تر بیتِ اولا داور انصار اللّٰہ کی ذمہ داریاں( قسط 6)
(قرآن و حدیث اورحضرت اقدس مسیح موعود ؑ اورآپ کے خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں)
بچے میں دیگر مختلف خوبیاں پیدا کرنے کے لئے کوششیں
بچے کو ضد سے بچانے کے لئے اسے مناسب توجہ دینی بہت ضروری ہے ۔ بہتر ہے کہ ضد کی نوبت ہی نہ آنے دیں ۔ بچے کے دل میں آئے دن نِت نئی خواہشات جنم لیتی ہیں۔ اگر جائز یا بے ضرر خواہش ہوتو جلدی پوری کردینی چاہیئے ۔دوسری صورت میں بچے کی تشفی کسی اور صورت میںکر دینی چاہئے کیونکہ اس کی ضد پوری کرنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ یہ بات اسی انداز میں منوانے کا عادی ہو جائے گا ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ وقت صبر کا اہم جز ہے ۔ یہ وقت جتنا طویل ہو گا اتنا ہی صبر کا مادہ پیدا ہوگا ۔ مثلاً پھل خریدا گیا ہے ۔ بچہ فوراً مانگے تو اُسے سمجھائیں کہ یہ دھوئے جائیں گے، پھر کھا نے کے بعد کھائے جائیں گے ۔
اسی طرح والدین کو چاہئے کہ بچے کے مطالبات کبھی جلد پورے کردیں کبھی دیر سے اور بعض مطالبات نہ بھی پورے کریں مثلاً چاند یا تارے کا مطالبہ جو کبھی پورا ہو ہی نہیں سکتا ۔دوسرا طریق یہ ہے کہ مانگی گئی چیزکی کچھ مقداربچہ کو دے دی جائے اور باقی کے لئے اُسے سمجھادیا جائے کہ اب وہ کل ملے گی یا شام کو ملے گی ۔ اس انتظار میں بچہ صبر کرنا سیکھ جائے گا اور اُس کے اندر ’’نہ‘‘ برداشت کرنے کی عادت بھی پیدا ہو جائے گی۔ کبھی اسے کہا جاسکتا ہے کہ دوسرے بہن بھائی سکول سے واپس آئیں گے تو اس وقت چیز ملے گی ۔ اس طریق سے اسے صبر کرنے کے ساتھ دوسروں کے ساتھ share ( حصہ بانٹنے ) کرنے کی عادت بھی پڑے گی ۔
والدین کو چاہئے کہ بچے کو جو دینا ہے وہ دے کر سمجھادیں کہ بس تمہارا حصہ اتنا ہی ہے، اس سے زیادہ نہیں ملے گا ۔ جب وہ اپنے حصہ پر اکتفاکر نا سیکھ لے گا تواُس میں آہستہ آہستہ قناعت کرنے کی عادت بھی پیدا ہو جائے گی ۔
بچے میںاطاعت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اُس سے حکمتِ عملی سے اپنی بات منوائی جائے۔ چنانچہ اُس کی عمر اور صلاحیت کے مطابق اُس سے چھوٹے چھوٹے کام کروانے چاہئیں خواہ وہ بِلا ضرورت ہی کیوں نہ ہوں مثلاً یہ چیز وہاں رکھ دو ، وہ چیز لے آئو ، اس چیز کو نہ چھیڑو۔ اس قسم کی پر یکٹس سے بچے کوکہنا ماننے کی عادت ہوگی، گویا اطاعت کا وصف پیدا ہو گا۔
اگر والد یا گھر کا کوئی دوسر ا فردبچے کو اُس کی کسی غلطی پہ سرزنش کرے تومناسب تادیب کی تائید کرنی چاہئے۔ بعض گھروں میں والدہ، نانی یادادی وغیرہ بچوں کی بے جا طرفداری کا غلط روّیہ اپناکرانجانے میں بچوں کو بگاڑنے کا کردار ادا کرتی ہیں، اُنہیںبھی سمجھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور بچوں کی بھی اصلاح کرنی چاہئے۔
گناہ سے نفرت اورنیکی سے محبت پیدا کریں
بچوں کے دل میں گناہ سے نفرت اور نیکی سے محبت پیدا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔اسی طرح بچوں کے دل میں ظاہری صفائی سے محبت اور گندگی سے نفرت پیدا کریں۔ بچوں کو صاف ستھرا لباس پہنایا کریں اور بچوں کو گندگی سے نفرت کرنا سکھائیں ۔
