متفرق مضامین

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی’’تفسیرِکبیر‘‘ کا تعارف اور اُس کے محاسن

(جمیل احمد بٹ)

امت کے موعود مسیح اور مہدی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامات بیان فرمائیں ان میں منجملہ ایک یہ بھی تھی کہ یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ ( مشکوٰۃ کتاب الفتن باب نزولِ عیسیٰ) ترجمہ: وہ( مسیح موعود) شادی کرے گا اور اس کو اولاد دی جائے گی۔

وقت آنے پر اس پیش خبری کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام فرمائی اور رحمت کے طور پر دئے جانے والے اس موعود بچے کی ایک غرض یہ قرار دی کہ : ’تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو‘۔

( اشتہار 20 فروری 1886ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ نمبر 95 بار دوم ربوہ )

تدبیرِ الٰہی :

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیونکہ علمِ الٰہی میں اس پیشگوئی کے مصداق تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیش خبری کے اس مقصد کی تکمیل کے لئے خود اپنی جناب سے قرآنِ کریم کا علم اور عرفان عطا فرمایا جس کاآغاز اوائل عمری میں ہی ہو گیا تھا۔ جیسا کہ آپ نے خود ذکر فرمایا:

’ مَیں چھوٹا ہی تھا کہ مَیں نے خواب میں دیکھا … فرشتہ نے مجھے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھانی شروع کی … جب وہ ختم کر چکا تو میری آنکھ کھل گئی اور جب میری آنکھ کھلی تو مَیں نے دیکھا کہ اس تفسیر کی ایک دو باتیں مجھے یاد تھیں۔  لیکن معاً بعد مَیں سو گیا اور جب اٹھا تو کوئی حصہ بھی یاد نہ تھا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مجھے ایک مجلس میں اس سورۃ پر کچھ بولنا پڑا اور مَیں نے دیکھا کہ اس کے نئے نئے مطالب میرے ذہن میں نازل ہو رہے ہیں اور مَیں سمجھ گیا کہ فرشتہ کے تفسیر سکھانے کا یہی مطلب تھا۔ چنانچہ اس وقت سے لے کر آج تک ہمیشہ اس سورۃ کے نئے نئے مطالب مجھے سکھائے جاتے ہیں ‘۔

( تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد اوّل صفحہ نمبر 6 شائع کردہ نظارتِ اشاعت ربوہ )

اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مصلح موعودؓ کو تعلیم القرآن کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہا جیسا کہ ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا :

’ قرآنِ کریم کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مضامین ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے القاء اور الہام کے طور پر مجھے سمجھائے ہیں اور مَیں اس بارہ میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا جس قدر بھی شکر ادا کروں کم ہے۔اس نے کئی ایسی آیات جو مجھ پر واضح نہیں تھیں ان کے معانی بطور وحی یا القاء میرے دل پر نازل کئے اور اس طرح اپنے خاص علوم سے اس نے مجھے بہرہ ور کیا۔ مثال کے طور پر سورۃ بقرہ کی ترتیب کو پیش کرتا ہوں۔  مَیں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ یکدم مجھے القاء ہوا کہ فلاں آیت اس کی کنجی ہے اور جب مَیں نے غور کیا تو اس کی تمام ترتیب مجھ پر روشن ہو گئی۔ اسی طرح سورۂ فاتحہ کے مضامین مجھے القاء ً اور الہاماً اللہ تعالیٰ کی طرف سے رؤیا میں بتائے گئے تھے اس کے بعد خدا تعالیٰ نے میرا سینہ سورۂ فاتحہ کے حقائق سے لبریز فرمایا۔ قرآنِ کریم کی ترتیبیں بیسوں آیات کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور القاء مجھے سمجھائی گی ہیں ‘۔

 ( تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد ہشتم صفحہ نمبر 483 شائع کردہ نظارتِ اشاعت ربوہ)

اشاعتِ علمِ قرآن :

اس خداداد علم کو آپ نے خوب نشر کیا۔ بعمر 21 سال وسط فروری 1910ء میں قرآن مجید کا اوّلین درس دیا۔ (الحکم 21 فروری 1910ء بحوالہ تاریخِ احمدیت جلد نمبر 3 از مولانا دوست محمد صاحب شاہدصفحہ نمبر 314 نیاایڈیشن)اور 1962ء میں آپ کی تفسیرِ کبیر کی آخری جلد شائع ہوئی۔ یوں اشاعتِ علمِ قرآ ن کی یہ تاریخ نصف صدی پر محیط ہے۔ اس عرصہ میں درسِ قرآن کے جاری سلسلے، کم و بیش دو ہزار خطباتِ جمعہ ، عیدین کے خطبات ، جلسہ ہائے سالانہ ، دیگر تقاریب اور جلسوں میں ہزار ہا پُرمعارف تقاریر میں آپ نے قرآن مجید کے مضامین بیان فرمائے۔ بڑی تعداد میں مختلف النوع مضامین پر مشتمل آپ کی مستقل تصانیف بھی اسی طرح قرآنی انوار سے پر رہیں۔  ان سب پر مستزاد تفسیرِ صغیر اور تفسیرِ کبیر ہیں۔  

