر عالمی جنگ شروع ہو گئی تو پھر پتا نہیں اَور مزید کیا حالات خراب ہوں۔مَیں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ بڑھتی ہوئی جنگ کے حالات پیدا ہوتے جارہے ہیں اور اگرمزید جنگ ہوتی ہے تو یورپ بھی اور تمام دنیا بھی خوراک کے لحاظ سے مشکل دَور میں سےگزر ے گی۔

حضرت مصلح موعودؓ نے اس وقت کے ہندوستان کی مثال دی ہے لیکن افریقہ اور کم ترقی یافتہ ممالک میں یہ حال ہے کہ ان کو سادہ غذا بھی مل جائے تو بڑے خوش ہوتے ہیں ۔وہ لوگ جنگ کےحالات برداشت کر لیںگےلیکن یورپ اور یہ ترقی یافتہ ممالک برداشت نہیں کر سکیں گے اور یہ حالات انہیں بہت زیادہ پریشان کر دیں گے ۔ پس

ہمیں بھی اپنی حالتوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور قناعت پیدا کرنی چاہیے ۔سادہ زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کے نمونہ اور اس وقت کو سامنے رکھنا چاہیے ۔

اچھی چیزیں ،کھانے میسّر ہو ںتو ضرور کھائیں۔ اچھی چیزیں میسّر ہیں تو ضرور پہنیں۔ لیکن ان پر انحصار کرنا اور اگر نہ ملے توشور مچانا کہ مر گئے یہ غلط چیز ہے۔بہرحال

یہ دعا بھی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو ان آفات سے بچائے ۔اپنی اناؤں کی وجہ سے یہ تباہی کے گڑھے میں گرنے کی کوشش کر رہےہیں ۔ اگر یہی حالات رہے تو جنگ عظیم تویقینی ہے اور پھر ان کی تباہی بھی یقینی ہے۔ دوسروں کے مال اور زمین پر قبضہ کرنے کی بجائے ان لوگوںکو چاہیے کہ اپنی عوام کی خدمت کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button