حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ ڈنمارک 2016ء
ناصرات الاحمدیہ کی حضور انور ایدہ اللہ کے ساتھ کلاس اور مجلس سوال و جواب۔ تقریب آمین۔ حضور انور کے اعزاز میں ہلٹن ہوٹل میں استقبالیہ تقریب۔
ڈنمارک میں 160مختلف مذہبی گروپس رجسٹرڈ ہیں اور ان تمام کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ لیکن میں اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ان تمام میں احمدیہ جماعت ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ آپ ’محبت سب کے لئے‘ پر یقین رکھتے ہیں۔ میں اس بات کا اظہا ر کرنے میں فخر کرتا ہوں کہ احمدیہ مسلم جماعت ان سب میں امن اور پیار کو فروغ دینے اور نفرت کے خلاف کام کرنے میں سب سے آگے ہے۔ (منسٹر آف کلچر اینڈ چرچ ڈنمارک)
٭… امن کا قیام آج کی اہم اور اشد ترین ضرورت ہے۔ امن کا قیام ہی ہماری اوّلین خواہش اور مقصد ہونا چاہئے۔٭…چند مسلمانوں کے نفرت آمیز اعمال کا موجودہ تنازعات میں غیرمعمولی عمل دخل ہے۔ لیکن اُن کے یہ ظالمانہ فعل اسلامی تعلیمات سے دُوری کا نتیجہ ہیں۔٭…ہم اگر اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کو جنگ کی اذیت اور اس کے تباہ کُن نتائج سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں لازماً اپنے خالق کے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔
(حالات حاضرہ کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اور امن عالم کے قیام کے سلسلہ میں اہم تجاویز پر مستمل حضور انور ایدہ اللہ کا بصیرت افروز خطاب)
٭… خلیفہ کی تقریر نہایت دلچسپ اور سحر انگیز تھی۔٭… اس میں نہ صرف ڈنمارک بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک ضروری پیغام تھا۔٭… حضرت جب یہاں تشریف لائے تو مَیں نے اپنے اندر ایک سکون محسوس کیا۔ … حضور کا خطاب آزادی، امن اور محبت کی آواز تھی۔(تقریب میں شامل مہمانوں کے تأثرات)
………………………
8؍مئی 2016ء بروز اتوار (حصّہ دوم)
………………………
ناصرات الاحمدیہ کی حضور انور ایدہ اللہ کے ساتھ کلاس
اس کے بعد پروگرام کے مطابق حضور انور کے ساتھ ناصرات کی کلاس شروع ہوئی۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزہ سبیکہ محمود نے کی بعدازاں اس کا اردو ترجمہ عزیزہ روشانہ طاہر نے پیش کیا۔
اس پر حضور انور نے فرمایا ڈینش زبان جاننے والوں کے لئے ڈینش ترجمہ بھی ہونا چاہئے تھا۔
اس کے بعد عزیزہ ساخرہ طاہر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کے بارہ میں حدیث پیش کی اور اس کا اردو ترجمہ عزیزہ شائلہ شاہد نے پیش کیا۔
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیںکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھالے گا اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھالے گا پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذارساں بادشاہت قائم ہوگی۔ جب یہ دور ختم ہوگا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق جابر بادشاہت قائم ہوگی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور ظلم و ستم کے دور کو ختم کردے گا۔ اس کے بعد پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔ یہ فرما کر آپؐ خاموش ہوگئے۔
بعدازاں عزیزہ ونیسہ احمد نے خلفائے راشدین کے عنوان پر تقریر کی اور چاروں خلفائے راشدین کے بارہ میں اختصار سے ذکر کیا۔
اس کے بعد عزیزہ علیشاہ بٹ، لبینہ جاوید، مبشرہ چیمہ، انیقہ لئیق، مشعل احمد اور عزیزہ زارا طارق نے درج ذیل منظوم کلام کورس کی صورت میں خوش الحانی کے ساتھ پیش کیا۔ ؎
ہمارا خلافت پہ ایمان ہے
یہ ملت کی تنظیم کی جان ہے
خلافت سے زندہ دلوں میں خدا
خلافت غریبوں کا ہے آسرا
نہ کیوں جان و دل ہوں اسی پر فدا
اسی کے ہے دم سے ہماری بقا
نہ ہوگا کبھی اپنا اخلاص کم
بڑھے گا اسی سے ہمارا قدم
خلافت کا جب تک رہے گا قیام
نہ کمزور ہوگا ہمارا نظام
اس کے بعد عزیزہ بسمہ چیمہ نے خلافت کی برکات کے حوالہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا درج ذیل اقتباس پیش کیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام خلافت کے متعلق رسالہ ’’الوصیت‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:
’’اللہ تعالیٰ دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔ دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پید اہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا ہے اور یقین کرلیتے ہیں کہ یہ جماعت ختم ہو جائے گی اور خود جماعت کے کچھ بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کرلیتے ہیں تب خداتعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ جیسا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو کھڑا کرکے اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا۔
سو اے عزیزو! جبکہ بہت پہلے سے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ دو قدرتیں دکھاتا ہے تاکہ وہ مخالفوں کی جھوٹی خوشیوں کو پامال کرکے دکھادے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کو ختم کردے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی دکھی مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔ لیکن جب مَیں جاؤں گا تو پھر اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے ماننے والے ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا‘‘۔
اس کے بعد عزیزہ آمنہ سید اور عزیزہ عزّہ بلال نے خلفاء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عنوان پر تقاریر کیں۔
بچیوں کے ساتھ مجلس سوال و جواب
بعدازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بچیوں کو سوالات کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا کہ جب آپ تشریف لائے تھے تو ایک نظم کے پڑھنے کے بارہ میں ذکر کیا تھا، کیا اس کو اب پڑھ لیں، یہ نظم درثمین کی ہے اور ’’سبحان من یرانی‘‘ ہے۔
٭…ایک اور بچی نے قصیدہ سنانے کی درخواست کی۔اس پر حضور انور نے صرف دو اشعار پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور شعر’’یارب صل علیٰ نبیک دائماً ‘‘ کو دوبارہ پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا کہ حضور انور نے اب تک کتنی بار قرآن کریم کی تلاوت مکمل کی ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا بیشمار دفعہ کی ہے کبھی گنتی نہیں کی۔ سال میں 7,6 دفعہ مکمل ہوجاتی ہے۔
٭…ایک بچی کے سوال پر کہ جب آپ خلیفہ بنے تو آپ کو کیسا لگا۔ حضور انور نے فرمایا: پہلے کئی دفعہ بیان کرچکا ہوں، ویڈیو دوبارہ دیکھ لیں۔ بہت بوجھ ہوتا ہے بہت مشکل کام ہوتا ہے۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا دوپٹہ کس عمر سے سکول میں لینا چاہئے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا 12 سال سے لیکن لباس مناسب اور باحیا ہونا چاہئے۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا جب آپ چھوٹے تھے تو کس قسم کی شرارتیں کرتے تھے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا ظاہر ہے کرتا ہوں گا اب یاد نہیں۔ میں اکثر صلح کرواتا تھا۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا جب آپ چھوٹے تھے تو ماں کا کہنا مانتے تھے مدد کرتے تھے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا ہر حکم مانتا تھا۔ بازار سے سودا سلف بھی لا کر دیتا تھا۔
٭… اس سوال کے جواب میں کہ آپ کو کون سا کلر پسند ہے۔حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کبھی سوچا نہیں سب کلر ٹھیک ہیں۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا کہ جب آپ کے پاس فری ٹائم ہوتا ہے، کیا آپ کھانا بناتے ہیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا پہلے بنالیتا تھا لیکن اب وقت نہیں ملتا۔
٭…اس سوال کے جواب میں کہ آپ کا من پسند پھول کون سا ہے۔ حضور انور نے فرمایا گلاب کا پھول۔
٭…اس سوال کے جواب میں کہ آپ کی پسندیدہ ڈش کون سی ہے۔ حضور انور نے فرمایا ہر مزیدار پکا ہوا کھانا اچھا لگتا ہے۔ ویسے سی فوڈ (Sea Food) بھی اچھا لگتا ہے۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا آپ کی پسندیدہ کھیل کون سی ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا: یہی سوال لڑکوں نے بھی کیا ہے۔ بچپن میں، جوانی میں کرکٹ کھیلا کرتا تھا۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا یورپین لوگ دین سے کیوں نفرت کرتے ہیں اور اللہ کو کیوں نہیں مانتے۔
اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ بہت سے مسلمانوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں مانا۔ ان لوگوں میں صحیح اسلامی تعلیم نہیں ہے۔ مسلمان اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیم کو غلط طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ دشمن سے بھی بے انصافی نہ کرو۔ اسلام انصاف کی تعلیم دیتا ہے جبکہ مسلمان انصاف نہیں کرتے۔ اسلام حکومت کے قانون کی پابندی کا کہتا ہے لیکن عام طور پر مسلمان پابندی نہیں کرتے۔اسی طرح اور بہت سی اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے، لڑائیاں کرتے ہیں۔ مسلمان حکومتیں اپنے لوگوں کو مار رہی ہیں۔ لوگ حکومت کے خلاف بغاوت کررہے ہیں۔ rebel پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کو جب یورپ کے لوگ دیکھتے ہیں تو یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اسلام ایسا ہی مذہب ہے۔بعض لوگ شدّت پسند اور ماردھاڑ کرتے ہیں لیکن جب ہم ان کو بتاتے ہیں کہ یہ اسلام نہیں ہے، اسلام تو پُرامن اور صلح، آشتی کا مذہب ہے۔ اسلام کے معنے ہی سلامتی کے ہیں۔ اس لئے ہم اس کو شدّت پسند نہیں کہہ سکتے۔
