ماہ رمضان المبارک کی اہمیت اور اس سے متعلقہ بعض مسائل
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے : یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرہ:184 )
ترجمہ: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہوتم پر روزے اُسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اُس کی ذات کے لئے ہوتا ہے سوائے روزوں کے۔ پس روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے اور میںہی اِس کی جزا بنوںگا۔ اور روزے ڈھال ہیں۔ اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ شہوانی باتیں اور گالی گلوچ نہ کرے۔ اور اگر اُس کو کوئی گالی دے یا اُس سے جھگڑا کرے تو اُسے جواب میں صرف یہ کہنا چاہئے کہ مَیں توروزہ دار ہوں۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے روزہ دارکے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ طَیِّبہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جو اُسے خوش کرتی ہیں۔ ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ اور دوسرے جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا۔‘‘
(بخاری کتاب الصوم باب فضل الصوم)
حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کی ہر رات اللہ تعالیٰ منادی کرنے والے ایک فرشتہ کو عرش سے فرش پر بھیجتا ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ : اے خیر کے طالِب! آگے بڑھ ۔کیا کوئی ہے جو دُعا کرے تاکہ اُس کی دُعا قبول کی جائے ؟کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اُسے بخش دیا جائے؟ کیا کوئی ہے جو توبہ کرے تاکہ اُس کی توبہ قبول کی جائے؟کیا کوئی ہے جو سوال کرے جس کو پورا کیا جائے ؟ (شعب الایمان باب فضائل الصوم)
ایک دوسری روایت میںفرمایا:ماہِ رمضان کے استقبال کے لئے یقینا ساراسال جنت سجائی جاتی ہے۔اور جب رمضان آتا ہے تو جنت کہتی ہے کہ یا اللہ اس مہینہ میں اپنے خالص بندوں کو میرے لئے خالص کردے۔
(بیہقی شعب الایمان)
ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’رمضان کے مہینہ کا خاص خیال رکھو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے جو بڑی برکت والا اور بلند شان والا ہے۔اُس نے تمہارے لئے گیارہ ماہ چھوڑ دیئے ہیں جن میں تم کھاتے ہو اور پیتے ہو اور ہرقسم کی لذات حاصل کرتے ہو مگر اُس نے ایک مہینہ کو خاص کر لیا ہے۔(مجمع الزوائد)
روزہ اتنی مبارک عبادت ہے کہ اس میں روزہ دار کی ہر حرکت و سکون عبادت میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کا خاموش رہنا بھی اُس کے لئے عبادت بن جاتا ہے۔اُس کی نیند بھی اُس کی عبادت شمار ہوگی اور اُس کی دعائیں مقبول ہوں گی اور اُس کے عمل کی جزا بڑھا دی جائے گی۔ (کنزالعمال)
روزے کی غرض
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود ومہدی معہودعلیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں:
