متفرق مضامین

للّٰہی وقف اور قبولیت دعا کے نظارے

(محمد اکرم باجوہ ۔ مربی سلسلہ)

سنا ہے اگر کسی کے پاس الہ دین کا چراغ ہو تو چراغ کے رگڑ نے سے جنّ حاضر ہو جاتا ہے اور مشکل سے مشکل کام آسان ہو جاتا ہے۔ ایسا ہونا فرضی قصوں کہانیاں میں تو ممکن ہے لیکن عملاً بعید از عقل و قیاس ہے۔ ہاں آج میں آپ کو ایک ایسے چراغ کا پتہ دیتا ہوں جو میرے ہاتھ لگا جس نے قصے کہانیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور حقیقت کی دنیا میں معجزاتی کام کر دکھائے۔ وہ چراغ، ہاں وہ چراغ اللہ کا چراغ تھا جس کے رگڑنے سے روح القدس کے ذریعہ تائید الٰہی اور تسخیر کائنات کے نظارے دیکھنے میں آئے۔

قارئین کے ذہن میں یہ سوال آنا طبعی امر ہے کہ یہ چراغ میرے ہاتھ کیسے لگا اور کہاں سے ملا جس نے مجھے مشکل حالات میں اور ابتلاؤں میں مضبوط بنا دیا اور میری دعاؤں کو قبولیت کا درجہ ملا اور فتح و کامیابی کے نظارے دکھائے۔ یہ بات میرے لئے باعث فخر ہے کہ یہ چراغ مجھے دربار خلافت سے ملا۔ الحمد للہ علی ذالک۔ چند ایک واقعات ضبط تحریر میں لاتا ہوں جس سے آپ اندازہ لگائیں گے کہ یہ چراغ کتنا زبردست اور طاقتور تھا۔

جولائی 1990ء میں لائبیریا میں خانہ جنگی نے پورے ملک میں فساد بر پا کر دیا تھا جس کی وجہ سے مشن بند کرنا پڑا اور ہم سب واقفین زندگی کو لائبیریا چھوڑنا پڑا اور سیرالیون پناہ لی۔ سیرالیون قیام کے دوران عارضی طور پر بطور مبلغ خدمت سلسلہ کی توفیق ملی۔ فروری 1992ء میں پاکستان رخصت پر جاتے ہوئے لندن میںحضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ سے ملاقات کے بعد معلوم ہوا کہ حضور انور نے لائبیریا مشن کی بحالی کے لئے میری تقرری فرما دی ہے۔ چار ماہ رخصت کے بعد واپس لائبیریا جانا تھا۔ خانہ جنگی میں تیزی آنے کی وجہ سے حالات قدرِ بگڑ گئے اور فیصلہ یہ ہوا کہ فی الحال سیرالیون چلا جاؤں اور جب لائبیریا میں حالات بہتر ہوں تو لائبیریا روانہ ہوجاؤں۔ جون 1993ء میں حالات قدرِ بہتر ہونے پر فری ٹاؤن سے منروویا لائبیریا روانگی ہوئی۔ لائبیریا روانگی سے پہلے حضور انور کا خط ملا جس میں آپ نے لائبیریا کے مخدوش حالات جن سے مجھے واسطہ پڑنا تھا کے پیش نظر خاص الخاص دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے۔ ’’اللہ تیرے سارے کام ٹھیک کر دے اور لائبیریا میں تاریخ ساز کام کرنے کی توفیق دے۔‘‘ یہ وہ کلمات تھے جو دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے کلمات تھے جو میرے ہاتھ میں بطور اللہ کا چراغ دیئے گئے۔ دربارِ خلافت سے یہ ملنے والی دعا جسے اپنی دعاؤں کا مرکزی نقطہ بنایا اور اس کی برکات سے اعجازی نشان دیکھے۔

٭…1994ء کی بات ہے منروویا کے ایک اچھے علاقہ میں مشن کے لئے چار کنال رقبہ خریدا ۔چار ہزار امریکن ڈالرز کی رقم ایڈوانس بھی دے دی۔ کاغذات کی تکمیل کے دوران معلوم ہوا ملکیت میں نقص ہے جو باعث پریشانی ہوا۔مزید بر آں مالکان نے جعلی کاغذات مکمل کر کے بقیہ 10ہزار ڈالر کی رقم کا مطالبہ بھی کر دیا۔ بے حد پریشانی ہو گئی۔ دعا کی طرف توجہ ہوئی اور متعلقہ آفس سے تحقیقات کروائیں تو انہوں نے تحریراً بتایا کہ غلطی سے کاغذ تیار ہو گئے ہیں ان سے لین دین نہ کریں۔ اصل مالک نہیں۔ اس تحریر سے مالکان کا بقیہ رقم کا مطالبہ رک گیا۔ اب ایڈوانس رقم واپسی کا مسئلہ تھا۔ مطالبہ کرنے پر لیت و لعل کرنے لگے۔ مجبوراً ہمیں کورٹ میں جانا پڑا۔ کیس 10سال سے زائد کورٹ میں رہا۔ حضور انور کی دعا کی برکت سے 2006ء میں اس کیس کا ہمارے حق میں فیصلہ ہوا اور ایڈوانس رقم چار ہزار واپس لینے میں کامیاب ہوئے جو ایک معجزہ سے کم نہ تھا۔