حضور انور نے فرمایا کہ مَیں مختلف جگہوں اور کانفرنسوں میں بتاتا ہوں کہ اسلام یہ ہے تو اس پر یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اسلام تو بہت خوبصورت ہے۔ اسی طرح جب ہم لیفلیٹس تقسیم کرتے ہیں تو لوگوں کو صحیح اسلام کا پتہ چلتا ہے۔ اس پر لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے اسلام کو تو ہم پسند کرتے ہیں۔ اگر تم ایم ٹی اے دیکھو تو اس میں مختلف پروگرام آتے ہیں، یورپین لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ جو اسلام جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے یہ تو بڑا اچھا اسلام ہے۔ اس لئے اصل اسلام وہ ہے جو ہم احمدی بتاتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ مسلمان ایک زمانہ میں بگڑ جائیں گے اور اصل تعلیم کو بھول جائیں گے۔ اس وقت مسیح موعود علیہ السلام آئیں گے اور اسلام کی صحیح تعلیم بتائیں گے۔ تم احمدی ہو لوگوں کو بتاؤ کہ جو اسلام تم دوسرے مسلمانوں میں دیکھتے ہو، وہ صحیح اسلام نہیں ہے بلکہ جو اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اور قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے، وہ امن اور محبت کا اسلام ہے، ہم احمدی لوگ اس پر عمل کرتے ہیں۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا کہ احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ احمدی اور غیراحمدی میں یہ فرق ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی اور سورۃ جمعہ میں بھی اس کا ذکر ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود آئیں گے۔ غیراحمدی بھی مانتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود آئیں گے لیکن وہ کہتے ہیں کہ مسیح آسمان سے اتریں گے، عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے، جبکہ ہم لوگ کہتے ہیں کہ کوئی انسان ہمیشہ کے لئے زندہ نہیں رہ سکتا۔ اگر کسی نے زندہ رہنا تھا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے نبی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جب آپ زندہ نہیں رہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہم دوسرے مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ تم غلط سمجھے ہو، کسی نے آسمان سے نہیں اترنا اور نہ مہدی کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ہدایت دینی ہے اور عیسائیوں کو قتل کرنا ہے بلکہ مسیح اور مہدی ایک ہی وجود ہے اور اسی مہدی اور مسیح نے مسلمانوں کو ہدایت دینی ہے اور دلیل سے دوسرے لوگوں کے اعتراضات کا ردّ کرنا ہے، لوگوں کو بتانا ہے کہ اصل تعلیم کیا ہے اور سب لوگوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا ہے۔
ہم مانتے ہیں کہ جس مسیح اور مہدی نے آنا تھا وہ امّت میں سے ہی آگیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحیح بخاری میں اس کے امّت میں سے آنے کے بارہ میں خوشخبری دی ہے اس لئے جو آنے والا تھا وہ آگیا ہے اور وہ مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام ہی ہیں۔ ہم ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مانتے ہیں۔ جبکہ غیراحمدی کہتے ہیں کہ وہ ابھی نہیں آیا، اُس نے آسمان سے ہی آنا ہے۔
مسیح موعود کی آمد کے متعلق جو نشانیاں دی گئی تھیں وہ بھی پوری ہوگئی ہیں، جن میں نئی سواریوں کے آنے کا بھی ذکر ہے، ٹرینیں ہوں گی، جہاز ہوں گے، پھر سورج اور چاند کو رمضان کے مہینے میں مقررہ تاریخوں میں گرہن لگنے کی نشانی بھی تھی، وہ بھی پوری ہوگئی ہے۔ اس لئے ہمارے پاس تو دلیل ہے کہ قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق جس نے آنا تھا وہ آچکا ہے، ہم نے اس کو مان لیا ہے۔ اب کسی اَور نے نہیں آنا۔ دوسرے مسلمان کہتے ہیں کہ اس نے آسمان سے آنا تھا۔ حضور انور نے فرمایا آپ لوگ نشانات اور دلائل کو بھی یاد کریں۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا آپ کا روزانہ کا کیا معمول ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کئی مرتبہ بتاچکا ہوں۔ پھر بتا دیتا ہوں، صبح نوافل کے لئے اٹھتا ہوں، جس کے بعد تھوڑا سا قرآن کریم پڑھ لیتا ہوں۔ سنتیں پڑھتا ہوں پھر نماز پڑھانے کے لئے چلا جاتا ہوں۔ واپس آکر تھوڑی سی ورزش کرتا ہوں پھر دوبارہ قرآن کریم کی تفسیر پڑھ لیتا ہوں۔ پھر تھوڑا سا سو لیتا ہوں، اٹھ کر ناشتہ کرتا ہوں اور پھر دفتر چلا جاتا ہوں۔ مختلف دفتروں کے اور کمیٹیوں کے لوگ ملاقات کے لئے آجاتے ہیں۔ اسی طرح بعض ملکوں کے امراء ملاقات کے لئے آجاتے ہیں، دو تین گھنٹے اس طرح گزرجاتے ہیں۔
پھر نماز ظہر پڑھانے کے لئے جاتا ہوں، پھر گھر آکر کھانا کھاتا ہوں۔ تھوڑا سا آرام کرتا ہوں پھر اٹھ کر دفتر چلا جاتا ہوں۔ دفتر کی ڈاک اور مختلف مشنوں کی ڈاک دیکھتا ہوں۔ شام کی چائے پی کر نماز عصر کے لئے جاتا ہوں۔ پھر لوگ ملاقات کے لئے آجاتے ہیں جس میں ڈیڑھ دو گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ پھر باہر سے آئی ہوئی ڈاک دیکھتا ہوں۔ پھر رات کا کھانا کھاتا ہوں اور نماز عشاء پڑھانے کے لئے چلا جاتا ہوں۔ کوئی رشتہ دار ملنے کے لئے آگیا تو پانچ سات منٹ ان سے ملتا ہوں، پھر دوبارہ دفتر میں جا کر ڈاک دیکھتا ہوں۔ پھر رات ہو جاتی ہے، گیارہ ساڑھے گیارہ ہوگئے تو کچھ کتاب پڑھ لی، اخبار وغیرہ دیکھ لی، پھر تھوڑا سا سویا اور دوبارہ وہی روٹین شروع ہو جاتی ہے۔ اسی دوران لوگوں کے بہت سارے خطوط آتے ہیں، وہ بھی دیکھتا ہوں۔ ہفتہ میں سات آٹھ ہزار خطوط ہو جاتے ہیں جن خطوط کی سمری بن کر آجاتی ہے اور چھ سات ہزار خطوط ویسے ہی آجاتے ہیں، تم لوگ بھی خطوط لکھا کرو۔
حضور انور نے بچیوں سے دریافت فرمایاکیا کبھی خط لکھتے ہو؟ میرے دستخطوں سے جواب آتا ہے یا پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے دستخطوں سے؟ پھر پوچھا کہ کیا دیکھتے ہو کہ جواب کس کے دستخط سے آیا ہے؟ تمہارے خط کا جواب ملا ہے؟ اس پر بچیوں نے جواب دیا ہمیں حضور انور کی طرف سے جواب ملتا ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا: بس اس طرح دن گزر جاتا ہے۔
٭…ایک بچی نے پوچھا کہ کیا حضور خلیفہ بننے سے پہلے کہیں جاب کرتے تھے۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: میں تو وقف زندگی تھا، دفتر میں، جماعت کا ہی کام کرتا تھا۔ خلیفہ بننے سے قبل صدر انجمن میں جو ہمارے سنٹر کے دفاتر ہیں وہاں ناظر اعلیٰ تھا۔ اس سے پہلے ناظر تعلیم بھی رہا ہوں۔ تعلیم کے جتنے مسائل ہوتے تھے ان کو حل کرنا ہوتا تھا۔ اس سے پہلے تحریک جدید میں وکالت مال میں تھا، مزید اس سے پہلے غانا میں تھا، سکول میں بھی رہا ہوں اور پروجیکٹ بھی چلاتا رہا ہوں۔ میں وقف زندگی تھا، پہلے دن سے آخری دن تک، جماعت کا ہی کام کیا ہے۔ جو وقف نو ہیں ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ جماعت کا کام کرنا چاہئے۔
٭…ایک اور بچی نے عرض کیا کہ زندگی میں ایک دفعہ حج کیوں فرض ہے۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ہر ایک پر تو فرض نہیں ہے، جو حج کے سفر کے اخراجات برداشت کرسکتے ہوں، جن کو سفر کی سہولت ہو، کسی قسم کا خطرہ نہ ہو تو ان پر حج فرض ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فتح مکہ سے پہلے دقتیں تھیں خطرہ تھا، آپ حج نہ کرسکے تھے۔ مکہ میں بھی نہ جاسکتے تھے۔ حضور انور نے فرمایا اگر ساری سہولتیں میسر ہوں تو زندگی میں ایک دفعہ حج کرلینا کافی ہوتا ہے۔ لیکن حج کرنا صرف ان لوگوں پر فرض ہے۔ جن کو ہر قسم کی سہولتیں میسر ہوں، کرایہ کے پیسے بھی ہوں، راستے کے کوئی خطرات نہ ہوں تو پھر تم حج کرلو، اچھی بات ہے، لیکن اگر راستے میں روکیں ہوں تو پھر حج نہ کرو تو کوئی بات نہیں۔
ایک بچی نے سوال کیا آپ کتنی زبانیں جانتے ہیں۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کوئی بھی نہیں آتیں، اچھی طرح صرف اردو آتی ہے اور کچھ انگریزی آتی ہے، عربی کو بھی تھوڑا بہت سمجھ جاتا ہوں۔
٭…ایک بچی نے سوال کیا آپ کا پسندیدہ جانور کون سا ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا سارے جانور ہی اچھے ہوتے ہیں۔ حضور انور نے پوچھا کہ تمہیں کون سا جانور پسند ہے؟ کیا تم نے گھر میں کوئی جانور وغیرہ رکھا ہوا ہے؟ بچی نے جواب دیا کہ اسے چھوٹا کتا پسند ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ اگر شکار کے لئے رکھنا ہے تو ٹھیک ہے، اسی طرح حفاظت کے لئے رکھنا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ شوق کے لئے کوئی ضرورت نہیں۔
٭…ایک بچی نے عرض کیا کہ حضور نے فرمایا تھا کہ چہرے پینٹ (Paint) نہیں کرتے، اس لئے ہم احمدی بچے بھی نہیں کرتے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا بڑی اچھی بات ہے۔
٭…ایک بچی نے عرض کیا حضور! آپ نے فرمایا تھا کہ نماز بہت ضروری ہے، میں بھی نماز پڑھتی ہوں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا: ماشاء اللہ
٭…ایک بچی نے عرض کیا حضور نے خطبے میں فرمایا تھا کہ بچوں کو پیاری پیاری کہانیاں سنانی چاہئے۔ میری امی مجھے نبیوں اور صحابہؓ کی کہانیاں سناتی ہیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا بہت اچھا کرتی ہیں۔ ماشاء اللہ۔
٭…ایک بچی نے بتایا کہ گزشتہ سال جب آپ جلسہ جرمنی پر آئے تھے تو آپ نے بچوں کی طرف آکر ہاتھ ہلایا، جس پر مجھے آنسو آگئے تھے۔ اس پر حضور انور نے ازراہ شفقت فرمایا بیٹھ جاؤ، کہیں دوبارہ آنسو نہ آجائیں۔
٭…ایک بچی نے کہا کہ پیارے حضور! ناصرات بہت خوش ہیں کہ آپ ڈنمارک تشریف لائے ہیں۔
٭…ایک بچی نے بتایا کہ جب وہ پانچ سال کی تھی تو قادیان گئی تھی اور اب وہ نو سال کی ہے۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ اب قادیان بہت بدل گیا ہے، چار سال میں بہت بدل گیا ہے اس لئے دوبارہ ضرور جاؤ۔
٭…ایک بچی نے بتایا کہ اس کے کمرے میں حضور انور کی تصویر ہے، جسے وہ دیکھتی رہتی ہے۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا جب نمازپڑھو تو تصویر سامنے نہیں ہونی چاہئے بلکہ پیچھے ہونی چاہئے۔
ناصرات کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ یہ کلاس آٹھ بجکر پینتالیس منٹ تک جاری رہی۔
………………………
تقریب آمین
بعدازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد تشریف لے آئے اور پروگرام کے مطابق تقریب آمین کا انعقاد ہوا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل دس بچوں اور بچیوں سے قرآن کریم کی ایک ایک آیت سنی اور آخر پر دعا کروائی۔
عزیزم فراز احمد، رامین چیمہ، عزیزم فارس احمد، عزیزہ شائلہ کافی خان، عزیزہ ملیحہ وقاص، عزیزہ عائشہ مظفر، عزیزہ تزئین محمود، عزیزہ ملائکہ قدوس، عزیزہ ماہ نور قدوس، عزیزہ ماہین شہزاد۔
بعدازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
………………………
9؍مئی 2016ء بروز سوموار
………………………
صبح سوا چار بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد نصرت جہاں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفتری ڈاک، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔ حضور انور دفتری امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔
دفتری ملاقاتیں
پروگرام کے مطابق سوا ایک بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے۔ محترمہ منیرہ کرو صاحبہ اہلیہ کمال کرو صاحب مرحوم نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے دفتری ملاقات کی سعادت حاصل کی۔ موصوفہ ڈینش ترجمہ قرآن پر نظر ثانی اور چیکنگ کا کام کررہی ہیں۔ موصوفہ نے اپنے کام کے حوالہ سے مختلف امور میں حضور انور ایدہ اللہ سے رہنمائی حاصل کی۔ یہ ملاقات قریباً 25 منٹ جاری رہی۔
بعد ازاں مکرم محمد زکریا خان صاحب امیر و مبلغ انچارج ڈنمارک نے دفتری ملاقات کا شرف پایا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مختلف امور اور معاملات کے بارہ میں ہدایات سے نوازا۔
دو بج کر دس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’مسجد نصرت جہاں‘‘ میں تشریف لاکر نماز ظہر و عصر جمع کرکے پڑھائیں۔ نماز کی دائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
…………………………
حضور انور کے اعزاز میں ہلٹن ہوٹل میں استقبالیہ تقریب
آج جماعت احمدیہ ڈنمارک نے Hilton ہوٹل میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس تقریب میں شرکت کے لئے ساڑھے پانچ بجے اپنی رہائشگاہ سے ہوٹل تشریف لے گئے۔ کوپن ہیگن ایئرپورٹ کے بالمقابل یہ ہوٹل واقع ہے۔
پانچ بج کر 35 منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اِس ہوٹل میں تشریف آوری ہوئی۔
تقریب میں شامل بعض معزز مہمانوں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو
پروگرام کے مطابق تقریب کے آغاز سے قبل بعض مہمان حضرات کا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ملاقات کا پروگرام تھا۔ ان مہمانوں میں آنریبل Ulla Sandbaek صاحب ممبر پارلیمنٹ، آنریبل Ian Messmann ممبر پارلیمنٹ، آنریبل Josephine Fock ممبر پارلیمنٹ، ایمبیسڈر آف بیلجیم Pol De Witte اور منسٹر فار کلچرل افیئرز اینڈ منسٹر فار Ecclesiasticalافیئرز H.E. Mr. Bertel Haarder شامل تھے۔ اور یہ سبھی مہمان کانفرنس روم میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی آمد کے منتظر تھے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہوٹل میں تشریف آوری کے بعد کانفرنس روم میں تشریف لے آئے اور مہمانوں سے تعارف حاصل کیا۔
٭…ایک ممبر پارلیمنٹ نے عرض کیا کہ ایک تو مَیں حضور انور کی خدمت میں دعا کی درخواست کرنا چاہتی ہوں اور یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ ڈینش لوگ اسلام کے بارہ میں جاننا چاہتے ہیں۔ ان کو حقیقی اسلام کا پتہ نہیں۔ مَیں چاہتی ہوں کہ آپ ویڈیو پر ان کو کوئی پیغام دیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اسلام کا مطلب امن ہے۔ جو امن کے خلاف ہیں وہ اسلام کو ماننے والے نہیں ہیں۔ جو انتہاپسند ہیں ان کا اسلام سے تعلق نہیں ہے وہ اسلامی تعلیم کے خلاف کررہے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ نے اسلام کی جو اصل اور حقیقی تعلیم ہم تک پہنچائی ہے وہ آپؑ نے قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سیکھی ہے۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی تعلیمات ہیں اور مَیں اسی اسلام کو جانتا ہوں جو پُرامن، سلامتی اور محبت والا اسلام ہے۔
٭…ممبر پارلیمنٹ نے سوال کیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں ارتداد کی سزا ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ہے ’’لآاِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْن‘‘ کہ دین میں، مذہب میں کوئی جبر نہیں ہے۔ مذہب اختیار کرنے اور چھوڑنے کے معاملہ میں ہر انسان آزاد ہے۔ قرآن کریم میں ارتداد کی کوئی سزا نہیں ہے۔ مذہب تبدیل کرنے والے کو مارنا یہ بالکل اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام تو امن، سلامتی، رواداری اور بھائی چارہ کا مذہب ہے۔ محبت و پیار کا مذہب ہے۔
حضور انور نے فرمایا: میرے لئے انسانی اقدار سب سے اہم ہیں۔ باقی چیزوں پر انسانی اقدار کو اہمیت دینی چاہئے۔ اور ہر ایک کے ساتھ بلاتمیز مذہب و ملّت، رنگ و نسل محبت و پیار کے ساتھ پیش آنا چاہئے اور ہر ایک کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے۔
اس پر ممبر پارلیمنٹ نے کہا آپ کا پیغام بہت پیارا پیغام ہے جو مَیں پوری دنیا میں پھیلانا چاہتی ہوں۔ مجھے علم تھا کہ اصل اور صحیح اسلام یہی ہوگا جو حضور انور نے بیان کیا ہے۔
٭…ایک سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ مَیں 4 مئی بدھ کو لندن سے یہاں آیا تھا اور گرم موسم دیکھا ہے۔ یہاں کے لحاظ سے یہ گرم موسم ہے۔ جب جاؤں گا تو پھر نارمل ہوجائے گا ورنہ عموماً یہاں درجہ حرارت 14 ڈگری رہتا ہے۔
٭…ایک سوال کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ہمارا جو ماٹو ہے ’’محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں‘‘ یہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔
٭…ایک دوسرے سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَان‘‘ وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہر احمدی جہاں بھی ہے اپنے وطن سے محبت کرتا ہے۔ یہاں ڈنمارک میں بھی جب کسی احمدی کو نیشنیلٹی مل جاتی ہے تو وہ اس ملک کا باقاعدہ شہری بن جاتا ہے۔ اُس پر فرض ہے کہ اپنے ملک کی خدمت کرے اور ملک کی بہتری اور ترقی کے لئے کام کرے اور اپنے ملک کی خدمت کرے اور یہ نہیں کہ اپنا مذہب چھوڑ دے۔ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے ملک کی ترقی کے لئے کام کرتا رہے۔ یہی صحیح انٹگریشن (Integration) ہے۔
٭…ایک ممبر پارلیمنٹ نے سوال کیا کہ کیا آپ دوسری مذہبی تنظیموں سے ملیں گے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اگر وہ دوسرے ملنے کے لئے تیار ہیں تو مَیں بھی تیار ہوں۔ آپ کلچرل افیئرز کے منسٹر ہیں اگر آپ آرگنائز کریں۔ لیکن وہ ہم سے ملنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم (احمدی) مسلمان نہیں ہیں، ہم نے اسلام کی تعلیم چھوڑ دی ہے۔
٭…جہاد کے حوالہ سے ایک سوال پر حضور انور نے فرمایا کہ جہاد کے معانی محنت اور کوشش کے ہیں، اسلام کی اصلی، حقیقی اور پُرامن تعلیم پہنچانے کے ہیں۔ امن و محبت کا پیغام دو، یہ جہاد ہے۔ اس زمانہ میں تو تلوار کا جہاد نہیں ہے۔ اس زمانہ میں اسلام کے خلاف کوئی بھی تلوار نہیں اٹھا رہا۔ کوئی اپنے ہتھیاروں کے ساتھ اسلام پر حملہ آور نہیں ہے۔ اس دور میں قلم کا جہاد ہے۔ اسلام پر میڈیا اور لٹریچر کی اشاعت کے ذریعہ حملہ ہورہا ہے تو اس کا جواب بھی اسی صورت میں دیا جانا چاہئے۔
٭…ایک ممبر پارلیمنٹ نے سوال کیا کہ جماعت احمدیہ کب اور کس طرح شروع ہوئی۔
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اسلام پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا۔ اسلام کی تعلیمات بھلادی جائیں گی اور ان پر عمل نہیں ہوگا۔ جب ایسا زمانہ آئے گا تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی ہدایت کے لئے مسیح موعودؑ اور امام مہدیؑ کو مبعوث فرمائے گا جو سب بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ پر جمع کرے گا۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ اس پیشگوئی کے مطابق جس مسیح اور مہدی نے اسلام کے احیائے نو کے لئے آنا تھا وہ آچکا ہے اور تمام نبیوں کے لباس میں آیا ہے۔ ہمارے نزدیک حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی وہ امام مہدی اور مسیح موعود ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ کے قیام کا آغاز انڈیا میں صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں قادیان سے ہوا۔ آپؑ نے 1889ء میں دعویٰ کیا اور جماعت احمدیہ قائم فرمائی اور 1908ء میں آپؑ کی وفات ہوئی۔
آپؑ کی وفات کے بعد خلافت کا نظام شروع ہوا اور مَیں آپؑ کا پانچواں خلیفہ ہوں۔
حضور انور نے فرمایا کہ دوسرے مسلمانوں میں اور ہم میں یہ بڑا فرق ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ آنے والا مسیح و مہدی آچکا ہے۔ دوسرے کہتے ہیں ابھی نہیں آیا۔
حضور انور نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ کا آغاز 1889ء میں ہوا اور ہمارا مشن یہ ہے کہ ہم نے تمام مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر جمع کرنا ہے۔ اسلام کی سچی اور حقیقی تعلیمات کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانو اور اس کے حقوق ادا کرو اور ہر انسان دوسرے انسان کے حقوق ادا کرے۔ ایک دوسرے کی عزّت کرو اور احترام سے پیش آؤ۔ بنی نوع انسان کی خدمت کرو اور ایک دوسرے کا خیال رکھو۔ یہ وہ پیغام ہے جو ہم ہر جگہ پہنچا رہے ہیں اور ہم ہر جگہ مشنری ورک کر رہے ہیں۔ اسلام کا پیغام پہنچانے کے علاوہ انسانیت کی بھلائی کے لئے بھی کام کر رہے ہیں۔ ہم نے افریقہ میں سکول کھولے ہیں۔ ہسپتال بنائے ہیں۔ پینے کا صاف پانی مہیا کیا ہے۔ سولر سسٹم کے ذریعہ بجلی مہیا کر رہے ہیں اور بہت سے رفاہ عامہ کے دوسرے کام اور پراجیکٹ کر رہے ہیں اور بنیادی انسانی ضرورتیں پوری کر رہے ہیں۔