یسر نا القر آن اور قر آن کریم پڑھانا اور نماز کی عا دت ڈالنا
قاعدہ یسر ناالقرآن اور اس کے بعد قرآن کریم ناظرہ بچوں کو اگر ہو سکے تو سکول جانے کی عمر سے پہلے ایک مرتبہ ختم کروانے کی کوشش ضرور کی جائے ۔قرآن کریم پہلی مرتبہ ختم کرنے پر بچے کی حوصلہ افزائی کے لئے اُس کی آمین کی تقریب منعقد کرنا بھی بہت بابرکت بات ہے۔ لیکن اس تقریب میں بھی سادگی ہونی چاہئے اور دعا کو اِس میں سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہئے۔ بچوں کی بھی یہ بات اچھی طرح سمجھانی چاہئے اور تحفے تحائف میں اُنہیں ملوث کرنے کی بجائے دعاؤں کی طرف اُن کی توجہ مبذول کروانی ضروری ہے۔
پھربچوں کو چھوٹی چھوٹی سورتیں حفظ کر وانے اور منتخب آیات اور نماز کے الفاظ یا د کر وانے کی بھر پور کوشش کی جائے ۔
ہشام بن سعد سے روایت ہے کہ ہم معاذ بن عبداللّٰہ بن خبیب جہنی کے گھر گئے انہوں نے اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ بچہ کب نماز پڑھنی شروع کرے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ایک آدمی نے بتایا تھا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ امر دریافت کیا گیا تو حضور ؐنے فرمایا کہ ’’بچہ جب اپنے دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں تمیز کرنا جان لے تو اُسے نماز کا حکم دو۔‘‘
(ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب متی یومر الغلام بالصلوۃ)
بچوں کے دل میں نماز کی محبت پیدا کرناضروری ہے۔ اگر بچے اپنے ماں باپ کو با قاعدہ سج دھج کر پیار کے ساتھ اور سلیقہ کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھیں گے تو پیشتر اس کے کہ وہ سکول جانے لگیں ان کے دل میں بھی نماز کی محبت قائم ہو جائے گی۔
حضرت مصلح موعودفرماتے ہیں: ’’ تربیت میں سب سے پہلی چیز نماز ہے اور دوسرا ان کو دین سے واقف کرنا ہے۔ اس لئے ہر شخص اس بات کو اپنے فرائض میں داخل کرلے کہ اولاد کو نماز کی تعلیم دینی ہے ۔ بلکہ بچوں کو نماز میں ساتھ لائے۔‘‘ (خطبات محمود جلد 13صفحہ 644)
پھر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللّٰہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’آپ سب انصار کو توجہ دلائیں کہ اپنے گھروں میں اپنے بچوں کی نگرانی کریں کہ نمازیں پڑھ رہے ہیں، قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ مسجد میں اُن کو اپنے ساتھ لائیں تا کہ اُن کو مسجد آنے کی عادت پڑے۔‘‘
(بحوالہ روزنامہ الفضل20 اکتوبر2013ء)
پس والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو نماز میں ساتھ لائیں اور انہیں نماز اور مسجد کے آداب اچھی طرح سمجھائیں۔
یہی وجہ ہے کہ مجلس انصار اللّٰہ نے اپنے ما ہا نہ رپورٹ فارم مجلس میں شعبہ تر بیت کے ضمن میں اس امر کو خاص طور پر شامل کیا ہے کہ نماز میں بچوں کو ساتھ لا نے والے انصار کی تعداد کتنی ہے۔لیکن اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ حدیثِ مبارکہ کے مطابق بہت چھوٹے بچوں کو مساجد میں نہ لائیں بلکہ پہلے گھر میں اُنہیں اپنے ساتھ نماز میں کھڑا کر کے نماز کے آداب اور پھر مساجد کے آداب اچھی طرح سمجھائیں۔جب وہ کچھ بڑے ہو جائیں اور ان امور کو سمجھنے لگیں تو پھر اُنہیں اپنے ساتھ مسجد میں لائیں اورچھوٹی عمر میں اُنہیں اپنے قریب ہی رکھیں تاکہ نہ صرف اُن کی کسی نامناسب حرکت کی آپ فوراً اصلاح کرسکیں بلکہ اگر اچانک کوئی ضرورت پیش آجائے تو اُسے پورا کرنے کی کوئی صورت بھی کرسکیں۔