’’ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اُسی قدر تزکیۂ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خداتعالیٰ کا منشاء اِس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھائو۔ ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدّنظر رکھنا چاہئے کہ اِس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اُسے چاہئے کہ خداتعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تَبَتُّل اور اِنۡقِطاَع حاصل ہو۔پس روزہ سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو جسم کی پرورش کرتی ہے، دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلّی اور سیری کا باعث ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ102)
سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ روزہ رکھنے والا برائیوں اور بدیوں سے بچ جاتا ہے اور یہ غرض ا ِس طرح پوری ہوتی ہے کہ دنیا سے اِنۡقِطَاع کی وجہ سے انسان کی روحانی نظر تیز ہو جاتی ہے اور وہ اُن عُیُوۡب کو دیکھ لیتاہے جو اُسے پہلے نظر نہ آتے تھے … روزہ یہ ہے کہ منہ کو کھانے پینے سے ہی نہ روکا جائے بلکہ اُسے ہر… نقصان دہ اور ضرر رساں چیز سے بھی بچایا جائے۔ نہ جھوٹ بولا جائے،نہ گالیاں دی جائیں، نہ غیبت کی جائے، نہ جھگڑا کیا جائے… اِس کے نتیجہ میں تقویٰ پرثبات قدم حاصل ہوتاہے اورانسان کو روحانیت کے ا علیٰ مدارج حاصل ہوتے ہیں… حدیث میں آتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اَلصََّوْمُ لِیْ وَاَنَااُجۡزٰی بِہٖ یعنی ساری نیکیوں کے فوائد اور ثواب الگ الگ ہیں لیکن روزہ کی جزا خود میری ذات ہے۔ اورخداتعالیٰ کے ملنے کے بعد انسان کو اور کیا چاہئے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ374-377)
ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اَ یَّدَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی بِنَصۡرِہِ الۡعَزِیۡزِ فرماتے ہیں:
’’ روزہ ڈھال ہے۔ حفاظت کا ایک ایسا مضبوط ذریعہ ہے جس کے پیچھے چھپ کر تم اپنے آپ کو شیطان کے حملوں سے محفوظ کر سکتے ہو ۔۔۔۔۔ یہ قلعہ تو ہے لیکن اس ڈھال کے پیچھے اور اس قلعہ کے اندر کب تک اس قلعے میں حفاظت ہوتی رہے گی، کب تک محفوظ رہو گے…جب تک اس کو جھوٹ یا غیبت کے ذریعے سے پھاڑ نہیں دیتے۔ ۔۔۔۔۔۔ اگر جھوٹ بول رہے ہو تواس ڈھال کو پھاڑ دیتے ہو۔ لوگوںکی غیبت کر رہے ہو چغلیاں کر رہے ہو، پیچھے بیٹھ کے ان کی باتیں کر رہے ہو تو یہ بھی تمہارے روزے کی ڈھال کو پھاڑنے والی ہیں۔ تو روزہ اگر تمام لوازمات کے ساتھ رکھا جائے تو ڈھال بنے گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ15؍اکتوبر2004ء۔خطبات مسرورجلد2 صفحہ748-754)
رمضان کے بعض مسائل
رؤیت ہلال :
سوال: رمضان کے مہینے کی ابتدا کا علم ہمیں کس طرح ہو سکتا ہے ؟
جواب :۔ اسلام نے بعض عبادات کا تعلق سورج سے باندھا ہے اور بعض کا چاند کے ساتھ ۔ مثلا نماز کے اوقات کا تعین سورج کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہوتا ہے اور حج کی عبادت کا تعلق چاند کے مہینوں کے ساتھ ہے ۔ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس کی عبادت میں چاند اور سورج دونوں کو شریک کیا گیا ہے ۔ رمضان کا آغازاور اختتام چاند دیکھ کر کیا جاتا ہے جب کہ دوران روزہ سحری و افطاری کے اوقات کا تعین سورج کے طلوع و غروب کے ساتھ ہے ۔
قرآن کریم نے رمضان کے آغاز کا تعلق چاند سے باندھا ہے ۔ چنانچہ فرمایا : {فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ}شَھِدَ شھرًا سے مراد یہ ہے جو رمضان کو طلوع ہوتا دیکھے ۔ یعنی رمضان کا چاند جس پر طلوع ہوگا وہ روزے رکھے۔یعنی وہ جس نے چاند طلوع ہوتے نہیں پایا وہ روزے نہ رکھے ۔ وہ اسی وقت رکھے گا جب اس کے افق کے مطابق چاند ظاہری آنکھ سے نظر آسکتا ہو ۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :۔