اب یہ جماعت جس کا آغاز 1889ء میں ہوا تھا۔ دنیا کے 207 ممالک میں پھیل چکی ہے۔ ڈنمارک میں ابھی تعداد کم ہے۔ افریقہ کے ممالک میں بہت بڑی تعداد ہے جو لاکھوں میں ہے۔
پاکستان میں ہمارے خلاف پرسی کیوشن ہو رہی ہے اور حکومت کی طرف سے ہمارے خلاف قوانین بنے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہاں ایک بڑی تعداد ہے۔ انڈونیشیا، ملائشیا، مسلم ممالک ہیں۔ ان میں حکومت کی طرف سے کوئی قانون تو نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم ان ممالک میں کھل کر تبلیغ نہیں کرسکتے۔ لیکن اس کے باوجود ان ممالک میں پھیل رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔
ہر سال پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ جماعت میں داخل ہورہے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ پاکستان میں 1974ء میں ہمارے خلاف قانون بنا۔ اس کے بعد 1984ء میں اُس وقت کے پاکستان کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے جماعت کے خلاف بڑے سخت قوانین بنائے جن کے مطابق احمدی اپنے عقیدہ کے مطابق عمل نہیں کرسکتے۔ السلام علیکم نہیں کہہ سکتے، اپنی مسجد کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔ بچوں کے مسلم نام نہیں رکھ سکتے۔ کوئی بھی ایسا طریق جس سے اسلامی عقائد کا اظہار ہوتا ہو وہ ہم نہیں کرسکتے۔ السلام علیکم کہیں تو تین سال جیل کی سزا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ ہمارے خلاف ملکی سطح پر قانون صرف پاکستان میں ہے۔
انڈونیشیا ، ملائشیا میں حکومت کی طرف سے ملکی سطح پر ہمارے خلاف کوئی قانون، Law نہیں ہے۔ لیکن لوکل لیول پر ہماری مساجد کو سِیل (Seal) کردیتے ہیں۔ ہماری مساعی کو روک دیتے ہیں۔ بعض اوقات لوکل پولیس کی طرف سے بھی ہمارے لئے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ تین چار سال قبل ہمارے تین لوکل انڈونیشین احمدیوں کو انڈونیشیا میں بڑی بیدردی سے مار مار کر شہید کردیا گیا۔ اس پر حکومتی انتظامیہ کی طرف سے یہ جواب ملتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت آپ کو پسند نہیں کرتی، آپ کے حق میں نہیں ہے، اس لئے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ تو یہ جواب حکومتی انتظامیہ کی طرف سے ملتا ہے۔
نائیجیریا کے ذکر پر حضور انور نے فرمایا کہ نائیجیریا میں بڑی کمیونٹی ہے جو بڑھ رہی ہے اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تمام مسلمان ممالک میں ہماری جماعت ہے۔ غانا، سیرالیون، فرانکوفون ممالک، مالی، بورکینافاسو، بینن وغیرہ میں ہم پھیل رہے ہیں اور ہماری تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
انڈونیشیا میں ہم لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہیں۔ وہاں کی آبادی دو سو ملین ہے۔ ہماری تعداد بہت کم ہے لیکن ہماری تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ ملائشیا میں عیسائیوں کو ان کے حقوق نہیں مل رہے۔ وہ لفظ ’’اللہ‘‘ نہیں کہہ سکتے۔ اسے استعمال نہیں کرسکتے جوکہ غلط ہے۔ اللہ تو سب کے لئے ہے۔ ہر مذہب کے لئے ہے، ہر مذہب کا حق ہے کہ اس لفظ ’’اللہ‘ کو استعمال کرے۔
حضور انور نے فرمایا کہ ان سب باتوں کی وجہ سے مسیح موعودؑ کا آنا ضروری تھا۔
٭… بیلجیم کے ایمبیسڈر H.E. Pol De Witte کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: بیلجیم میں آپ کے ایئرپورٹ پر جو سانحہ ہوا مجھے اس کا افسوس ہے۔ وہاں ہماری جماعت نے حکومت سے اظہارِ ہمدردی کیا تھا اور حکومتی انتظامیہ کی طرف سے اسے سراہا گیا تھا۔
حضور انور نے فرمایا کہ بیلجیم میں دو ہزار سے زائد ہماری کمیونٹی ہے اور وہاں ہمارے تین سنٹرز ہیں۔ برسلز میں جماعت کی مرکزی مسجد مکمل ہورہی ہے۔ وہاں ہمارے سب سیاستدانوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ بیلجیم میں مقیم احمدی افراد اپنے ملک کے وفادار ہیں۔ احمدی احباب جس ملک میں بھی جاکر مقیم ہوتے ہیں اس ملک کے وفادار ہوتے ہیں۔
٭…ترکی کا ذکر ہونے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ترکی میں بھی ہماری کمیونٹی ہے لیکن ہم وہاں ابھی کھل کر تبلیغ نہیں کرسکتے۔
٭…خاتون ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ جس طرح آپ لوگوں کی مخالفت ہورہی ہے اسی طرح شروع میں عیسائیوں کی مخالفت ہوئی تھی۔ اس پر حضور انور نے فرمایا: ٹھیک ہے۔
یہ میٹنگ چھ بجکر پچیس منٹ تک جاری رہی۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہوٹل کے ہال میں تشریف لے آئے۔
حضور انور کی آمد سے قبل تمام مہمانِ کرام اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔
………………………
استقبالیہ تقریب کا باقاعدہ آغاز
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہؤا ۔ مکرم محمداکرم محمود صاحب مبلغ سلسلہ ڈنمارک نے سورۃ المائدہ کی آیات 8 تا 10 کی تلاوت کی اور مکرم بلاج بٹر صاحب نے ان آیات کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔
بعدازاں مکرم محمد زکریاخان صاحب امیر و مبلغ انچارج ڈنمارک نے اپنا استقبالیہ ایڈریس پیش کیا۔اوراس کے بعد بعض مہمان حضرات نے اپنے ایڈریسز پیش کئے۔
مختلف مہمانوں کے ایڈریسز
٭ سب سے پہلے آنریبل Holger Schou Rasmussen صاحب جو Lolland کے میئر ہیں نے اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا:
میں اس پروگرام میں مدعو کئے جانے کا شکریہ اداکرتا ہوں۔ Lollandمیونسپلٹی کا میئر ہونے کی حیثیت سے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں حضورِ انور کو ڈنمارک میں خوش آمدید کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ ایسی مذہبی آوازوں کی جو امن ، برداشت اور خیر سگالی کی بات کرتی ہوں پذیرائی کرنی چاہئے اور آجکل خوف اور عدم اعتماد کی فضا میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ چیلنجزہیں جن کا ہم سب کو سامنا ہے اور ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ میں بہت خوش ہوں کہ ڈنمارک کی سب سے پرانی مسلمجماعت اس پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ یہاں آپ دیگر مذاہب کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھے ہیں جن میں یہودی، عیسائی، بدھ اور مسلمان شامل ہیں۔ یہ علاقہ مکمل مذہبی آزادی دیتا ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے امن سے رہتے ہیں اور ان کے باہمی تنازعات نہیں ہیں۔ آپ کے خلیفہ کی امن اور محبت پھیلانے کی خواہش بھی اسی بات کی عکاسی کرتی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ آپ لوگوں کو ناکسکو میں مسجد کے لئے جگہ مل گئی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ آپ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ دعوت دینے کا بہت شکریہ۔
٭ اس کے بعدایک خاتون ممبرا ٓف پارلیمنٹ آنریبل Ulla Sandbek نے جن کا تعلق Alternative Party سے ہے اپنے ایڈریس میں کہا:
دعوت دینے کا بہت شکریہ! مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہے اور میں بڑی شدت سے اس تقریب کے اہم ترین خطاب کا انتظار کر رہی ہوں۔ آج دنیا بے انتہا مشکلات سے دوچار ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری تہذیب و تمدن قائم رہے گا یا نہیں کیونکہ اسے ہر طرف سے مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ مذہبی رہنما امن، اتحاد کے بارے میں بات کریں اور بتائیں کہ ہم سب کا تعلق نسلِ انسانی سے ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج کل پوپ بھی معمول سے ہٹ کر محبت ،پیاراور اتحاد کی بات کررہاہے۔ اور مجھے خوشی ہے کہ حضورِ انور بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن کی بات کریں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ اسلام میں بھی کوئی آواز سامنے آئی ہے جو امن، محبت اور ہم آہنگی کی بات کرتی ہے۔ پس میں آج شام یہاں خلیفہ کی آواز سننے آئی ہوں تاکہ میں اس پیغام کو آگے دنیا میں پھیلاؤں اور دنیا کے امن کے لئے میں بھی اپنا معمولی حصہ ڈال سکوں۔ میں حضورِ انور کی بہت شکرگزارہوںکہ وہ یہاں تشریف لائے ہیں۔
٭بعدازاں ممبرآف پارلیمنٹ آنریبل Yen Missmen جن کا تعلقDanish Peoples Partyسے ہے انہوں نے اپنے ایڈریس میں کہا:
آپ کا بہت شکریہ۔ خواتین و حضرات ، عزت مآب حضرت مرزا مسرور احمد! آج میں اپنے نقطہ نظر سے ہٹ کر بات کروں گا۔ مجھے یہاں احمدیہ مسلم جماعت کے پروگرام میں شرکت کرکے بہت خوشی ہوئی ہے۔ بطور ڈینش ممبر آف پارلیمنٹ اور ڈینش پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے کے میں احمدیہ جماعت کے اس پروگرام میں شامل ہو نا اعزاز کی بات سمجھتا ہوں۔
موصوف نے کہا: جب میں نوجوان تھا تو یہاں ڈنمارک میں مسلمان نہ تھے اور شاذ ہی آپ کسی غیر ملکی کو دیکھتے تھے۔ میں 1971ء میں ڈینش ایئر لائن سے منسلک ہوا۔ اس وقت Egyptایئر لائن کے پاس جہازوں کی کمی تھی تو وہ ہمارے طیارے استعمال کرتے تھے۔ میں اُن دنوں میں قاہرہ میں مقیم تھا اور وہاں مصر کے مسلمانوں کے روزمرہ رہن سہن کا اندازہ ہوا۔ میں اہرامِ مصر سے چند سو میٹر کے فاصلہ پر ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھاجہاں بہت سے افراد سے تعلق رہا ۔ وہاں سے کافی تعداد میں جہاز حاجیوں کو لے کر جاتے تھے۔ خوشی سے معمور تمام مسلمان سفید لباس پہنےہوئے ہوتے تھے۔ مجھے یادہے کہ جب جہاز چلنے لگتا تھا تو ایک شخص دعا پڑھتا تھا اور دیگر 178 مسافر اس کے پیچھے الفاظ دہراتے تھے۔ میں روزانہ یہ دعا سنتا تھا اور پھر کچھ عرصہ بعد میں بھی اس دعا میں شامل ہونے لگا۔ فلائٹ اناؤنسمنٹ میں یہ الفاظ دہراتے ہوئے مجھے عجیب لگا لیکن سب نے اسے پسند کیا۔ میں یہ الفاظ دہرایا کرتا تھا، لَبَّیْک اللّٰھُمَّ لَبّیک، لَبَّیْک لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک۔ اِنّ الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک۔وہ دَور بہت اچھا تھا۔مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ ڈنمارک میں اور یورپ میں بہت سے مسلمان آچکے ہیں ۔ میںامید رکھتاہوں کہ ہم سب باہمی ہم آہنگی اور پیار محبت سے رہیں۔ ایک مرتبہ پھر میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس پروگرام میں مدعو کیا۔ حضورِ انور اور آپ سب کا جو یہاں آئے ہیں، شکریہ۔
