نظم
اَلْقَصِيْدَةُ ’’يَا قَلْبِيَ اذْكُرْ اَحْمَدَا‘‘
جُمِعَتْ مَرَابِيعُ الْهُدٰى فِیْ وَبْلِهٖ حِيْنَ النَّدٰى
ہدایت کی بارشیں سخاوت کے وقت اِس کی موسلا دھار بارش میں جمع کر دی گئیں ۔
نَسِيَ الزَّمَانُ رِهَامَہٗ مِنْ جَوْدِ هٰذَا الْمُقْتَدَا
زمانہ اپنی مسلسل تھوڑی بارش کو بھول گیا ہے اس مقتدا کی موسلا دھار بارش کے مقابلہ میں۔
الْيَوْمَ يَسْعَى النِّكْسُ أَنْ يُّطْفِيْ هُدَاهُ وَ يُخْمِدَا
آج کمینہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی ہدایت کو بجھا دے اور ٹھنڈا کر دے۔
وَاللّٰهُ يُبْدِيْ نُوْرَهُ يَوْمًا وَّ إِنْ طَالَ الْمَدٰى
اور اللہ اُس کے نور کو ظاہر کر دے گا کسی نہ کسی دن خواہ مدت لمبی ہی ہو جائے۔
يَا قَطْرَ سَارِيَةٍ وَ غَادٍ قَدْ عُصِمْتَ مِنَ الرَّدَا
اے رات کو برسنے والی اور دن کو برسنے والی بارش ! تو ہلاکت سے محفوظ کر دی گئی ہے۔
