خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 16؍اکتوبر 2026ء

’’جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا، کوئی عمارت نہ بنائی، کوئی بارگاہ طیار نہ ہوئی، کوئی سامان شاہانہ عیش و عشرت کا تجویز نہ کیا گیا، کوئی اَور ذاتی نفع نہ اٹھایا بلکہ جو کچھ آیا وہ سب یتیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبرگیری میں خرچ ہوتا رہا اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہو کر نہ کھایا‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

سادہ اور تکلّف سے پاک زندگی گزارنے والے کی تو دنیاوی خواہشات ہوتی ہی نہیں اور جو دنیاوی ضروریات کی چیزیں ہیں وہ خود اللہ تعالیٰ مہیا کر دیتا ہے

یہ سادگی کا وہ اظہار ہے جو آپؐ کے عظیم اُسوے سے ہر وقت ظاہر ہوتا ہے۔ جس کا اظہار مختلف موقعوں پر آپؐ کی زندگی میں ہمیں نظر آتا ہے اور آپؐ کی مومنوں کو بھی یہ نصائح ہیں کہ اپنے آپ کو سادہ رکھو اور تکلّفات سے پاک کرو

کیا تم نہیں سنتے۔کیا تم نہیں سنتے۔ یقیناً سادگی ایمان کا حصہ ہے۔ یقیناً سادگی ایمان کا حصہ ہے(ارشاد نبویﷺ)

آج کل تو دنیاوی چیزوں کی اس قدر لالچ ہے کہ مختلف طریقوں سے لالچ دیے جاتے ہیں کہ انسان کی سوچوں میں صرف یہی چیز بسنے لگ گئی ہے کہ دنیا ہی دنیا ہے۔ ایسے میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر چلنے والے ہوں گے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں گے

اپنی پوری توجہ اور محنت سے کام کرنا اور پھر سادہ زندگی گزارنا اور قناعت کرنا اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا یہ ایک مومن کا شیوہ ہے جو اس کے ایمان میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ محنت اور اپنی صلاحیتوں کا پورا استعمال بھی مومن کا خاصّہ ہے۔ یہ بھی ایمان کی ایک شق ہے

’’آپؐ کی رہائش کی سادگی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ حضرت عائشہؓ نے آپؐ کی وفات کے بعد فرمایا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں کئی دفعہ صرف پانی اور کھجور پر ہی گزارہ کرنا پڑتا تھا یہاں تک کہ جس دن آپؐ کی وفات ہوئی اس دن بھی ہمارے گھر میں سوائے کھجور اور پانی کے کھانے کے لئے اَور کچھ نہیں تھا‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

مجھے دنیا سے کیا تعلق۔ مَیں تو دنیا میں صرف ایک سوار کی طرح ہوں جو ایک درخت کے نیچے سائے میں ٹھہرا پھر وہ روانہ ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے(ارشاد نبویﷺ)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ باوجود اس کے کہ حضرت فاطمہؓ  کو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پیسنے سے آپؓ کے ہاتھوں کو تکلیف ہوتی تھی مگر پھر بھی آپؐ نے ان کو خادم نہ دیا بلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا۔…کیا دنیا کسی بادشاہ کی مثال پیش کر سکتی ہے جو بیت المال کا ایسا محافظ ہو۔ اگر کوئی نظیر مل سکتی ہے تو صرف اسی پاک وجود کے خدّام میں سے، ورنہ دوسرے مذاہب اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتے (حضرت مصلح موعودؓ)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں ایک بادشاہ تھے۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہو سکتا تھا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس بادشاہت سے حضورؐ نے دنیاوی فوائد کیا حاصل کیے؟ …غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بادشاہت سے دنیاوی فائدہ کوئی بھی حاصل نہیں کیا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام تر زندگی میں لوگوں کے لیے قربانی ہی پیش کی۔ حضور نے ممالک مفتوحہ اور جائیدادوں کو اپنا ہرگز قرار نہیں دیا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ اپنے کپڑے خود صاف کر لیتے، اپنی بکری کا دودھ دوہتے اور اپنا کام خود کرتے تھے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی کام کرتے تھے جو دوسرے لوگ کرتے تھے اور تواضع اختیار کرتے تھے۔ کاموں میں ان کی مدد بھی فرماتے تھے تاکہ لوگوں کو عاجزی اختیار کرنے اور تکبّر اور بڑائی سے بچنے کی عملی تعلیم دیں

آپؐ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپؐ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہوتا بلکہ آپؐ اپنے خالی اوقات میں خود ہی اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کروا دیتے۔ اللہ اللہ! کیسی سادہ زندگی ہے ۔کیا بے نظیر نمونہ ہے ۔کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش کیا جا سکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کے لئے ایک نوکر بھی نہ ہو۔ اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپؐ کے خدام میں سے ہوگا۔ کسی دوسرے بادشاہ نے جو آپؐ کی غلامی کا فخر نہ رکھتا ہو یہ نمونہ کبھی نہیں دکھایا (حضرت مصلح موعودؓ)

قناعت اور سادگی کے حوالے سے سیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ

پاکستان اور ملائیشیا کے احمدیوں کےلیے دعا کی تحریک

پاکستانی احمدیوں کو بھی چاہیے کہ ان دنوں میں درود، استغفار اور دعائیں جو مَیں نے بتائی تھیں ان پر خاص طور پر زور دیں۔ نفلوں پہ زور دیں اور ان ظالموں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لیے بہت زیادہ دعائیں کریں

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 16؍اکتوبر 2026ء بمطابق 16؍اخاء1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ ۔ (صٓ:87) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ تُو کہہ دے کہ مَیں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ مَیں تکلّف سے بات کرنے کا عادی ہوں۔

یہ آیت وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان کروا رہا ہے کہ لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ مَیں تمہیں جو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا رہا ہوں، تمہاری بہتری کے راستے دکھا رہا ہوں ،یہ صرف اور صرف تمہاری دنیا وعاقبت سنوارنے کے لیے ہے۔ تمہارے فائدے کے لیے ہے۔ مجھے اس کام کے عوض تمہارے سے کچھ نہیں چاہیے اور مجھے تمہارے سے کسی چیز کے چاہنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ مجھے تو اس کا اجر سب خزانوں کے مالک سے مل رہا ہے۔ میری زندگی ان تکلّفات سے پاک ہے اور جب زندگی تکلّفات سے پاک ہو تو پھر ان دنیاوی اجروں کی ضرورت ہی کیا ہے!