تفسیر صغیر: حضرت مصلحِ موعودؓ نے اس عمر میں جب کمزوریٔ صحت کے سبب ڈاکٹر آپ کو آرام کا مشورہ دے رہے تھے قرآنِ کریم کے ایک بامحاورہ اورسلیس ترجمہ کے بڑے کام کا بیڑا اٹھایا اور عربی زبان کی باریکیوں اور قواعد کے اندر رہ کر ایسا مربوط اور مسلسل ترجمہ کیا اور ساتھ حسبِ ضرورت مختصر تفسیر بھی کہ ہر کوئی اسے پڑھ کر قرآنِ کریم کے حسن کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ ترجمہ پہلی بار دسمبر 1957ء میں شائع ہوا۔

 تفسیرِ کبیر :تفسیرِ کبیر حضرت مصلحِ موعود کے تبحرِ علمی ، فہمِ قرآن اور بے انت خدادا د علم و عرفان کا حیرت انگیز مظہر ہے۔ اس کا مطالعہ ہر قاری کو جہاں ایک طرف قرآنِ کریم کے بے پایاں بحر علم سے ہم کنار کرتا وہیں قرآنی اصول مندرجہ سورۃ واقعہ 56آیت 80کے تابع کہ

’ اس کے اعلیٰ درجہ کے مخفی اسرار صرف ان پر ظاہر کئے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاک کئے گئے ہوں ‘۔

( قرآنِ کریم اردو ترجمہ از حضرت مرزا طاہر احمدؒ صفحہ نمبر 990 حاشیہ ) حضرت مصلحِ موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پاکیزگی اور تعلق باللہ پر بھی اس سے روشنی پڑتی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کشف :

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 4 ستمبر 1906ء کے ایک کشف کے ذکر میں فرمایا:

’ ایک چوغہ زرّیں جس پر بہت سنہری کام کیا ہوا ہے مجھے غیب سے دیا گیا ہے ‘۔ پھر دیکھا: ’ وہ چوغہ ایک کتاب کی شکل میں ہو گیا جس کو تفسیرِ کبیر کہتے ہیں ‘۔

اس کشف کی تعبیر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:

’ تفسیرِ کبیر جو چوغہ کے رنگ میں دکھائی گئی اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ ہمارے لئے موجبِ عزت اور زینت ہوگی۔ واللہ اعلم ‘۔

( تذکرہ صفحہ نمبر 566۔567 ایڈیشن چہارم 2004ء شائع کردہ نظارتِ اشاعت ربوہ )

حتمی طور پر اگر یہ نہ بھی کہا جا سکے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کشف میں جو تفسیر کبیر دیکھی وہ یہی تھی جو بعد میں حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریر فرمائی لیکن اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کی یہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سلسلہ کے لئے بے حساب موجبِ عزت اور زینت ہوئی۔

 تفسیرِ کبیر کا کچھ تعارف حضرت مصلح موعود کی زبانی

تفسیر کبیر کی شائع ہونے والی پہلی جلدکے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ’’کچھ تفسیرِ کبیر کے متعلق‘ ‘ کے زیرِ عنوان ایک دیباچہ بھی تحریر فرمایا جس میں مندرج بہت سی باتیں ایسی تھیں جو تفسیرِ کبیر کا ایک منفرد تعارف ہیں۔  اس لئے اختصار سے ایسے چند نکات کا دہرانا مفیدہو گا۔

عطیۂ خدا وندی :’ اس تفسیر کا بہت سا مضمون میرے غور کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے مگر بہر حال چونکہ میرے دماغ نے بھی اس کام میں حصہ لیا ہے اس لئے ممکن ہے کہ کوئی بات اس میں ایسی ہو جو قرآنِ کریم کے منشاء کو پورے طور پر واضح نہ کرتی ہو۔ اس لئے مَیں خدا تعالیٰ سے دعا کر تا ہوں کہ وہ اپنے کلام کی خوبیوں سے اپنے بندوں کو نفع پہنچائے اور انسانی غلطیوں کے نقصان سے محفوظ رکھے ‘۔ (صفحہ الف)