٭…1997ء کی بات ہے خانہ جنگی کے بد اثرات ابھی موجود تھے۔ کچھ علاقوں میں خوف و ہراس بدستور موجود تھا۔ ملک کے دُور دراز علاقے ابھی باقاعدہ رابطوں سے محروم تھے۔ ہم نے جماعتی تعلیم و تربیت کے لئے دار الخلافہ منروویا سے 75 میل دور ایک پرانی جماعت لارگوٹاؤن کا تربیتی دورہ کرنے کا پروگرام بنایا اور وفد کی صورت میں ہم روانہ ہوئے۔1990ء کے بعد منروویا سے باہر یہ پہلا سفر تھا۔ خوف و امید سے ملے جلے جذبات لے کر دعائیں کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ابھی آدھا سفر بھی طے نہ پایا تھا کہ گاڑی خراب ہو گئی۔ دوسری گاڑی کا ملنا مشکل امر تھا ۔ اس بے بسی کے عالم میں دوستوں کے ساتھ دعا کرنا شروع کر دی اور’ اللہ تعالیٰ تیرے سارے کام ٹھیک کر دے‘ کا کثرت کے ساتھ ورد کرنے لگ گیا۔ قدرت خدا وندی کا جلوہ دیکھا کہ ایک گاڑی آتی دیکھی جبکہ کوئی امید نہ تھی اور جو گاڑی دیکھی اس نے صرف یہاں تک آنا تھا اور واپس منروویا چلے جانا تھا۔ جب ڈرائیور سے بات ہوئی تو ہمیں دیکھ کر مان گیا اور ہمیں ہماری منزل تک پہنچانے کے لئے تیار ہو گیا ہمیں۔ یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے غیب سے خود ہمارے لئے انتظام کیا ہے اور ہماری پریشانی کو حل فرما دیا ہے۔ یہ دشوار گزار سفر خراب سڑک اور جنگلات سے گزر کر بغیر کسی مصیبت اور تکلیف کے لارگو ٹاؤن پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل پر بے حد شکر کیا۔ ایک عرصہ کے بعد اس جماعت سے رابطہ ہوا۔ ملنے پر خوشیاں بانٹی گئیں۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

٭…2002ء کی بات ہے کہ خاکسار لائبیریا سے اپنی فیملی کے ساتھ 10سال بعد پاکستان رخصت پر آیا۔ 2002ء میں رخصت ختم ہونے پر واپسی ہوئی۔ اس موقع پر قبولیت دعا کا ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ علی پور ضلع مظفر گڑھ سے ربوہ آنا تھا۔ سپیشل کار کروائی ۔ گاڑی پر سامان رکھوایا۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی۔ موسم خوشگوار تھا۔ سامان محفوظ رکھنے کے لئے کوئی ترپال وغیرہ نہ تھی کہ cover کر دیا جائے۔ بادل گھنے آنے لگے تو فکر ہوئی کہ اگر بارش شروع ہو گئی تو سامان بھیگ جائے گا۔ آغاز سفر میں ہلکی ہلکی پھوار دیکھی تو محسوس ہوا رحمت خدا وندی کی علامت ہے ۔ بادل دیکھ کر فکر ہوا۔ اگر بارش ہونا شروع ہوئی تو سامان خراب ہو جائے گا تو دربار خدا وندی میں دعا کی۔ اے خدا! بارش کو روک دے اور ہمیں مع سامان منزل مقصود تک محفوظ و مامون پہنچا ۔ اس دعا کا ایک لذت بخش جواب اس رنگ میں ملا جو ایک اعجازی نشان ہے کہ علی پور سے ربوہ تک سارے سفر میں گھنے بادل اور وہ بھی بڑے زور سے گرجنے والے اور پھر دائیں بائیں آ گے پیچھے بارش ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی مگر ہمارے اوپر بارش کا ایک قطرہ نہ گرا ۔ سارے سفر میں ہمارا سامان بھیگنے سے محفوظ رہا۔ جب جھنگ پہنچے تو دیکھا چند منٹ پہلے شدید بارش تھمی تھی۔ جل تھل ہو چکا تھا اور ہم پر ایک بوند تک نہ گری۔ یہ دیکھ کر ہم حیران ہو گئے کہ یہ کیسا نظارہ تھا۔ یہ تو پڑھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں پر بادلوں کا سایہ کر دیا تا دھوپ کی تپش سے محفوظ رہیں۔ اب یہ بھی دیکھ لیا کہ قدرت خدا وندی کے حکم سے گھنے برسنے والے بادل برسنے سے رک گئے۔ مگر آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور قطرات محبت ٹپکنے لگے اور یوں سب منازل طے ہوتی رہیں اور ہم لائبیریا خیریت سے پہنچ گئے۔الحمد للہ۔ یہ قبولیت دعا کا لذت بخش نظارہ ابدی اثرات چھوڑ گیا۔