٭بعد ازاں The Alternative پارٹی سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ آنریبل Josephine Fauk نے اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا:
میں حضوراوردیگر سامعین کا شکریہ اداکرتی ہوں۔ میں حضورِ انور کو یہاں ڈنمارک میںخوش آمدید کہتی ہوں۔ حضورِ انور 11 سال بعد ہمارے دا رالحکومت میں آئے ہیں جو ہمارے لئے بڑی سعادت کی بات ہے۔
موصوفہ نے کہا: میں سمجھتی ہوں کہ مختلف مذاہب اورسیاسی اور سول سوسائٹی کے مختلف گروپس کے درمیان تبادلۂ خیالات کی بہت ضرورت ہے۔ آجکل کے حالات جہاں نسلی، مذہبی، سیاسی گروپ اور ملکوں کے باہمی اختلاف عروج پر ہیں اور خاص کر ہجرت کرکے آنے والوں کے حوالہ سے مسائل ہیں، ان سب کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ مذہبی رہنما معاشرے میں دیگر تنظیموں سے بات چیت کریں۔ میں حضورِ انور سے بہت متأثر ہوں اور آپ کی امن اور ہم آہنگی پھیلانے ، سٹیٹ اور مذہب کو الگ رکھنے اور آزادی ِ رائے اور ڈائیلاگ کی اہمیت کو اجاگرکرنے کے لئے کی گئی کاوشوں سے آگاہ ہوں۔
یوکے کی طرح ڈنمارک میں بھی ایک بڑی مسلم کمیونٹی موجود ہے جو معاشرے میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ ہمیں بطور سیاستدان مذہبی اور نسلی گروہوں کی باہمی ہم آہنگی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ میں ایک مرتبہ پھر حضورِ انور کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ یہاں ڈنمارک میں تشریف لائے اور شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے یہاں مدعو کیا۔
٭اس کے بعدHis Excellency, Mr Bertel Haarder جو کہ Minister for Cultural Affairs and the Minister of Ecclesiastical Affairs ہیں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا:
میرے لئے بطور منسٹر آف کلچر اور چرچ آج اس پروگرام میں شرکت کرنا اور حضورِ انور کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میری ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں ڈنمارک میں مختلف مذاہب اور اعتقادات سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں ہم آہنگی اور امن بڑھانے کے لئے کوشش کروں۔ ڈنمارک میں 160مختلف مذہبی گروپس رجسٹرڈ ہیں اور ان تمام کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ان میں سے بہت سی تنظیموں کے اپنے سکول ، قبرستان وغیرہ ہیں۔ لیکن میں اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ان تمام میں احمدیہ جماعت ایک خاص مقام رکھتی ہے کیونکہ یہ مقامی معاشرے میں گھل مل گئے ہیں۔ گزشتہ50 سال سے آپ ہمارے ساتھ پر امن طریق پر ڈنمارک میں رہ رہے ہیں۔
مَیں خوش ہوں کہ حضورِ انور اور آپ کی جماعت کھلے دل سے ہمیں خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ ’محبت سب کے لئے‘ پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ پیغام بظاہر شاید چھوٹا معلوم ہولیکن یہ ہرگز چھوٹا نہیں ہے۔ یہ انتہائی ضروری پیغام ہے اور میرے یہاں آنے کا مقصد بھی یہی ہے۔ مجھ سمیت یہاں آنے والے بہت سے افراد حضورِ انور کو امن اور ڈائیلاگ کے لئے خدمات پر سلام پیش کرنے آئے ہیں۔
احمدیہ جماعت 1889 میں قائم کی گئی۔ اس جماعت کے بانی مرزا غلام احمد ملہم من اللہ تھے۔ آپ نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین تھے بلکہ مسیحِ موعود بھی تھے، جن کا مومنین انتظار کر رہے تھے۔ جماعت احمدیہ کے مطابق جہاد لڑنے جھگڑنے کا نام نہیں بلکہ اصل جہاد تو محبت سے کیا جاتا ہے۔ آج ڈنمارک میں 160 مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے گروپ موجود ہیں اور میں اس بات کا اظہا ر کرنے میں فخر کرتا ہوں کہ احمدیہ مسلم جماعت ان سب میں امن اور پیار کو فروغ دینے اور نفرت کے خلاف کام کرنے میں سب سے آگے ہے اور میں اس کے لئے جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس مشکل دور میں جب دنیا میں دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں، ہم یہی چاہتے ہیں۔ خاص کر اس وجہ سے ان میں سے اکثر حملے اسلام کے نام پر کئے جارہے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ یہاں اسلام کی جو تعلیم پیش کی جارہی ہے وہ بالکل مختلف ہے۔ اس کے لئے آپ سب کا شکریہ۔

مہمانوں کے ایڈریسز کے بعد چھ بجکر پچاس منٹ پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے حاضرین سے انگریزی زبان میں خطاب فرمایا۔
………………………
خطاب حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
تمام معززمہمانِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ آپ سب پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ سب سے پہلے تو اس موقع پر میں تمام مہمانوں کا تہ دل سے شکریہ اداکروں گاجنہوں نے براہِ مہربانی ہماری آج کی اس تقریب کی دعوت قبول کی ۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جماعت احمدیہ مسلمہ اسلام کا ایک فرقہ ہے جس کا مطمح نظر اور مقصدبڑا واضح ہے ۔ ہم انسانیت کو اس کے خالق خدائے عزّوجل کے قریب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم لوگوں کو حقوق العباد، ایک دوسرے کے ساتھ پیار، محبت اور عزت کے ساتھ پیش آنے کی ضرورت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔اور ہم دنیا میں حقیقی اور دیرپا امن کے قیام کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ ہم احمدی مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے بانی وہی مسیح موعود اور امام مہدی ہیں جن کے متعلق قرآن اور اسلام کے پیغمبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔قرآن کریم اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اُن علامتوں کے بارہ میں بھی پیشگوئی فرمائی جن سے مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ملنا تھا ۔ اور ہمارا یقین ہے یہ تمام علامتیں ہماری جماعت کے بانی کے دعویٰ کے حق میں پوری ہوچکی ہیں۔ بعض علامتوں کا تعلق مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ میں ہونے والی دنیاوی ترقی سے تھا۔مثال کے طور پر یہ پیش گوئی کی گئی کہ مسیح موعود کو اُس وقت بھیجاجائے گا کہ جب کہ دنیا میں جدید مواصلاتی ذرائع اس حد تک راہ پاچکے ہوں گے کہ دنیا کے مختلف خطوں کے لوگ یکجاہو جائیں گے اور جب پریس اور میڈیا کا قیام ہوچکاہوگا۔ پھر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم الشان نشانِ آسمانی کی پیشگوئی فرمائی جو مسیح موعود کے نزول کے وقت ظاہر ہونا تھا اوریہ نشان چاند اور سورج گرہن کا تھا جو کہ رمضان المبارک کے مقررہ معینہ دنوں میں لگنا تھا۔ بانء جماعت احمدیہ کے دعویٰ کے پیشِ نظر یہ نشانِ آسمانی بڑی عظمت اور شوکت کے ساتھ 1894ء میں مشرقی کرۂ ارض میں اور 1895ء میں مغربی کرہ ارض میں لفظ بلفظ پورا ہوا ۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پس قرآن مجید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشگوئیوں کو روزِ روشن کی طرح پوری ہوتا دیکھ کر ہم احمدی مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمدصاحب آف قادیان ہی مسیح موعود اور امام مہدی ہیں۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام صداقت کی شمع تھے تادنیا بھر میں اسلام کی عمدہ اور شاندار تعلیمات کا پرچار کرسکیں۔ آپ نے دنیاکے تمام لوگوں کو اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ وہامن اور سکون کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کررہیں اور آپ نے اپنی جماعت کو مخلوقِ خدا سے ہمدردی اور رحمدلی کی تاکید کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’نوعِ انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کے لئے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔‘‘
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: چنانچہ ہمارے عقیدہ کے مطابق اسلام یہی تعلیم دیتا ہے کہ حقوق اللہ کی بجا آوری حقوق العباد کی ادائیگی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ بلکہ بعض مخصوص حالات میں حقوق العباد کو حقوق اللہ پر ترجیح بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ مختصراً یہ کہ اسلام کی یہ شرط ہے کہ انسان صرف تب ہی مسلمان کہلا سکتا ہے جب دوسروں کے حقوق ادا کرے بغیر یہ دیکھے کہ وہ کون ہیں اور ان کے عقائد کیا ہیں۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: 1908ء میں حضرت اقدس مسیح موعو علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ علیہ السلام کی جانشینی میں خلافت کا نظام قائم ہوا جس کا مقصد یہ تھا اور ہمیشہ رہے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن اور اسلام کی سچی تعلیمات کو دنیا کے کناروں تک پھیلایاجائے۔
اب میں آپ کے سامنے چند حقیقی اسلامی تعلیمات رکھوں گا اور مذہب کے بارہ میں پائی جانے والی عمومی غلط فہمیوں کو دورکرنے کی کوشش کروں گا۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اسلام انسانوں کو ہر قسم کے کینہ اور بغض وعناد سے اجتناب کرتے ہوئے محبت اور باہمی احترام کے جھنڈے تلے متحد ہونے کی تعلیم دیتا ہے ۔ اسلام معاشرہ کی ہر سطح پر تمام لوگوں کے مابین عدل و انصاف اور امن کے قیام کو فروغ دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کی سورۃ المآئدہ کی آیت 9 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’اے ایماندارو!تم انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے لئے ایستادہ ہو جاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو۔ تم انصاف کرو، وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔جو کچھ تم کرتے ہواللہ اس سے یقیناً آگاہ ہے۔ ‘‘
