متفرق شعراء

مسجدِ فضل کے سو سال

مسجدِ فضل کے سو سال ہوئے ہیں پورے
رحمت حق کے یہ افضال، ہوئے ہیں پورے

اس عمارت سے جو لندن کی ہے پہلی مسجد
دیں سے وابستہ خدوخال ہوئے ہیں پورے

روز تکبیر کی آواز اٹھے پانچوں وقت
یاں اذاں ہوتے بھی سو سال ہوئے ہیں پورے

اک صدی پہلے کھلا در جو خدا کے گھر کا
اُس کے فرمان بہ ہر حال ہوئے ہیں پورے

نور ہی نور سے روشن ہیں فِضائیں ہر دم
یاں ملائک کے جو انزال ہوئے ہیں پورے

نسل در نسل جھُکے آکے نمازی اس میں
نیکو کاروں کے بھی اعمال ہوئے ہیں پورے

تا قیامت رہے آباد یہ مسجد مولا
اس کے سو سال تو امسال ہوئے ہیں پورے

(اسحاق عاجز۔ لندن)

مزید پڑھیں: ’’اے مسلمانو! اُٹھو غفلت کو اپنی چھوڑ دو‘‘

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button