خلاصہ خطبہ جمعہ

تحریکِ جدید کے بانوےویں(۹۲)سال کے دوران افرادِ جماعت کی طرف سے پیش کی جانے والی مالی قربانیوں کا تذکرہ اورترانوےویں(۹۳)سال کے آغاز کا اعلان۔ خلاصہ خطبہ جمعہ۶؍نومبر ۲۰۲۶ء

٭ …تحریکِ جدید کے بانوے ویں سال کے اختتام پر جماعت ہائے احمدیہ عالَم گیر کو دورانِ سال اس مالی نظام میں ۲۰.۲۸؍ملین پاؤنڈ مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ یہ وصولی گذشتہ سال کے مقابلے میں سات لاکھ ۲۷؍ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے

٭… مالی قربانی کی اہمیت نیزمختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مخلص احمدیوں کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات کا بیان

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۶؍نومبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۶؍نبوت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۶؍نومبر ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںفرماتا ہے: لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ۔ یعنی تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم اُن چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت طلحہؓ نے اپنا سب سے قیمتی باغ جس کا نام بریحاء تھا آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا کہ یہی میری سب سے پیاری جائیداد ہے۔ اس کے علاوہ بھی احادیث میں آتا ہے کہ بہت سے صحابہؓ تھے کہ جو جب بھی مالی قربانی کی تحریک ہوتی اس میں پیش پیش رہتے اور اپنا مال آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور یہ روشن ستارے آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا دَور آیا تو اس دَور میں حضرت مسیح موعودؑ کی تحریکات پر صحابہؓ نے بھی قربانیاں دیں اس لیےکہ آپؑ نے صحابہ ؓکو ان قربانیوں کا ادراک عطا فرمایا ۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ بیکار اور نکمّی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔ پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ نکمّی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نص صریح ہے لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔جب تک عزیز سے عزیزاور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔ اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے توکیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو۔ کیا صحابہ کرامؓ مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا۔ دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کے لیے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ملتا ہے۔ پھر خیال کرو کہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضا مندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا؟بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔ خدا ٹھگا نہیں جاسکتا۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الٰہی کے حصول کے لیے تکلیف کی پروا نہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔

یہ وہ روح ہے جو حضرت مسیح موعود ؑنے جماعت میں پیدا کرنے کی کوشش فرمائی۔آپؑ کے صحابہ ؓبھی قربانیوں میں اتنے بڑھ گئے کہ آپؑ کو کہنا پڑا کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایسے بھی ہماری جماعت میں داخل ہیں جن کے بدن پر مشکل سے لباس ہوتا ہے مشکل سے چادر یا پاجامہ میسّر آتا ہے اور اخلاص و وفا اور ارادت اور محبت دیکھ کر طبیعت میں حیرانی اور تعجب پیدا ہوتا ہے۔

آپؑ نے جو تبدیلی پیدا فرمائی اس کی کوئی اَور مثال نظر نہیں آتی۔ہر سال مَیں مختلف واقعات بیان کرتا ہوں کہ کس طرح لوگ اپنی ذاتی ضروریات کو پس پشت ڈال کر قربانیاں پیش کرتےہیں۔

آج قربانی کی روح کا ادراک جتنا احمدی کو ہے کسی اَور کو نہیں۔ آج ہمیں ایسی مثالیں جماعت میں نظر آتی ہیں۔ بہت سے ہیں جنہوں نے کبھی خلیفہ وقت کو دیکھا بھی نہیں ۔ صرف ایم ٹی اے پر تصویر دیکھ لی یا آواز سن لی مگر اخلاص و وفا میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔دنیا ان لوگوں کو نہیں جانتی یہ لوگ بظاہر کم تعلیم یافتہ ہیں لیکن قرآن کریم کی تعلیم کا ادراک رکھتے ہیں اوراس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک مثال گوادیلوپ ایک نَو احمدی کی ہے جو حال ہی میں جلسہ سالانہ برطانیہ میں بھی شامل ہوئے اور مجھ سے بھی ملے ۔ یہاں دیکھا کہ جماعت کس طرح کام کر ہی ہے ۔انہیں بتایا گیا کہ جماعت کا مالی نظام بھی ہے اور اس طرح لوگ چندے دیتے ہیں اور اس سے اشاعت اسلام کا کیا کیا کام ہو رہا ہے۔ ان قربانیوں کے مصارف کے متعلق جب ان کو بتایا گیا تو انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ میں نے جلسہ سالانہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جماعت کس طرح ان اموال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتی ہے۔ مشنری صاحب لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کا ایک اَور ایمان افروز پہلو یہ ہے کہ جب تحریک جدید کے چندہ کا آخری دن تھا تو میرے پاس آئے کہ میرا چھ سالہ بیٹا ہے ۔ یہ اس کی طرف سے چھ یورو چندہ ہے۔کہتے ہیں میں اپنے بیٹے کو بتاتا تھا کہ جماعت کیسے قربانیا ں کرتی ہے ۔ میں اس کو پارک لے کر گیا جھولوں کی ٹکٹ لینے لگا تو اس نے کہا کہ میں آج جھولوں پر نہیں بیٹھوں گا بلکہ یہ پیسے میری طرف سے اللہ کے راستے میں دے دیں۔یہ بظاہر معمولی رقم ہے لیکن اس بچہ کی طرف سے عظیم قربانی ہے۔