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تمام لوگوں کے ساتھ بشمول مخالفین اور دشمنوں کے عدل و انصاف کے ساتھ پیش آنے کا حکم دے رہا ہے ۔پس اسلام کسی بھی صورت زیادتی یا ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں مذہبی آزادی اور رواداری کے اعلیٰ ترین میعار قائم کئے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آبائی وطن میں کئی سال کے ظلم وستم کی وجہ سے ہجرتِ مدینہ کے بعد جس انداز سے یہودیوں اور دیگر غیر مسلمانوں کے ساتھ عزت و احترام کا سلوک کیا وہ بھی اس کی ایک اہم مثال ہے۔ مدینہ کے مقامی لوگوں میں سے زیادہ تر نے اسلام قبول کیا اور آپ کو نہ صرف اپنا مذہبی راہنما تسلیم کیا بلکہ ریاست کے راہنما کے طور پر بھی منتخب کیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی یہودیوں اور غیرمسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مدینہ میں موجود تھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست کے راہنما کے طور پر آزادی اور رواداری کے عالمگیر اصولوں کی بنیادپر یہودیوں اور دوسرے گروہوں کے ساتھ ایک امن کا معاہدہ کیا جس کے مطابق رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور غیر مسلمانوں کو ان کی مذہبی آزادی کی حفاظت کی ضمانت دی ۔ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاہدہ کی شرائط کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں مذہبی حقوق اور غیر مسلمانوں کی آزادی ہمیشہ برقرار رکھی گئی ۔اس سے ان الزامات کی بڑی وضاحت کے ساتھ تردید ہوتی ہے کہ اسلام مذہب کی بناء پر کی جانے والی تفریق کرتاہے یایہود کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت دیتاہے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق کی مثال ایک اور موقع پر بھی نظر آتی ہے جب نجران کے شہر سے ایک عیسائی وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آیا۔جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آیا کہ یہ لوگ عبادت کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے انہیں عبادت کے لئے اپنی مسجد مہیا کردی کہ اس میں وہ اپنے رواج اور عقائد کے مطابق عبادت کرسکیں۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ اسلام زبردستی تلوار کے زور پر پھیلا ہے۔ یہ اعتراض بھی مکمل طور پر بے بنیاد ہے اور سچائی سے کوسوں دور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کے زمانہ میں جو بھی جنگیں ہوئیں وہ محض دفاعی نوعیت کی تھیں جبکہ جنگ ان پر مسلّط کردی گئی تھی۔ اور جب جنگ مسلمانوں پر مسلّط کی گئی تو مسلمانوں نے دیگر مذاہب کے مقامات مقدسہ اور قابل احترام شخصیات کی حفاظت اور تعظیم کی۔لیکن اس کے باوجود بڑے افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ آج دنیا میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کردار کشی کی جارہی ہے حتیٰ کہ یہاں ڈنمارک میں بھی چند سال پہلے کارٹون شائع کئے گئے جن کے ذریعہ بانیٔ اسلام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استہزا ء کیاگیا اور انہیں نعوذ باللہ ایک قابض اور جنگجو حکمران کے طور پر پیش کیاگیا۔ جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاتو ہمیشہ سے ایک ہی عزم تھا کہ ا من اور انسانی حقوق کوقائم کیاجائے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے پہلی مرتبہ اہلِ مکہ کے خلاف دفاعی جنگ کی اجازت دی تو یہ صرف اسلام کی حفاظت کے لئے نہیں بلکہ مذہب کی حفاظت کے لئے دی گئی۔ اسی لئے سورۃ الحج کی آیت 40 و 41 میں میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے اگرظالموں کو روکا نہ جاتا تو یہ صرف معصوم مسلمانوں پر حملہ کرنے تک محدود نہ رہتے بلکہ وہ بالآخرہرقسم کے مذہب کو تباہ کردیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بڑا واضح طور پر فرمایا ہے کہ اگر اہلِ مکہ کو طاقت کے ذریعہ نہ روکا جاتا تونہ کوئی گرجا، نہ کلیسا، نہ مندر ، نہ مسجد اور نہ ہی اور عبادت کی جگہ باقی رہتی ۔ قرآن کریم کی یہ آیات بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کردیتی ہیں کہ جب مسلمانوں کودفاعی جنگ کی اجازت دی گئی تو یہ اجازت ملکوں پر قابض ہونے اور ظلم پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ تمام مذاہب اور عقائد کی حفاظت کے لئے دی گئی۔ پس اس کے پیشِ نظر ایک سچے مسلمان کے لئے مخالفینِ اسلام کے یہ دعوے شدید دکھ کاباعث بنتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ طاقت کے پیاسے اور اپنی حکومت قائم کرنے کے حریص تھے۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز طاقت نہیں چاہی اور نہ کبھی ایسی جنگ کی جس کا مقصد اسلام کو زبردستی پھیلانا اور دوسروں کو زبردستی مسلمان بنانا ہو۔ اس لئے یہ سچے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ تمام مذاہب کی خواہ عیسائیت ہو، یہودیت ہو یا کوئی بھی مذہب ہو ان کی حفاظت اور قدر کرے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ تعلیم دی کہ صرف اُن لوگوں کے ساتھ لڑاجائے جو براہِ راست خود جنگ میں شریک ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سختی کے ساتھ حکم دیا کہ جنگ کے دوران کسی بھی معصوم شخص پر حملہ نہ کیاجائے۔ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ کسی بھی مذہبی رہنما یا پادری یا مذہبی عبادتگاہ پر حملہ نہ کیاجائے۔مزید برآں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی کہ کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے ہر گز مجبور نہ کیاجائے۔ اور یہی تعلیم قرآن کریم کی ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ان اعلیٰ تعلیمات کے باجود اس دور میں جو جنگیں لڑی جاتی ہیں ان میں ہم مسلسل ایسے واقعات دیکھ رہے ہیں جہاں اندھادھند فائرنگ یا بمباری کردی جاتی ہے جن میں معصوم اور نہتّے شہریوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو بڑی بے رحمی سے ماردیاجاتاہے۔ایسے مسلمان جو اس طرح کے سفاکانہ رویّے اپناتے ہیں وہ صرف اپنے مذہب کو بدنام کر رہے ہیں اور ان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہئے۔ لیکن اسلام میں یہ جہالت اور تاریک دور آنا ہی تھا، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات کی پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے کہ مسلمان کلیۃً اپنے مذہب کی تعلیمات کو بھلا دیں گے۔یہ ایسا وقت ہونا تھا جب اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرماناتھا جنہوں نے اسلام کو ازسرِ نو زندہ کرناتھا اور ایک پاکباز جماعت کا قیام کرناتھا جس نے اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرناتھا۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پھر یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ غیر مسلم دنیا بھی معصوم ہے اور اس کے سر پر کوئی الزام نہیں ہے۔ یقینا بعض ایسی غیر مسلم طاقتیں ہیں جو اپنے اس دعویٰ کے باوجود کہ وہ دنیا میں امن قائم کر نے کے لئے کوشاں ہیں، دنیا کے مختلف حصوں میں ناحق جنگوں کے ذریعہ معصوم عوام پر مظالم ڈھانے اور انہیں قتل کرنے کی ذمہ وار ہیں۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: بہرحال، یہ سچ ہے کہ آج کی مسلمان حکومتیں ایمانداری، راستبازی اور عدل و انصاف جیسے حقیقی اسلامی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں۔جہاں اور جب بھی اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کیا گیا وہاں ہرایک نے ان اصولوں کی خوبصورتی اور فوائد کو سراہا ہے۔مثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے خلیفہ تھے، کے دور میں اسلام شام تک پھیل گیا اوروہاں اسلامی حکومت قائم ہوئی۔اس حکومت میں عیسائی شہریوں پر ان کے تحفظ کے لئے ایک ٹیکس عائد کیاگیا تھا۔ لیکن بعد میں جب رومی سلطنت نے اس کا کنٹرول سنبھالا تو مسلمان حکومت نے یہ ٹیکس واپس کردیا کیونکہ اب مسلمان حکمران ان عیسائیوں کی حفاظتاور ان کے حقوق ادا نہیں کرسکتے تھے۔مسلمان حکمرانوں کے پاس وہاں سے نکل جانے کے سوا کوئی راہ نہ بچی تھی اور مسلمانوں کو جاتا دیکھ کر وہاں کے غیر مسلم جو مسلمانوں کے زیرِ تسلط رہے تھے وہ بھی غمگین تھے۔انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں مسلمانوں کو واپس آنے کی التجا کی اور اس کے لئے بھرپوردعائیں کیں۔انہوں نے بغیر کسی تردّد کے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مسلمان ان پر دوبارہ سے حکومت کریں اور رومن حکومت کی ناانصافیوں سے ان کو محفوظ کریں۔ اس کے بعد جب مسلمان دوبارہ وہاں حاکم بنے تو سب سے پہلے جشن منانے والوں میں غیر مسلم ہی تھے، جو جانتے تھے کہ پھر سے ان کے حقوق قائم کئے جائیں گے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