ترتیب مضامین :’ انشاء اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم کے معانی کا ایک سلسلہ پوری ترتیب کے ساتھ پڑھنے والے کی سمجھ میں آ جائے گا اور وہ کسی سورۃ یا کسی آیت کو بے جوڑ نہ سمجھے گا۔ ترتیب کا مضمون ان مضامین میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص طور پر سمجھائے ہیں ‘۔( صفحہ الف)

سات بطن: قرآنِ کریم کے سات بطون کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کی روشنی میں آپ نے فرمایا: ’ قرآنِ کریم کی کوئی تفسیر جو سب معانی پر مشتمل ہو ناممکن ہے ‘۔ ( صفحہ ب )

ضرورتِ زمانہ کے مطابق: ’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرما کر موجودہ زمانے کی ضرورتوں کے متعلق بہت کچھ انکشاف فرمایا‘۔( صفحہ ب)

گزشتہ مفسرین کی خدمات کا اعتراف: ’ پہلے مفسرین نے اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق بہت بڑی خدمت قرآنِ کریم کی کی ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا ‘۔ (صفحہ ب)

 آپ نے گزشتہ مفسرین میں سے علامہ ابنِ کثیر ، صاحبِ محیط علامہ ابو حیان ، صاحبِ کشّاف علامہ زمخشری ، طبری اور گزشتہ صدی کی تفسیر روح المعانی کا نام لے کر ذکر فرمایا۔ ( صفحہ ب)۔ نیز لکھا ’علامہ ابو البقاء نے اعرابِ قرآن کے متعلق امِْلاء مَامَنَّ بِہِ الرَّحْمٰنلکھ کر ایک احسانِ عظیم کیا ہے۔ ساتھ ہی آپ نے ان تفاسیر کی چار اصولی غلطیوں کی نشاندہی بھی فرمائی۔( صفحہ ب)

تفسیرِ کبیر کے مأخذ: اپنے تفسیر کے ماخذوں میں آپ نے سب سے اوّل اللہ تعالیٰ کا ذکر فرمایا کہ

’’اسی نے اپنے فضل سے مجھے قرآنِ کریم کی سمجھ دی اور اس کے بہت سے علوم مجھ پر کھولے اور کھولتا رہتا ہے‘‘۔ (صفحہ ج )

 ii۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خوبصورت ذکر فرمایا:

 ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو اپنے نفس پر وارد کیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنِ مجسم ہو گئے۔ آپ کی ہر حرکت اور ہر سکون قرآن کی تفسیر تھے۔ آپ کا ہر خیال اور ہر ارادہ قرآن کی تفسیر تھا۔ آپ کا ہر احساس اور ہر ہر جذبہ قرآن کی تفسیر تھا۔ آپ کی آنکھوں کی چمک میں قرآنی نور کی بجلیاں تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات قرآن کے باغ کے پھول ہوتے تھے‘۔(صفحہ ج)

iii۔ تیسرے نمبر پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کر تے ہوئے یہ روشن الفاظ لکھے :

ـ’ ( حضرت مسیح موعودعلیہ السلام) نے قرآن کے بلند و بالا درخت کے گرد سے جھوٹی روایات کی اکاس بیل کوکاٹ پھینکا اور خدا سے مدد پا کر اس جنتی درخت کو سینچا اور پھر سرسبز و شاداب ہونے کا موقع دیا ‘۔(صفحہ ج)

iv۔چوتھے نمبر پر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل حضرت مولانا حکیم نور الدین بھیروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ان محبت بھرے الفاظ میں فرمایا:

 ’ مجھے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کے علوم سے بہت کچھ دیا ہے اور حق یہ ہے کہ اس میں میرے فکریا میری کوشش کا دخل نہیں۔  وہ صرف اس کے فضل سے ہے مگر اس فضل کے جذب کرنے میں حضرت استاذی المکرم مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح الاوّل کا بہت سا حصہ ہے۔ … اس کے علوم کی چاٹ مجھے انہوں نے لگائی ‘۔(صفحہ ج)

( تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد سوم صفحہ نمبر الف،ب،ج نیا ایڈیشن شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ )

 تفسیر کبیر لکھنے کی وجہ :

تفسیرِ کبیر کی شائع ہونے والی پہلی جلد (موجودہ جلد سوم) کے متذکرہ بالا دیباچہ کے علاوہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفسیرِ کبیر کی شائع ہونے والی چوتھی جلدکے لئے بھی ایک دیباچہ بعنوان ’ کلام اللہ‘ رقم فرمایا۔ یہ جلدسورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کے ابتدائی نو (9) رکوع پر مشتمل تھی ( موجودہ جلد اوّل)۔ اس مختصر سے دیباچہ میں آپ نے اس تفسیر لکھنے کی یہ وجہ بیان فرمائی :