سادہ اور تکلّف سے پاک زندگی گزارنے والے کی تو دنیاوی خواہشات ہوتی ہی نہیں اور جو دنیاوی ضروریات کی چیزیں ہیں وہ خود اللہ تعالیٰ مہیا کر دیتا ہے۔

پس

یہ سادگی کا وہ اظہار ہے جو آپؐ کے عظیم اُسوے سے ہر وقت ظاہر ہوتا ہے۔ جس کا اظہار مختلف موقعوں پر آپؐ کی زندگی میں ہمیں نظر آتا ہے اور آپؐ کی مومنوں کو بھی یہ نصائح ہیں کہ اپنے آپ کو سادہ رکھو اور تکلّفات سے پاک کرو۔

ایک روایت میں آتا ہے حضرت عثمان بن عفانؓ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے لیے کوئی حق نہیں ان باتوں کے سوا کہ ایک گھر ہو جس میں وہ رہے اور اس قدر کپڑے ہوں جو اس کے ننگ کو ڈھانپ سکیں اور روکھی سوکھی روٹی اور پانی ہو۔

(سنن الترمذی أَبْوَابُ الزُّهْدِ …بَابٌ:مِنْهُ الْخِصَالُ الَّتِیْ لَیْسَ لِابْنِ آدَمَ حَق… حدیث:2341)

اصل میں تو آپؐ اپنا یہ حال بیان فرما رہے ہیں۔ اپنی زندگی کا نقشہ کھینچ رہے ہیں کہ میرا تو سادگی کا یہ مقام ہے۔ مجھے کسی تکلّف کی ضرورت نہیں ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ آپؐ یہ دعا کیا کرتے تھے جس کا روایت میں یوں ذکر ملتا ہے:

حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا ۔آپؐ نے فرمایا کہ مساکین سے محبت کیا کرو۔ خود یہ کہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعا میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ

اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَّاَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَّاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَةِ الْمَسَاکِیْنِ۔اے اللہ! مجھے مسکین کے طور پر زندہ رکھنا اور مسکین کے طور پر موت دینا اور مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر کرنا۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب مجالسۃ الفقراء حدیث4126)

پھر مومنوں کو بھی سادگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ سادگی ایمان میں سے ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے آپؐ کے پاس دنیا کا ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

کیا تم نہیں سنتے!کیا تم نہیں سنتے! یقیناً سادگی ایمان کا حصہ ہے۔ یقیناً سادگی ایمان کا حصہ ہے۔

(سنن ابوداؤد اوّل کتاب الترجل باب النھی عن کثیر من الارفاہ روایت 4161)

دو دفعہ مخاطب کر کے آپؐ نے توجہ دلائی۔

پھر ایک روایت حضرت عمران بن حُصَینؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یقیناً اللہ اپنے اس بندے سے محبت کرتا ہے جو مومن ہو، نادار ہو، سوال سے بچنے والا ہو اور عیال دار ہو۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب فضل الفقر حدیث4121)

سوال سے انسان اسی وقت بچ سکتا ہے جب سادگی ہو اور قناعت ہو۔ یہ نہیں کہ ذرا سی ضروریات ہوں تو خواہشات پوری کرنے کے لیے آدمی غلط کام کرنے لگ جائے یا شکوے کرنے لگ جائے۔

ایک موقع پر آپؐ نے

فقر وسادگی کی زندگی پر جنت کی بشارت

یوں فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین غرباء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات کی شکایت کی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دولت مندوں کو ان پر فضیلت دی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اے غریبوں کے گروہ! کیا مَیں تمہیں بشارت نہ دوں کہ غریب مومن جنت میں اپنے دولت مندوں سے نصف دن یعنی پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے۔ نصف دن سے پہلے یعنی اللہ تعالیٰ کا جو نصف دن ہے۔ راوی موسیٰ نے یہ آیت پڑھی: وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔(الحج:48)اور یقیناً تیرے ربّ کے پاس ایسا بھی دن ہے جو اس شمار کے مطابق جو تم کرتے ہو ایک ہزار برس کا ہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب منزلۃ الفقراء حدیث4124)

یعنی اللہ تعالیٰ کے نصف دن سے مراد پانچ سَو سال ہیں۔ پس

کیا ہی خوش قسمت ہیں سادگی اور قناعت سے زندگی گزارنے والے لوگ۔ آج کل تو دنیاوی چیزوں کی اس قدر لالچ ہے کہ مختلف طریقوں سے لالچ دیے جاتے ہیں کہ انسان کی سوچوں میں صرف یہی چیز بسنے لگ گئی ہے کہ دنیا ہی دنیا ہے۔ ایسے میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر چلنے والے ہوں گے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔

لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور کام نہ کرے۔

اپنی پوری توجہ اور محنت سے کام کرنا اور پھر سادہ زندگی گزارنا اور قناعت کرنا اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا یہ ایک مومن کا شیوہ ہے جو اس کے ایمان میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ محنت اور اپنی صلاحیتوں کا پورا استعمال بھی مومن کا خاصّہ ہے۔ یہ بھی ایمان کی ایک شق ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا :تُو دنیا میں اس طرح بسر کر گویا کہ تُو پردیسی ہے یا راہ چلتا مسافر ۔اور حضرت ابن عمرؓ کہا کرتے تھے کہ جب تمہیں شام ہو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہو تو شام کا انتظار نہ کرو اور اپنی صحت سے اپنی بیماری کے لیے اور اپنی زندگی سے اپنی موت کے لیے کچھ سامان لے لو۔

(صحیح البخاری، كتاب الرقاق باب قول النبی ﷺ کن فی الدنیا… حدیث نمبر 6416، مترجم جلد 15 صفحہ 181-182،شائع کردہ نظارت اشاعت)

یعنی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس سے ملنا یاد رہے کہ انسان کے ہر عمل کا حقیقی اجر اللہ تعالیٰ سے ہی ملنا ہے اور زندگی کا پتہ نہیں کب ختم ہو جائے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سادگی اور عاجزی کا اظہار ہر موقع پر کس طرح فرمایا کرتے تھے، اس بارے میں حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سناکہ وہ منبر پر کھڑے کہہ رہے تھے کہ مَیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے:

میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسے نصاریٰ نے ابن مریم ؑکی تعریف میں مبالغہ کیا۔ مَیں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں اور تم یہی کہو: اس کا بندہ اور اس کا رسول۔

(صحیح البخاری كتاب أحاديث الأنبياء، باب وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا حدیث 3445،مترجم جلد 6 صفحہ 426 شائع کردہ نظارت اشاعت)

مُطَرِّفْ نے بیان کیا کہ میرے والد نے بتایا کہ مَیں بَنُو عامِر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ ہم نے عرض کیا کہ آپؐ ہمارے سردار ہیں۔ آپؐ نے فرمایا:سردار تو اللہ ہے۔ ہم نے عرض کیا: آپؐ ہم میں فضل کے لحاظ سے افضل ترین ہیں۔اور احسان کرنے میں ہم سب سے عظیم تر ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی بات بیان کرو۔ یہ مختلف فضول قسم کی تعریفیں نہ کرو یا فرمایا اپنی باتیں بیان کرو، شیطان تمہیں دلیر نہ کر دے۔

(سنن ابوداؤد کتاب الأدب باب فی کراہیۃ التمادح روایت 4806)

جہاں اپنی عاجزی اور سادگی کا اظہار فرمایا وہاں بڑی باریکی سے شرک سے بچنے کی طرف بھی آپؐ نے توجہ دلا دی۔

