الٰہی کارخانہ کی تیسری شاخ …
لنگرحضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام
جماعت احمدیہ بھی خداتعالیٰ نے اس زمانہ میں ایک عجیب قوم پیدافرمائی ہے۔ جس کی خواہشیں بھی نرالی، جس کے جذبے بھی کمال اورجس کے شوق بھی صوفیانہ۔جب دھندچھاکردسمبرکی آمداورسردی کے شباب کامسحورکن اعلان کرتی ہے توجہاں دنیاوالے گرم لحافوں میں گھس کرخشک میوہ جات،بھاپ اڑاتی کافی یاچائے سے لطف اندوز ہوتے، رومانوی باتوں یاناولوں میں مگن ہوجاتے ہیں ۔ وہاں عین اسی وقت احمدی اپنے جلسہ ہائے سالانہ کی یادوں کواپنے دلوں میں گرمارہے ہوتے ہیں ۔ کوئی یخ بستہ صبحوں میں تہجدکے مزے کا ذکرکررہاہوتاہے توکوئی ایمان افروز تقاریرکا۔کہیں بیت الدعاکے چھوٹے سے بابرکت حجرے کے باہرلگی لمبی قطاروں کے تذکرے ہورہے ہوتے ہیں توکہیں مسجد اقصیٰ کے وسیع صحن میں بیٹھے ہمہ تن گوش احباب کے۔اورانہی یادوں میں ایک دلنشیں یادلنگر حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام کی بھی ہے۔
ہیں لوگ وہ بھی چاہتے ہیں دولت جہاں ملے
زمیں ملے، مکاں ملے، سکونِ قلب و جاں ملے
پر احمدی وہ ہیں کہ جن کے جب دعا کو ہاتھ اٹھیں
تڑپ تڑپ کے یوں کہیں کہ ہم کو قادیاں ملے
جلسے کاہررنگ ہی نرالا اوربابرکت ہے۔ اورایساکیوں نہ ہو، بقول حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام
’’… اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں ۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی پہلی اینٹ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں ‘‘۔
(مجموعہ اشتہارات جلد 1صفحہ281-282)
لیکن اس وقت میراذہن جلسے کے ایک جزولاینفک لنگرکی طرف متوجہ ہے۔ اس مبارک لنگرکے کیاکہنے۔ دنیاکے بڑے سے بڑے ترقی یافتہ ممالک کے لگژری ہوٹلزکے بوفے بھی حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے لنگرکے آلوگوشت اوردال کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
یہ وہ لنگرہے جوخداتعالیٰ کاایک عظیم معجزہ ہے۔ یہ لنگر اس عظیم الشان ہستی کافیض ہے،جو باوجودصاحب جائیدادہونے کے ایک وقت خوددسترخوان کے بچے ہوئے ٹکڑوں پرگزارہ کرتاتھا۔ اورجسے دسترخوان کے چنے ہوئے کھانوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جوکچھ بچ رہتاتھا وہ خداکاشکراداکرتے ہوئے تناول فرمالیتے۔
حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام اس ابتدائی زمانے کاذکریوں فرماتے ہیں :۔
لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ کَانَ اُکُلِیۡ
وَ صِرۡتُ الۡیَوۡمَ مِطۡعَامَ اۡلأَ ھَالِی
ترجمہ:ایک وقت تھاجب دسترخوان کے بچے ہوئے ٹکڑوں پرمیراگذارہ تھا۔اب دیکھو!میں بڑے بڑے خاندانوں کو کھلانے والابن گیاہوں ۔
حضرت مصلح موعود ؓ اس شعرکی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
’’… اس میں اشارہ ہے ان مہاجرین کی طرف جواپناوطن چھوڑکرسینکڑوں مہاجروں کی صورت میں یہاں بس رہے ہیں اورحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کاقائم کردہ لنگران کوپال رہاہے۔غرض آج بھی وہی قرآنی لنگرجاری ہے اورآپ لوگ ساراسال بھی اورجلسہ کے دنوں میں بھی اس قرآنی لنگرسے جوحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ذریعہ سے جاری ہواتھا، فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ وہ مسیح موعودؑ، جوہزاروں ایکڑزمین اورچھ گاؤں کا واحدمالک ہونے کے باوجود آپ لوگوں کی خاطرغریب بن گیاتھاتاکہ قرآنی لنگرکی کوئی روٹی آپ کے لئے بھی لے آوے،آپ کے لئے بڑابھاری نمونہ ہے۔ اگرآپ اس زندگی پرغورکریں تویقیناًآپ نہایت آسانی کے ساتھ ولی اللہ بن سکتے ہیں ‘‘۔(سیرروحانی صفحہ755)
