مذاہب عالم: خبریں اور تجزیہ(ماہ ستمبر ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)
اسلام
عید میلا د النبی ﷺ اور عالمی سمپوزیئم: اسلامی ہجری کیلنڈر کے ماہ ربیع الاوّل میں مسلمان معاشروں میں بانی اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا یوم ولادت منایا جاتا ہے جو امسال ماہ اگست کے اواخر میں قریباً تمام عالم اسلام میں منایا گیا۔
اسی تسلسل میں امسال ترکی کے محکمہ مذہبی امور نے ۲۵ تا ۲۷؍ستمبر کو استنبول میں بین الاقوامی سمپوزئیم منعقد کیا، جس کا مرکزی موضوع تھا:’’رحمۃللعالمین حضرت محمد ﷺ — آپ کی ولادت کے ۱۵۰۰ سال‘‘
اس میں ترکی کے علاوہ شمالی مقدونیہ، شام اور برطانیہ کے اہل علم شریک ہوئے اورمتعدد نشستوں میں درجنوں تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔اور ان کے موضوعات میں سیرت، سنت، تعلیم، خاندان، دور جدید میں انسان اورذرائع ابلاغ اوران کے روزمرہ کی انسانی زندگی پراثرات کے موضوعات شامل تھے۔
یقیناً یہ ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ یاد رہے جماعت احمدیہ کی طرف سے جلسہ ہائے سیرت النبی ﷺ کی تحریک ایک صدی قبل شروع ہوئی تھی جس کا ایک اہم پہلو رسول اللہﷺ کی پاکیزہ سیرت کو مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے سامنے پیش کرنا تھا۔
بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رسول کریم ﷺ سے جو بے مثال عشق و محبت تھی، اس کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کی پاکیزہ سیرت، اعلیٰ اخلاق اور بنی نوع انسان پر آپ ﷺ کے عظیم احسانات کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا جائے۔ اور اسی جذبۂ محبت اور خدمتِ اسلام کے تحت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ۱۹۲۸ء میں جلسہ ہائے سیرت النبی ﷺ کی ایک باقاعدہ اور ملک گیر تحریک جاری فرمائی۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں ایک ہی موقع پر رسول کریمﷺ کی سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر اجتماعات منعقد کیے جائیں اور لوگوں کو آپ ﷺ کی حقیقی زندگی، اخلاقِ کریمانہ، انسانیت کے لیے آپؐ کی قربانیوں اور دنیا پر آپؐ کے عظیم احسانات سے روشناس کرایا جائے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس مقصد کے لیے مقررین کی ایک بڑی تعداد تیار کرنے کی تحریک بھی فرمائی۔جماعت کے بنیادی آرگن الفضل نے نہ صرف خصوصی نمبر شائع کیا،جس میں غیراحمدیوں،بلکہ غیر مسلموں کے نظم و نثر میں تیار کیے گئے نعتیہ کلام کو جگہ دی، بلکہ متحدہ ہندوستان کے طول وعرض میں ہونے والے جلسوں کی مختصر رپورٹس بھی شائع کیں۔
اس تحریک کی ایک نہایت خوب صورت بات یہ تھی کہ سیرت النبی ﷺ کے بیان کے لیے صرف احمدیوں تک محدود رہنے کی بجائے غیر احمدیوں بلکہ غیر مسلموں کو بھی دعوت دی گئی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس امر پر زور دیا کہ رسول کریمؐ کی بعثت اور آپؐ کے احسانات کسی ایک قوم یا گروہ تک محدود نہیں بلکہ آپ ﷺ پوری بنی نوع انسان کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ چنانچہ اگر کوئی غیر مسلم بھی آپ ﷺ کی سیرت اور انسانیت کے لیے آپؐ کی خدمات کو بیان کرنا چاہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے۔
