کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

(مقربین الٰہی کی) ایک علامت یہ ہے کہ اللہ ان کے گھروں، کپڑوں، پگڑیوں، قمیصوں، چادروں، ہونٹوں، ہاتھوں اور پیٹھوں میں اور اسی طرح ان کے جملہ اعضاء بدنی میں، ان کے بچے کھچے ٹکڑوں اور اُس پانی میں جو اُن کے پینے کے بعد بچ جاتا ہے برکت رکھ دیتا ہے


‘‘ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی خاطر خطرات میں گھس جاتے ہیں اور رُکتے نہیں۔ اس معاملہ میں ان کا کوئی ثانی نہیں اور وہ اس میں بالکل منفرد ہیں اور محجوب لوگوں میں سے کوئی ایک فرد بھی ان سے مشابہت نہیں رکھتا۔ خواہ وہ اس کے حریص ہوں۔ اگر ان کا پس خوردہ نہ ہوتا تو لوگ ہلاک ہو جاتے اور اگر ان کی گرمجوشی نہ ہوتی تو لوگوں کے دلوں سے اللہ کی محبت سرد پڑ جاتی اور وہ خنّاس کی طرف دوڑ پڑتے اور اللہ بالضرور عارفوں کے سلسلہ نسل کو منقطع کر دیتا اور ایمان کو اس کی بنیاد سے منہدم کر دیتا۔پس یہ اللہ کا اپنی خَلق پر عظیم فضل ہے کہ یہ (مقربین) مبعوث کئے جاتے ہیں۔ اور یقینا سب لوگ سنگلاخ زمین کی طرح ہیں اور یہ ان کی اصلاح کرتے ہیں اور جس نے انہیں کھودیا وہ یتیم کی طرح ہے اور جس نے فطرت صحیحہ کو کھو دیا وہ ایسے بچے کی طرح ہے جس کی ماں نہ ہو اور جس نے ان دونوں کو کھو دیا وہ ایسے شخص کی طرح ہے جس کے ماں باپ (دونوں ) مر گئے ہوں اور وہ بدبختوں میں ہے۔ پس مبارک ہو اُنہیں جنہیں سب سعادتیں دی جائیں اور وہ (ان کو) جمع کر لیتے ہیں۔

ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اس حسد سے اجتناب کرتے ہیں جو چچڑیوں سے مشابہت رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے ربّ کی طرف سے روح سے حصہ لیتے ہیں جس کے نتیجہ میں انہیں شرح صدر حاصل ہو جاتا ہے اور وہ اعلیٰ درجات تک رفعت دئیے جاتے ہیں پس وہ پستیوں میں نہیں گرتے اور وہ پستی سے بچائے جاتے ہیں اور محفوظ کئے جاتے ہیں۔

ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اس وقت مبعوث کئے جاتے ہیں جب لوگوں کی حالت یتیموں جیسی ہو جاتی ہے اور کوئی ان کی اصلاح احوال کے لئے ان سے ہمدردی نہیں کرتا اور لوگ کفر اور فسق کی موت مر رہے ہوتے ہیں اور علماء سُوء ان لوگوں کی ہلاکت سے بے خبر رہتے ہیں اور کوئی پرواہ نہیں کرتے اور یہ سب کچھ ان کی موجودگی میں ظاہر ہوتا ہے اور اسی سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ پس جب تم یہ دیکھو کہ لوگ تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، فسق و فجور میں مبتلا ہیں، زنا کرتے ہیں اور دینِ اسلام سے خارج ہو رہے ہیں اور باز نہیں آتے تو سمجھ لو کہ رسول کی بعثت کا وقت آگیا اور ہدایت کو بھول جانے والے شخص کو نصیحت کرنے کا وقت آگیا۔ پس مبارک ہو ان لوگوں کو جو (اللہ کی باتوں کو) گوش ہوش سے سنتے ہیں۔

ان کی ایک علامت یہ ہے کہ جب لوگ اپنی راہیں الگ الگ کر لیتے ہیں تب وہ بھیجے جاتے ہیں اور جواُن سے دشمنی اور کینہ رکھتے ہیں اللہ ان کا دشمن بن جاتا ہے۔ اور ان کو دھکے دئیے جاتے اور راندۂ درگاہِ الٰہی کر دیا جاتا ہے اور وہ کاٹے جاتے ہیں اور اگر وہ پھر بھی باز نہ آئیں تو ان کو بالکل نیست و نابود کر دیا جاتا ہے۔ اللہ اپنے اولیاء کے دلوں میں کشش رکھ دیتا ہے جس سے وہ لوگوں کو اپنی ذات میں سمو لیتے اور اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں اور اگر لوگ ان کی اتباع نہ کریں تو پتھر اور ڈھیلے ان کی اتباع کریں گے اور ان کو انسان بنا دیا جائے گا،پس وہ حق کے لئے گواہی دیں گے۔

ان کی ایک علامت یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اللہ کے ساتھ ایسے مضبوط تعلقات ہوتے ہیں جن میں کوئی نیزہ، بھالا، شمشیر بُرّاں اور کوئی نشانے پر بیٹھنے والا تیر رخنہ نہیں ڈال سکتا۔ ان مقربین پر فرمانبرداری کی حالت میں موت آتی ہے۔

 ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ ہر اس چیز سے جو انہیں عیب دار کرنے والی ہو اپنے نفس کے شرف کی وجہ سے بچتے ہیں اور وہ ہر اس چیز کا جو انہیں زینت بخشے احترام کرتے ہیں اور تمام داغدار کرنے والے اعمال سے دُور رہتے ہیں۔ ان کی نشانات سے تائید کی جاتی ہے اور آسمان اور زمین ان کی گواہیوں کے لئے ایستادہ ہو جاتے ہیں اور ان کی وفات پر روتے ہیں اور اس طرح ان کی عظمت و تکریم کی جاتی ہے۔

ان کی ایک علامت یہ ہے کہ اللہ ان کے گھروں، کپڑوں، پگڑیوں، قمیصوں، چادروں، ہونٹوں، ہاتھوں اور پیٹھوں میں اور اسی طرح ان کے جملہ اعضاء بدنی میں، ان کے بچے کھچے ٹکڑوں اور اُس پانی میں جو اُن کے پینے کے بعد بچ جاتا ہے برکت رکھ دیتا ہے اور اُن کی کمزوری کے وقت اوراُس وقت جب وہ گرے پڑے ہوں وہ اُن کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ اُن کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ ان کے ترکش سے چلایا ہوا تیر کبھی خطا نہیں ہوتا۔ فقر انہیں نہیں چُھوتا۔ خدا خود اپنے ہاتھوں سے ان کی تھیلی میں مال ڈالتا ہے اور بڑھاپے میں ان کی بھرپور جوانی کی تکریم کوبڑھا کر ان کو عزت بخشتا ہے۔ ان میں ایک زبردست کشش پیدا کر دیتا ہے اور وہ خَلقِ کثیر کو ان کے حضور میں لاتا ہے اور جب ان سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ ان کاجواب دینے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ ان کی مدد کرتا ہے تا وہ اس کی محبت کے ذریعے پہچانے جائیں اور تا (لوگوں کے) سینے ان کی محبت پانے کے لئے کھول دئیے جائیں۔ ان کا غضب خدا کے غضب کو بھڑکاتا ہے اور ان کا اضطراب اس کی رحمت کو جو ش میں لاتا ہے۔ پس پاک ہے وہ جو اپنے ان بندوں کو رفعت عطا فرماتا ہے جو اس کی طرف تبتّل اختیار کرتے ہیں۔ ‘‘


 (تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 67تا 71)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button