مذاہب عالم: خبریں اور تجزیہ(ماہ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)
اسلام
قتل اولاد: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَہُمۡ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ(الانعام آیت ۱۴۱)ترجمہ: ’’یقیناً بہت نقصان اٹھایا ان لوگوں نے جنہوں نے بیوقوفی سے بغیر کسی علم کے اپنی اولاد کو قتل کر دیا‘‘
حضرت امام بخاریؒ نے اہل عرب میں زمانہ جاہلیت میں قتل اولاد کے ضمن میں ایک روایت میں مندرجہ بالا آیت کا ذکر اپنی ’’الجامع الصحیح‘‘ میں بھی کیا ہے۔
معزز قارئین! قتل اولاد ایک وسیع مضمون ہے جس میں اپنے بچوں کی کماحقہ تعلیم و تربیت سے پہلو تہی کرنا اور ان کی روحانی بالیدگی کا انتظام و انصرام نہ کرنا بھی ہے۔
لیکن قتل اولاد کا ایک تکلیف دہ پہلو حال ہی میں سامنے آیا جب کینیا میں ایک مذہبی فرقے کے راہنما کو ۱۹۱؍افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا اور بتایا گیا کہ مرنے والوں میں ایک فرد کے سوا باقی تقریباً تمام بچے تھے۔
اس شخص نے اپنے فرقے کے ارکان کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر مار دیں تاکہ وہ ’حضرت عیسیٰؑ سے جاملیں۔‘ ان کے عقیدے اور نظریے میں تعلیم کی اجازت نہیں تھی اور جدید علاج کو بھی غلط سمجھا جاتا تھا۔
ممباسا میں طویل فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا کہ اس فرقہ کے پیروکار انہیں حضرت عیسیٰؑ کا ترجمان سمجھتے تھے۔ جج کے مطابق جس جنگل میں یہ فرقہ رہائش پذیر تھا وہاں تدفین کو شادی کہا جاتا تھا اور مرنے والوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ شادی کر لی ہے۔وغیرہ وغیرہ
قارئین کرام! اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے اندر محبت، شفقت اور خاص طور پر اپنی نسل کی بقا کا ایک فطری جذبہ رکھا ہے۔ تاہم، انسانی تاریخ اور موجودہ دور کا ایک تاریک ترین پہلو ’’قتلِ اولاد‘‘ ہے جو اپنے ظاہری اور باطنی، ہر پہلو کے لحاظ سے قابل مذمت ہے۔
اسکندریہ کی لائبریری کس نے جلائی؟:امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اصحابِ بدر پر خطبات جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے مذکورہ بالا سوال پر بھی روشنی ڈالی ہوئی ہے اور بتایا ہے کہ مصر کے شہر اسکندریہ کی عظیم لائبریری جلائے جانے کا واقعہ بعض مستشرقین اور عیسائی مصنفین کی تحریروں میں مسلمانوں کے خلاف بطور اعتراض پیش کیا جاتا ہے۔
ایک کمزور روایت کے مطابق حضرت عمرؓ نے مصر کی فتح کے بعد اسکندریہ کے عظیم کتب خانے کو جلانے کا حکم دیا تھا اور اس کی کتابیں چھ ماہ تک حماموں میں جلائی جاتی رہیں۔ اس واقعے کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام اور مسلمان علم و عقل کے مخالف تھے۔
تاہم، تاریخی تحقیق سے اس روایت کی صحت پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔اسلام کی بنیادی تعلیمات اس الزام کے برعکس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی اہمیت بیان فرمائی، جبکہ قرآن کریم نے بارہا تدبر، تفکر اور حصولِ علم کی طرف توجہ دلائی۔ چنانچہ مسلمانوں پر علم دشمنی کا الزام عائد کرنے کے لیے محض ایک مشہور روایت کافی نہیں، بلکہ اس کے تاریخی شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔مصر کے مؤرخ محمد رضا نے اپنی کتاب سیرت عمر فاروقؓ میں اس روایت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ قصہ ابوالفرج ملطی کی کتاب مختصر الدول میں ملتا ہے، جو تیرھویں صدی عیسوی کے مؤرخ تھے۔ اس روایت کے مطابق یوحنا نحوی نامی ایک قبطی پادری نے حضرت عمرو بن عاصؓ سے شاہی کتب خانے کی کتابیں طلب کیں۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے حضرت عمرؓ سے اجازت چاہی تو منسوب روایت کے مطابق جواب ملا کہ اگر ان کتابوں کا مضمون قرآن کے موافق ہے تو قرآن کافی ہے، اور اگر مخالف ہے تو ان کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ کتابیں حماموں میں جلا دی گئیں۔ لیکن اس قصے کی تائید ابتدائی اور اہم تاریخی مصادر، مثلاً طبری، ابن اثیر، یعقوبی، کندی، ابن عبدالحکم، بلاذری اور ابن خلدون کی تحریروں سے نہیں ہوتی۔ یہ روایت کسی معتبر ابتدائی سند کے بغیر کئی صدیوں بعد سامنے آتی ہے۔اس روایت پر ایک بنیادی تاریخی اعتراض یوحنا نحوی کی وفات سے متعلق ہے۔ پروفیسر بٹلر کی تحقیق اور انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے بیان کے مطابق یوحنا نحوی پانچویں صدی کے اواخر اور چھٹی صدی کے اوائل میں زندہ تھا، جبکہ مصر کی فتح ساتویں صدی میں ہوئی۔ اس طرح روایت میں مذکور ملاقات تاریخی زمانی ترتیب سے مطابقت نہیں رکھتی۔مزید برآں، اسکندریہ کی لائبریری کے زوال کے دوسرے تاریخی اسباب بھی بیان کیے جاتے ہیں۔
جولیس سیزر کی ۴۷ قبل مسیح کی جنگ کے دوران لگنے والی آگ سے کتابوں کو نقصان پہنچنے کا ذکر قدیم تاریخی تحریروں میں موجود ہے۔ بعض محققین کے مطابق لائبریری کے مختلف حصے بعد کے ادوار میں بھی تباہ ہوئے یا بتدریج ختم ہوگئے۔ اس لیے ساتویں صدی میں مسلمانوں کے ہاتھوں اس کی مکمل تباہی کا دعویٰ تاریخی طور پر ثابت شدہ نہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے اپنی کتاب تصدیق براہین احمدیہ میں بھی اس اعتراض کا جواب دیا۔ آپؓ نے استدلال کیا کہ اگر کتابیں جلانا اسلامی تعلیمات یا خلفائے اسلام کا معمول ہوتا تو یہود و نصاریٰ کی مذہبی کتابیں اور دیگر مفتوحہ اقوام کا علمی ورثہ بھی محفوظ نہ رہتا۔ اسی طرح یونانی فلسفے، طب اور دیگر علوم کے عربی تراجم کا وسیع سلسلہ قائم نہ ہوسکتا۔ مسلمانوں نے ہندوستان میں طویل عرصے تک حکومت کی، لیکن ہندوؤں کی مذہبی کتابیں، مثلاً رامائن، مہابھارت اور گیتا، نہ صرف محفوظ رہیں بلکہ ان میں سے بعض کے تراجم بھی ہوئے۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے بھی اس الزام کو تعصب اور تاریخی ناواقفیت کا نتیجہ قرار دیا۔
اس سلسلے میں بعض یورپی محققین کی تحقیقات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جنہوں نے اسکندریہ کی لائبریری جلانے کی روایت کی صحت پر اعتراض کیا۔ اس کے برعکس غرناطہ میں مسلمانوں کی حکومت کے خاتمے کے بعد عربی کتابوں کو جلائے جانے کے واقعات بھی تاریخی بحث کا حصہ ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ علمی ورثے کی تباہی کو کسی ایک مذہب کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہیں۔
خلاصہ یہ کہ حضرت عمرؓ کی طرف اسکندریہ کی لائبریری جلانے کا حکم منسوب کرنے والی روایت معتبر ابتدائی تاریخی شواہد سے ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے اسے ایک مسلمہ تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ تاریخی واقعات کا منصفانہ مطالعہ تقاضا کرتا ہے کہ مذہبی یا سیاسی تعصب کی بجائے مستند شواہد، زمانی ترتیب اور اصل تاریخی مصادر کی روشنی میں نتائج اخذ کیے جائیں۔ (تفصیل کے لیے پڑھیں خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اکتوبر ۲۰۲۱ء)
اب حال ہی میں معروف اور قدیمی رسالہ ’’نیشنل جیوگرافک‘‘ نے اس حوالے سے ایک مضمون شائع کیا، جس میں بتایا کہ اسکندریہ کی عظیم لائبریری کی تباہی کی اصل وجہ کیا تھی؟ اگست ۲۰۲۶ء کو آن لائن شائع ہونے والے اس مضمون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسکندریہ کی عظیم لائبریری شاید کسی ایک فاتح، مذہبی گروہ یا آتش زنی کے ایک واقعے کے نتیجے میں تباہ نہیں ہوئی، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ غفلت، مالی مشکلات، جنگی حالات اور کتابوں کے قدرتی طور پر ضائع ہونے نے اسے ختم کردیا۔