پھرروزانہ بلند آواز سے تلاوتِ قرآن کریم کرنے کی عادت ڈالنے کی ضرورت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللّٰہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارشاد ہے ’’ بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھنے کی عادت ڈالیں اور خود بھی پڑھیں ۔ہر گھر سے تلاوت کی آواز آنی چاہئے۔ ‘‘
(خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 688)
پس بچوں کو عادت ڈالیں کہ روزانہ صبح کے وقت تلاوت قرآن کریم کے بعدناشتہ کریں۔
سیر و تفریح کے لئے بچوں کو با ہر لے کر جانا
گاہے بگاہے بچوں کو اپنے ہمراہ سیر وتفریح کے لئے باہر مختلف مقا مات پر ضرور لے جانا چاہئے۔اس سے نہ صرف اپنی اور بچوں کی تفریح ہو جاتی ہے اور ان کی معلومات میں اضافہ ہو تا ہے بلکہ والدین کو کافی وقت بچوں کے زیادہ قریب ہونے کا بھی موقع میسر آجا تا ہے جسے وہ کئی پہلوؤں سے اُن کی بہتری کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔
اچھی اچھی کہانیاں سنانا
لغو، مخرب ِ اخلاق اور بے سروپا کہانیاں سنانے کی بجائے سبق آموز، مفید اور دیندار بنانے والے قصے اور کہانیاںبھی بچوں کو سنانی چاہئیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’اچھی کہانی سنا دینی چاہئے، اس سے بچوں کو عقل اور علم آتا ہے۔‘‘ (سیرت حضرت مسیح موعودؑ از یعقوب علی عرفانی صاحبؓ صفحہ384)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللّٰہ تعالیٰ بھی اُردو کلاس میں بچوں کو مختلف کہانیاں سنایا کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تو کہانی خود بنا کر بھی سناتے تھے۔ لیکن کہانی سناتے ہوئے بھی ہمیںہر گز کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے کوئی بد خلق پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ اسی لئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں’’ بچوں کوڈراؤنی کہانیاں نہیں سنانی چاہئیں، اس سے ان میں بزدلی پیدا ہوجاتی ہے اور ایسے انسان بڑے ہوکر بہادری کے کام نہیں کرسکتے۔ اگربچہ میں بزدلی پیدا ہوجائے تو اسے بہادری کی کہانیاں سنانی چاہئیں اور بہادرلڑکوں کیساتھ کھلانا چاہئے۔‘‘
(انوار العلوم جلد 9صفحہ 204)
ٹی وی وغیرہ دیکھنے کے بارے میں رہنمائی
بچوں کی تربیت اس رنگ میں ہو کہ ان میں اچھے اور بُرے کی تمیز پیدا ہو اور صحیح اور غلط کا احساس پیدا ہوجائے۔ ٹی وی کے اچھے پروگرا م دیکھے جائیں،برے مناظر آ جائیں تو اُن سے کراہت کا اظہار کرتے ہوئے چینل بدل کر توجہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ٹی وی دیکھتے ہوئے مناسب لباس اور رویے کے بارے میں بچوں کو واضح طور پر سمجھایا جائے کیونکہ میڈیا اپنا ایک گہرا اثر رکھتا ہے۔ ڈراؤنے ڈرامے اورفلمیں وغیرہ بھی نہیں دیکھنی چاہئیں ان سے بھی بچوں میں بزدلی پید ا ہوتی ہے۔ اکثر چھوٹے بچوں کو کارٹون فلمز دیکھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی بچوں کی رہنمائی کرنی چاہئے۔ بعض والدین بچے کاکوئی کام مکمل کرلینے کے بعدبطور انعام اس کے لئے بھی وقت مقرر کر دیتے ہیں تا کہ بچہ ہر وقت یا بہت زیادہ وقت اسی طرف ہی متوجہ نہ رہے۔