٭…2006ء کی بات ہے کہ احمدیہ ہائی سکول منروویا کے لئے ایک قطعہ زمین تقریباً ایک ایکڑ خریدنے کی توفیق ملی۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد مالک زمین نے زمین واپس لینے کے لئے اپنے بھائیوں کی طرف سے کورٹ میں کیس کروا دیا جس کی وجہ سے ہمیں بہت پریشانی ہوئی ۔ ہم سب بے چین ہو گئے کہ یہ کیا ہوا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر ہم سب دعاؤں میں لگ گئے اور حضور انور کے دعائیہ کلمات بھی ’اللہ تیرے سارے کام ٹھیک کر دے‘ پڑھتے رہے اور حضور انور کی خدمت میں سارے حالات لکھ دیئے ۔ حضور انور کی طرف سے خط ملا ’اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے اور کامیابی عطا فرمائے۔ ‘

اس دعائیہ خط کے ملنے کے بعد حالات نے عجیب پلٹا کھایا۔ مالک زمین کے بھائی بہن ہمارے پاس آئے اور سب نے متفقہ طور پر فیصلہ بتایا کہ ہم کورٹ سے کیس واپس لینا چاہتے ہیں اور یہ قطعہ زمین مشن کو دینے کے لئے راضی ہیں ۔ بالآخر انہوں نے یہ کیس واپس لے لیا اور ہم سب حیران رہ گئے کہ یہ کیسے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا نشان دکھایا کہ اپنے پیارے بندے کی دعا کو معجزانہ رنگ میں قبول فرمایا۔ حضور انور کو اس کامیابی کی اطلاع دی اور ہمیں سجدات شکر بجا فرمانے کی توفیق ملی۔

٭…قبولیت دعا کا ایک اور واقعہ جو میرے لئے بے حد لذت بخش اور باعث فخر ہے بیان کرتا ہوں۔

1973ء کی بات ہے کہ میں جامعہ احمدیہ درجہ ثالثہ میں پڑھتا تھا کہ اپنی کلاس میں فیل ہو گیا تو دوبارہ اسی کلاس میں بیٹھا تو فکر ہوا کہ اگر اب فیل ہو گیا تو جامعہ سے نکال دیا جاؤں گا۔ اس احساس کا پیدا ہونا تھا کہ پڑھائی کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔ باقاعدہ پڑھائی شروع کر دی اور دعائیں کرنے اورحضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں دعائیہ خطوط لکھنے شروع کر دیئے کہ امسال اپنی کلاس میں دوم پوزیشن حاصل کروں اور محنت کے ساتھ پڑھائی کروں۔ ایک رات نفل پڑھ رہا تھا کہ حالت سجدہ میں دل میں خیال آیا کہ تُو دوم پوزیشن حاصل کرنے کے لئے دعائیں مانگ رہا ہے۔ اوّل پوزیشن کے لئے دعائیں کیوں نہیں کرتا۔ تب دوم کی بجائے اوّل پوزیشن کے لئے دعائیں کرنے لگ گیا اور حضرت خلیفۃ المسیح کو بھی اوّل پوزیشن حاصل کرنے کے لئے لکھنا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ جو مجیب الدعوات ہے اس نے اپنی قدرت کا جلوہ ظاہر فرمایا۔ جو مانگا بغیر کسی کمی بیشی کے دے دیا۔ درجہ ثالثہ میں اپنی کلاس کے پہلے سیمسٹر میں دوم پوزیشن حاصل کی اور جب سالانہ امتحان ہوئے تو اپنی کلاس میں اوّل پوزیشن لے کر کامیاب ہوا اور انعام پایا۔ الحمد للہ علی ذالک۔