یقیناً ابتدائی مسلمان اپنے تمام امور میں انصاف پسند اور شفاف تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کہ دوسرے خلیفہ تھے، کے پاسایک معاملہ پیش ہوا، جس میں ایک فریق مسلمان جب کہ دوسرا فریق یہودی تھا۔ ان دونوں کا مؤقف سننے کے بعد حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نےاس یہودی کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اسلام یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ دوسروں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا بہت ضروری امر ہے۔ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی کے ساتھ مذاکرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بالا ہے۔یہ سن کر اُس یہودی شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سرزنش فرمائی جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی دوست اور مخلص دوست بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ اس یہودی کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے تھا۔ گو کہ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا وہ اسلامی تعلیم کے مطابق تھا تاہم پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ سمجھایا کہ کسی مسلمان کو یہودی کے سامنے ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے اس کے جذبات مجروح ہوں۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم نہایت عمیق اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے مابین امن قائم کرنے کی بنیاد ہے۔ تاہم آج ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی رائے کے نام پر انبیاء اور مذہبی رہنماؤں کا استہزاء کیا جاتا ہے۔حالانکہ لاکھوں افراد ان کے پیروکار ہوتے ہیں اور ہرگز برداشت نہیں کرسکتے کہ ان کی اس طرح ہتک کی جائے۔ اگر ہم واقعی دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے الفاظ اور اعمال کے نتائج کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ہمیں دوسروں کے جذبات اور اقدار کا خیال رکھنا ہوگا۔ اس سے باہم قربتیں بڑھیں گی اور دنیا کے بیشتر حصوں میں جونفرت اورناراضگی کی فصیلیں قائم ہوگئی ہیں،انہیں گرانے میں مدد ملے گی۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
یقیناً امن کا قیام آج کی اہم اور اشد ترین ضرورت ہے۔ امن کا قیام ہی ہماری اوّلین خواہش اور مقصد ہونا چاہئے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چند مسلمانوں کے نفرت آمیز اعمال کا موجودہ تنازعات میں غیرمعمولی عمل دخل ہے۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہونی چاہئے کہ اُن کے یہ ظالمانہ فعل اسلامی تعلیمات سے دُوری کا نتیجہ ہیں۔مزید یہ کہ کئی غیر مسلم طاقتیں بھی ہیں جو کہ اپنی غلط حرکتوں اور سیاستوں کی وجہ سے ان اختلافات کی آگ کو مزید بھڑکا رہے ہیں۔بہرحال اگر کوئی قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا تعصب سے پاک ہوکر انصاف کی نظر سے مطالعہ کرے تو وہ جلد ہی جان جائے گا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سر تا پا امن کے خواہاں تھے۔ وہ جان جائیں گے کہ قرآنی تعلیمات دراصل تمام انسانیت سے محبت سکھاتی ہیں۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
آج ہم ایک ایسے دَور میں ہیں جو دن بدن بدامنی اور بے یقینی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چنانچہ دنیا کے ہر حصہ میں رہنے والے ہر فرد کے لئے یہ ضروری ہے کہ امن قائم کرنے کے لئے انفرادی سطح پر ذمہ داری اٹھائے۔ دنیا بھر میں اختلاف بدستور بڑھ رہے ہیں اور ہمیں ہر گز یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ایک حتمی جنگ کے سائے ہمارے سامنےمنڈلا رہے ہیں۔ ہم اپنے سامنے گٹھ جوڑ اور بلاکس بنتے دیکھ رہے ہیں اور مجھے خوف ہے کہ ہم پاگلوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے تیسری عالمی جنگ کی طرف بھاگتے چلے جارہے ہیں۔درحقیقت یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایسی جنگ کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں اور اس سے بھی اہم کہ ہم اگر اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کو جنگ کی اذیت اور اس کے تباہ کُن نتائج سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں لازماً اپنے خالق کے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔ ہمیں بلا تمیز رنگونسل ایک دوسرے کا احترام اور خیال کرنا ہو گا اور ہمیں لازماً ایک دوسرے کے مذہبی اور قومی جذبات کی قدر کرنی ہو گی۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمان حکومتیں اپنی رعایا کے لئے ناکام ثابت ہوچکی ہیں اور ان حکومتوں نے ناجائز طورپر اپنی رعایا کے حقوق دبائے ہوئے ہیں اور اسی بات کاانتہاپسند اور دہشت گرد گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور طاقت پکڑ گئے ہیں۔یہ گروہ اب تباہی اور بربادی پھیلا رہے ہیں اور نہ صرف مسلمان دنیا میں بلکہ انہوں نے اپنے جال کو مغرب تک پھیلا دیا ہے۔چنانچہ اسلام اور مسلمانوں کا خوف جڑ پکڑ چکا ہے اوراس میں دن بدن اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح کرنا چاہتاہوں کہ ان نام نہاد مسلمانوں کے یہ سفّاکانہ اعمال ہر گز اسلامی تعلیمات کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ان کے اپنے خفیہ مقاصد ہیں۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
جو کچھ میں نے کہا ہے اس کے تناظر میں میں مغربی حکمرانوں اور سیاستدانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے سیاسی اور معاشی مقاصد کی خاطر مسلمان رہنماؤں سے اچھے تعلقات بنانے کی بجائے ، اپنا تمام تر اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اور غیر جانبداربن کرمسلمان حکومتوں کی مدد کریں اور ان کی قیامِ امن کی طرف رہنمائی کریں۔ ورنہ یہ سیاستدان اور حکمران بھی دنیا کے امن کی بربادی میں برابر کے شریک ہوں گے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
ان دنوں یورپ کے رہنے والوں میں خوف اور بے چینی بڑھ رہی ہے کہ گذشتہ سال کے دوران یورپ میں بہت سے مہاجرین داخل ہو گئے ہیں۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مہاجرین کی ایک بھاری اکثریت نے یورپ میں اس لئے پناہ لی ہے کہ ان کے اپنے ممالک میں اندوہناک مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔لیکن درحقیقت اپنے ملکوں کے مظالم سے بھاگے ہوئے ان لاکھوں افراد کو جذب کرنے کی کسی بھی ملک بلکہ کسی بھی برِّ اعظم کو سکت نہیں۔ چنانچہ اس کا واحد حل یہی ہے کہ ان کے آبائی ممالک میں امن قائم کرنے کا ایک مستحکم نظام قائم کیا جائے اور ان ممالک میں مظالم کا خاتمہ کیا جائے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: میں ایک مرتبہ پھر تمام مہمانوں سے اور خاص کر یہاں تشریف لانے والے سیاستدانوں سے اور ملکی شخصیات سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ دنیا کے امن کے قیام کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ ورنہ دوسری صورت میں ہونے والی تباہی کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ تیسری عالمی جنگ بڑی تیزی سے قریب آرہی ہے اور اگر اسے روکانہ گیا تو اس کے تباہ کن نتائج نسلوں تک جائیں گے۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کئے جائیں۔ ایسی جنگ کے اثرات وہم و گمان سے باہر ہیں۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تمام لوگوں کو عقل اور حکمت عطا کرے اور اپنےلامتناہیفضل اور رحم سے ہم سب کی حفاظت کرے اور بنی نوع انسان کو باہم امن اور ہم آہنگی سے رہنے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ کرے کہ ہم جلد ہی موجودہ تلخ دور سے نکل کر ایک بہتر اور روشن مستقبل میں داخل ہوں جہاں تمام قومیں اور گروہ ایک ساتھ مل کر رہیں اور جہاں پیار ،محبت اور انسانیت کا بول بالا ہو۔ ان الفاظ کے ساتھ میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ۔
………………………
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا یہ خطاب سات بجکر 25 منٹ تک جاری رہا اور خطاب کے اختتام پر سارا ہال پُرجوش تالیوں سے کافی دیر تک گونجتا رہا۔
اس کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مہمان حضرات کو تحائف عطافرمائے اور اس کے بعد دعاکروائی۔
………………………
پروگرام کے مطابق اس تقریب کے آخر میں تمام مہمانوں نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی معیت میں کھانا کھایا۔
حضور انور کے ساتھ سینٹر ٹیبل پر منسٹر اور دیگر ممبران پارلیمنٹ موجود تھے۔ حضور انوران کے ساتھ مختلف امور پر گفتگو فرماتے رہے۔ بعض مہمان مختلف جگہوں پر کھڑے ہوکر اپنے کیمروں سے حضور انور کی تصاویر بناتے۔ تقریب کے آخر پر بھی مہمانوں کا ایک تانتا بندھ گیا اور سبھی نے حضور انور سے شرف مصافحہ حاصل کیا۔ ساتھ ساتھ تصاویر بنائی جاتی رہیں۔
آج کی اس تقریب میں ایک سو بیس سے زائد ڈینش مہمان شامل ہوئے۔
اس تقریب میں ممبرانِ پارلیمنٹ، منسٹرز، میئرز، کونسلرز، سیاستدانوں، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے علاوہڈنمارک میں متعین بیلجیم، مقدونیہ اور بولیویا کے ایمبیسڈرز ، امریکن ایمبیسی کے نمائندہ، رشین ایمبیسی کی فرسٹ سیکرٹری اور Fiona Kit Claudi Fron Iversen ریجن کے پولیس ڈائریکٹر بھی شامل ہوئے۔
………………………
تقریب میں شامل مہمانوں کے تأثرات
آج کی اس تقریب میں شامل ہونے والے بہت سے مہمان اپنے تأثرات اور دلی جذبات کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکے۔ ان مہمانوں میں سے چند ایک کے تاثرات ذیل میں درج ہیں:
٭…ایک مہمان خاتون Lise Simon جو کہ ٹورسٹ یونین کی صدر ہیں نے اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے کہا: میں بہت خوش ہوں کہ آج رات اس تقریب میں شامل ہوئی۔ خلیفہ کی تقریر بہت شاندار تھی۔ مجھے امید ہے کہ ہم سب امن کے ساتھ مل کررہ پائیں گے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح کی تقاریب ایک دوسرے کو سمجھنے میں اہم کردار اداکرسکتی ہیں۔
٭…ایک ڈینش مہمان Sten Hoffmanنے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا: سب سے پہلے تو میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ اداکروں گا کہ آپ نے مجھے اس تقریب میں مدعو کیا۔ مسلمانوں کی سچی تعلیم کے متعلقعزت مآب خلیفہ کی تقریر سن کر بہت زیادہ تسکین اور خوشی ہوئی۔ آج کے اس دور میں ایسے پیغام کی نہایت اشد ضرورت ہے۔ اللہ کرے کہ سکینڈے نیویا میں خلیفہ کے الفاظ بہترین رنگ میں سمجھے جائیں۔
٭…ایک مہمان Jonna Hansenنے کہا: آج کی خلیفہ کی تقریر نہایت دلچسپ اور سحر انگیز تھی۔ میں چاہتاہوں کہ آپ کی اس تقریر اور اس سوچ کا مزید گہرائی کے ساتھ مطالعہ کروں۔ یہ ایک معلومات اور اپنے اندر اثر رکھنے والی تقریر تھی جو انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے انسان کے خوبصورت خیالات پر مشتمل تھی۔