حضرت رُبَیِّعْؓ خاتون ہیں، کہتی تھیں کہ جب میری شادی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جیسے تم میرے پاس بیٹھے ہو۔راوی کو بیان کر رہی ہیں کہ جس طرح تم میرے بستر پہ بیٹھے ہو اس طرح وہ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت ہماری چند لڑکیاں دَف بجانے لگیں اور میرے ان بزرگوں کی تعریف کرنے لگیں جو جنگ بدر میں مارے گئے تھے اور ان اشعار میں ان میں سے ایک لڑکی نے کہا کہ ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو جانتا ہے کہ کل کیا کچھ ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو جانے دو اور وہی گاؤ جو پہلے گا رہی تھی۔یعنی بدر کے بارے میں۔

(صحیح البخاری کتاب النکاح باب ضرب الدف فی النکاح… ، حدیث 5147مترجم جلد 13 صفحہ 84-85 شائع کردہ نظارت اشاعت)

میری تعریفیں غلط طور پہ نہ کرو۔ جہاں آپؐ کی غیر ضروری تعریف اور شرک کی بات ہوئی وہاں فوراً آپؐ نے ان کو ٹوک دیا اور کہا کہ ایسے نہ کرو۔ مَیں تو ایک سادہ، عاجز انسان ہوں۔

آپؐ کے مکان اور رہائش کی سادگی

کے بارے میں یوں ذکر ملتا ہے۔ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد مسجد نبویؐ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش کے لیے مکان تیار کیا گیا۔ مکان کیا تھا، ایک دس پندرہ فٹ کا چھوٹا سا حجرہ تھا،کمرہ تھا اور اس حجرے اور مسجد کے درمیان ایک دروازہ رکھا گیا تھا جس میں سے گزر کر آپؐ نماز وغیرہ کے لیے مسجد میں تشریف لاتے تھے۔ جب آپؐ نے اَور شادیاں کیں تو اسی حجرے کے ساتھ ساتھ دوسرے حجرات یعنی کمرے تیار ہوتے گئے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین ﷺ صفحہ 270)

سیرت خاتم النبیین میں یہ تومرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے لیکن اس کی تفصیل کہ کس طرح کمرے تیار ہوتے تھے یا کس طرح کمرے مزید بڑھتے گئے، اس کی تفصیل تاریخ میں یوں ملتی ہے کہ آپؐ کے ایک مخلص صحابی حارِثہ بن نُعمانؓ کے مسجد کے قریب اور اس کے نواح میں کئی مکانات تھے۔ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں نئی بیوی آتی تو حارِثہؓ آپؐ کو اپنا ایک مکان دے دیتے یہاں تک کہ حارثہؓ کے تمام مکانات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو گئے۔

(ماخوذ از شرح العلامۃ الزرقاني على المواهب اللدنیہ جلد 2 صفحہ 185 دارالکتب العلمیہ1996ء)

یعنی صرف کمروں کی تعمیر نہیں ہوئی تھی بلکہ نئے مکان شامل ہوتے گئے اور وہ بھی چھوٹے چھوٹے مکان۔ بہت سادہ قسم کے۔ اس طرح کُل نَو مکانات تھے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مقدس زندگی کے آخری دس برس بسر کیے اور انہی میں سے ایک مکان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین ہوئی۔حضرت عائشہؓ کے گھر میں۔ ہر مکان ایک چھوٹے سے کمرے اور اس سے بھی چھوٹے ایک صحن پر مشتمل تھا اور تعمیر اتنی سادہ کہ نہ ہی کہیں پختہ اینٹ استعمال ہوئی تھی اور نہ پتھر جبکہ پورا علاقہ پتھروں سے بھرا ہوا تھا۔ سارا مکان کھجور کی ٹہنیوں، گارے اور زیادہ سے زیادہ کچی اینٹوں پر مشتمل تھا اور ان کے صحن کو کھجوروں کی ٹہنیوں سے گھیر لیا گیا تھا اور ان ٹہنیوں پر بالوں کے کمبل ڈال دیے گئے تھے تاکہ ٹہنیوں کے درمیان شگافوں سے بے پردگی نہ ہو۔ صحن کی دیوار اس طرح بنائی گئی تھی۔ ہر کمرے کی لمبائی تقریباًپانچ میٹر اور چوڑائی تقریباً چار میٹر تھی۔ آنگن کی چوڑائی تو اس سے بھی کم تقریباً ساڑھے تین میٹر تھی اور لمبائی کمرے کے برابر تھی اور چھتوں کی بلندی تو بس اتنی تھی کہ ہاتھ اٹھا کر انہیں چُھوا جا سکتا تھا۔

(ماخوذ اززیارات مکۃ المکرمۃ اور زیارات مدینۃ المنورۃ صفحہ 404، 408-409 دارالاشاعت کراچی)

عطاء بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے اس دن یعنی جس دن حجرے گرائے گئے، سعید بن مُسَیِّب کو کہتے ہوئے سنا کہ

اللہ کی قسم! مَیں یہ چاہتا تھا کہ ان حجروں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا تاکہ اہلِ مدینہ اور باہر سے زیارت کے لیے آنے والے لوگ دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں کس قدر کم سے کم پر اکتفا فرمایا تھا۔ سو یہ چیز لوگوں کو دنیا میں مال و متاع کی کثرت پر فخر کرنے سے روکتی۔

(الطبقات الكبرىٰ لابن سعد جزء 8، صفحہ 133 ذكر مَنَازِلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں: کاش !کہ ازواجِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان حجروں کو چھوڑ دیا جاتا اور گرایا نہ جاتا یہاں تک کہ لوگ عمارتیں بنانے میں کمی کرتے اور دیکھ لیتے کہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا پسند کیا جبکہ دنیا کے خزائن کی چابیاں آپؐ کے ہاتھ میں تھیں۔

(الطبقات الكبرىٰ لابن سعد، جزء 8 صفحہ 134، ذكرُ مَنَازِلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه وسلم دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت مصلح موعودؓ اس بارے میں بیان کرتے ہیں کہ’’ رہائشی مکان کے متعلق بھی آپ سادگی کو پسند کرتے تھے۔ بالعموم آپؐ کے گھروں میں ایک ایک کمرہ ہوتا تھا اور چھوٹا سا صحن۔ اس کمرہ میں ایک رسی بندھی ہوئی ہوتی تھی جس پر کپڑا ڈال کر ملاقات کے وقت میں آپؐ اپنے ملنے والوں سے علیحدہ بیٹھ کر گفتگو کر لیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی پارٹیشن جو تھی کمرے کی اس طرح ہوتی تھی کہ چادر ڈال دی جاتی تھی بیچ میں تاکہ عورتوں کی طرف اور مردوں کی طرف پردہ ہو جائے۔ ’’چارپائی آپؐ استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ زمین پر ہی بستر بچھا کر سوتے تھے۔

آپؐ کی رہائش کی سادگی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ حضرت عائشہؓ نے آپؐ کی وفات کے بعد فرمایا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں کئی دفعہ صرف پانی اور کھجور پر ہی گزارہ کرنا پڑتا تھا یہاں تک کہ جس دن آپؐ کی وفات ہوئی اس دن بھی ہمارے گھر میں سوائے کھجور اور پانی کے کھانے کے لئے اَور کچھ نہیں تھا۔‘‘

(دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 382)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’خیال کرنا چاہیے کہ کس استقلال سے آنحضرتؐ اپنے دعویٰ نبوت پر باوجود پیدا ہو جانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہو جانے لاکھوں معاندوں اور مزاحموں اور ڈرانے والوں کے اوّل سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے۔ برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اوروہ دکھ اٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلّی مایوس کرتے تھے اور روز بروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہو جانا وہم بھی نہیں گذرتا تھا بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے از دست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے‘‘ جو لوگ پہلے حمایتی تھے وہ بھی پیچھے ہٹ گئے ’’اور ایک بات کہہ کر لاکھ تفرقہ خرید لیا اور ہزاروں بلاؤں کو اپنے سر پر بلا لیا۔‘‘ اللہ کی طرف بلانے پہ بہت ساری مخالفت ہوئی۔ ’’وطن سے نکالے گئے، قتل کے لئے تعاقب کیے گئے، گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہوگیا، بارہا زہر دی گئی اور جو خیر خواہ تھے وہ بد خواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں اور پھر

جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا، کوئی عمارت نہ بنائی، کوئی بارگاہ طیار نہ ہوئی، کوئی سامان شاہانہ عیش و عشرت کا تجویز نہ کیا گیا، کوئی اَور ذاتی نفع نہ اٹھایا بلکہ جو کچھ آیا وہ سب یتیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبرگیری میں خرچ ہوتا رہا اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہو کر نہ کھایا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 108-109)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔ آپؓ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا تھا اور کھجور کے ریشے اس کے اندر بھرے ہوئے تھے۔

(صحیح البخاری كتاب الرقاق باب كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ روایت 6456 مترجم جلد 15 صفحہ 225 شائع کردہ نظارت اشاعت)

آپؐ کے بستر کی تفصیل ایک روایت میں یوں بیان ہوئی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ آپؓ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کابستر کیسا ہوتا تھا؟ آپؓ نے فرمایا :وہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے ۔اور حضرت حفصہؓ سے پوچھا گیا کہ آپؓ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا :وہ بالوں اور اُون سے بھرا ہوا تھا۔ مَیں اس کی دو تہیں لگا دیتی تھی۔ اُون کی ایک چادر جیسی تھی ،کمبل تھا۔ اس کی دو تہیں لگا دیتی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوتے تھے۔ کہتی ہیں ایک رات مَیں نے سوچا کہ کیوں نہ اس کی چار تہیں لگا دوں۔ ذرا موٹا کر دوں تو آپؐ کے لیے زیادہ آرام دہ ہو جائے گا۔ چنانچہ ہم نے گھر میں مشورہ کر کے اس کی چار تہیں لگا دیں۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے فرمایا :تم نے رات میرے لیے کیا بچھایا تھا؟ حضرت حفصہؓ کہتی ہیں کہ مَیں نے عرض کیا کہ وہ آپؐ کا وہی بستر تھا۔ صرف ہم نے اس کی چار تہیں لگا دی تھیں تاکہ وہ آپؐ کے لیے زیادہ آرام دہ ہو جائے۔ آپؐ نے فرمایا: اسے پہلے جیسا ہی رہنے دو کیونکہ اس کی نرمی میرے لیے رات نماز میں روک بن رہی تھی۔

(ماخوذ ازشمائل النبیﷺ تالیف امام ترمذی صفحہ 134 باب ما جاء فی فراش رسول اللہ ﷺ روایت نمبر 314 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)

(ماخوذ ازفيض القدير شرح الجامع الصغير جلد 5 صفحہ 220 المكتبة التجارية الكبرى مصر)

اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپؐ کو نیند زیادہ آ گئی تھی اور نماز میں خلل پیدا ہوا بلکہ آپؐ بستر پہ ہی کھڑے ہو کے نماز پڑھا کرتے تھے اور اس سے آپؐ سمجھ رہے تھے کہ زیادہ توازن قائم نہیں رہتا یا جو عبادت کا صحیح مزہ ہے وہ آپؐ کو نہیں آ رہا تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سویا کرتی اور میرے پاؤں آپؐ کے سامنے ہوتے۔ جب آپؐ سجدہ کرتے تو مجھے ہاتھ سے دباتے اور میں اپناپاؤں سکیڑ لیتی اور جب کھڑے ہوتے تو ان کو پھیلا دیتی۔ کہتی تھیں کہ ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔

(صحیح البخاری كتاب الصلاة باب الصلاۃ علی الفراش حدیث نمبر 382، مترجم جلد 1 صفحہ 487-488، شائع کردہ نظارت اشاعت)

کوئی روشنی نہیں ہوتی تھی، اندھیرا تھا۔ آپؐ بستر پر نماز پڑھتے تھے اور اس کے ایک طرف حضرت عائشہؓ سوئی ہوئی ہیں تو جب سجدہ کرنا ہوتا تھا آپؐ ہاتھ سے اشارہ کرتے کہ پاؤں پیچھے کرو۔پھر آپؐ سجدہ کرتے تھے۔

حضرت عبداللہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے۔آپؐ اٹھے اور اس نے آپؐ کے پہلو پر نشان کر دیا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ہم آپؐ کے لیے ایک بستر بنائیں۔ آپؐ نے فرمایا:

مجھے دنیا سے کیا تعلق۔ مَیں تو دنیا میں صرف ایک سوار کی طرح ہوں جو ایک درخت کے نیچے سائے میں ٹھہرا پھر وہ روانہ ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔

(سنن الترمذی ابواب الزھد باب حدیث ماالدنیا الا کراکب استظل حدیث 2377)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے حجرے مَیں تھے جو گویا حَمَّام کے گھر کی مانند تھا۔یعنی اس میں گرمی بہت زیادہ تھی اور گھٹن تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سو رہے تھے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر نشان ڈال دیا تھا۔ یہ دیکھ کر مَیں رو پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! تمہیں کس چیز نے رُلایا؟ مَیں نے عرض کیا :یا رسول اللہؐ! کسریٰ اور قیصر ریشم، حریر اور دیباج پر چلتے ہیں۔ یعنی ریشم کی مختلف قسمیں ہیں جبکہ آپؐ اس چٹائی پر سو رہے ہیں جس نے آپؐ کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اے عبداللہ !مت رو کیونکہ ان کے لیے دنیا ہے اور ہمارے لیے آخرت ہے۔ میرا دنیا سے کیا تعلق۔ میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو ایک درخت کے نیچے اتر کر کچھ دیر ٹھہرا پھر وہاں سے چل پڑا اور اسے چھوڑ دیا۔

(المعجم الکبیر للطبرانی جلد 10 صفحہ 200-201روایت 10327 مکتبہ ابن تیمیہ) (المواھب اللدنیۃ جلد 2 صفحہ 471 المکتب الاسلامی بیروت2004ء)