’’ شَھِدَ مِنْکُم سے مراد یہ ہے وہ لوگ جن کا اُفق ایک ہے ، جن کے ہمیشہ سے ہی چاند اکٹھے طلوع ہوتے ہیں، جب طلوع ہوتے ہیں سب پر ہی طلوع ہوتے ہیں ، جب غروب ہوتے ہیں تو سب پر ہی غروب ہوتے ہیں۔ پس وہ لوگ جن کا اُفق مشترک ہو ان میں سے کوئی بھی دیکھے تو سب قوم کے دیکھنے کا حکم ان پر صادق آجائے گا گویا ساری قوم نے دیکھ لیا۔‘‘
(الفضل انٹر نیشنل یکم تا سات نومبر2002ء صفحہ:7 )
حدیث میں آتاہے کہ : صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہٖ وَ اَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ۔(متفق علیہ ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کے مہینے کا آغاز اور اختتام چاند دیکھ کر کیا کرو ۔ اوراگر اس کے متعلق شبہ پیدا ہو تو اس اصول کو مد نظر رکھو کہ چاند کا مہینہ یا تو انتیس دنوں کا ہو گا یا پھر تیس دنوںکا ۔ چنانچہ فرمایا : الشھر تسع و عشرون لیلۃً فلا تصو موا حتیٰ تروہ فان غم علیکم فاکملوا العدّۃ ثلاثین۔ یعنی ’’ کبھی چاند کا مہینہ انتیس رات کا ہوتا ہے ( اور کبھی تیس رات کا ہوتا ہے ) پس اے مسلمانو! رمضان کے روز ے اس وقت تک شروع نہ کیا کرو جب تک کہ شعبان کی انتیس تاریخ کے بعد چاند نہ دیکھ لو۔ اور اگر انتیس تاریخ کی شام کو تمہارے علاقہ میں بادل ہوں تو اس صورت میں تیس کی گنتی پوری کر کے روزے شروع کیا کرو۔‘‘(بخاری کتاب الصوم باب قول النبی اذا رایتم الہلال )
اس صحیح حدیث میں جو بخاری اور مسلم دونوں میں آتی ہے ہلال کی رؤیت کایہ واضح اور صاف طریق بیان کیا گیا ہے کہ چونکہ چاند کا مہینہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔ اس لئے اگر انتیس شعبان کی شام کو چاند نظر آجائے اور لوگ اسے دیکھ لیں تو ٹھیک۔ لیکن اگر انتیس کو چاند نظر نہ آئے یا مشتبہ ہو تو پھر تیس کی گنتی پوری کر کے اگلے دن سے روزہ شروع کرنا چاہئے۔
آج کل علم فلکیات کے ذریعہ پہلے ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ چاند نکلے گا یا نہیں یعنی چاند کا مہینہ انتیس دنوں کا ہو گا یاتیس دنوں کا ۔ اسلام جدید سائنسی ذرائع استعمال کرنے سے منع نہیں کرتا ۔ آج کل انٹرنیٹ پر ایسے تفصیلی چارٹ نکل آئے ہیں جو چاند کے نکلنے کا پورے سال کا نقشہ بتا دیتے ہیں اور اس سے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ چاند کس زاویہ پر ظاہری آنکھ سے نظر آنے کے قابل ہو جائے گا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے ۔ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا :۔
’’یہ بھی ہو سکتاہے کہ مشینوں کے ذریعہ چاند دکھائی دے جاتا ہولیکن نظر سے نہ دکھائی دیتا ہو۔۔۔۔۔۔چاند جو طلوع ہوتا ہے وہ جب زمین کے کنارے سے اوپر آتا ہے تو اگرچہ سائنسی لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ زمین کے افق سے چاند ذرا سا اوپر آچکا ہے۔ لیکن وہ چاند لازم نہیں کہ نظرسے دیکھا جا سکتا ہو۔ ا س لئے سائنسدانوں نے بھی ان چیزوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ اگر آپ اچھی طرح ان سے جستجو کر کے بات پوچھیں تو و ہ آپ کو بالکل صحیح جواب دیں گے کہ دیکھو یہ تو ہم یقینی طورپر معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ چاند کس دن کتنے بجے طلوع ہوگا۔یعنی سورج غروب ہوتے ہی اوپر ہو چکا ہو گا ،لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لو کہ اگر موسم بالکل صاف ہواور کوئی بھی رستے میں دھند نہ ہو تب بھی تم اس کو اپنی آنکھ سے دیکھ سکتے ہو کیونکہ چاند کو طلوع ہونے کے بیس منٹ یا کچھ اوپر مزید چاہئے۔ اور ایک خاص زاویے سے اوپر ہونا چاہئے۔ اگر وہاں تک پہنچے تو پھر آنکھ دیکھ سکتی ہے ورنہ نہیںدیکھ سکتی۔۔۔۔ اگر وہ مولوی صاحبان ان لیبارٹریز سے یا جو اُن کے مراکز ہیں آسمانی سیاروں وغیرہ کے ان سے پوچھتے تو وہ صاف بتا دیتے کہ نکلے گا تو صحیح لیکن تم اس کی شہادت نہیں دے سکتے۔ تم اپنی آنکھ سے اس کو کبھی بھی دیکھ نہیں سکتے ۔ کیونکہ جتنا وہ نکل کے اونچا جاتا ہے اس طلوع سے کوئی آنکھ بھی اس کو اس لئے نہیں دیکھ سکتی کہ وہ زمین کے بہت قریب ہوتا ہے اور زمین کے قریب کی فضا اس کی شعاعوں کو نظروںتک پہنچنے سے پہلے پہلے جذب کر چکی ہوتی ہے ۔ … سائنسدان ہی یہ بھی آپ کو بتاتے ہیں اور قطعیت سے بتاتے ہیں کہ اگر اتنے منٹ سے اوپر چاند ہو چکا ہو یعنی سورج ڈوبنے کے بعد مثلا ً پندرہ منٹ کی بجائے بیس منٹ رہے تو پہلے پندرہ منٹ میں اگر دکھائی نہیں دے سکتا تو آخری پانچ منٹ میں دکھائی دے سکتا ہے ۔یا اس کا زاویہ اتنا ہو کہ وہ زمین کے ایسے افق سے اونچا ہو چکا ہو جو افق چاند اور ہماری راہ میں حائل رہتا ہے ۔ اس سے جب اونچا ہو گا تو لازماً دیکھ سکتے ہو ۔پھر بادل ہوں تو الگ مسئلہ ہے ، لیکن اگر بادل نہ ہوں تو لازماً ننگی آنکھ سے دیکھ سکتے ہو۔ … سائنسی فتویٰ بعینہ وہی ہوگا جن شرائط کے ساتھ میں بیان کر رہا ہوں جو ننگی آنکھ سے دیکھنے کا فتویٰ ہے۔ تو اس لئے یہ دور ایسا ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کے قائم کردہ قوانین کو خدانے خود ہی بندوںکے لئے مسخرفرما رکھا ہے اور نئی نئی باتیں جو ہمارے علم میں آرہی ہیں ان کو خدمت دین میں استعمال کرنا چاہئے ۔
پس جماعت احمدیہ کی طرف سے جو کیلنڈر شائع ہوتے ہیں اور ابھی بھی یہاں ہو چکے ہیں یا ہر ملک میں ہوتے ہیں ان کی گواہی قطعی ہے کیونکہ ہم کبھی بھی ایسی گواہی کو قبول نہیں کرتے جہاں ننگی آنکھ سے چاند کا دیکھنا ممکن نہ ہو۔ جہاں یقینی ہو کہ اگر موسم صاف ہے تو چاند ضرور دکھائی دے گا وہاں قبول کیا جاتا ہے۔ اور مہینوں کے جو دوسرے دن ہیں یا اس کا شروع اور آغاز، دوسرے مہینوں سے تعلقات، وہ ہمیشہ ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ اگر غلطی ہو تو بعض دفعہ عجیب سی غلطی بن جاتی ہے۔ بعض مہینے اس کے اٹھائیس دن کے رہ جاتے ہیں۔ اور اٹھائیس دن کا مہینہ ہو ہی نہیں سکتا چاند کا۔ یہ کوئی فروری تو نہیں جو اٹھائیس دن کا آئے، چاند کا توہر مہینہ انتیس کا ہو گا یا تیس کا ۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کا جو فیصلہ ہے وہ قطعی اور درست ہے۔ اور قرآن کریم کے عین مطابق ہے۔ (الفضل انٹر نیشنل یکم تا سات نومبر2002ء صفحہ:7 )
سوال : سحری اور افطاری کے کھانے پینے کے اوقات اور اس کے شرعی مسائل کیا ہیں؟
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: اور کھاؤ اور پیویہاں تک کہ فجر(کے ظہور) کی وجہ سے (صبح کی) سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے تمہارے لئے ممتاز ہو جائے۔ پھر روزے کو رات تک پورا کرو ۔ (البقرہ:188)