٭…ناکسکو کے تعلق رکھنے والے ایک ڈینش مہمان Klaus Frost Jensenنے کہا: یہ تقریب بہت اچھی تھی اور عزت مآب خلیفہ کو دیکھنا اور سننا بھی ایک یادگار تجربہ تھا۔
٭…لولینڈ (Lolland) کونسل کے ایک ممبر Leo Christensen بھی اس تقریب میں شامل ہوئے۔ انہوں نے اپنے جذبات کااظہارکرتے ہوئے کہا: خلیفہ کی تقریر بہت اثر رکھتی تھی۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ لاکھوں احمدی مسلمان بغیر کسی خوف کے محض دنیا میں امن کے قیام کی خاطرایک روشن مینار کی طرح کھڑے ہیں۔
٭…Lolland کونسل کے ایک اَور ممبر Heino Knudsen نے کہا: اس تقریب میں شامل ہونا میرے لئے نہایت فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ میرے نزدیک حضورکا یہ دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت ہمیں امن اور آزادی جیسے امور پر کثرت سے بات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ لوگ اس وقت مصائب کا شکارہیں جس کی وجہ سے لوگوں اور ان کے کلچر کے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں۔ خلیفہ عزت مآب نے ان مسائل پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور بڑی وضاحت کے ساتھ بتایاہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور بہت ہی پیارا مذہب ہے۔ یہ امر دنیا کے مستقبل کے لئے بہت ہی مفید ہے۔
٭…اس تقریب میں شامل ایک مہمان نے اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے کہا: میرے خیال میں یہ ایک بہت اہم تقریر تھی کیونکہ اس میں نہ صرف ڈنمارک بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک ضروری پیغام تھا جس کی ہم سب کو ضرورت ہے ۔ یقیناً عزت مآب خلیفہ امن پسند اور صلح پسند انسان ہیں۔
٭…ایک مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایاکہ حضورکی تقریر کے بعد میرے میز پر بیٹھے تمام لوگ اسلام کوصحیح سمجھنے کے حوالہ سے بات کررہے تھے۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ یقیناً بڑی خوشی کی بات ہے کہ اسلام اس خوبصورت انداز میں پیش کیاگیا ہے۔ خاص طور پر ڈینش لوگ تو اسلام کے ایک پہلو کو ہی جانتے ہیں۔ یہ لوگ جانتے ہی نہیں اسلام کے اندر مختلف فرقے موجود ہیں جو امن چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بتانا بہت ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے آج اس تقریب میں شامل تمام مہمان ایک نئے عزم کے ساتھ گھر جائیں گے۔
٭…ایک مہمان حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی تقریر اور شخصیت سے متاثر ہوکرکہنے لگے: حضور جب یہاں تشریف لائے تو میں نے اپنے اندر ایک سکون محسوس کیا۔ میں نہیں جانتا کہ آپ لوگ خلیفہ کو کس طرح منتخب کرتے ہیں مگر مجھے ان کے اردگرد ایک روشنی دکھائی دیہے جو بغیر الفاظ کے بہت کچھ کہہ رہی تھی۔ میرے لئے یہ ایک بہت اہم تجربہ تھا۔
٭…ایک مہمان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا: حضور نے جو باتیں بیان فرمائیں ان پر مجھے یقین کامل ہے ۔ یعنی امن کو برقرار رکھیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دوسروں سے وہی سلوک کیا جائے جو ہم اپنے ساتھ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔
ایک مہمان دوست نے بیا ن کیا: مجھے لگتا ہے کہ مذہبی آزادی کا موجود ہونا بہت ضروری ہے تا کہ رواداری کے ساتھ ہر مذہب کے لوگ اکٹھے رہ سکیں اور بغیر تشدد کے ہم کلام ہوسکیں۔ یہ ایک بہت اہم پیغام ہے۔
٭…تقریب میں شامل ایک مہمان نے بیان کیاکہ حضور کا خطاب آزادی، امن اور محبت کی واضح آواز تھی اور میں آج ایک نیا احساس لے کر گھر جاؤں گا کیونکہ آپ کا بیان نہایت واضح تھا۔ آپ نے بار بار ایک ہی پیغام دیاجو کہ میرے نزدیک دنیا کے لئے نہایت اہم ہے۔
٭…ایک مہمان نے اپنے تأثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا: آج کا یہ تجربہ میرے علم میں اضافہ کا موجب بنا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضور کا پیغام ہماری اور دیگر اقوام کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ چاہے آپ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ایک دوسرے کا احترام کرنا نہایت ضروری ہے۔
٭…ایک مہمان نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میں نے آج کا خطاب بہت اثر انگیز پایا۔ میرے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے کسی مسلمان راہنما کو خطاب کرتے سنا۔ حضور کی مخصوص مضامین پر رائے بہت دلچسپ تھی اور یہ خطاب نہایت جرأت مندانہ اور خوبصورت تھا۔ مجھے آج کا یہ خطاب سن کر بہت اچھالگا۔
٭…ایک مہمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے بتایا: مجھے امید ہے کہ آج کے خطاب کے بعد لوگوں کی مسلمانوں کے بارہ میں رائے ضرور تبدیل ہوگی۔ اب میں نے اسلام کو بہتر سمجھنے کے لئے ایک قرآن کریم بھی منگوایا ہے جس میں حاشیے بھی موجود ہیں۔ آج کی شام کے بعد مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہوا ہے۔
٭…ایک مہمان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا: میں نے حضور کی شخصیت کو بہت ہمدردانہ پایا۔ آپ نے اپنا خطاب بہت دلکش انداز میں پیش کیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ نے دیگر مقررین کی بات کو بھی بہت غور سے سنا۔ علاوہ ازیں تیسری جنگ عظیم کے بارہ میں آپ کی باتیں بہت بصیرت افروز تھیں جن کو سن کر میں تھوڑا گھبرابھی گیا تھا مگر آپ کے خطاب سے ہی پھر ایک قسم کی تسکین محسوس ہوئی۔
٭…ایک مہمان دوست نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: حضورنے جس انداز اور فلسفہ سے حالات حاضرہ پر روشنی ڈالی وہ نہایت اثر انگیز اور دلچسپ تھا۔
٭…ایک مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: کسی بھی تقریب کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس تقریب کا کوئی نہ کوئی مقصد ہو اور آج کی تقریب کا بھی ایک نہایت اہم مقصد تھا۔ آج اسلام کے نام پر دہشتگردی ہو رہی ہے۔ اس لئے ہمیں حضور انور اور آپ جیسے مزید لوگوں کی ضرورت ہے جو اسلام کی حقیقی اور پُرامن تعلیمات کو بیان کرتے ہیں۔ سب کے لئے ان خوبصورت تعلیمات کے متعلق جاننا ضروری ہے۔
٭…ایک مہمان نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا: مجھے آج کی تقریب بہت اچھی لگی۔ میرے نزدیک اس عالمی بحران کے وقت ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن کی مذہبی تعلیمات سب کے لئے امن، محبت اور احترام پر مبنی ہوں۔ ڈنمارک میں اسلام کے بارہ میں یہ تصور عام نہیں ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ میرے لئے یہی حقیقی اسلام ہے۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر سب کو پتہ لگ جائے کہ یہی حقیقی اسلام ہے تو دنیا کے حالات آج سے بہت مختلف ہوجائیں۔ میں آج حضورکے خطاب سے بہت محظوظ ہواہوں۔
٭…ایک ڈینش مہمان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میری رائے میں حضور انور کا خطاب بہت دلچسپ اور قابل توجہ تھا ۔ مجھے حضور انور کی نظر سے ایک بہت مثبت سوچ کے ساتھ نئے انداز میں دنیا کو سمجھنے کا موقع ملا۔ مجھے آپ کی باتیں سن کر بہت سرور اور اطمینان پہنچا ہے۔
٭…مصر کے ایک پروفیسر اس تقریب میں شامل ہوئے۔ حضور انور کا خطاب سن کر کہنے لگے کہ حضور انور نے جو باتیں بیان کی ہیں یہ میرے لئے نئی نہیں ہیں۔ مَیں خود بھی مسلمان ہوں۔ لیکن جس طریقہ سے خلیفہ نے پیش کی ہیں، مَیں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے کبھی نہیں سنیں۔ کاش ہمارے علماء اور لیڈرز اس طریقے سے ان باتوں کو سمجھتے اور پیش کرتے تو آج ہماری یہ حالت نہ ہوتی۔
٭…یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مَیں نے جو باتیں شروع میں سنیں مجھے بہت اچھی لگیں۔ اس کے بعد مَیں نے سوچا کہ شاید خلیفۃالمسیح ہمیں خوش کرنے کے لئے اپنی اچھی باتیں پیش کررہے ہیں۔ لیکن جب خلیفہ نے ڈینش کارٹونوں کے حوالہ سے بات کی تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ بات تو بہت اہم ہے اور بڑا سنجیدہ معاملہ ہے اور ڈینش لوگ اس کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی بات کرے تو بُرا بھی مناتے ہیں۔ لیکن جب خلیفہ نے اپنی بات مکمل کی تو اس طریق سے مکمل کی کہ اپنی بات سمجھا بھی دی اور کسی نے بُرا بھی نہیں منایا۔
دوسری بات جس نے مجھے بہت متأثر کیا وہ یہ ہے کہ خلیفہ نے اپنے خطاب میں جس عدل و انصاف کا ذکر اور سب دوسروں سے اس عدل کا مطالبہ بھی کیا۔ اس عدل کا انہوں نے اپنے خطاب میں بھی خیال رکھا۔ جہاں پر انہوں نے ویسٹرن حکومتوں کی کمزوریوں کا بھی ذکر کیا تو ساتھ ہی مسلمانوں کی غلطیوں اور ان کی کمزوریوں کی طرف بھی توجہ دلادی اور ایسا صرف ایک حقیقی اور سچے روحانی لیڈر سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔
٭…چرچ کی ایک نمائندہ خاتون نے کہا کہ میرا خلیفۃالمسیح کو ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔ جب اسے بتایا گیا کہ خلیفۃالمسیح عورتوں کی عزّت اور احترام میں ان کے ساتھ اپنا ہاتھ نہیں ملاتے تو اس پر وہ کہنے لگی کہ خلیفۃالمسیح کا وجود بہت پاکیزہ اور روحانی وجود ہے۔ مَیں کمزور اور گنہگار ہوں۔ مَیں سوچ بھی نہیں سکتی کہ مجھ جیسے کمزور وجود کا ہاتھ اس روحانی وجود کو چھُوئے۔
………………………
سوا آٹھ بجے یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ ہوٹل سے روانہ ہونے سے قبل ناکسکوو سے آنے والے مہمانوں نے حضور انور کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے کی سعادت پائی۔ ناکسکوو سے مہمانوں کا ایک بڑا وفد آج کی اِس تقریب میں شمولیت کے لئے بذریعہ بس آیا تھا۔
بعد ازاں یہاں سے روانہ ہوکر پونے نو بجے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد واپس تشریف لے آئے۔
سوا نو بجے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ’’مسجد نصرت جہاں‘‘ میں تشریف لاکر نماز مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ پر واپس تشریف لے گئے۔
(باقی آئندہ)




