جماعت احمدیہ امریکہ کے 67 ویں جلسہ سالانہ کا کامیاب و بابرکت انعقاد
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی پیغام۔ علمی و روحانی ماحول میں ولولہ انگیز تقاریر ۔
آٹھ ہزار سے زائد افراد کی جلسہ میں شمولیت۔ مختلف سیاسی و سماجی اہم شخصیات کی تشریف آوری اور جماعت احمدیہ کی امن کے قیام کے سلسلہ میں کی جانے والی مساعی پر خراج تحسین
جیسا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بارہا فرما چکے ہیں کہ دنیا میں پھیلے ہوئے احمدی مختلف ممالک میں اپنے اپنے حالات کے مطابق ہر سال جلسے منعقد کرتے ہیں اور یہ جلسے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے منہ بولتے نشان بن رہے ہیں۔ الحمد للہ
خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ امریکہ کو بھی ہر سال جلسہ منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ گزشتہ سال یہ جلسہ 14 اگست تا 16 اگست 2015ء پینسلوینیا سٹیٹ کے FARM SHOW COMPLEX میں بروز جمعہ، ہفتہ اور اتوار منعقد ہوا ۔ الحمد للہ۔
ہیرس برگ کے پاس وسیع و عریض کمپلیکس فارم شو میں کئی بہت بڑے بڑے ہال ہیں۔ ایک بہت بڑے ہال کو مردانہ جلسہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس ہال کی پارٹیشنز کی گئیں اس میں کھانے کا انتظام بھی تھا، نمائش بھی لگائی گئی تھی اور مختلف جماعتی سٹال بھی لگائے گئے تھے۔ اسی طرح ایک دوسرا الگ ہال تھا جس میں زنانہ جلسہ گاہ تھا اور اسے بھی خواتین کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر الگ الگ حصے بنائے گئے تھے۔
خدا تعالیٰ کے فضل سے دور و نزدیک سے آنے والے مہمانوں اور جلسہ کے شاملین کی تعداد امسال آٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی تھی ۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔
یہ کمپلیکس بدھ 12 اگست 2015ء کو جماعت کو مل گیا تھا۔ تمام افسران اپنی اپنی ٹیموں کے ساتھ اس دن پہنچ گئے تھے اور اپنی ڈیوٹیوں کے ساتھ کام کا آغاز کر دیا گیا۔ ہالوں کو سجانا۔ سٹیج بنانا، کرسیوں کا انتظام کرنا۔ لنگر خانے کا انتظام جہاں آٹھ ہزار سے زائد احباب کے لئے کھانے کا انتظام اور غیر مسلم مہمانوں کے لئے انتظامات ۔ ایم ٹی اے کے ساتھ ایم ٹی اے کا سٹوڈیو ، سائونڈ سسٹم الغرض بے شمار اور وسیع پیمانے پر انتظامات محض خدا تعالی کے فضل سے سب ٹھیک طور پر انجام پائے۔
13 اگست کی شام تک خدا تعالیٰ کے فضل سے جلسہ گاہ میں بہت سارے انتظامات مکمل ہو چکے تھے اور کارکنان دن رات محنت کر کے اس میں مصروف تھے۔ جمعرات کی شام کو محترم امیر صاحب امریکہ نے جلسہ گاہ میں تشریف لا کر انتظامات کا معائنہ کیا اور پھر سب افسران، نائب افسران، منتظمین و معاونین سے خطاب کیا۔ اور بتایا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سب وہ احباب جو خدمت پر مامور ہیں تندہی سے کام کریں اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبات میں جلسہ کی اہمیت اور خدمت کرنے والوں کی جو ذمہ داریاں بیان فرما رہے ہیں ان کے مطابق ڈیوٹیاں سر انجام دیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کے دنوں میں احباب نے پانچوں نمازوں کی باجماعت ادائیگی کا اہتمام کیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ روزانہ جلسہ گاہ میں نماز تہجد اور درس کا بھی انتظام تھا۔
جلسہ کا پہلا سیشن
14؍اگست سہ پہر جلسہ سالانہ امریکہ کا پہلا سیشن مکرم ڈاکٹر احسان اللہ ظفر صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوت، نظم اور ان کے تراجم کے بعد مکرم امیر صاحب نے افتتاحی خطاب کیا۔ افتتاحی خطاب میں آپ نے احباب کو جلسہ سے مستفیض ہونے اور حضرت مسیح موعودؑ کی دعائوں سے حصہ لینے کی طرف توجہ دلائی اور اس موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت اپنا جو پیغام امریکہ کے احباب کے نام بھیجا تھا وہ بھی پڑھ کر سنایا۔ حضور کا پیغام انگریزی میں تھا جس کا اردو مفہوم درج ذیل ہے۔