چنانچہ جون ۱۹۲۸ء کو پہلا یومِ سیرت النبی ﷺ منایا گیا اور ہندوستان کے طول و عرض میں متعدد مقامات پر جلسے منعقد ہوئے۔ ان اجتماعات میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو، سکھ، عیسائی اور جینی اصحاب نے بھی شرکت کی، اور بعض مقامات پر غیر مسلم مقررین نے بھی رسول کریم ﷺ کے اخلاقِ عالیہ، آپؐ کی قربانیوں اور بنی نوع انسان پر آپؐ کے احسانات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ قادیان میں منعقد ہونے والے جلسۂ سیرت النبی ﷺ میں بھی مختلف مذاہب کے افراد کی شرکت کا ذکر ملتا ہے۔
یہودیت
بعض یہودی تہوار:Rosh Hashanah یہودی مذہب کا ایک اہم تہوار ہے جسے عموماً یہودیوں کا سال نو کہا جاتا ہے۔ یہ عبرانی کیلنڈر کے مہینے تشری کی پہلی اور دوسری تاریخ کو منایا جاتا ہے، جو عموماً ستمبر یا اکتوبر میں آتی ہیں۔یہودی روایات کے مطابق یہ دن توبہ اور محاسبۂ نفس کا خاص موقع ہے۔اس موقع پر یہودی عبادت گاہوں میں خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں۔اوراس تہوار کی ایک نمایاں علامت شوفار ہے، جو مینڈھے کے سینگ سے بنایا جانے والا ایک آلہ ہے۔ اس میں پھونک مار کر مخصوص آوازیں نکالی جاتی ہیں۔اس موقع پر روایتی طور پر سیب اور شہد کھایا جاتا ہے، جو آنے والے سال کے میٹھا اور خوشگوار ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
Rosh Hashanah کے بعدیہود کا خاص دن ’’یوم کپور‘‘ آتا ہے، جو یہودی مذہب میں توبہ اور کفارے کا نہایت اہم دن ہے۔
اور پھر ماہ ستمبر کے آخر میں Sukkot کا یہودی تہوار بھی منایا گیا جسے عموماً عیدِ خیمہ کہا جاتا ہے۔ یہ عبرانی مہینے تشری کی ۱۵؍ تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور عموماً ستمبر یا اکتوبر میں آتا ہے۔
اس تہوار کا تعلق بنیادی طور پر بنی اسرائیل کے مصر سے خروج کے بعد صحرائی سفر سے ہے۔ یہودی روایت کے مطابق بنی اسرائیل نے چالیس سال تک بیابان میں سفر کیا اور اس دوران عارضی رہائش گاہوں یا جھونپڑیوں میں قیام کیا۔ اسی یاد میں یہودی خاندان اپنے گھروں یا عبادت گاہوں کے قریب عارضی جھونپڑیاں بناتے ہیں جنہیں Sukkahکہا جاتا ہے۔
عیسائیت
پوپ کا دورہ فرانس:ماہ ستمبر میں رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم نے فرانس کا چار روزہ دورہ کیا۔ یہ تقریباً دو دہائیوں کے بعد کسی پوپ کا فرانس کا دورہ تھا جس میں انہوں نے پیرس سمیت متعدد شہروں کا دورہ کیا اوریونیسکو میں بھی خطاب کیا۔
اس دورہ کے دوران ۲۶؍ستمبر کو پیرس کےمشہور مرکزی مقام پر ہونے والی مذہبی تقریب میں تقریباً ۸۰۰,۰۰۰؍ افراد شریک ہوئے۔ اورفرانس کے شہر لورد میں پوپ نے بیمار افراد، زائرین اور کلیسائی نمائندوں سے ملاقات کی۔ یہ دورہ اس لیے بھی اہم تھا کہ فرانس میں چرچ کو ماضی میں ہونے والے زیادتی کے واقعات کے وجہ سے مشکل سوالات اور عدم اعتماد کا سامنا ہے۔
اسی دورہ فرانس کے دوران ایک نہایت اہم مذہبی مسئلہ assisted dying بھی سامنے آیا۔ فرانس میں نئے قانون کے تحت بعض ناقابلِ علاج بیماریوں میں مبتلا افراد کو اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے قانونی راستہ فراہم کیا گیا ہے۔جبکہ پوپ لیو نے اس قانون کی مخالفت کی اور کہا کہ چرچ کے نزدیک انسانی زندگی مقدس ہے۔