حضرت عدیؓ بن حاتم سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ یا رسول اللہ !میں نے اپنے تکیے کے نیچے سیاہ اور سفید دو دھاگے رکھے ہوئے ہیں اُنہیں دیکھ کر میں صبح کا اندازہ لگاتا ہوں۔ تو آپ ؐ ؐنے مسکراتے ہوئے فرمایا پھر تو تیرا تکیہ بہت وسیع ہے جس میں مشرق کا سارا اُفق سما جاتا ہے ۔فرمایا اِنَّمَا ھُوَ سَوَادُ الَّیۡلِِ وَبَیَاضُ النَّھَارِِ کہ سفید اور سیاہ دھاگے سے مراد رات کی تاریکی اور دن کی روشنی ہے ۔ (بخاری کتاب التفسیر)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :۔
’’ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۔اس جگہ لیل سے گہری تاریکی مراد نہیں بلکہ صرف سورج غروب ہونے کا وقت مراد ہے ۔ چنانچہ احادیث میں آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیۡرٍ مَا عَجَّلُو الۡفِطۡرَ (مسلم کتاب الصیام ) کہ جب تک لوگ سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ خیر پر قائم رہیں گے ۔ یعنی احکام اسلامی کی حقیقی روح ان میں زندہ رہے گی ۔ ورنہ جب لوگ رسوم یا وہم سے کام لینے لگتے ہیںتو فرائض سے غافل ہو جاتے ہیں اور اُن کے اوہام انہیں دور از کار باتوں میں الجھا دیتے ہیں۔ اور اُن کی حالت بالکل اس شخص کی سی ہو جاتی ہے جو نماز کی نیت باندھتے ہوئے اپنے وہم میں اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ پہلے تو امام کو انگلی مار مار کر کہتا کہ پیچھے اس امام کے اور پھر رفتہ رفتہ اُس نے امام کو دھکے دینے شروع کر دئیے ۔ اِسی طرح جن لوگوں کاوہم بڑھ جاتا ہے وہ پہلے سورج کے غروب ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ مگر چونکہ ابھی سُرخی باقی ہوتی ہے اس لئے ان کی تسلی نہیں ہوتی اور وہ زیادہ انتظار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب گہری تاریکی چھا جائے تب افطاری کرتے ہیں۔ یہ طریق شریعت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اَتِمُّوا الصِیَّامَ اِلَی الَّیۡلِ کا حکم دیا ہے۔ اور لیل کا وقت سورج ڈوبنے سے لے کر سورج نکلنے تک ہے۔ یہ مراد نہیں کہ جب تک اچھی طرح تاریکی نہ چھا جائے اس وقت تک تم روزہ افطار ہی نہ کرو۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 412، 413 )
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سحری میں تاخیر کو پسند فرماتے تھے ۔حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ؐنے فرمایا ۔ ہم انبیاء کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطاری جلدی کریں اور سحری تأخیر سے کریں ۔اسی لئے آپؐ صحابہ کو تلقین فرماتے کہ عَجِِّلُواالۡاِفۡطَارَ وَاَخِّرُواالسُّحُوۡرَ۔ (ترمذی ابواب الصوم باب فی تأخیر السحور)
اسی طرح فرمایاکہ جب تم اذان کی آواز سنو اور تمہارے ہاتھ میں کھانے کا برتن ہو تو اُسے نہ چھوڑو یہاں تک کہ جتنا کھانا ہے کھا لو ۔روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :۔
’’اِذَا سَمِعَ اَحَدُکُمُ النِّدَائَ وَالۡاِنَائُ عَلیٰ یَدِہٖ ، فَلاَ یَضَعۡہُ حَتّٰی یَقۡضِی حَاجَتَہٗ مِنۡہُ ‘‘