اسی طرح کی ایک روایت حضرت عمرؓ کے حوالے سے بھی ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئے۔ حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں ہیں۔ کھجور کی ایک سیڑھی کے ذریعے سے چڑھ کر آپؐ اس میں جاتے تھے۔ گھر میں ایک کمرہ اوپر بنایا ہوا تھا اور اس پہ کھجور کی سیڑھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سیاہ فام غلام سیڑھی کے سر پر تھا۔ مَیں نے اس سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ عمر بن خطاب آیا ہے۔ آپؐ نے مجھے اندر آنے کی اجازت دی اور اس وقت آپؐ ایک بوریے پر تھے۔ آپؐ کے اور اس بوریے کے درمیان کوئی چیز نہیں تھی۔ یعنی اس بوریے پر کوئی چادر وغیرہ نہیں تھی۔ سخت سا جو ایک Mat تھاگھاس کا بنا ہوا یا آپ بوری کہہ لیں۔ اور آپؐ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور آپؐ کے پاؤں کے پاس کیکر کے پتوں کا ڈھیر لگا تھا اور آپؐ کے سر کے قریب کچے چمڑے لٹک رہے تھے اور مَیں نے آپؐ کے پہلو میں اس بوریے کا نشان بھی دیکھا اور یہ دیکھ کر مَیں رو پڑا۔ آپؐ نے پوچھا تمہیں کیا بات رُلا رہی ہے؟ مَیں نے کہا: یارسول اللہ!کسریٰ اور قیصر آسائش میں ہوں جس میں کہ وہ ہیں اور آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے فرمایا:

کیا تم اس بات سے خوش نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت۔

(ماخوذاز صحیح البخاری کتاب التفسیر/التحریم باب تبتغی مرضاة أزواجك… حدیث 4913 ، مترجم جلد12 صفحہ 267شائع کردہ نظارت اشاعت)

حضرت عمرؓ  کے واقعہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمرؓ آپؐ سے ملنے گئے۔ ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جب حضرت عمرؓ اندر آئے تو آپؐ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپؐ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپؐ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ ان کو دیکھ کر رو پڑے۔ آپؐ نے پوچھا اے عمر !تجھ کو کس چیز نے رُلایا؟ عمرؓ نے عرض کی کہ کسریٰ اور قیصر تو تنعم کے اسباب رکھیں اور آپؐ جو خدا کے رسول اور دو جہان کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اے عمر مجھے دنیا سے کیا غرض۔ مَیں تو اس مسافر کی طرح گذارہ کرتا ہوں جو اونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو، ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدّت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں سستا لے اور جونہی کہ ذرا پسینہ خشک ہو وہ پھر چل پڑے۔‘‘

(ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد6 صفحہ 228 – 229 ایڈیشن 2022ء)

آپؐ اپنی اولاد کو بھی سادگی کی تلقین فرماتے تھے ۔

کس طرح فرماتے تھے اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کرتے ہوئے بخاری کے حوالے سے یہ بیان ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے شکایت کی کہ چکّی پیسنے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ آٹا پیسنے کے لیے ،دانے پیسنے کے لیے چکّی ہاتھ سے چلانی پڑتی تھی تو تکلیف ہوتی ہے۔ اسی عرصے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے۔ حضرت فاطمہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں لیکن آپؐ کو گھر پر نہ پایا۔ اس لیے حضرت عائشہؓ کو اپنی آمد کی اطلاع دے کر گھر لوٹ آئیں۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے جناب صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت فاطمہؓ  کی آمد کی اطلاع دی ۔یعنی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس آئے اورحضرت عائشہؓ کے پاس آئے تو حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ حضرت فاطمہؓ  آئی تھیں جس پر حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، ہمارے گھر آگئے۔ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔کہتے ہیں کہ مَیں نے آپؐ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوںمگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی جگہ لیٹے رہو۔ پھر ہم دونوں کے درمیان آکر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپؐ کے قدموں کی خُنکی میرے سینے پر محسوس ہونے لگی۔ جب آپؐ بیٹھ گئے تو آپؐ نے فرمایا کہ مَیں تمہیں کوئی ایسی بات نہ بتاؤں جو اس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے؟ حضرت عائشہؓ کو یہ بتا آئی تھیں کہ مَیں اس وجہ سے آئی تھی اور بتا دینا کہ مَیں آئی تھی۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ مَیں تمہیں اس سے بہتر چیز بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو چونتیس دفعہ تکبیر کہو،تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہو اور تینتیس دفعہ الحمدللہ کہو۔ پس یہ تمہارے لیے خادم سے اچھا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ باوجود اس کے کہ حضرت فاطمہؓ  کو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پیسنے سے آپؓ کے ہاتھوں کو تکلیف ہوتی تھی مگر پھر بھی آپؐ نے ان کو خادم نہ دیا بلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا۔

آپؐ اگر چاہتے تو حضرت فاطمہؓ کو خادم دے سکتے تھے کیونکہ جو اموال تقسیم کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے وہ صحابہؓ میں تقسیم کرنے کے لیے آتے تھے اور حضرت علیؓ کا بھی ان میں حق تھا اور حضرت فاطمہؓ بھی اس کی حقدار تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احتیاط سے کام لیا اور نہ چاہا کہ ان اموال سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو دے دیں کیونکہ ممکن تھا کہ اس سے آئندہ لوگ کچھ کا کچھ نتیجہ نکالتے اور بادشاہ اپنے لیے اموال الناس کو جائز سمجھ لیتے۔ جو امّت میں بادشاہ پیدا ہونے ہیں وہ اس کو جائز سمجھ لیتے۔ گو کہ اب بھی وہ بادشاہ تو ان چیزوں کو جائز ہی سمجھ رہے ہیں بلکہ جو ناجائز ہے اس کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ پس احتیاط کے طور پر آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کو ان غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو آپؐ کے پاس اس وقت بغرض تقسیم آئیں کوئی نہ دی۔

اس جگہ بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان اموال میں آپؐ کا اور آپؐ کے رشتہ داروں کا خدا تعالیٰ نے حصہ مقرر فرمایا ہے۔ یہ کوئی منع بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حصہ مقرر فرمایا ہے۔ ان سے آپؐ خرچ فرما لیتے تھے اور اپنے متعلقین کو بھی دیتے تھے۔ ہاں جب تک کوئی چیز آپؐ کے حصے میں نہ آئے اسے قطعاً خرچ نہ فرماتے اور اپنے عزیز سے عزیز رشتہ داروں کو بھی آپؐ نہ دیتے تھے۔

کیا دنیا کسی بادشاہ کی مثال پیش کر سکتی ہے جو بیت المال کا ایسا محافظ ہو۔ اگر کوئی نظیر مل سکتی ہے تو صرف اسی پاک وجود کے خدّام میں سے، ورنہ دوسرے مذاہب اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتے۔

(ماخوذ از سیرۃ النبی ﷺ انوار العلوم جلد 1 صفحہ 544-545)