’ مَیں نے اس امید کے ساتھ اس کلام اللہ کی تفسیر لکھی کہ جو لوگ عربی نہیں جانتے یا بد قسمتی سے اس کلام پر غور کرنے کا وقت نہیں پاتے یا جن کے دل میں یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی انہیں کلام اللہ سمجھنے کا موقع مل جائے اور اس کی اندرونی خوبیوں سے وہ واقف ہو جائیں ‘۔

( تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد اوّل ابتدائی تیسرا صفحہ ( بلا نمبر) شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ )

تفسیرِ کبیر کے لئے حضرت مصلحِ موعودؓ کی غیرمعمولی محنت :

 پانچ پاروں پر مشتمل تفسیرِ کبیر کی پہلی جلد دسمبر 1940ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔ آپ نے اس کام میں اپنے استغراق اور محنت کا ذکر یوں فرمایا:

’ اس کام کی وجہ سے دو ماہ سے انتہائی بوجھ مجھ پر اور ایک ماہ سے میرے ساتھ دوسرے کام کرنے والوں پر پڑا ہے۔ یہ بوجھ عام انسانی طاقت سے بڑھا ہوا ہے اور زیادہ دیر تک برداشت کرنا مشکل ہے جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اور تصرف نہ ہو ‘۔

( خطباتِ محمود جلد نمبر 21 صفحہ نمبر 474 شائع کردہ فضلِ عمر فاؤنڈیشن)

مجمو عی طور پر تفسیرِ کبیر کے لکھنے کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک عرصہ تک بے انتہا محنت کی اور بسا اوقات آپ صبح آٹھ بجے سے لے کر رات کے چار بجے تک اس کام میں منہمک رہتے۔ آپ کی اہلیہ حضرت سیّدہ امِ متین صاحبہ نے اس بارے میں یہ گواہی دی :

’ جن دنوں میں تفسیرِ کبیر لکھی نہ آرام کا خیال رہتا تھا، نہ سونے کا نہ کھانے کا۔ بس ایک دھن تھی کہ کام ختم ہوجائے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد لکھنے بیٹھتے تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی اذان ہو گئی ‘۔

( الفضل 27 مارچ 1966ء بحوالہ تاریخِ احمدیت جلد 8 از مولانا دوست محمد صاحب شاہد صفحہ نمبر 130 نیا ایڈیشن نظارتِ اشاعت ربوہ )

حضرت مصلح موعودؓ کا تفسیرِ کبیر کی اشاعت کے اخراجات مہیا فرمانا: آخری پارہ کی تفسیر تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ جن کی اشاعت کے لئے آپ نے دس ہزار روپے مرحمت فرمائے۔ اس کا ذکر آپ نے ان میں پہلی جلد کے مختصر دیباچہ میں یوں فرمایا:

’ پارہ عَمّ کی تفسیر کی طباعت کے لئے مَیں نے دس ہزار روپیہ دیا ہے اور یہ پارہ اس رقم سے شائع کیا جائے گا۔ یہ رقم اور اس کا منافع بطور صدقہ جاریہ میری مرحومہ بیوی مریم بیگم اُمِ ّ طاہر غَفَرَاللہُ لَھَا وَ اَحْسََنَ مَثَواھَا کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے وقف رہے گی‘۔

( تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد ہشتم ٹائٹل کا اندرونی صفحہ شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ )

تفسیرِ کبیر کے مسودات کا فکر: آخری پارہ کی تیسری جلد ابھی شائع ہونی تھی کہ تقسیم ملک کا واقعہ ہو گیا۔ حضرت مصلح موعودؓ کو تفسیرِ کبیر کے مسودات کا جو فکر تھا اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ 31 اگست 1947ء کو پاکستان پہنچنے کے چوتھے دن بعد ہی آپ نے امیرِ مقامی قادیان کو جو ہدایات بھجوائیں ان میں تفسیرِ کبیر کے بارے میں یہ ہدایت بھی تھی :

’جوکنوائے آئے گا اس کے ساتھ تفسیر کے تین بکس دفتر سے ضرور بھجوا دیں اور مولوی محمد یعقوب کو تا کہ دو چار دن میں تفسیر کی آخری جلد مکمل کر دوں تا کہ اس طرف سے دلجمعی ہو جائے۔ باقی کام ہوتا رہے گا کون شخص ہے جس نے سارے دنیا کے کام کئے ہوں ‘۔

( تاریخِ احمدیت جلد 8 از حضرت مولانا دوست محمد صاحب شاہد صفحہ نمبر 145 نیا ایڈیشن نظارتِ اشاعت ربوہ)

تفسیرِ کبیر کی اشاعت کا مجموعی نقشہ: اوّل بار22 سالوں کے دوران تفسیرِ کبیر کی 5907 صفحات پر مشتمل 11 جلدیں شائع ہوئیں جن میں قرآنِ کریم کے 13 پاروں پر پھیلی 59 سورتوں کی تفسیر بیان ہوئی۔

