کلامِ امام علیہ الصلوٰۃ والسلام

سچ تو یہ ہے کہ سچ کے بغیر گزارہ نہیں

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں کہ ’’مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک مرتبہ امرتسر ایک مضمون بھیجا۔ اس کے ساتھ ہی ایک خط بھی تھا۔ رلیا رام کے وکیل ہند اخبار کے متعلق تھا۔ میرے اس خط کو خلافِ قانون ڈاکخانہ قرار دے کر مقدمہ بنایا گیا۔ وکلاء نے یہی کہا کہ اس میں بجز اس کے رہائی نہیں جو اس خط سے انکار کر دیا جاوے۔ گویا جھوٹ کے سوا بچاؤ نہیں ۔ مگر میں نے اس کو ہرگز پسند نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ اگر سچ بولنے سے سزا ہوتی ہے تو ہونے دو جھوٹ نہیں بولوں گا ۔ آخر وہ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ ڈاک خانوں کا افسر بہ حیثیت مدعی حاضر ہوا ۔ مجھ سے جس وقت اس کے متعلق پوچھا گیا تو میں نے صاف طور پر کہا کہ یہ میرا خط ہے مگر میں نے اس کو جز و ِمضمون سمجھ کر اس میں رکھا ہے۔ مجسٹریٹ کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو بصیرت دی۔ ڈاکخانوں کے افسر نے بہت زور دیا مگر اس نے ایک نہ سنی اور مجھے رخصت کر دیا۔

میں کیونکر کہوں کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ۔ ایسی باتیں نری بیہودگیاں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ سچ کے بغیر گزارہ نہیں۔ میں اب تک بھی جب اپنے اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو ایک مزا آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پہلو کو اختیار کیا اس نے ہماری رعایت رکھی ۔ اور ایسی رعایت رکھی جو بطور ایک نشان کے ہوگئی ۔‘‘ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 181-183)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button