’’ جب تم میں سے کوئی شخص فجر کی اذان سنے جبکہ اس کا کھانے کا برتن اس کے ہاتھ میں ہو (جس میں سے وہ اس وقت کھا یا پی رہا ہو ) تو اس برتن کو اس وقت تک نیچے نہ رکھے جب تک اس برتن میں موجود چیز کھا یا پی نہ لے۔‘‘ (ابو داؤد کتاب الصوم باب فی الرجل یسمع النداء والاناء علی یدہ )
ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سحری سے فارغ ہوئے تو حضرت علقمہ بن علاثہ آگئے ۔جب وہ سحری کرنے لگے تو حضرت بلالؓ اذان دینے کے لئے آگئے ۔آپ ؐنے فرمایا رُوَیۡدَکَ یَا بِلَالُ حَتّٰی یَفۡرُغَ عَلۡقَمَۃُ مِنۡ سُحُوۡرِہٖاے بلال کچھ دیر ٹھہرو یہاں تک کے علقمہ کھانے سے فارغ ہو جائے ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ، مسند عبداللہ بن عمر)
آپؐ نے سحری کے کھانے کو باعثِ برکت قرار دیا۔ فرمایا تَسَحَّرُوۡا فَاِنَّ فِی السُّحُوۡرِ بَرَکَۃ (بخاری کتاب الصوم) سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہے ۔
اس لئے وہ لوگ جو کسی وجہ سے روزہ نہیں ر کھ پاتے یا چھوٹے بچے جن پر روزہ فرض نہیں انہیں بھی چاہئے کہ نمازِتہجد ادا کرنے کے بعد سحری کے کھانے میں ضرور شامل ہو جایا کریں تاکہ اس کی برکتوں سے محروم نہ رہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
تَسَحّرُوۡاوَلَوۡبِشُرۡبَۃٍ مِّنۡ مَّآئٍ ، وَلَوۡبِحَبَّاتِ زَبِیۡبٍِِ فَاِنَّ الۡمَلٰئِکَۃَ تُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ۔
(مسند الشامیین للطبرانی)
کہ سحری کرو خواہ پانی کے گھونٹ سے ہی یا انگور کے دانہ سے ہی کیونکہ فرشتے تم پر دعائیں اور درود بھیجتے ہیں ۔
پس سحری کا وقت بھی قبولیتِ دعا کا وقت ہے کیونکہ فرشتے بھی ا س میں سحری کرنے والوں کے لئے دعائیں کر رہے ہوتے ہیں ۔
جس طرح سحری تأخیر سے کرنے کا ارشاد ہے اسی طرح اِفطاری جلدی کرنے کا حکم ہے ۔حدیثِ قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اَحَبَّ عِبَادِیۡ اِلَیَّ اَعۡجَلُھُمۡ فِطۡرًا ۔ (ترمذی ابواب الصوم) کہ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ زیادہ پسند ہیں جو افطار ی میںجلدی کرتے ہیں ۔
پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : لَایَزَالُ النَّاسُ بِخَیِۡرٍ مَا عَجَّلُو الۡفِطۡرَ (بخاری کتاب الصوم)۔ لوگ اس وقت تک خیر اور بھلائی میں رہیں گے جب تک کہ روزہ جلدی افطار کریں گے ۔
دراصل نیکی اطاعت کا نام ہے۔ جس کام کو اللہ اور اس کا رسول پسند کریں وہی نیکی ہے ۔انسان اپنے زور سے اللہ کو راضی نہیں کرسکتا بلکہ اس کی رضا کی راہوں پر چل کر اُسے پا سکتا ہے۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنۡ وَّجَدَ تَمۡرًا فَلۡیُفۡطِرۡعَلَیۡہِ وَمَنۡ لَّا فَلۡیُفۡطِرۡ عَلٰی مَآئٍ فَاِنَّ الۡمَآئَ طُھُوۡرٌ۔ جو کھجور پائے وہ اس سے افطاری کرے۔ جو نہ پائے وہ پانی سے افطاری کرلے ۔کیونکہ پانی بھی پاک ہے ۔ (ترمذی ابواب الصوم)
امام ترمذی کہتے ہیں ایک یہ بھی روایت ملتی ہے کہ سردیوں میں آپؐ کھجور سے افطار کرتے اور گرمیوں میں پانی سے ۔(ترمذی)
سحری و افطاری میں تکلّفات سے بچیں
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ افطاری میں تنوع اور سحری میں تکلفات بھی نہیں ہونے چاہئیں اور یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب خوب کھا لیں ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرامؓ افطاری کے لئے کوئی تکلفات نہ کرتے تھے۔ کوئی کھجورسے، کوئی نمک سے،بعض پانی سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیتے۔ ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس طریق کو پھر جاری کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے نمونہ کو پھرزندہ کریں۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد2صفحہ396)