 پہلی جلد دسمبر 1940ء میں تفسیرِ کبیر جلد سوم کے نام کے تحت شائع ہوئی اور آخری 1962ء میں۔  پہلی تین کے علاوہ تمام جلدیں پاکستان میں شائع ہوئیں اور پہلی جلد کے علاوہ تمام تفسیرِ کبیر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دعویٰ ٔ مصلح موعود کے بعد شائع ہوئی۔

شائع ہونے کی ترتیب یہ تھی: پہلے گیارھویں سے پندرھویں پارے، پھر آخری پارے کی دو جلدیں۔  پھر سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کے 9 رکوع پر مشتمل حصہ۔ پھر آخری پارہ کی مزید دو جلدیں۔  پھر سولہویں سے بیسویں پارے تک کی چار جلدیں اور آخرمیں سورۂ بقرہ کے دسویں رکوع سے آخر تک کا حصہ۔

تفسیرِ کبیر میں درج ذیل پارے شامل ہوئے:

 پہلے دو پارے، تیسرے پارے کے ابتدائی 8 رکوع، ابتدائی 5 رکوع کے علاوہ گیارھویں سے 21 پارے کے ابتدائی 3 رکوع تک مسلسل اور آخری پارہ۔

 اور درج ذیل سورتیں:

 سورۂ فاتحہ(1)، سورۂ بقرہ (2)،سورۂ یونس (10 )سے سورۂ عنکبوت ( 29 ) اور سورۃالنبا ( 78) سے سورۃ الناس (114) تک۔

 بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی ہدایت پر نظارتِ اشاعت ربوہ نے تفسیرِ کبیر کی ان تمام جلدوں کو قرآنی ترتیب کے مطابق دس جلدوں میں شائع کیا اور اب مزید ایڈیشن اور تراجم اسی سے شائع ہو رہے ہیں۔

تفسیرِ کبیر کے بنیادی اصول :

حضرت مصلحِ موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر میں یہ بنیادی اصول ملحوظ رکھے گئے ہیں کہ قرآن خود اپنی تفسیر کرتاہے اس میں کوئی تضاد نہیں اور اس کی کوئی آیت منسوخ نہیں۔  ان اصولوں کے تابع قرآنِ کریم میں ایک جیسے مضمون کی آیات ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اور مجموعی مضمون واضح ہو جاتا ہے۔ پھر مختلف آیات سے متعلق احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اس باب میں ضروری حوالے ہیں۔  

اسی طرح اس تفسیر میں عربی الفاظ کے وہی معنی اختیار کئے گئے ہیں جن کی لغت اجازت دیتی ہے اور اس غرض سے عربی زبان کی مستند لغات تاج العروس، المنجد ، کلیات ابو البقا ء ، اقرب الموارد ، لسان العرب اور قاموس کو استعمال کیا گیا ہے اور ہر آیت سے پہلے حل لغات کے تحت ان کا حوالہ دیا گیا ہے۔

تفسیرِ کبیر کے متنوع مضامین:

قرآنِ کریم کے جن مشکل مقامات اور مضامین کی وضاحت تفسیرِ کبیر میں ملتی ہے اس کی ایک طویل فہرست بن سکتی ہے جن کا ذکر آپ کے فاضل سوانح نگاروں نے اپنے مضامین اور کتب میں کیا ہے۔ ایسی دو تحریں درج ذیل ہیں :

منّ و سلویٰ ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت اور گزرگاہ، اصحابِ کہف ، عرشِ الٰہی، کلام ِ الٰہی کے امتیاز اور شجرۂ طیبہ سے مماثلت، قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ مدین اور دوسری پرانی اقوام کے متعلق تحقیق، ترتیبِ نزول و موجودہ ترتیب میں اختلاف کی حکمت، پیدائشِ عالم و تخلیقِ آدم، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان مقام، مسئلہ ارتقاء، آئندہ زمانہ کے متعلق عظیم الشان پیش خبریاں ، فلسفہ حلّت و حرمت، قرآنی تمثیلات و استعارات کی پُرحکمت تشریح، مقطعات، جنّ و اِنس کی حقیقت ، شیطان اور سجدۂ آدم، ذوالقرنین کے متعلق تحقیق، قرآنی قسمیں وغیرہ۔

(سوانح فضلِ عمر جلد سوم از عبدالباسط شاہد صفحہ نمبر 156۔ 157 مطبوعہ فضلِ عمر فاؤنڈیشن ربوہ)

برصغیر کے مشہور نقاد اور ادیب اختر اورنیوی نے تفسیرِ کبیر کے دریائے مضامین میں سے چند کا یوں ذکر فرمایا ہے :