لنگرخانہ کانظام بہت اہمیت کاحامل ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے اسے الٰہی کارخانہ کی تیسری شاخ قرار دیاہے۔آپ فرماتے ہیں :۔
’’…اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔ وہ کیا ہے ؟ہمارا اسی راہ میں مرنا۔ یہی موت ہے جس پراسلام کی زندگی، مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلّی موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔ اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اب چاہتا ہے اور ضرور تھا کہ وہ مہم عظیم کے روبراہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کارخانہ جو ہر ایک پہلو سے مؤثر ہو اپنی طرف سے قائم کرتا۔ سو اس حکیم وقدیر نے اس عاجز کو اصلاح خلائق کے لئے بھیج کر ایسا ہی کیا اور دنیا کو حق اور راستی کی طرف کھینچنے کے لئے کئی شاخوں پر امر تائید حق اور اشاعت اسلام کو منقسم کر دیا…تیسری شاخ اس کارخانہ کی واردین اور صادرین اور حق کی تلاش کے لئے سفر کرنے والے اور دیگر اغراض متفرقہ سے آنے والے ہیں جو اس آسمانی کار خانہ کی خبر پا کر اپنی اپنی نیّتوں کی تحریک سے ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں ۔ یہ شاخ بھی برابر نشوونما میں ہے۔ اگرچہ بعض دنوں میں کچھ کم مگر بعض دنوں میں نہایت سرگرمی سے اس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان سات برسوں میں ساٹھ ہزار سے کچھ زیادہ مہمان آئے ہوں گے اور جس قدر اُن میں سے مستعد لوگوں کو تقریری ذریعوں سے روحانی فائدہ پہنچایا گیا اور اُن کے مشکلات حل کر دیئے گئے۔اور اُن کی کمزوری کو دور کر دیا گیا اس کا علم خدا تعالیٰ کو ہے۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زبانی تقریریں جو سائلین کے سوالات کے جواب میں کی گئیں یا کی جاتی ہیں یا اپنی طرف سے محل اور موقعہ کے مناسب کچھ بیان کیا جاتا ہے یہ طریق بعض صورتوں میں تالیفات کی نسبت نہایت مفید اورمؤ ثر اور جلد تر دلوں میں بیٹھنے والا ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نبی اس طریق کو ملحوظ رکھتے رہے ہیں اور بجُز خدا تعالیٰ کے کلام کے جوخاص طور پر بلکہ قلم بند ہو کر شائع کیا گیا باقی جس قدر مقالات انبیاء ہیں وہ اپنے اپنے محل پر تقریروں کی طرح پھیلتے رہے ہیں ۔ عام قاعدہ نبیوں کا یہی تھا کہ محل شناس لیکچرار کی طرح ضرورتوں کے وقتوں میں مختلف مجالس اور محافل میں اُن کے حال کے مطابق روح سے قوت پا کر تقریر کرتے تھے۔ مگر نہ اِس زمانہ کے متکلّموں کی طرح کہ جن کو اپنی تقریر سے فقط اپنا علمی سرمایہ دکھلانا منظور ہوتا ہے۔ یا یہ غرض ہوتی ہے کہ اپنی جھوٹی منطق اور سو فسطائی حجتوں سے کسی سادہ لوح کو اپنے پیچ میں لاویں اور پھر اپنے سے زیادہ جہنّم کے لائق کریں ۔