کیوں؟
پیارے بچو! آج کے نئے سوال اور اس کے جواب کے ساتھ حاضر ہیں۔ اور آج کا سوال یہ ہے کہ
گریجوایشن کی ٹوپی چوکور کیوں ہوتی ہے؟
پیارے بچو! اس کی وجہ بہت دلچسپ ہے ۔ اسے معمار کی تختی بھی کہا جاتا ہے، اور یہ نام اتفاقی نہیں ہے۔ اس کی اصل شکل راج مستری کے اُس چوکور لکڑی کے تختے سے آئی ہے جس پر وہ سیمنٹ یا گارا رکھ کر دیوار بناتے ہیں۔ چودھویں اور پندرھویں صدی میں جب یورپ میں یونیورسٹیاں بن رہی تھیں تو تعلیم کو بھی معاشرے کی تعمیر سمجھا جاتا تھا۔ استاد اور طالب علم دراصل معاشرے کے معمار سمجھے جاتے تھے، اس لیے ان کی ٹوپی کو بھی اسی تعمیراتی تختے کی شکل دے دی گئی۔ یعنی علم وہ بنیاد ہے جس پر سب کچھ کھڑا ہے۔ اس کی جڑ ایک مذہبی ٹوپی میں بھی ملتی ہے۔ شروع میں کیتھولک پادری اور بڑے اسکالرز ایک نرم نوک دار ٹوپی پہنتے تھے، جو عزت اور علم کی علامت تھی۔ جب آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں نے اسے اپنایا تو انہوں نے اسے عام لوگوں سے الگ دکھانے کے لیے اوپر ایک سخت چوکور تختہ لگا دیا۔ وقت کے ساتھ نیچے والی نرم ٹوپی چھوٹی ہوتی گئی اور اوپر والا چوکور تختہ ہی اس کی اصل پہچان بن گیا۔
اس کے چوکور ہونے کی علامتی وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں۔ کتاب کو اوپر سے دیکھیں تو یہ ایک کھلی کتاب جیسی لگتی ہے، جو علم کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اس کے چاروں کونے برابر ہوتے ہیں، جسے برابری اور توازن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ایک گریجوایٹ کی سوچ متوازن، منصفانہ اور ہر زاویے سے مکمل ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ چوکور اور فلیٹ تختہ وقار، سنجیدگی اور استحکام کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیے آج بھی دنیا بھر میں گریجوایشن کے موقع پر یہی چوکور ٹوپی پہنی جاتی ہے۔ یہ صرف ایک ٹوپی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ اب آپ علم کی عمارت بنانے کے قابل ہو گئے ہیں۔
بچو! آپ کو آج کا سوال اور اِس کا جواب کیسا لگا؟ اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو ہمیں بھجوائیں۔ ان شاء اللہ ہم آپ کو اُس کا بھی جواب دیں گے۔
آپ کا بھائی، نبیل احمد کاشف، جرمنی