’ قصصِ قرآن کی عارفانہ تعبیریں … علم و حکمت ، روحانیت و عرفان… تاریخِ عالم ، قوموں کے عروج و زوال ، اسبابِ زوال ، سامانِ عروج ، نفسیاتِ اجتماعی ، فرد و جماعت کے روابط اور بندے کے اللہ سے تعلق کی اعلیٰ تحقیق و توضیح … ، معجزات ، پیشگوئیاں ، انبیاء اور غیرانبیاء کے خوابوں ، رموزِ استعاراتِ قرآنی و مقطعات کی حقیقت، حکمتی اور ایمان افروز تعبیریں۔۔  تعلیماتِ اسلامی کا فلسفہ … دوسرے مذاہب کی تعلیموں اور معروف فلسفوں سے موازنہ و مقابلہ‘

(مجلّۃ الجامعہ ربوہ شمارہ نمبر 9صفحہ نمبر 65 بحوالہ تاریخِ احمدیت جلد 8 از مولانا دوست محمد شاہد صاحب صفحہ نمبر 156 مطبوعہ نظارتِ اشاعت ربوہ )

تفسیرِ کبیر میں مذکور چند اعلیٰ نکات:

مندرجہ بالا فہرستِ مضامین مکمل نہیں اور در حقیقت تفسیر کبیر میں مندرج مضامین کا احاطہ دقّت طلب ہے۔ اور ان کا صحیح ادراک ان جلدوں کے مطالعہ سے ہی ممکن ہے۔ نمونتاً چند نکات درج ذیل ہیں :

1۔انبیاء کے ذکر کی قرآنی ترتیب کی حکمت: سورۂ مریم کی آیات 3 تا 56 میں ابنیاء کا زمانہ مختلف ترتیب سے ذکر ہے۔ حضرت زکریاعلیہ السلام ، حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیا گیا پھر حضرت اسحق علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا ذکر ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے ؟ اور اس پر عیسائیوں کے اعتراض کا کیا جواب ہے ؟یہ وہ لطیف مضمون ہے جو تفسیرِ کبیر جلد پنجم کے صفحات 262 تا 264 میں بیان ہوا ہے جس کے آخر میں حضرت مصلحِ موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ:

’انبیاء کی ترتیب کے بارے میں یہ وہ علم ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے۔ چنانچہ تیرہ سو سال میں جس قدر تفاسیر لکھی گئی ہیں ان میں سے کسی تفسیر میں بھی یہ مضمون بیان نہیں کیا گیا اور کوئی نہیں بتاتا کہ نبیوں کا ذکر کرتے وقت یہ عجیب ترتیب کیوں اختیار کی گئی۔ صرف مجھ پر خدا تعالیٰ نے اس نکتہ کو کھولا جس سے اس ترتیب کی حکمت اور اہمیت بالکل واضح ہو جاتی ہے ‘۔

( تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد پنجم صفحہ 264 شائع کردہ نظارتِ اشاعت ربوہ)

2۔ سورۂ بقرہ کی کلیدِ تفسیر کی نشان دہی : ’ میرے دل پر القاء ہوا کہ یہ آیت ( نمبر 130) اس سورۃ کے مضامین کی کنجی ہے اور اس سورۃ کے مضامین اس آیت کے مضامین کے مطابق اور اسی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں …۔ ان مضامین کو سامنے رکھ کر جب مَیں نے سورۂ بقرہ کو دیکھا تو اس کے مضامین کو لفظاً لفظاً ان مضامین کے مطابق پایا بلکہ مَیں نے دیکھا کہ وہ مضامین بیان بھی اسی ترتیب سے ہوئے ہیں جس ترتیب سے ان کا اس آیت میں ذکر ہے اور ہر حصہ میں اس آیت کے الفاظ کی طرف اشارہ بھی کر دیا گیا ہے ‘۔

( تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد اوّل صفحہ 55 شائع کردہ نظارتِ اشاعت ربوہ)

3۔ حروفِ مقطعات کے بارے میں مفسرین کی آراء ، مغربی مصنفین کے کئے گئے معنوں کے ذکر اور پھر اپنی رائے کا اظہار اور اس کے دلائل اور ان کا دیگر حروفِ مقطعات پر اطلاق، اس سارے مضمون کو دن کی طرح روشن کر دیتا ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیرِ کبیر جلد اوّل صفحہ نمبر 61 تا 70 مطبوعہ نظارتِ اشاعت ربوہ۔)

4۔ دعا کے اصول: تفسیرِ کبیر میں سورۃ فاتحہ سے دعا کے متعلق اصول سات بیان ہوئے ہیں ( تفسیرِ کبیر جلد اوّل صفحہ 4 تا 6) اور ان کے بارے میں حضرت مصلحِ موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے :

’سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھتے وقت میرے دل میں خیال گزرا کہ اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ کوئی نئے مطالب اس سورۃ کے کھولے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سات اصولوں کا انکشاف ہوا جو دعا کے متعلق اس سورۃ میں بیان ہیں۔  فالحمد للہ علیٰ ذلک ‘۔

( تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد اوّل صفحہ 6 شائع کردہ نظارتِ اشاعت ربوہ)

تفسیرِ کبیر کے خصوصی اور منفرد محاسن:

تفسیرِ کبیر کئی جہات سے ایک منفرد مقام کی حامل ہے اور اپنی خوبیوں کے لحاظ سے بے نظیر ہے اور اس حیرت انگیز علم و عرفان کا مظہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کو عطا فرمایا اور خدائی القاء سے لکھے ہوئے ایسے مضامین سے پُر ہے جو پڑھنے والوں کو قرآنِ کریم کی عظمت کے زندہ احساس سے بے خود کر دیتے ہیں اور زبان اس خدائے علیم کے ذکر سے تر ہو جاتی ہے جس نے انسان کو وہ سکھایا جو کچھ وہ نہ جانتا تھا۔ ان محاسن کا لطف ہر پڑھنے والا اپنے ذوق، علم اور معرفت کے مطابق اٹھاتا ہے اور اس لحاظ سے نہ ان کا کوئی شمار ہے اور نہ ان کی کوئی ترتیب سب کے حسبِ حال ہو سکتی ہے۔بطور مثال ایسے چند محاسن درج ذیل ہیں :

(۱)ضعیف روایات سے پاک: اگر کوئی درد مند قاری دیگر اسلامی تفاسیر میں شامل بائبل کی تاریخ اور دیگر ضعیف روایات کو پڑھنے کے بعد قرآنِ کریم کو تاریخ سے متصادم پاتا ہے تو اس کے لئے تفسیرِ کبیر کا یہ حسن اولیٰ ہے کہ اس میں ایسی روایات اور موسوی تاریخ کا علمِ آثارِ قدیمہ کے حوالے اور مستند تاریخ کی کسوٹی اور عقل و خرد کے پیمانے سے غلط ہونا ثابت کر کے ان آیات کی ایسی تفسیر بیان کی گئی ہے جو قرآن کا حقیقی منشاء ہے اور جس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا۔

( ۲)ترتیب قرآن کا بیان: اگر کوئی قاری مغربی مصنفین Rodwell، Thomas، Carlyl وغیرہ کے ترتیبِ قرآن پر کئے گئے اعتراضات کا کوئی رد نہ پا کر دکھی رہتا ہے تو اس کے لئے تفسیرِ کبیر کی یہ خصوصیت مرہم کا کام دیتی ہے کہ اس میں اس بات کا صرف دعویٰ ہی نہیں کیا گیا کہ قرآنِ کریم میں ایک ترتیب پائی جاتی ہے بلکہ آیتوں اور سورتوں کا ایک واضح ترتیب سے باہم مربوط ہونا بیان بھی ہوا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن کی موجودہ ترتیب الہامی ہے اور اس میں گہری حکمت اور ربط ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو اس امر کو اپنا اصول ٹھہرا کر فرمایا ہے کہ :

’ میرا ترجمہ اور میری تفسیر ہمیشہ ترتیبِ آیات اور ترتیبِ سُوَر کے ماتحت ہوتی ہے ‘۔

( تقریر فرمودہ 28 دسمبر 1945ء برموقع جلسہ سالانہ قادیان۔انوارالعلوم جلد 18 صفحہ نمبر 293 فضلِ عمر فاؤنڈیشن ربوہ)

بلکہ آپ نے اس ترتیب کو آیات کے حل کی کلید قرار دیا اور فرمایا:

’ حقیقت یہ ہے کہ اگر قرآنِ کریم کی ترتیب کو مدِ نظر رکھا جائے اور اس پر غور اور تدبر کرنے کی عادت ڈالی جائے تو اس کی بہت سی مشکلات خود بخود حل ہو جاتی ہیں ‘۔ (تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد جلد پنجم صفحہ نمبر 322۔323 شائع کردہ نظارتِ اشاعت ربوہ )