گنی کناکری کا ایک واقعہ ہے کہ تولا صاحب ایک احمدی ہیں جو بہت غریب ہیں۔انہوں نے اپنا تحریک جدید کا چندہ تیس ہزار فرانک لکھوایا۔ کہتے ہیں کہ میری بیٹی کی شادی بھی تھی۔ مَیں نے اس کے لیے رقم جمع کی ہوئی تھی ۔ اسی دوران معلم صاحب چندہ لینے آ گئے ۔ میں نے شادی کے لیے جمع کی گئی یہ رقم ان کو دے دی کہ چندہ میں شامل کر لیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا بھی ایسا احسان ہوا کہ میرا ایک بیٹا جو لمبے عرصے سے فرانس جانے کے لیے گھر سے نکلا تھا اور اس کاکچھ پتہ نہیں تھا بلکہ اس کو اتنی دیر ہو گئی تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ وہ راستے میں کہیں خدانخواستہ فوت ہو چکا ہےاور ہم اس کا جنازہ بھی پڑھ چکے تھے ۔اچانک ایک دن اس کی کال آئی اور اس نے بتایا کہ میں فرانس پہنچ گیا ہوں اور یہ بھی بتایا کہ میں آپ کے اخراجات کے لیے ایک بڑی رقم آپ کو بھجوا رہا ہوں۔تو کہتے ہیں کہ اس بات سے میرے ایمان میں بڑا اضافہ ہوا کہ چندہ کی وجہ سے ایک تو مجھے اپنے بیٹے کی خبر مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے کئی گنا بڑھ کر مجھے رقم بھی واپس کر دی ۔

امیر صاحب نائیجر لکھتے ہیں کہ ملک کے ایک ریجن میں بہت سی جماعتیں ہیں ۔ گذشتہ دو سال سے اس علاقے میں دہشت گردوں کے حملے ہوتے رہے۔ بہت خراب حالات ہیں۔ وہاں جانا بھی ممکن نہیں ہے ۔ حکومت کی طرف سے راستہ پر چیک پوسٹیں ہیں۔ دہشت گرد احمدیوں کے اموال، اناج اور جانور وغیر ہ چھین کر لے جاتے ہیں۔ لوگ وہاں سے کہیں اَور جا بھی نہیں سکتے۔ایسے حالات میں ہمارے معلم بھی وہاں نہیں جا پا رہے ۔ ان جماعتوں کی طرف سے معلم صاحب سے رابطہ کیا گیا کہ ہم نے اپنا چندہ جمع کر لیا ہے اور ہم آپ کو بھجوا دیں گے۔پھر گذشتہ سال سے زائد رقم چندہ کے لیے بھجوائی۔آجکل بہت سے افریقی ممالک میں حالات بہت خراب ہیں ۔وہاں کے احمدیوں کے لیے بہت دعا کرنی چاہیے۔

ارجنٹائن کے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک مخلص احمدی ہیں ناصرارکیونس صاحب جو ارجنٹائن کے پہلے لوکل احمدی ہیں۔ ملک کے معروف صحافی تھے لیکن کچھ سال سے معذور ہو چکے ہیں۔ ان کی فیملی مستقل مالی تنگی کا سامنا کر رہی ہے۔بعض اوقات دوائی کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔مربی صاحب کہتےہیں کہ مَیں نےان کو کہا کہ آپ کے حالات تو ایسے نہیں کہ چندہ دے سکیں لیکن اگر برکت کے لیے کچھ دینا چاہیں تو دے دیں۔ اس بات کو سن کر موصوف نے چند دن بعد خود رابطہ کیا اور بتایا کہ مَیں نے جماعتی اکاؤنٹ میں چندہ کی رقم بھیج دی ہے ۔دیکھا گیا تو انہوں نے پچیس ڈالر کی رقم بھیجی تھی ۔ یہ معمولی رقم ہے لیکن ان کے ذاتی حالات کے پیش نظر یہ غیر معمولی قربانی تھی۔ اپنے فیملی میں واحد احمدی ہیں۔ فیملی کی طرف سے بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ جماعت سے الگ ہو جائیں لیکن موصوف مضبوط ایمان والے ہیں۔