مصر میں بطلیموسی خاندان کے حکمران بطلیموس اوّل (Ptolemy I) نے تیسری صدی قبل مسیح کے آغاز میں اسکندریہ کو علم و دانش کا عالمی مرکز بنانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے مختلف علاقوں سے کتابیں جمع کی گئیں، اہلِ علم کی سرپرستی کی گئی اور علمی ذخیرے کو وسعت دی گئی۔تاہم، یہ بات قطعی طور پر ثابت نہیں کہ لائبریری کا بنیادی منصوبہ بطلیموس اوّل نے شروع کیا تھا یا اس کے بیٹے بطلیموس دوم نے اسے مکمل کیا۔ اس کے ذخیرۂ کتب کے بارے میں اندازے تقریباً ۴۰ ہزار سے ۹ لاکھ طوماروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لائبریری کی تباہی کے لیے متعدد لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ مثلا جولیس سیزر۔ او رکہا گیا کہ مصر کی خانہ جنگی کے دوران رومی فوج نے اپنے دشمن کے بحری بیڑے کو روکنے کے لیے آگ لگائی۔ قدیم مصنفین نے اس آگ سے کتابوں کے ضائع ہونے کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، آگ لگنے کی جگہ اور لائبریری کے اصل مقام کے درمیان فاصلے کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ اصل لائبریری کو کتنا نقصان پہنچا۔ بعد کے زمانے میں بھی وہاں کتب خانہ موجود تھا۔
یا پھر وہ عیسائی ہجوم جو چوتھی صدی عیسوی میں اسکندریہ میں چڑھ دوڑا تھا۔ ایک مشہور نظریہ عیسائی راہبوں یا ہجوم کو لائبریری کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ یا پھر یہ مسلمان فاتحین تھے کیونکہ ایک مشہور روایت کے مطابق خلیفہ عمرؓ کے حکم سے کتابیں جلائی گئیں اور انہیں حمام گرم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ مضمون کے مطابق یہ قصہ بہت بعد کی قرونِ وسطیٰ کی تحریروں میں سامنے آتا ہے، اس لیے مؤرخین اسے مستند تاریخی واقعہ تسلیم نہیں کرتے۔ان تینوں نظریات کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ لائبریری کی مکمل تباہی کسی ایک مخصوص واقعے سے منسوب کرنے کے لیے تاریخی شواہد ناکافی ہیں۔
مضمون نگار نے قدیم مخطوطات کے ماہرین کی تحقیق کی روشنی میں چند اہم عوامل بیان کیے گئے ہیں مثلا کتابوں کا قدرتی طور پر خراب ہونا: کتابیں پاپائرس کے طوماروں پر لکھی جاتی تھیں۔ نمی، پھپھوندی، کیڑے اور چوہے انہیں نقصان پہنچاتے تھے۔کتب کی نقل نہ بنانا۔کیونکہ قدیم کتابوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی نئی نقول تیار کرنا ضروری تھا۔ اگر نقل نویسی کا سلسلہ رک جائے تو اصل نسخے کے ضائع ہونے سے پوری تصنیف بھی ختم ہوسکتی ہے۔مالی اور انتظامی زوال: تیسری صدی عیسوی میں رومی سلطنت کو فوجی بحرانوں اور مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ اس سے علمی اداروں کی سرپرستی، عملے اور وسائل میں کمی آسکتی تھی۔مسلسل غفلت: ممکن ہے کہ لائبریری ایک ہی دن میں تباہ نہ ہوئی ہو بلکہ کئی دہائیوں یا صدیوں میں اس کا ذخیرہ اور ادارہ بتدریج ختم ہوگیا ہو۔الغرض مضمون کی مصنفہ کینڈیڈا موس (Candida Moss) یہی امکان پیش کرتی ہیں کہ اس عظیم علمی ادارے کا سب سے بڑا دشمن شاید کوئی فاتح نہیں، بلکہ عدم توجہی اور مسلسل زوال تھا۔
عیسائیت
پوپ کی صحت: رومن کیتھولک کلیسا کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم کو پھیپھڑے میں سرطان کی تشخیص کے بعد ۱۳؍اکتوبر کو روم کے ایک ہسپتال میں آپریشن کروانا پڑا۔ ڈاکٹروں نے ان کے دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نکال دیا۔ ویٹیکن کے مطابق آپریشن میں کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی اور صحت یابی تسلی بخش رہی۔ ۱۷؍اکتوبر کو انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ ۱۸؍اکتوبر کو انہوں نے پیروکاروں کا دعاؤں اور طبی عملے کا خدمت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ پوپ کا ماہ نومبر میں جنوبی امریکہ کا مجوزہ دورہ بھی ان کی صحت یابی سے منسلک ہے۔