(3)سائنسی ایجادات کے مطالبِ قرآنی کے تابع ہونے کا بیان: اگر قاری جدید سائنسی ایجادات اور قرآن کی مروجہ تفاسیر کو باہم متصادم پا کر فکر مند رہاہے تو وہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ تفسیرِ کبیر میں کس طرح ان سائنسی ایجادات کو مطالبِ قرآنی کے تابع کیاگیا ہے اور کس طرح پندرہ سو سال پہلے ایک نبی ٔ اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان باتوں کی خبر دی گئی جو ترقی کے اس دَور میں اہلِ علم تجربات سے سیکھ رہے ہیں۔  ان میں زمین کا گول اور متحرک ہونا، سورج کی روشنی کا ذاتی اور چاندکے نور کا انعکاسی ہونا، آسمانوں اور ستاروں کا ظاہری ستونوں کے بغیر قیام و بقا، اجرامِ فلکی کا متحرک ہونا، تخلیقِ عالم کے مختلف ادوار، آغازِ کائنات کی دُخانی حالت، رنگوں کے خواص، ہر چیز کا جوڑا ہونا، اور اعمالِ انسان کی ریکارڈنگ کا نظام وغیرہ انکشافات آیاتِ قرآن کی تفسیر کے ذیل میں بیان ہوئے ہیں۔

(4)قرآن پر اعتراضات کے جواب:جو قاری مغربی مستشرقین Noldek Theodor, Wahery، Wiliam Muir ,JM Rodwell, اور Arnold وغیرہ کے قرآن پر اعتراضات سے دم بخود رہے ہیں۔  ان کے لئے تفسیر ِ کبیر کا یہ کمال سرِ فہرست ہے کہ اس میں ان لکھنے والوں کے اعتراضات اور بائبل کی قرآنِ کریم پر فضیلت کے بے بنیاد د عادی کے شافی جواب دیئے گئے ہیں اور ثابت کیا گیا ہے کہ قرآنِ کریم ان بودے اعتراضات سے بالا ایک عظیم حقیقت ہے۔ اسی طرح ان لکھنے والوں نے بعض آیات ِ قرآنی سے غلط استدلال کر کے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اعتراضات اٹھائے ہیں ان کو بھی دلائل سے ردّ کیا گیا ہے۔

(5)قرآنی پیشگوئیوں کا بیان:جو قاری بیشتر مروّجہ تفاسیر میں ہر قرآنی پیشگوئی کو روزِ قیامت پر چسپاں کرنے کے سبب قرآنِ کریم میں اس دنیا کے لئے پیشگوئیوں کی کمی پاتے رہے ان کے لئے یہ امر ازدیادِ ایمان کا باعث ہے کہ تفسیرِ کبیر میں متعدد ایسی پیشگوئیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس زمانہ میں پوری ہو کر قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر گواہ ٹھہری ہیں۔  ان بڑی خبروں میں سے چند یہ ہیں :

نہرِ سوئز اور نہرِ پانامہ کا بننا ، دخانی جہازوں اور دیگر نئی سواریوں ، ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اور کا سمک ریز اور بموں کی ایجاد ، جمہوری حکومتوں کا بادشاہوں کی جگہ لینا ، چڑیا گھروں کا قیام ، پریس اور کتابوں کی بکثرت اشاعت ، علمِ ہئیت اور علم طبقات الارض کی ترقی ، چاند اور مریخ کے زمین سے وابستہ ہونے کا امکان ، مغربی اقوام اور روس کی ترقی ، فرعونِ موسیٰ کی لاش کی دریافت ، وحشی اقوام کا متمدن ہو جانا ، اور علمائے ظاہر کا علمِ دین سے بے بہرہ ہو نا وغیرہ۔

(6)تفسیرِ کبیر میں مذکور پیش خبری جو بعد میں پوری ہوئی : 1940ء میں شائع ہونے والی تفسیرِ کبیر کی پہلی جلد میں آپ نے آیتِ قرآنی بنی اسرائیل:105 کی تفسیر میں فلسطین میں یہود کی حکومت کے عارضی قیام کی پیشگوئی کا درج ذیل الفاظ میں ذکر فرمایا:

’ تم( یہود )جلاوطن ر ہو گے یہاں تک کہ تمہاری مثیل قوم ( مسلمان ) کے متعلق جو دوسری تباہی کی خبر ہے اس کا وقت آ جائے گا اس وقت پھر تم کومختلف ملکوں سے اکٹھا کر کے ارضِ مقدس میں واپس لایا جائے گا‘۔

’ اس جگہ وَعْدُالْاٰخِرَۃِسے مراد مسلمانوں کے دوسرے عذاب کا وعدہ ہے اور بتایا یہ ہے کہ جب یہ عذاب آئے گا کہ دوسری دفعہ ارضِ مقدس کچھ عرصہ کے لئے ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو اس وقت اللہ تعالیٰ پھر تم (یہود) کو اس ملک میں واپس لے آئے گا‘۔

( تفسیرِ کبیر از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد چہار م صفحہ نمبر 397۔398 شائع کردہ نظارتِ اشاعت ربوہ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button