بینن کا واقعہ ہے کہ ایک نَو احمدی جنہوں نے عیسائیت سے احمدیت قبول کی تھی ۔ان کی چھوٹی سی دکان ہے۔ کہتےہیں کہ میرے پاس دس ہزار فرانک رقم تھی۔ میری بیٹی میرے پاس آئی کہ سکول انتظامیہ نے سکول سے نکال دیا ہے کہ فیس نہیں دی۔ میں سکول کی فیس دینے کی تیاری کر رہا تھا۔ اسی دوران معلم صاحب تحریک جدید کے حوالے سے آ ئے۔ مَیں نے وہ رقم چندے میں دے دی۔ اللہ کا ایسا فضل ہوا کہ اس روز اس کے بعد اتنے گاہک آئے کہ دو لاکھ فرانک قیمت کے مال کی فروخت ہوئی اور بہت منافع ہوا۔ چنانچہ میں نے اسی روز فیس بھی ادا کی۔

بہت سارے لوگ واقعات لکھتے ہیں کہ ہم مالی قربانیاں کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔ دعا کے لیے مجھے بھی لکھتے رہتے ہیں۔ ان قربانیوں کی وجہ سے ان کے بگڑے ہوئے کام سنور جاتے ہیں ،بچوں کی اصلاح ہو جاتی ہے۔

کینیڈا سے نیشنل سیکرٹری تحریک جدید لجنہ اماء اللہ لکھتی ہیں کہ ایک لجنہ ممبر اپنا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ میں نے ہمیشہ اپنی حیثیت کے مطابق چندہ ادا کیا ہے۔ گذشتہ سال جو میں نے خطبہ دیا تو اس میں مَیں نے حضرت اماں جان ؓ کی مثال دی کہ وہ شروع میں اپنا وعدہ لکھواتیں اور پھر پورا بھی کر دیتیں۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے سوچا اس پر عمل کروں اور اپنا وعدہ لکھوا دیا اورادا بھی کر دیا جو کہ دو ماہ کی تنخواہ کے برابر تھا۔ پھر اللہ کی برکات کامشاہدہ کیا جیسے کوئی چھپا ہوا خزانہ مل گیا ہے۔ بہت سارے رُکے ہوئے کام ہو گئے۔ ایک گھر بڑی اچھی قیمت میں بِک کیا۔دوسری جگہ نیا گھر خریدنے کی توفیق مل گئی۔

روس کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ ایک مخلص قربانی کرنے والے احمدی ہیں ۔انہوں نےایک روز نماز جمعہ کے بعد ایک مناسب رقم مجھے دی۔ میں نے کہا کہ آپ کا کوئی بقایا نہیں ہے۔ کہنے لگے کہ میں اپنے آبائی ملک گیا تھا اور واپس ماسکو آیا ہوں تو مجھے دوسرے ملک کے مسافروں کے ساتھ ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔ پہلے بھی امیگریشن حکّام بڑی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کو روک کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ میرا دھیان گیا کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے ہمیشہ کام ہوا ہے۔ مَیں نے عہد کیا کہ اگر مجھے واپس نہ بھیجا گیا تو اپنے ملک جانے کی ٹکٹ کے برابر رقم خدا کی راہ میں دوں گا۔ آخر پر مجھے چھوڑ دیا گیا اور میں اپنے وعدے کے مطابق یہ رقم دے رہا ہوں۔

جرمنی کے ایک دوست ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں ٹیکس آفس کو پچاس ہزار یورو ادا کرنا پڑا۔ ہم تحریکات اور دیگر چندوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتےہیں۔ کچھ دنوں بعد ٹیکس آفس کی طرف سے خط ملا کہ ہم نے آپ سے جو ٹیکس لیا ہے اس میں پانچ ہزار یورو زائد ہیں۔آپ نے چھپائے نہیں ہیں ۔ ہم آپ کو یہ رقم واپس کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب یہ رقم واپس آئی تو ہم نے سوچا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو ہم خرچ کرتے ہیں اس کا نتیجہ ہے۔اس لیے اس پر ہمارا کوئی حق نہیں۔ چنانچہ ہم نے یہ تمام رقم چندہ میں دے دی۔

حضور انور نے فرمایا کہ اس طرح کے اَوربھی بہت سے واقعات ہیں کہ لوگ اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر قربانیاں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے دین کی محبت کی خاطر قربانیاں کرتے ہیں اور پھراللہ تعالیٰ ان کو نوازتا ہے۔

اس کے بعد حضور انور نے تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان فرمایا اور گذشتہ سال کے کوائف نیز تحریک جدید کے چندے کے اخراجات کا اجمالی خاکہ بیان فرمایا جس کی تفصیل درج ذیل لنک پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے:

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: قناعت اور سادگی کے حوالے سے سیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۳۰؍اکتوبر ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button