بلکہ انبیاء نہایت سادگی سے کلام کرتے اور جو اپنے دل سے اُبلتا تھا وہ دوسروں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔اُن کے کلمات قدسیّہ عین محل اور حاجت کے وقت پر ہوتے تھے اور مخا طبین کو شغل یا افسانہ کی طرح کچھ نہیں سُناتے تھے بلکہ اُن کو بیمار دیکھ کر اور طرح طرح کے آفات ِ روحانی میں مبتلا پا کر علاج کے طور پر اُن کو نصیحتیں کرتے تھے یا حُججِ قاطعہ سے اُن کے اوہام کو رفع فرماتے تھے۔ اور اُن کی گفتگو میں الفاظ تھوڑے اور معانی بہت ہوتے تھے۔ سو یہی قاعدہ یہ عاجز ملحوظ رکھتا ہے اور وار دین اور صادرین کی استعداد کے موافق اور اُن کی ضرورتوں کے لحاظ سے اور اُن کے امراض لاحقہ کے خیال سے ہمیشہ باب ِ تقریر کھلا رہتا ہے کیونکہ بُرائی کو نشانہ کے طور پردیکھ کر اس کے روکنے کے لئے نصائح ضروریہ کی تیر اندازی کرنا اور بگڑے ہوئے اخلاق کو ایسے عضو کی طرح پا کر جو اپنے محل سے ٹل گیا ہو اپنی حقیقی صورت اور محل پر لانا ۔جیسے یہ علاج بیمار کے رُوبرو ہونے کی حالت میں متصوّر ہے اور کسی حالت میں کماحقہ ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے چندیں ہزار نبی اور رسول بھیجے اور ان کی شرفِ صحبت میں مشرّف ہونے کا حکم دیاتا ہر ایک زمانہ کے لوگ چشم دید نمونوں کو پا کر اور ان کے وجود کو مجسّم کلام الٰہی مشاہدہ کر کے اُن کی اقتدا کے لئے کوشش کریں ۔ اگر صحبت صادقین میں رہنا واجبات دین میں سے نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ اپنے کلام کو بغیر بھیجنے رسولوں اور نبیوں کے اور طور پر بھی نازل کر سکتا تھا یا صرف ابتدائی زمانہ میں ہی رسالت کے امر کو محدود رکھتا اور آئندہ ہمیشہ کے لئے سلسلہ نبوت اور رسالت اور وحی کا منقطع کر دیتا۔ لیکن خدا تعالیٰ کی عمیق حکمت اور دانائی نے ہر گز ایسا منظور نہیں رکھا اور ضرورت کے وقتوں میں یعنی جب کبھی محبت الٰہی اور خدا پرستی اور تقویٰ طہارت وغیرہ امور واجبہ میں فرق آتا رہاہے مقدس لوگ خدا تعالیٰ سے وحی پا کر نمونہ کے طور پر دنیا میں آتے رہے ہیں اور یہ دونوں قضیے باہم لازم ملزوم ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمیشہ کے لیے اصلاحِ خلائق کی طرف توجہ ہے تو یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ ایسے لوگ بھی ہمیشہ کے لئے آتے رہیں کہ جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی خاص توجہ سے بینائی بخشی ہو اور اپنی مرضیات کی راہ پرثابت قدم کیا ہو۔ بلاشبہ یہ بات یقینی اور امور مسلّمہ میں سے ہے کہ یہ مہم عظیم اصلاح خلائق کی صرف کاغذوں کے گھوڑے دوڑانے سے روبراہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے اسی راہ پر قدم مارنا ضروری ہے جس پر قدیم سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی مارتے رہے ہیں ۔ اور اسلام نے اپناقدم رکھتے ہی اس مؤثر طریق کو ایسی مضبوطی اور استحکام سے رواج دیا ہے کہ اُس کی نظیر دوسرے مذہبوں میں ہر گز نہیں پائی جاتی۔ کون اس جماعت کثیر کا دوسری جگہ وجود دکھلا سکتا ہے جو تعداد میں دس ہزار سے بھی زیادہ بڑھ گئی تھی اور کمال اعتقاد اور انکسار ااور جانفشانی اور پوری محویت سے سچائی کے حاصل کرنے اور راستی کے سیکھنے کے لئے آستانہ نبوی پر دن رات پڑی رہتی تھی۔ بے شک حضرت موسیٰ کو بھی ایک جماعت ملی تھی مگر وہ کیسی اور کس قدر سر کش اور متمرّد اور روحانی صحبت اور صدق قدم سے دُور اورمہجور رہنے والی تھی اس بات کو بائبل کے پڑھنے والے اور یہودیوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں ۔ مگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی جماعت نے اپنے رسول مقبول کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی اخوت کی رُو سے سچ مچ عضو واحد کی طرح ہو گئی تھی اور اُن کے روزانہ برتائو اور زندگی اور ظاہر باطن میں انوارِ نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی عکسی تصویریں تھے۔ سو یہ بھاری معجزہ اندرونی تبدیلی کا جس کے ذریعہ فحش بُت پرستی کرنے والے کامل خدا پرستی تک پہنچ گئے اور ہر دم دنیا میں غرق رہنے والے محبوب حقیقی سے ایسا تعلق پکڑ گئے کہ اس کی راہ میں پانی کی طرح اپنے خونوں کو بہا دیا یہ دراصل ایک صادق اور کامل نبی کی صحبت میں مخلصانہ قدم سے عمر بسر کرنے کا نتیجہ تھا۔ سو اِسی بنا پر یہ عاجز اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے اور چاہتا ہے کہ صحبت میں رہنے والوں کا سلسلہ اور بھی زیادہ وسعت سے بڑھا دیا جائے اور ایسے لوگ دن رات صحبت میں رہیں کہ جو ایمان اور محبت اور یقین کے بڑھانے کے لیے شوق رکھتے ہوں اور اُن پر وہ انوار ظاہر ہوں کہ جو اس عاجز پر ظاہر کئے گئے ہیں اور وہ ذوق ان کو عطا ہو جو اس عاجز کو عطا کیا گیا ہے تا اسلام کی روشنی عام طور پر دنیا میں پھیل جائے اور حقارت اور ذلت کا سیہ داغ مسلمانوں کی پیشانی سے دھویا جائے۔ اِسی کی بشارت دے کر خداوند خدا نے مجھے بھیجا اور کہا کہ بخرام کہ وقت تونزدیک رسیدو پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم اُفتاد …یہ پانچ طور کا سلسلہ ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا۔ اگرچہ ایک سرسری نگاہ والا آدمی صرف تالیف کے سلسلہ کو ضروری سمجھے گا اور دوسری شاخوں کو غیر ضروری اور فضول خیال کرے گا مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ سب ضروری ہیں اور جس اصلاح کے لئے اُس نے ارادہ فرمایا ہے، وہ اصلاح بجزاستعمال اِ ن پانچوں طریقوں کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ یہ تمام کارو بار خدا تعالیٰ کی خاص امداد اور خاص فضل پر چھوڑا گیا ہے اور اس کے انجام پہنچانے کے لئے وہی کافی اور اسی کے مبشرانہ وعدے اطمینان بخش ہیں لیکن اسی کے حکم اور تحریک سے مسلمانوں کو امداد کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ کے تمام نبی جو گزر چکے ہیں مشکلات پیش آمدہ کے وقت پر توجہ دلاتے رہے ہیں ‘‘۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد3صفحہ10تا26)
یہ وہ زمانہ تھا، جبکہ جماعت میں ابھی چندوں کانظام جاری وساری اورمستحکم نہیں ہواتھا۔ اس زمانے میں ہرقسم کے اخراجات کے لئے منتظمین حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی خدمت میں اپنے اپنے خرچ کے اندازے پیش کرکے دست طلب بڑھاتے تھے۔ اورخداتعالیٰ مختلف ذرائع سے حضرت اقدس کوجورقوم بھجوایاکرتاتھا، آپ ان رقوم سے حسب موقع خرچ کے لئے منتظمین کورقم عطافرمادیاکرتے تھے۔
جلسہ سالانہ کے موقع پرلنگرکے لئے جس طرح اخراجات ہوتے رہے، اس سلسلے میں حضرت منشی ظفراحمد رضی اللہ عنہ صاحب کپورتھلوی کی ایک روایت باربارپڑھنے کے لائق ہے۔ تاکہ اندازہ ہوکہ یہ کتناچھوٹاسا آغازتھا، جوآج اس عظیم الشان مقام اورمرتبے تک پہنچ چکاہے۔