جب درجہ رابعہ میں پہلے دن کلاس میں بیٹھے تو استاذی المکرم مولانا محمد شریف صاحب مرحوم(سابق مبلغ بلاد عربیہ) پڑھانے آئے تو ہم سے پوچھا کون اوّل آیا ہے اور کون دوم اور طلباء کو ترتیب وار بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔ خاکسار جب پہلے نمبر پر پہلی سیٹ پر بیٹھا تو انہوں نے تبصرہ فرمایا : اَلْیَوْمَ اَلْاَ کْرَمُ، اَکْرَمُ الطُّلَّابِ۔ یعنی آج اکرم سب طلباء میں سب سے زیادہ معزز ہے۔

قبولیت دعا کے اس نظارے اور اس اعزاز پر دل حمد سے بھر گیا اور یقین محکم ہوا کہ دربار خلافت سے ملنے والی دعائیں کس قدر قبولیت کا درجہ رکھتی ہیں۔ اب دربار خلافت سے ملنے والی دعا کا بقیہ حصہ بیان کرتا ہوں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایاتھا: ’اللہ آپ کو لائبیریا میں تاریخ ساز کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘۔ جو بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا۔

اس عاجز اور ناچیز کو اللہ تعالیٰ نے لائبیریا میں 23سال کے دوران ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی جو واقعی تاریخ ساز بن گئے ۔ دوران قیام کبھی ایسا خیال نہ گزرا کہ بہت کام ہو رہے ہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ جذبہ پرواز بلند تھا لیکن حالات و واقعات بعض اوقات رفتار کم کر دیتے تھے۔ جنوری 2011ء میں جب لائبیریا سے ٹرانسفر ہوئی اس وقت الوداعی پارٹی ہوئی اور سپاسنامہ پیش کیا گیا جس میں خاکسار کے لائبیریا میں قیام کے دوران جو کام ہوئے تھے بیان کئے گئے۔ تب معلوم ہوا کہ یہ تو واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور انور کی دعا کی قبولیت کا نشان ہے۔ الوداعی پارٹی میں شامل ہونے والے احباب جماعت اور پاکستانی کمیونٹی کے سر کردہ ممبران، کونسل آف چرچز کے نمائندہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے رطب اللسان تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی دعا کی برکت سے سب کچھ ٹھیک کر دیا۔ سب مسائل حل ہو گئے۔ الحمد للہ۔

لائبیریا کی خانہ جنگی نے سب کچھ ویران کر دیا تھا۔ جماعتیں بکھر گئیں۔ ادارے بند ہو گئے۔عمارتیں جلادی گئیں۔ کھنڈرات تھے جہاں ڈیرہ لگایا۔ پھر آہستہ آہستہ جماعت کا وجود نظر آنے لگا۔ جگہ جگہ جماعتیں قائم ہو گئیں۔ مختلف مقامات پر جماعتی پراپرٹی خریدنے کی توفیق ملی۔ جماعتی ادارے قائم ہوئے۔ مساجد کی تعمیر ہوئی۔ رفاہ عامہ کے کام ہوئے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کی توفیق ملی ۔ ملک کے طول و عرض میں جماعت کو ایک مقام حاصل ہوا اور وقار بلند ہوا۔ یہاں تک کہ ہم ایوانوں میں بھی داخل ہو گئے اور احمدیت کا پیغام دیا۔ ملک کے ایوانوں میں سلسلہ کے اداروں کی خدمات کو سراہا جانے لگا۔ اگر مختصر بیان کروں تو سمجھ لیں ایک ویرانہ آباد ہو گیا۔ خزاں تھی اور بہار آگئی۔

وقف اور دعاؤں کی برکت سے جو فضل خدا وندی پایا بے حد و حساب ہے۔ اس سارے عرصہ میں جب بھی مشکلات و مصائب سے واسطہ پڑا، بے چینی اور بے قراری نے غلبہ پایا تو خیال کرتا اب کام کیسے ہوگا۔ میرے لئے یہ کام کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے عَلَیَّ ھیِّنٌ کے الفاظ کریمانہ سامنے آ جاتے اور دل و دماغ میں راسخ ہو جاتے جس سے عجیب لذت و سرور ملتا اور وہ ناممکن کام ممکن ہو جاتا۔ ہر مشکل کے وقت ایسا ہی ہوتا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

یہ چند ایک واقعات تحدیث نعمت کے طور پر بیان کئے ہیں تا میرے بھائی جو للّٰہی وقف کر کے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں دعا کے زیور سے اپنے وقف کو یوں آراستہ کریں کہ اس وقف کا حسن دوبالا ہو جائے ۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button