ویٹی کن کی طرف سے بین المذاہب تعلقات پر نئی دستاویز:Nostra Aetate لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’ہمارے دَور میں‘‘ہے۔ یہ رومن کیتھولک چرچ کی تاریخ کی ایک انتہائی اہم اور انقلابی دستاویز ہے، جو دوسری ویٹیکن کونسل کے دوران اکتوبر ۱۹۶۵ء کو پوپ پال ششم نے جاری کی تھی۔ اس کا باقاعدہ نام’’غیر مسیحی مذاہب کے ساتھ چرچ کے تعلقات کا اعلامیہ‘‘ہے۔
یہ دستاویز عیسائی دنیا کے دیگر مذاہب بالخصوص یہودیت اور اسلام کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کا ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔
پانچ حصوں پر مشتمل اس دستاویز میں اسلام کے بارے میں واضح اور مثبت موقف بیان کیا گیا ۔اورچرچ نے پہلی بار مسلمانوں کے لیے احترام کا اظہار کیا۔ دستاویز میں تسلیم کیا گیا کہ مسلمان ایک اکیلے، زندہ اور قادرِ مطلق خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ حضرت ابراہیمؑ کی نسل اور روایات کا احترام کرتے ہیں، حضرت عیسیٰؑ کو خدا کا نبی مانتے ہیں اور ان کی پاکدامن والدہ حضرت مریمؑ کی تعظیم کرتے ہیں۔ چرچ نے ماضی کی جنگوں (جیسے صلیبی جنگیں) کو بھلا کر مستقبل میں امن، سماجی انصاف اور اخلاقی اقدار کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیا۔
اس دستاویز میں یہودیت کے بارے میں غیر معمولی مختلف اور جدید موقف نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ نیز دیگر مذاہب ہندومت اور بدھ مت جیسے مذاہب میں موجود سچائی، روحانیت اور اخلاقی تعلیمات کا اعتراف کیا گیا اور کہا گیا کہ عیسائیت ان میں موجود اچھائیوں کو رد نہیں کرتی۔ اسی طر ح عالمگیر بھائی چارہ کے ضمن میں رنگ، نسل، طبقے یا مذہب کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصب اور امتیازی سلوک کی سخت ممانعت کی گئی۔
امسال ماہ ستمبر میں ویٹی کن نے Nostra Aetate کی ۶۰ویں سالگرہ کے موقع پر ایک اہم دستاویز جاری کی، جس کا عنوان “A Journey of Hope” ہے۔اس میں یہودیوں اور دیگر مذاہب کے ساتھ چرچ کے تعلقات، بین المذاہب مکالمے اور مشترکہ انسانی ذمہ داری پر زور دیا گیا۔ دستاویز میں مذہب کو تنازعات کے لیے استعمال کرنے،ظلم ڈھانے،الگ تھلگ کرنے، اور معاشرتی تقسیم جیسے مسائل کا ذکر کیا گیا۔
اس ۶۰ ویں سالگرہ اور’’امید کے سفر‘‘ دستاویز کے اہم ترین نکات کا جائزہ لیں تو سامنے آتا ہے کہ جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے دستاویز میں خدا کے نام پر کیے جانے والے ہر قسم کے تشدد، انتہا پسندی اور تفریق کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔ اورموجودہ عالمی تنازعات کے تناظر میں، ویٹیکن نے اینٹی سیمیٹزم (یہود دشمنی) اور اسلامو فوبیا دونوں کی یکساں مذمت کی ہے۔ اس بات پر زور دیا کہ پرامن مسلمانوں اور انتہا پسند عناصر کے درمیان واضح فرق کیا جائے۔ دنیا بھر میں جہاں بھی مذہبی اقلیتیں (خصوصاً عیسائی یا دیگر مذاہب کے لوگ) مشکلات کا شکار ہیں، ان کے لیے یکساں مذہبی آزادی کا مطالبہ کیا گیا ہے وغیرہ
ہندو مت