اپنی بیٹی کے جہیز میں آپؐ کی سادگی کا کیا حال تھا

اس بارے میں حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی حضرت فاطمہؓ سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ یہ سامان بھیجا تھا: ایک ریشمی چادر تھی، چمڑے کا گدیلا تھا جس میں کھجور کے ریشے تھے، دو آٹا پیسنے کی چکیاں تھیں، مشکیزہ تھا اور دو گھڑے تھے۔

(مسند الامام احمد بن حنبل جلد 1صفحہ 314 حدیث:838 عالم الکتب 1998ء )

پس یہ ہے آپؐ کی سادگی کا معیار۔ اگر دینا چاہتے تو بہت کچھ دے سکتے تھے۔ لوگ تو قرض لے کر بھی جہیز بناتے ہیں۔ آپؐ کے صحابہؓ  تو آپؐ پر بہت کچھ نچھاور کر سکتے تھے۔ بغیر قرض کے ہی بہت کچھ تیار ہو سکتا تھا۔ کئی صاحبِ حیثیت تھے جو چیزیں مہیا کر سکتے تھے لیکن سادگی سے ہی آپؐ نے رخصت کیا۔

ایک روایت میں آتا ہے جو کہ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم حضرت فاطمہؓ کو تیار کریں۔ جس دن حضرت فاطمہؓ کی شادی تھی ان کو تیار کریں تاکہ ان کو علیؓ کے پاس لے جائیں۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنے کمرے کی تیاری کی۔ جس کا نقشہ یوں کھینچا کہ ہم نے کمرے میں مٹی سے لپائی کی۔ پھر دو تکیے تیار کیے جن میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلائے اور انہیں میٹھا پانی پلایا اور ہم نے ایک لکڑی لی جس کو ہم نے کمرے کے ایک طرف لگا دیا تاکہ اس کو کوئی کپڑا لٹکانے اور مشکیزہ لٹکانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ پس ہم نے حضرت فاطمہؓ کی شادی سے زیادہ اچھی شادی اَور کوئی نہیں دیکھی۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح ،باب الولیمۃ حدیث 1911)

بڑی سادگی والی شادی تھی۔ یہ نقشہ تو انہوں نے صرف شادی کا کھینچا ہے۔ اس وقت کے لحاظ سے جو سادگی تھی آپ نے اس کے اعلیٰ معیار قائم کیے اور اپنی بیٹی کو یہ بھی بتایا کہ اصل چیز یہ سادگی ہے اور خدا کی رضا ہے اس کو حاصل کرنے کی ایک مومن کو کوشش کرنی چاہیے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بادشاہ کی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں ایک بادشاہ تھے۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہو سکتا تھا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس بادشاہت سے حضورؐ نے دنیاوی فوائد کیا حاصل کیے؟

مثلاً بیوی بچوں کی آسائش، دوستوں کی آسائش اور رشتہ داروں کی آسائش اس بادشاہت سے حضورؐ نے کہاں تک حاصل کی؟

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بادشاہت سے دنیاوی فائدہ کوئی بھی حاصل نہیں کیا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام تر زندگی میں لوگوں کے لیے قربانی ہی پیش کی۔ حضور نے ممالک مفتوحہ اور جائیدادوں کو اپنا ہرگز قرار نہیں دیا۔

حضور ؐکی وفات کے بعد سنّی شیعہ کا جو اختلاف پیدا ہوا اس عظیم الشان اختلاف کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جائیدادوں اور ممالک مفتوحہ کو اپنی ذاتی چیز اور ملکیت قرار نہیں دیا اور یہ جائز نہیں ٹھہرایا کہ یہ اشیاء حضورؐ کے خاندان کی طرف بطور ورثہ کے منتقل ہو سکیں ۔لیکن یہاں جو جھگڑے ہوئے وہ ورثہ کے چکر میں ہی ہو گئے۔ پس حکومت سے حضورؐ نے اپنی ذات کے لیے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کے بارے میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضورؐ نے ان کے لیے کوئی چیز بھی دنیا میں نہیں چھوڑی حتّٰی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضور ؐکی بہت سی چیزیں ضمانت یا اشیاء گروی رکھی ہوئی تھیں جن سے گھر کی خرچے کے لیے چیزیں لی جاتی تھیں۔ یہ ثابت ہوتا ہے تاریخ سے۔ انسان کو اپنی زندگی میں بعض اوقات ایسی ضروریات پیش آجاتی ہیں کہ اسے اپنی مملوکہ اشیاء گِرَوْرکھنا پڑتی ہیں۔ اسی طرح حضورؐ پر پھر تنگی اور فراخی کے زمانے آتے تھے۔ خود حضرت فاطمہؓ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک جنگ میں جب بہت سا مال آیا تو حضرت فاطمہؓ نے حضورؐ سے درخواست کی کہ اس مال میں سے ایک لونڈی مجھے عنایت فرمائی جائے جو میرا کام کاج کرے۔ حضورؐ نے حضرت فاطمہؓ سےفرمایا کہ یہ مال میرا تو نہیں ہے۔ یہ تو خدا تعالیٰ کا ہے۔ مَیں تم کو اس مال میں سے کچھ نہیں دے سکتا۔ تم خدا تعالیٰ کا ذکر کیا کرو اور لونڈی کا خیال ترک کر دو۔

(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 491-492)

گھریلو زندگی میں آپؐ کے سادہ رہن سہن اور گھر والوں سے گھریلو کاموں میں مدد

کے بارے میں ایک روایت میں ہے۔ اسود روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے کام کاج میں رہتے ۔یعنی ان کے کاموں میں مدد دیا کرتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو آپؐ نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔

(صحیح البخاری، كتاب الأذان باب مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَهْلِهِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَخَرَجَ حدیث نمبر 676 جلد 2 صفحہ 73، شائع کردہ نظارت اشاعت)

یہاں بہت سی عورتیں اب بھی مجھے اپنے خاوندوں کے بارے میں لکھتی ہیں کہ گھروں میں ان کا بڑا ظالمانہ اور حاکمانہ رویّہ ہوتا ہے۔ حاکم بن کے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کو یہ اُسوہ دیکھنا چاہیے اور ایسے خاوندوں کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔

کس سادگی سے ایک عام انسان کی طرح آپؐ اپنی زندگی گزارتے تھے، اس بارے میں ایک روایت ہے۔ حضرت حَسَنَہ بن خالدؓ اور حضرت سَوَاء بن خالدؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دیوار یا اپنے مکان کی مرمّت میں مصروف تھے۔ دونوں صحابہؓ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کام میں ہاتھ بٹایا۔

(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 7 صفحہ 36 دار الکتب العلمیۃ )

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی اور روزمرّہ کے معمولات کے بارے میں حضرت عائشؓہ کی ایک روایت ہے۔ آپؓ بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ فرمایا :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ اپنے کپڑے خود صاف کر لیتے، اپنی بکری کا دودھ دوہتے اور اپنا کام خود کرتے تھے۔

(مسند الامام احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 507 مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا حدیث:26724، عالم الکتب بیروت )

اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے۔حضرت عائشہؓ نے دیکھا کہ کفار کا یہ عقیدہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان یہ نہیں ہے کہ آپؐ بھی وہ کام کریں جو عام لوگ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے، دوسروں نے آپؐ کو بادشاہوں کی مانند سمجھ لیا تھا کیونکہ بادشاہ تکبّر کی وجہ سے عام اور معمولی کاموں میں اپنے آپ کو بلند رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا قول بیان فرمایا ہے کہ مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَأْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ۔(الفرقان:8)کہ اس رسولؐ کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ عام آدمیوں کی طرح کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک بشر اور اولادِ آدم میں سے ایک فرد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کا شرف عطا فرمایا اور رسالت کے منصب سے سرفراز فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ صدق واخلاص سے پیش آتے تھے۔ چنانچہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی کام کرتے تھے جو دوسرے لوگ کرتے تھے اور تواضع اختیار کرتے تھے۔ کاموں میں ان کی مدد بھی فرماتے تھے تاکہ لوگوں کو عاجزی اختیار کرنے اور تکبّر اور بڑائی سے بچنے کی عملی تعلیم دیں۔

(شرح الطيبي على مشكاة جلد 12 صفحہ 3708 مكتبة نزار مصطفى الباز1997 ء)

بالکل سادہ زندگی تھی۔

حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا۔ اللہ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں۔ آپؐ کے صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ!کیا آپؐ نے بھی چَرائی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! میں بھی چند قیراط کے بدلے مکہ والوں کی بکریاں چَرایا کرتا تھا۔

(صحیح البخاری کتاب الاجارۃ باب رعی الغنم علی قراریط روایت 2262 مترجم جلد 4 صفحہ 230 شائع کردہ نظارت اشاعت)

بعض علماء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیراط وغیرہ کی اجرت میں بکریاں نہیں چَرائی تھیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ قَرَارِیط کسی جگہ کا نام ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قراریط نام کی جگہ پر بکریاں چَرائی تھیں کیونکہ یہاں حدیث میں قراریط کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ بہرحال بہت سارے علماء کے نزدیک اور شارحین کے نزدیک یہ رائے درست نہیں ہے کہ اجرت پر اس طرح کا کام کرنا نبی کی شان کے خلاف ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اجرت پر کام کرنے کا بڑی وضاحت سے ذکر ملتا ہے۔ سورت قصص میں آیت اٹھائیس اور انتیس ہے اس میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے کہ آپؑ نے ان دو لڑکیوں کے باپ کے کہنے پر ان کے ہاں اجرت پر کام کیا اور ایک لڑکی سے شادی ہوئی۔ لہٰذا ان علماء کا خواہ مخواہ کا تکلّف ہے جو اس امر کی نفی کرنا چاہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجرت پر بکریاں نہیں چَرائی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سیرت نگاروں نے اور حدیث کے شارحین نے بھی وضاحت کی ہے کہ قراریط سے مراد قیراط ہیں نہ کہ کوئی جگہ یا مقام۔ بخاری کے ہمارے شارح سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ وہ بھی بیان کرتے ہیں ’’قراریط قیراط کی جمع ہے اور ایک قیراط چار رتّی چاندی کے وزن کے برابر ہوتا تھا۔‘‘

(صحیح البخاری (مترجم) جلد 4 صفحہ 231 شائع کردہ نظارت اشاعت)

علامہ برہان الدین حَلَبِی کہتے ہیں کہ قراریط درہم و دینارکے چھوٹے حصے کو کہتے ہیں جن سے معمولی چیزیں خریدی جاتی ہیں۔ امام بخاری نے کتاب الاِجَارَہ میں روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَیں مکہ والوں کی بکریاں قراریط پر چَرایا کرتا تھا جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں قراریط سے مراد اجرت ہے نہ کوئی جگہ۔ بعض روایات میں بالقراریط کے بجائے بِاَجْیَادیعنی مقام اجیادکا لفظ آیا ہے۔لہٰذا قراریط سے اجرت مراد ہے اور اجیادسے مقام کا ذکر ہے۔

(السیرۃ الحلبیۃ جلد 1 صفحہ 183 – 184 دارالکتب العلمیہ 2002ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو چالیس برس ہے بےکسی اور پریشانی اور یتیمی میں بسر کیا تھا کسی خویش یا قریب نے اس زمانہ تنہائی میں کوئی حق خویشی اور قرابت کا ادا نہیں کیا تھا یہاں تک کہ وہ روحانی بادشاہ اپنی صغر سنی کی حالت میں لاوارث بچوں کی طرح بعض بیابان نشین اور خانہ بدوش عورتوں کے حوالہ کیا گیا اور اسی بیکسی اور غریبی کی حالت میں اس سید الانام نے شیر خوارگی کے دن پورے کئے اور جب کچھ سنِ تمیز پہنچا تو یتیم اور بیکس بچوں کی طرح جن کا دنیا میں کوئی بھی نہیں ہوتا ان بیابان نشین لوگوں نے بکریاں چَرانے کی خدمت اس مخدوم العالمین کے سپرد کی اور اس تنگی کے دنوں میں بجز ادنیٰ قسم کے اناجوں یا بکریوں کے دودھ کے اور کوئی غذا نہ تھی۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ اول ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 112، 113، حاشیہ)

ایک اَور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’خدا نے اصل میں بڑا احسان کیا ہے کہ انبیاء کے ساتھ غریبی کا حصہ بھی رکھ دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بکریاں چَرایا کرتے تھے۔ موسیٰؑ نے بکریاں چَرائیں۔ کیا امراء یہ کام کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک جنگل میں ہوا۔ وہاں کچھ پھلدار درخت تھے۔ چند ایک صحابی جو کہ ہمراہ تھے وہ ان کا پھل توڑ کر کھانے لگے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ فلاں درخت کا پھل کھاؤ بہت شیریں ہے‘‘ وہ زیادہ اچھا پھل ہے۔ ’’صحابہؓ نے پوچھا کہ یا حضرت آپ کو کیسے علم ہے؟ فرمایا کہ جب مَیں بکریاں چَرایا کرتا تھا تو اس جنگل میں بھی آیا کرتا تھا اور ان پھلوں کو کھایا کرتا تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ تجویز نہیں کیا کہ انبیاء شاہی خاندان سے ہوں ورنہ تکبر اور نخوت کا کچھ نہ کچھ حصہ ان میں ضرور رہ جاتا۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 272، ایڈیشن 2022ء)