جلسہ سالانہ امریکہ کے موقع پرحضور انور ایدہ اللہ کا خصوصی پیغام
پیارے احباب جماعت احمدیہ امریکہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ امریکہ کی جماعت اپنا نیشنل جلسہ سالانہ 14 تا 16 اگست 2015ء منعقد کر رہی ہے۔ میری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بہت مبارک اور بے حد کامیاب فرمائے۔ اور شاملین جلسہ اس سے روحانی فوائد اور بے شمار برکتوں کو حاصل کرنے والے ہوں۔
آپ کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ میرے خطبات کو توجہ سے سنیں۔ اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ آپ خلافت سے بہت قریبی اور گہرا تعلق پیدا کریں ۔ خطبات جمعہ سننے کے ساتھ ساتھ میری تمام دیگر تقاریر جو مختلف مواقع پر کی جاتی ہیں وہ بھی سنیں۔ اس سے آپ کے اندر خلافت کے ساتھ پوری وفا داری اور کامل اطاعت پیدا ہو گی۔ آپ کو یہ بھی چاہئے کہ آپ اپنے بچوں کو بھی اس بابرکت نظام کی اہمیت سکھائیں اور سمجھائیں اور انہیں بھی اس بابرکت نظام کے ساتھ چمٹے رہنے کی تلقین کرتے رہیں اور خلیفۂ وقت کے ساتھ پوری وابستگی رکھیں۔
آج اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا کام صرف اور صرف خلافت کے نظام سے ہی وابستہ ہے۔ اس لئے آپ کو چاہئے کہ آپ اور آپ کی نسلیں اس بابرکت نظام خلافت کے ساتھ اس کے سایہ تلے جمع رہیں اور اس سے ہی رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔
اس کے علاوہ مَیں آپ کو یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ آپ روزانہ ایم ٹی اے دیکھنا بھی اپنی زندگیوں کا لازمی حصہ بنائیں جس میں میرے خطبات جمعہ بھی شامل ہوں ۔ ایم ٹی اے خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھے پروگرام نشر کرتا ہے جس سے سب نوجوان، بڑی عمر کے افراد فائدہ حاصل کر کے احمدیت اور اسلام کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
پھر آپ کی شوریٰ کی طرف سے بھی کچھ تجاویز آئی تھیں جنہیں میں نے منظور کیا تھا۔ ان تجاویز میں انفرادی روحانیت میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری کی طرف قدم آگے بڑھانے کے بارے میں بھی تھیں۔ اس لئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ اپنی ان تجاویز کو مکمل عملی جامہ پہنائیں۔ یہاں تک کہ ہر ایک فرد(مرد و عورت ) پوری طرح ان پر عمل پیرا ہو۔ یہ بھی خیال رہے کہ اگر تجاویز پر عمل نہیں کرنا تو پھر ان کی منظوری لینے کا کیا فائدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو ہر لحاظ سے کامیاب و بابرکت فرمائے اور یہ جلسہ آپ کے تقوی میں اضافہ کا باعث بنے اور آپ روحانی طور پر اس سے مستفیض ہونے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر برکتیں نازل فرمائے۔
والسلام آپ کا مخلص
مرزا مسرور احمد۔ خلیفۃ المسیح الخامس
13 اگست 2015ء
………………………
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا پیغام سنانے کے بعد پہلی تقریر مکرم مولانا اظہر حنیف صاحب مربی سلسلہ و نائب امیر نے اللہ تعالیٰ کی صفت قیوم پر کی۔ آپ نے آیات قرآنی اور احادیث نبویہ اور تحریرات حضرت اقدس مسیح موعودؑ سے مزیّن اس مضمون کو خوب نبھایا۔
دوسری تقریر خاکسار (سید شمشاد احمد ناصر۔ مبلغ شکاگو) نے کی۔ خاکسار کی تقریر کا عنوان تھا ’’لَا اِلٰہَ اِلّااللّٰہ ہماری زندگی کا لائحہ عمل‘‘ –
اس سیشن کی تیسری اور آخری تقریر مکرم ڈاکٹر یونس فہیم قریشی صاحب صدر انصار اللہ یو ایس اے و نیشنل سیکرٹری تربیت کی تھی۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا ’’سچی خلافت اور تائیدات الٰہی‘‘۔ آپ نے اپنی تقریر میں خلافت حقہ کی اہمیت و برکات کو بیان کر کے خلفاء کرام کی تائیدات الٰہیہ کو احسن اور مؤثر رنگ میں بیان کیا۔ اور واقعات سے اپنی تقریر کو مزیّن کیا۔
جلسہ کا دوسرا دن (ہفتہ )پہلا سیشن
یہ سیشن صرف مردانہ جلسہ گاہ میں نشر ہوا۔ اس کی صدارت مکرم امیر صاحب امریکہ نے کی۔ تلاوت و نظم اور ان کے تراجم کے بعد مکرم ڈاکٹر سید وسیم احمد صاحب نیشنل سیکرٹری وقف جدید نے امریکہ میں لاطینی آبادی کو تبلیغ اور دعوت الی اللہ کرنے کے ذرائع پر تقریر کی۔
دوسری تقریر مکرم مولانا فاران ربّانی صاحب نے کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا: The Maze Of Youthful Life
مکرم جنیدلطیف صاحب نائب صدر خدام الاحمدیہ امریکہ نے شادی بیاہ کے بارے میں خصوصاً ہم کفو ساتھی چننے کے بارے میں نوجوانوں کے لئے اسلامی تعلیمات بیان کیں اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور اسلامی امور کو اپنے ساتھی کے چنائو میں اختیار کرنے کی تلقین کی۔
اگلی تقریر مکرم صدر مجلس خدام الاحمدیہ یو ایس اے ڈاکٹر بلال احمد رانا صاحب کی تھی جن کی تقریر کا عنوان تھا۔A Prophecy Fulfilled – The Return Of The Days Of Lot انہوں نے اپنی تقریر میں اس وقت معاشرہ میں ہم جنس شادی کے بارے میں رائج خیالات کو بیان کر کے وارننگ دی کہ لوگ لوط کے زمانے کے لوگوں کی پیروی نہ کریں جسے خدا نے اس برائی کی وجہ سے اپنے عذاب کا مورد بنایا۔
مکرم ڈاکٹر منصور قریشی صاحب نے اس سیشن کی آخری تقریر کی۔ آپ نے اپنی تقریر میں ’’حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصائح‘‘ کے ضمن میں سات بہترین اصولوں کی تشریح بیان کر کے انہیں اپنانے کی طرف توجہ دلائی۔
ہفتہ کا دن اور دوسرا سیشن
ہفتے کے دن دوسرا سیشن سہ پہر مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت تلاوت و نظم سے شروع ہوا۔ اس سیشن کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں غیر مذاہب اور غیر از جماعت مہمانان کرام کو بھی بلایا گیا تھا۔ اس پروگرام کے انچارج مکرم امجد محمود خان صاحب نیشنل سیکرٹری امور خارجہ تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ بڑی محنت سے دوماہ پہلے ہی گورنمنٹ کے ہائی آفیشل اور دیگر مہمانان کرام کو دعوت نامے بھجوائے ۔ اس کے علاوہ یہاں پر مرکزی مبلغین کرام کی ایک ٹیم بھی باقاعدگی کے ساتھ پینسلوینیا سٹیٹ اور خصوصاً ہیرس برگ کے سرکردہ احباب سے مل کر انہیں جلسہ میں شامل ہونے کی دعوت دیتے رہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے 350 سے زائد مہمان تشریف لائے۔ پینسلوینیا کے گورنرHON TOM WOLF بھی اس دن تشریف لائے اور دو گھنٹے سے زائد جلسہ گاہ میں رہے اور اس دوران جماعت احمدیہ امریکہ کے امیر اور دیگر افسران سے ملاقات کی۔ انہیں جلسہ گاہ کا پورا Tour بھی کرایا گیا۔ انہوں نے مختلف سٹالز پر جاکر بھی معلومات حاصل کیں اور نمائش بھی دیکھی ۔ یو ایس کانگریس مین Mr. Mike Honda نے بھی قریباً ایک دن پورا جلسہ گاہ میں گزارا اور اس سیشن میں Key Note تقریر کی ۔ اس کے علاوہ بھی کئی معزز مہمانان نے جلسہ میں شرکت کی۔
اسی طرح سے یو ایس کے مالی میں سفیر، گھانا کے امریکہ میں مستقل مندوب اور دو درجن سے زائد امریکہ کے کانگریس مین نے جلسہ کے لئے خیر سگالی کے پیغامات اور نمائندگان بھی بھجوائے۔
اس سیشن کی تقریر مکرم امجد محمود خان صاحب نے ’’مذہبی آزادی اور امن‘‘ کے موضوع پر کی۔ تقریر کے بعد مکرم امیر صاحب نے مہمانان کرام کو خوش آمدید کہا اور دنیا میں امن کے مفقود ہونے کی وجہ اور امن کے قیام کے لئے جماعت احمدیہ کی کوششوں کا ذکر کیا۔