پیرس میں ایفل ٹاور کا واقعہ:۵؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو فرانس میں ایک واقعہ پیش آیا جس پر مذہب، صنفی مساوات اور مذہبی آزادی کے حوالے سے خوب بحث ہوئی جب ایک ہندو مذہبی وفد، جس کا تعلق (Bochasanwasi Akshar Purushottam Swaminarayan Sanstha) سے تھا،ایفل ٹاور گیا تو اس موقع پر وہاں کی بعض خواتین ملازمین کو وفد کے ارکان سے براہ راست رابطے سے دور رکھا گیا۔بعد کی آزادانہ تحقیقات میں اسے انتظامی ناکامی اور امتیازی طرزِ عمل قرار دیا گیا۔جبکہ اس ہندو مذہبی فرقہ نے وضاحت کی کہ اس نے خواتین ملازمین کو ہٹانے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔
اس واقعہ کے نتیجے میں ایفل ٹاور کے عملے نے احتجاج کیا۔ ہڑتال بھی ہوئی۔ نیز انتظامیہ کے سربراہ نے اعلان کیا کہ وہ ۲۰۲۶ء کے اختتام پر عہدہ چھوڑ دیں گے۔
ترک دنیا کرتے ہوئے رہبانیت اختیار کرنا یا صنف مخالف سے اتنا فاصلہ اختیار کرنا کہ انسان کی روزمرہ کی عام زندگی ہی متاثر ہونے لگے، کو قرآن کریم کی صرف ایک آیت کے ایک ٹکڑے سے سمجھا جاسکتا ہے، فرمایا: وَرَہۡبَانِیَّۃَ ۣابۡتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا(سورۃ الحدید، آیت ۲۸)اور ہم نے ان پر وہ رہبانیت فرض نہیں کی تھی جو انہوں نے بدعت بنا لی مگر اللہ کی رضاجوئی (فرض کی تھی) پس انہوں نے اس کی رعایت کا حق ادا نہ کیا۔
یاد رہے کہ ایمان دار شخص کااصل کمال، اس کی سچی اور کامیاب زندگی، تقویٰ اور پرہیز گاری یہی ہے کہ اس دنیا کے تمام تعلقات اور معاملات میں اعتدال برتتے ہوئے اور اس دنیا میں رہتے ہوئے ، امور دنیا کو نپٹاتے ہوئے پاک دامنی، غضِّ بصر اور عفت کا نمونہ بنے۔
بدھ مت
راہب کی گرفتاری:ماہ ستمبر میں تھائی لینڈ میں ایک بدھ راہب کو تقریباً تین ملین ڈالر کے مبینہ مالی غبن کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ایک خاتون کو بھی گرفتار کیا گیا۔ تھائی لینڈ میں بدھ مت کے مذہبی اداروں میں مالی شفافیت، راہبوں کے طرزِ عمل اور مذہبی قیادت پر اعتماد کے حوالہ سے بھی سوالات اٹھنے لگے۔کیونکہ تھائی لینڈ میں بدھ مت کو غیرمعمولی مذہبی و معاشرتی مقام حاصل ہے۔
تھائی لینڈ کی تقریباً نوّے فیصد آبادی بدھ مت سے وابستہ ہے اور ملک بھر میں ہزاروں بدھ مندر اورلاکھوں راہب موجود ہیں۔ اگرچہ آئینی طور پر بدھ مت ریاست کا سرکاری مذہب نہیں، تاہم بادشاہ کا بدھ مت کا پیروکار ہونا ضروری ہے اور بدھ مت تھائی ثقافت اور معاشرتی زندگی میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔
الغرض اس پس منظر میں کسی معروف بدھ راہب کے خلاف مالی بدعنوانی یا اخلاقی بے ضابطگی کا الزام محض ایک فرد کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ اس سے مذہبی قیادت، عوامی اعتماد اور بدھ خانقاہی نظام کی شفافیت کے متعلق بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
نیز یہاں میڈیا، حکومتوں اور سیاست دانوں کے اس دوہرے معیار کی قلعی بھی کھلتی ہے جو کبھی تو ایک شخص کے انفرادی فعل کو مذہب سے جوڑ کر پالیسیاں بنانے لگ جاتے ہیں اور کبھی ایک فرد کےذاتی فعل کو اس کی مذہبی شناخت سے الگ کرکے دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔
(اواب سعد حیات)
مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ




