کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

ان (مقربین الٰہی) کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ آسمان سے باران رحمت کی مانند نازل ہوتے ہیں جسے بنجر زمین کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ وہ بنجر زمین کو سرسبزوشاداب کر دیتے ہیں۔ ان کے سینے نور سے لبریز اور دل سرور سے بھرپور ہوتے ہیں۔وہ آسمان کے ستارے، خشک زمین کے سمندر اور جسموں کی روح ہوتے ہیں۔ان کی دعا آسمان کو بھر دیتی ہے اور ان کا رونا فرشتوں کو رُلا دیتا ہے۔ وہ ان لوگوں کو زندہ کرنے کے لئے جو موت کے کنارے پر کھڑے ہیں خود موت قبول کر لیتے ہیں۔

’’ان(مقربین الٰہی) کی ایک علامت یہ ہے کہ انہیں ان کے ربّ کی طرف سے فصیح کلام عطا کیا جاتا ہے کسی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ویسا کلام کر سکے اور نہ ہی ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ رحمان کے بندے فصیح کلام کی ایسی ہی آرزو رکھتے ہیں جیسے وہ عمدہ معارف کی تمنا کرتے ہیں ، پس وہ جو بھی طلب کرتے ہیں انہیں دیا جاتا ہے۔ اللہ کی اپنے اولیاء کی بابت یہ عادت جاری ہے کہ (پاک) دل کی طرح انہیں (فصیح) زبان بھی عطا کی جاتی ہے ۔ اللہ ہی انہیں بلواتا ہے اور وہ اس کے بلانے سے بولتے ہیں اور جس طرح ایک عورت کو بحالت حمل کسی کھانے کی شدید اشتہا ہوتی ہے تو اس کا خاوند اس کے لئے اس کی خواہش کے مطابق وہ کھانا مہیا کرتا ہے بعینہٖ اسی طرح ان مقربین الٰہی کے اندر بھی جب روح پھونکی جاتی ہے تو اللہ کی طرف سے ان کے اندر خواہشات پیدا کی جاتی ہیں نہ کہ نفس امّارہ کی طرف سے۔ اور ان کی خواہشات انہیں عطا کی جاتی ہیں اور وہ محروم نہیں کئے جاتے۔ اسی طرح مجھے ا للہ کی طرف سے کلام عطا کیا گیا ہے اگر تم شک کرتے ہوتو لائو ہماری اس کتاب کی مثل پیش کرو۔

ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ آسمان سے باران رحمت کی مانند نازل ہوتے ہیں جسے بنجر زمین کی طرف لے جایا جاتا ہے اور وہ (مقربین) لوگوں کو اپنے پانی کی طرف کپڑے سے اشارہ کر کے بلاتے ہیں۔ اور وہ اپنی کشش کی طاقت سے لوگوں کے دلوں کو ان کے سینوں سے کھینچ لیتے ہیں اور وہ لوگ ان کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔

ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ دوسروں تک نور پہنچانے میں بخیل شخص کی طرح نہیں ہوتے اور نہ ہی کم دودھ دینے والی اونٹنی کی طرح ہوتے ہیں اور وہ بخل نہیں کرتے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کا ہمنشین بھی نامراد نہیں رکھا جاتا اور نہ ہی ان سے اُنس رکھنے والا کبھی رُسوا ہوتا ہے۔ وہ خود مبارک ہوتے ہیں اور دوسروں کو برکت دیتے اور انہیں سعادت بخشتے ہیں۔ وہ بنجر زمین کو سرسبزوشاداب کر دیتے ہیں اور مردہ دلوں کو زندہ اور دولتہائے گزشتہ کو بازیاب اور پیش آمدہ بلائوں کو ردّ کرتے ہیں۔ منقطع تعلقات کو جوڑتے ہیں اور جن دریائوں کا پانی کھینچ لیا جاتا ہے اور وہ خالی ہو جاتے ہیں انہیں بھر دیتے ہیں۔ دین کا جو حصہ ویران ہو اُسے آباد کرتے ہیں۔ ان کے سینے نور سے لبریز اور دل سرور سے بھرپور ہوتے ہیں۔وہ آسمان کے ستارے، خشک زمین کے سمندر اور جسموں کی روح ہوتے ہیںاور زمین کے لئے میخوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اللہ سے جو عہد وفا باندھا ہوتا ہے وہ اسے بدلتے نہیں اور وہ بدل دئیے جاتے ہیں اور وہ ابدال ہوتے ہیں جن کے اندر اللہ خود تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ وہ ایسے قطب ہوتے ہیں جو متزلزل نہیں ہوتے۔ وہ اللہ کی خاطر ایستادہ ہو جاتے ہیں اور نفس امّارہ کو اس کی جڑ سے کاٹ دیتے ہیںاور وہ اللہ کے ہر حکم پر قائم رہتے ہیں۔ وہ غموں میں زندگی گزارتے ہیں۔ وہ ایک بسیار خور شخص جیسی زندگی بسر نہیں کرتے۔ وہ پیرفرتوت کی طرح ظاہری غسل پرہی قناعت نہیں کرتے بلکہ وہ مسابقت کرتے ہوئے ایسے جاری چشمے کی طرف دوڑتے ہیں جو ان کے نفوس کو پاک و صاف کر دے اور وہ گدلے پانی کا قصد نہیں کرتے۔

وہ جنگ کے موقع پر لوگوں کے لئے اللہ کی طرف سے محافظ ہیں۔ وہ مخلوق کے وجود کے لئے بمنزلہ سر ہیں اور مخلوق خدا کے سمندر میں دُرِّمکنون۔ وہ نفس امّارہ کے ساتھ بڑی جنگ میں فتحیاب ہوتے ہیں پھر اس کے بعد وہ اللہ ربّ العزت کے اِذن سے دلوں کو فتح کرتے ہیں اور غالب آتے ہیں اوروہ موت کے بعد نئی زندگی پاتے ہیں۔ اور جب لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں تو وہ محبت کی خوشبو بکھیرتے ہیں اور تم ان جیسا کوئی ناخدا نہیں پائو گے جب پانی اپنی طغیانی پر ہو اور مصیبت شدت اختیار کر جائے اور آہ و بکا بلند ہو تو ایسے موقع پر وہ اس خدا کے اِذن سے جس نے انہیں مُرسَل بنا کر بھیجا ہوتا ہے شفاعت کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور جب دل حلق تک پہنچ جائیں وہ بحالت تضرع کھڑے ہو جاتے ہیںا ور سجدوں میں گر جاتے ہیں تب ان کی دعا آسمان کو بھر دیتی ہے اور ان کا رونا فرشتوں کو رُلا دیتا ہے۔ ان کے تقویٰ کے باعث ان کی دعا سنی جاتی ہے۔ پس لوگ اس آزمائش سے نجات دئیے جاتے ہیں جس سے وہ بے چین ہوتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو زمین سے چمٹ جاتے ہیں اور پے در پے آنے والی آفات کے وقت وہ اپنے لگاتار سجدوں میں زمین پر پڑے رہتے ہیں اور آنسوئوں سے زمین کو تر کر دیتے ہیں اور تمام مصائب دُور کرنے والے اللہ کے سامنے اندھیری راتوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسے صدق دل کے ساتھ وہ اپنے پروردگار کی جانب متوجہ ہوتے ہیں جو خالق کائنات کوراضی کر دے اور وہ ان لوگوں کو زندہ کرنے کے لئے جو موت کے کنارے پر کھڑے ہیں خود موت قبول کر لیتے ہیں۔ پس وہ تقدیر بدل دیتے ہیں اور موت کو اختیار کر کے شفاعت کرتے ہیں اور مشقت برداشت کر کے راحت پہنچاتے ہیں اور تکلیف اٹھا کر موانست و ملاطفت کرتے ہیں۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 84تا 88)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button