حضرت منشی ظفراحمدؓصاحب کپورتھلوی فرماتے ہیں کہ:
’’…ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پرخرچ نہ رہا۔ ان دنوں جلسہ سالانہ کے لئے چندہ ہوکرنہیں جاتاتھا۔ حضور اپنے پاس سے ہی صَرف فرماتے تھے۔ حضرت میرناصر نواب صاحبؓمرحوم نے آ کرعرض کی کہ رات کومہمانوں کے لئے کوئی سامان نہیں ہے۔ آپ نے فرمایاکہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیورلے کر، جوکفایت کرسکے، فروخت کر کے سامان کرلیں ۔چنانچہ زیورفروخت کرکے یارہن کرکے میرصاحب روپیہ لے آئے اورمہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچادیا۔ دودن کے بعدپھرمیرصاحب نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہاکہ کل کے لیے پھرکچھ نہیں ہے۔ فرمایاکہ ہم نے برعایت ظاہری اسباب کے انتظام کردیاتھا۔ اب ہمیں ضرورت نہیں ۔ جس کے مہمان ہیں ، وہ خودکرے گا۔ اگلے دن آٹھ یانوبجے جب چٹھی رسان آیاتوحضورنے میرصاحب کواورمجھے بلایا۔ چٹھی رسان کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آڈرہوں گے، جومختلف جگہوں سے آئے تھے۔ سوسو، پچاس پچاس روپے کے۔ اوران پرلکھاتھاکہ ہم حاضری سے معذور ہیں ، مہمانوں کے صَرف کے لئے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں ۔ آپ نے وصول فرماکر توکل پرتقریرفرمائی…۔کہ جیساایک دنیادارکواپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پربھروسہ ہوتاہے کہ جب چاہوں گا، نکال لوں گا۔ اس سے زیادہ ان لوگوں کو، جواللہ تعالیٰ پرپوراتوکّل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ پریقین ہوتاہے۔ اورایساہی ہوتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے، فوراًخداتعالیٰ بھیج دیتاہے‘‘۔
(اصحاب احمدجلدچہارم صفحہ183-184)
حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ لنگرکے متعلق ایک عظیم الشان پیشگوئی فرماتے ہیں :۔
’’…سورۃ کوثر میں جس لنگرکی خبردی گئی تھی، اس میں کوثرسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاکامل متبع مسیح موعود مراد تھا۔ چنانچہ اس کالنگردیکھ لو، آج تک جاری ہے۔ اس جلسہ پرآنے والے بھی فائدہ اٹھارہے ہیں اورساراسال بھی لنگر جاری رہتاہے۔ پس مبارک ہوکہ آپ سب لوگوں کواس موعودلنگرسے فائدہ اٹھانے کاموقع ملاہے۔ مجھے یادہے، حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام کے وقت میں جب پرانے صحابی ؓ آیاکرتے تھے تولنگر سے روٹیاں لے جاتے تھے اورکہتے تھے کہ ان میں بڑی برکت ہے۔ ہم توساراسال کوئی بیماری ہواپنے بچوں اوربیویوں کویہی روٹیاں پانی میں گھول کرپلادیتے ہیں اوروہ بیماریاں دور ہوجاتی ہیں ۔ اگراحمدی اپنے ایمان پرقائم رہے تویہ لنگر بھی ہمیشہ قائم رہے گااورکبھی نہیں مٹے گاکیونکہ اس کی بنیادخداکے مسیح موعود نے قائم کی ہے۔ جن کوخداتعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ تین سوسال کے اندرتیری جماعت ساری دنیاپرغالب آجائے گی۔ اور تین سوسال میں یہ لنگرربوہ میں نہیں رہے گابلکہ تین سوسال کے بعدایک لنگرامریکہ میں بھی ہوگا، ایک چین میں بھی ہوگا، ایک انڈیامیں بھی ہو گا، ایک جرمنی میں بھی ہو گا، ایک روس میں بھی ہوگا، ایک چین میں بھی ہوگا، ایک انڈونیشیامیں بھی ہوگا، ایک سیلون میں بھی ہوگا، ایک برمامیں بھی ہوگا، ایک شام میں بھی ہوگا، ایک لبنان میں بھی ہوگا، ایک ہالینڈمیں بھی ہو گا۔ غرض دنیاکہ ہر بڑے ملک میں یہ لنگر ہوگا‘‘۔