افطاری کا وقت قبولیتِ دعا کا وقت ہوتا ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لِلصَّائِمِ عِنۡدَ فِطۡرِہٖ لَدَعۡوَۃٌ مُسۡتَجَابَۃٌ
(ابن ماجہ ابواب الصیام)
کہ افطاری کے وقت روزے دار کی دعا قبولیت کا شرف پاتی ہے ۔ پس اس وقت کو دعا ؤں اور ذکر الہٰی میں صرف کرنا چاہئے۔
دوسروں کی افطاری کروانے کا بھی ثواب بیان ہوا ہے ۔فرمایا : مَنْ فَطَّرَ صَآئِمًا کَانَ لَہٗ مِثْلَ اَجْرِہٖ ۔ جو کسی روزہ دار کی افطاری کرواتا ہے اُسے اُس روزہ دار کے اجر کے برابر ثواب ملتا ہے۔
(ترمذی کتاب الصوم باب فضل من افطر الصائم )
پس ایسے غرباء کی افطاری کا بہت ثواب ہے ۔لیکن ان افطاریوں میں اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے قبولیتِ دعا کے قیمتی وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہئے،نہ ہی ان افطاریوں کے نتیجے میں کسی قسم کا رِیا پیدا ہو ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس بارہ میں فرماتے ہیں :
’’بعض دفعہ بالکل برعکس نتیجہ ظاہر ہوتا ہے ۔ بجائے اس کے کہ روزہ کھول کر انسان ذکر الٰہی میں مصروف ہو، قرآن کریم کی تلاوت کرے، جو تراویح پڑھتے ہیں وہ تراویح کے لئے تیار ہو کر جائیں۔ اس کی بجائے مجلسیں لگ جاتی ہیں جو بعض دفعہ اتنی لمبی چل جاتی ہیں کہ عبادتیں بھی ضائع ہونے لگتی ہیں اور اگر اس دن کی عشاء کی نماز پڑھ بھی لیں وقت کے اوپر تو دوسرے دن کی تہجد کی نماز پر اثر پڑجائے گا۔… افطاری کی مجلسوں کو میں نے کبھی بھی ذکر الٰہی کی مجلسوں میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھا۔ پھر وہ سجاوٹ کی مجلسیں بن جاتی ہیں۔ اچھے کپڑے پہن کر عورتیں بچے جاتے ہیں وہاں ۔ پھر خوب گپیں لگائی جاتی ہیں ، کھانے کی تعریفیں ہوتی ہیں اور طرح طرح کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسرے دن اپنی تہجد کو ضائع کردیتے ہیں اور پھر بے ضرورت باتیں بہت ہوتی ہیں۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 17جنوری 1997ء بحوالہ الفضل انٹرنیشنل7تا 13مارچ1997ء صفحہ :9)
اعتکاف کرنے والوں کی افطاریوں کے تعلق میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’پھرشام کو افطاریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، افطاریاں بڑی بڑی آتی ہیں، ٹرے لگ کے بھرکے ۔جو معتکف تو کھا نہیں سکتالیکن مسجد میں ایک شور پڑ جاتا ہے اور گند بھی ہو رہا ہوتا ہے اور پھر جو لوگ افطاریاں بھیج رہے ہوتے ہیں بعض بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ آج میں نے افطاری کا انتظام کیا ہوا تھا ۔کیسی تھی؟کیا تھا؟ یا دوسروں کو بتا رہے ہیں کہ یہ کچھ تھا۔میری افطاری بہت پسند کی گئی ۔پھر دوسرے دن دوسرا شخص اس سے بڑھ کر افطاری کا اہتمام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو یہ سب فخرو مباہات کے زُمرے میں آتی ہیں۔بجائے اس کے کہ خدمت کی جائے، یہ دکھاوے کی چیزیں بن جاتی ہیں ۔‘‘
(خطباتِ مسرور جلد 2صفحہ782)