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں :’’ آپؐ کے اردگرد بادشاہوں کی زندگی کا جو نمونہ تھا وہ ایسا نہ تھا کہ اس سے آپ وہ تاثر حاصل کرتے جن کا اظہار آپ کے اعمال کرتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا درجہ دے دیا تھا کہ اب آپؐ تمام مخلوقات کے مرجع افکار ہو گئے تھے اور ایک طرف روم آپؐ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اور دوسری طرف ایران آپؐ کے ترقی کرنے والے اقبال کو شک و شبہ کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور دونوں متفکر تھے کہ اس سیلاب کو روکنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔ اس لئے دونوں حکومتوں کے آدمی آپؐ کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ شروع تھا۔ ایسی صورت میں بظاہر ان لوگوں پر رعب قائم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپؐ بھی اپنے ساتھ ایک جماعت غلاموں کی رکھتے اور اپنی حالت ایسی بناتے جس سے وہ لوگ متاثر اور مرعوب ہوتے مگر آپؐ نے کبھی ایسا نہ کیا۔ غلاموں کی جماعت تو الگ رہی گھر کے کام کاج کے لئے بھی کوئی نوکر نہ رکھا اور خود ہی سب کام کر لیتے تھے۔ حضرت عائشہؓ  کی نسبت لکھا ہے کہ …حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے؟ آپؓ نے جواب دیا کہ آپؐ اپنے اہل کی مِہْنَتْ کرتے تھے‘‘ یہ عربی کا لفظ ہے۔ ’’ یعنی خدمت کرتے تھے۔ پس جب نماز کا وقت آ جاتا آپؐ نماز کے لئے باہر چلے جاتے تھے۔ اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ

آپؐ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپؐ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہوتا بلکہ آپؐ اپنے خالی اوقات میں خود ہی اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کروا دیتے۔ اللہ اللہ! کیسی سادہ زندگی ہے ۔کیا بے نظیر نمونہ ہے ۔کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش کیا جا سکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کے لئے ایک نوکر بھی نہ ہو۔ اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپؐ کے خدام میں سے ہوگا۔ کسی دوسرے بادشاہ نے جو آپؐ کی غلامی کا فخر نہ رکھتا ہو یہ نمونہ کبھی نہیں دکھایا۔

ایسے بھی مل جائیں گے جنہوں نے دنیا سے ڈر کر اسے چھوڑ ہی دیا۔ ایسے بھی ہوں گے جو دنیا میں پڑے اور اسی کے ہو گئے مگر یہ نمونہ کہ دنیا کی اصلاح کے لئے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر بھی اٹھائے رکھا اور ملکوں کے انتظام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھی مگر پھر بھی اس سے الگ رہے اور اس سے محبت نہ کی اور بادشاہ ہو کر فقر اختیار کیا۔ یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خدام کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی۔ جن لوگوں کے پاس کچھ تھا ہی نہیں وہ اپنے رہنے کے لئے مکان بھی نہ پاتے تھے اور دشمن جنہیں کہیں چین سے نہیں رہنے دیتے تھے کبھی کہیں اور کبھی کہیں جانا پڑتا تھا ان کے ہاں کی سادگی کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں۔ جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے شان و شوکت سے کیا رہنا ہے۔ مگر ملک عرب کا بادشاہ ہوکر لاکھوں روپیہ اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحابِ بصیرت کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘‘

(سیرۃ النبی ﷺ، انوار العلوم جلد 1 صفحہ 563-564)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کمال یہاں تک ہے کہ اگر کوئی بڑھیا بھی آپؐ کا ہاتھ پکڑتی تھی تو آپؐ کھڑے ہو جاتے اور اس کی باتوں کو نہایت توجہ سے سنتے اور جب تک کہ وہ خود آپؐ کو نہ چھوڑتی آپؐ نہ چھوڑتے تھے۔‘‘

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 189، ایڈیشن 2022ء)

بڑی سادگی سے، عاجزی سے اس کی باتیں سنتے۔

عرب کے ایک مشہور شخص حاتم طائی کے بیٹے عدیؓ بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا یہاں تک کہ مدینہ پہنچا اور مسجد میں داخل ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کون ہو؟ مَیں نے عرض کیا:مَیں عدی بن حاتم ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور مجھے اپنے گھر کی طرف لے جانے لگے کہ راستے میں ایک ضعیف عورت آ گئی اور اس نے بڑی دیر تک آپؐ سے کچھ اپنی حاجت عرض کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خاطر کھڑے رہے۔ یہ حاتم کے بیٹے کہتے ہیں: مَیں نے اپنے دل میں کہا یہ شخص بادشاہ نہیں ہو سکتا ۔بادشاہوں میں ایسے اخلاق نہیں ہوتے کہ ایک غریب عورت کے ساتھ عاجزی سے کھڑے رہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر اپنے مکان میں داخل ہوئے اور ایک چمڑے کا تکیہ جو کھجور کے ریشوں سے بھرا ہوا تھا، اٹھا کر میری طرف ڈال دیا اور فرمایا: اس پر بیٹھو۔ مَیں نے عرض کیا کہ آپؐ تشریف رکھیں۔ آپؐ نے فرمایا :نہیں تم بیٹھو۔ آخر میں اس پر بیٹھ گیا اور آپؐ زمین پر بیٹھے۔ آپؐ کی سادگی اور عجز و انکسار دیکھ کر مَیں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ بات ہرگز بادشاہوں کی سی نہیں۔ عدیؓ کہتے ہیں کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش اخلاقی اور سادگی کو دیکھ کر مَیں مسلمان ہو گیا۔

(ماخوذ ازالسیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ 854 دارالکتب العلمیہ2001ء) (ماخوذاز دائرہ معارف سیرت محمدؐ رسول اللہ جلد 9 صفحہ 440-441)

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

اس وقت مَیں

پاکستان کے احمدیوں کے لیے بھی دعا کی دوبارہ یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے نام پر ظالم لوگ، اصل میں تو یہ دہشت گرد ہی ہیں یا وہ لوگ جن کے اپنے ذاتی مفادات ہیں، احمدیوں پر ظلم کی انتہا کر رہے ہیں، حکومتی اہلکار بھی بعض دفعہ ان کی پشت پناہی میں لگے ہوئے ہیں۔ ملّاں کے خوف کی وجہ سے اسیران کی ضمانتیں نہیں ہوتیں یا ان کے حق میں فیصلہ کرنے سے جج ڈرتے ہیں۔ بعض جرأت والے بھی افسران ہیں اور منصف بھی ایسے ہیں جو کبھی کبھی جرأت دکھا بھی جاتے ہیں لیکن عموماً اسلام کے نام پر فسادیوں نے ملک میں ایک خوف کی فضا پیدا کی ہوئی ہے اور سب سرکاری مشینری ان سے ڈرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان شریروں اور فسادیوں کی پکڑ کے جلد سامان فرمائے۔

پاکستانی احمدیوں کو بھی چاہیے کہ ان دنوں میں درود، استغفار اور دعائیں جو مَیں نے بتائی تھیں ان پر خاص طور پر زور دیں۔ نفلوں پہ زور دیں اور ان ظالموں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لیے بہت زیادہ دعائیں کریں۔

اللہ تعالیٰ ان کو توفیق بھی دے۔

اسی طرح

ملائیشیا میں بھی جماعت کے خلاف کافی حالات خراب ہیں۔

وہاں بھی حکومت کے بعض ادارے احمدیوں پر سختیاں کر رہے ہیں۔ ہماری مسجدوں میں چھاپے مارے جاتے ہیں۔ بلا وجہ پکڑ دھکڑ بھی ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ملائیشین احمدیوں کو بھی اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 09؍اکتوبر 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button