(سیرروحانی صفحہ751-752)
حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین سوسال کے بعدجن ملکوں میں لنگرجاری ہونے کی خبردی تھی، وہ آج 127سال میں ہی اکثرملکوں میں پوری ہوچکی ہے۔وہ آخری جلسہ سالانہ، جوحضرت اقدس بانیٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی زندگی میں منعقد ہوا اورجس میں ایک بڑالنگرجاری ہوا، آج افریقہ کے مختلف ممالک میں ہرجلسہ سالانہ پراس سے کئی گنابڑے لنگر جاری ہوتے ہیں ۔ اسی طرح یورپ کے مختلف ممالک میں بھی اس سے بہت بڑے بڑے لنگرخداتعالیٰ کے فضل سے جاری ہوتے ہیں ۔ اورنہایت عمدگی اور حسن انتظام کے ساتھ جاری رکھے جاتے ہیں ۔ قادیان میں توجاری ہی ہے۔ ربوہ میں بھی آج تک یہ لنگرساراسال اپنے فیض کے لحاظ سے جاری رہتاہے۔ گو جلسہ سالانہ کے مبارک ایام میں اس لنگرکے جاری کرنے پرقدغن لگا دی گئی ہے۔ مگرفیض کے لنگردنیا میں کون بند کرسکتاہے؟ ایک لنگر بندکرنے کی کوشش کی گئی تودنیاکے سینکڑوں ممالک میں حضرت مسیح موعودؑ کے لنگرجاری ہو گئے۔
ایک وہ وقت تھاکہ لنگرکے اخراجات کے لئے حضرت اقدس بانی ٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ کوحضرت امّاں جان کے زیوربیچنے پڑے۔ یہ ان زیورات کی بھی برکت ہے، جوآج ساری دنیامیں مسیح پاک کے لنگروں کے بے شمار اخراجات کے لئے سال بہ سال جماعت کو ازخود بہتے ہوئے دریاکی صورت میں رقم عطاہوتی چلی جارہی ہے۔ اورانشاء اللہ ہمیشہ ہوتی چلی جائے گی۔مگران دریاؤں کوجاری کرنے والاوہی رازق خدا ہے، جس نے حضرت بانی ٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لنگرکوجاری فرمایا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ مسیح پاک کے لنگرسے فیض پانے کی توفیق عطافرمائے اورہماراشماربھی اپنے پیارے مسیح کے ان غلاموں اوردرویشوں میں فرمائے، جن کے متعلق اس پاک ذات نے اپنے موعودمسیح کوکشفاً دکھایاکہ
’’عرصہ قریباً اٹھائیس برس کا گزرا ہے کہ میں نے خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا، جو ایک اونچے چبوترے پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا، جو نہایت چمکیلا تھا۔ وہ نان اس نے مجھے دیااور کہا کہ: یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔یہ اس زمانہ کی خواب ہے، جبکہ میں نہ کوئی شہرت اور نہ کوئی دعویٰ رکھتا تھا اور نہ میرے ساتھ درویشوں کی کوئی جماعت تھی۔ مگر اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے، جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنا دیا ہے اور اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب سے علیحدہ ہو کر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائیگی میں آ آباد ہوئے ہیں ۔ اور نان سے میں نے یہ تعبیر کی تھی کہ خدا ہمارا اور ہماری جماعت کا آپ متکفل ہو گا اور رزق کی پریشانگی ہم کو پراگندہ نہیں کرے گی۔ چنانچہ سالہائے دراز سے ایسا ہی ظہور میں آرہا ہے‘‘۔
(نزول المسیح ،مندرجہ زیرپیشگوئی نمبر75،روحانی خزائن جلد18صفحہ584-585)
٭…٭…٭