رومن کیتھولک چرچ کے عقائد اور قوانین میں ہے کہ پوپ ایک انسان ہے، اس لیے وہ بیمار بھی ہو سکتا ہے، بڑھاپے اور کمزوری کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ پوپ کے متعلق ایک اہم کیتھولک عقیدہ Papal Infallibility یعنی پوپ کے مخصوص حالات میں عقیدے اور اخلاقیات کے بارے میں خطا سے محفوظ ہونے کا ہے۔ لیکن اس عقیدے کا مطلب یہ نہیں کہ پوپ جسمانی بیماری سے محفوظ ہے۔
ہلووین کی رسم: ہلووین (Halloween) ہر سال۳۱؍اکتوبر کو مغربی دنیا مثلاً امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آئرلینڈ میں منایا جانے والا ایک تہوار ہے۔ اس کی تاریخی جڑیں قدیم سیلٹک (Celtic) قوم کے ایک مخصوص تہوارسے ملتی ہیں، جس کے ذریعے موسمِ گرما کے اختتام اور سردیوں کے آغاز کو منایا جاتا تھا۔ مقامی عقائد کے مطابق اس رات زندوں اور مردوں کی دنیا کے درمیان فاصلہ کم ہوجاتا تھا اور ارواح زمین پر آسکتی تھیں۔
بعد ازاں عیسائی روایت میں یکم نومبر کو تمام مقدسین کا دن (All Saints‘ Day) قرار دیا گیا، جبکہ اس سے ایک رات پہلے کو All Hallows‘ Eve کہا جانے لگا، جس سے لفظ ہلووین وجود میں آیا۔
قارئین کرام! آج ہلووین زیادہ تر ایک ثقافتی اور تفریحی تہوار کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس موقع پر لوگ بھوتوں، چڑیلوں اور خوف ناک کرداروں کے لباس پہنتے، گھروں کو ڈراؤنی سجاوٹ سے آراستہ کرتے اور کدو تراش کر ان میں روشنیاں رکھتے ہیں۔ بچوں میں گھر گھر جاکر ’’ٹرِک اور ٹریٹ‘‘ (Trick-or-Treat) کا رواج خاصا مقبول ہے، جس میں وہ مٹھائیاں طلب کرتے ہیں۔ بعض تقریبات میں خوف ناک کہانیاں، کھیل اور خصوصی پارٹیاں بھی منعقد ہوتی ہیں۔ اگرچہ اس تہوار کی ابتداء قدیم مذہبی اور وہمی تصورات سے وابستہ تھی، لیکن موجودہ دور میں بہت سے لوگ اسے محض تفریح اور سماجی سرگرمی کے طور پر مناتے ہیں۔
لیکن یادرہے کہ امام جماعت احمدیہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہر چھوٹی بڑی بدعت سے بچنے کے لیے جہاد کا طریق بتا چکے ہیں۔ بطور خاص ہلووین کے متعلق راہنمائی پر مشتمل خطبہ جمعہ ۲۹؍اکتوبر ۲۰۱۰ء کو ارشاد فرمایا تھا۔ یہ خطبہ درج ذیل لنک پر جا کر پڑھا جاسکتا ہے۔
ہندو مت
دسہرا: دسہرا (Dussehra) ہندو مذہب کا ایک اہم تہوار ہے، جو بنیادی طور پربرائی پر اچھائی کی فتح کی علامت ہے۔ یہ ہندو قمری تقویم کے مطابق اشون (Ashwin) مہینے کی دسویں تاریخ کو منایا جاتا ہے، عام طور پر گریگورین تقویم کے ستمبر یا اکتوبر میں آتا ہے، اور نو راتوں والے تہوار نوراتری (Navratri) کے اختتام پر ہوتا ہے۔
یہ تہوار مختلف روایات میں رام کی راون پر فتح اور دیوی درگا کی اپنے دشمن پر فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کے متعدد علاقوں میں راون کے پتلے جلائے جاتے ہیں اور مذہبی جلوس و تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔
یاد رہے کہ دسہرا کی تقریبات میں، ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مختلف دیومالائی کہانیوں پر زور دیا جاتا ہے، مثلا شمالی ہند میں دسہرا کے مختلف کردار معروف ہیں اور دسہرا جنوبی اور مشرقی ہندوستان میں مختلف کرداروں کے ساتھ معروف ہے۔ امسال ہندو تقویم کے مطابق دسہرا ۲۰؍اکتوبر کو منایا گیا۔
(اواب سعد حیات)
مزید پڑھیں: مذاہب عالم: خبریں اور تجزیہ(ماہ ستمبر ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)