یہ خدا تعالیٰ کا ہم پر عظیم الشان احسان ہے کہ اُس نے ہمیں ایم ٹی اے جیسی نعمت عطا کر رکھی ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم خود بھی اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والے ہوں اور اپنے بچوں کو بھی چھوٹی عمر سے اِسے دیکھنے کی عادت ڈال دیں ۔گھر میں اگر اسے معمول بنا لیا جائے کہ ٹی وی آف کرنے سے پہلے ایم ٹی اے ضرور لگانا ہے اور پھر سوئچ آف کیا جائے تو جب بھی دوبارہ ٹی وی آن کیا جائے گا تو سب سے پہلے ایم ٹی اے ہی سامنے ہوگا اور آن کرنے والا یقیناً بلا ارادہ بھی اُس سے مستفید ہو سکے گا۔
7سال کی عمر کے بعد بچوں کی تر بیت کے لئے بعض اہم امورذیلی تنظیموں کے ساتھ وا بستگی اور ذمہ داریوں کی ادا ئیگی
ذیلی تنظیموں اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ کے ساتھ بچوں کو وابستہ کرنا اُن کی تربیت میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تنظیمیں تربیت ِ اولاد کے سلسلہ میںمحض للہ والدین کے ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ بچوں کی تربیت کی غرض سے ان مجالس کی طرف سے جو پروگرام تجویز کئے جاتے ہیں وہ والدین کے پُرجوش اور پُر خلوص تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ بچوں کی اِن مجالس کے پروگراموں میں شرکت اور عہدیداران کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اگر اُن کے سپرد کوئی ڈیوٹی لگائی جائے اُسے پوری ذمّہ داری سے ادا کرنے کی اُنہیں تلقین کرتے رہنا چاہیئے۔دینی اور اخلاقی تربیت کے علاوہ تنظیم سے اُن کا فعال تعلق بچوں کی شخصیت کی تعمیرکے لئے بھی نہایت مفید ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کو نیک کاموں سے وابستہ کرنا اس پر ایک بہت بڑا احسان ہے۔ اس لحاظ سے جماعت کی تمام تنظیمیں اس بات کی ذمہ دار ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ممبران کو نہ صرف نیک کاموں کی طرف بلائیں بلکہ ان پر ذمہ داریاں ڈالنے کی کوشش کریں کیونکہ ذمہ داری کا احساس بھی انفرادی تربیت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 21جنوری 1983ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ بحوالہ خطبات طاہر جلد 2صفحہ 42)
ہم بطور رکن مجلس انصاراللّٰہ اپنے بچوں کو دیگر ذیلی تنظیموں میں کوئی ذمّہ داری خود تو نہیں دے سکتے لیکن اپنے بچوں کی اُن کی تنظیم سے وابستگی بڑھانے میںاُن کی مناسب حوصلہ افزائی کر کے نہایت عمدہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میںبچوں کو سمجھانا کہ عہدہ ہو نہ ہو اپنی خدمات عہدیداروں کے سامنے خلوص کے ساتھ پیش کئے رکھو، نیز اُن کے وقارِعمل اور یومِ والدین جیسے پروگراموں میں شرکت اور متعلقہ تنظیم کے عہدیدار، منتظم صاحب / مربی صاحب اطفال وغیرہ سے والدین کا گاہے بگاہے رابطہ بھی یقینا مفید ہو گا۔
(باقی آئندہ)