مکرم محمود احمد صاحب نے جو امور خارجہ کے سرگرم کارکن ہیں مختلف مہمانوں کا تعارف کرایا اور مہمانان کو باری باری سٹیج پر آکر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی دعوت دی۔
تمام مہمانان کرام نے جماعت کی مساعی جو وہ امن کے لئے کررہی ہے کو سراہا اور ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘ کے سلوگن کو بار بار بیان کیا کہ اگر اسے اپنایا جائے تو یقینا دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دوسرے سیاسی اور مذہبی گروپوں کو اس سلوگن کو اپنانے کی تلقین کی۔
آخر پر محترم امیر صاحب نے تمام مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا۔اور پھر سب مہمان ایک دوسرے ہال کی طرف روانہ ہوئے جس میں ان سب کے لئے ڈنر کا انتظام کیا گیا تھا۔
ڈنر کے دوران مکرم برادر حسن حکیم صاحب نیشنل سیکرٹری تبلیغ نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کا تعارف کرایا۔ اس موقعہ پر بھی بعض مہمانوں نے خطاب کیا اور جماعت احمدیہ کی کارکردگی کو سراہا۔
جلسہ کا تیسرا دن اور آخری سیشن
جلسہ کے اختتامی اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت و نظم اور ان کے تراجم کے ساتھ مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اس موقع پر علم انعامی خدام الاحمدیہ و انصاراللہ کی نمایاں کارکردگی کرنے والی مجالس کو دیا گیا۔ اور بعض علمی ایوارڈز بھی دیئے گئے۔
آج کے سیشن کی پہلی تقریر مکرم برادر نصیر اللہ احمد صاحب آف ملواکی کی تھی۔ انہوں نے ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کا زینہ ہے‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔
آپ کی تقریر کے بعد مکرم مولانا نسیم مہدی صاحب نے تقریر کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا۔ ’’امریکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس کا دفاع‘‘۔
محترم مولانا صاحب کی تقریر کے بعد مکرم مرزا مغفور احمد صاحب نائب امیر امریکہ نے ’ذکر حبیب‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ آپ نے اپنی تقریر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی سے وہ واقعات پیش کئے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت ہی اس زمانے میں بچائو کا ذریعہ ہے۔ آپ نے بتایا کہ اس زمانے میں خدا تعالیٰ کی محبت کو پورے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اختیار کیا۔
مکرم صاحبزادہ صاحب کی تقریر اس سیشن کی آخری تقریر تھی۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے اختتامی خطاب میں ایک مرتبہ پھر حاضرین جلسہ کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعائوں کی تحریک کی طرف توجہ دلائی اور جو کچھ جلسے کی تقاریر سے سیکھا ہے اس پر عمل کرنے اور خلافت حقہ احمدیہ سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ اور خصوصا امت مسلمہ کے لئے اور پھر تمام احمدیوں کے لئے اور جلسہ کے ورکرز کے لئے دعا کی تحریک کی۔
خواتین کا جلسہ
جلسہ سالانہ کے دوسرے دن خواتین نے اپنے الگ دو اجلاسات کئے۔
پہلے سیشن میں تلاوت و نظم اور ان کے تراجم کے بعد پہلی تقریر محترمہ Roohul Amin Rehman صاحبہ کی تھی۔ انہوں نے ’’اللہ تعالیٰ کی صفت الرحیم‘‘ پر تقریر کی۔ محترمہ ڈاکٹر عزیزہ رحمان صاحبہ آف لاس اینجلس نے ’’جنت تمہارے قدموں میں ہے‘‘ کے عنوان پر مائوں کو مخاطب کر کے انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ اس کے بعد ایک نظم پڑھی گئی اور محترمہ سعدیہ احمد صاحبہ آف لانگ آئی لینڈ نے اردو میں ’’ سادگی میں امن ہے‘‘ کے عنوان پر خواتین کو’’ سادگی‘‘ کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی تلقین کی۔ اسی عنوان پر انگریزی میں تقریر محترمہ سعدیہ احمد صاحب آف سیلیکن ویلی نے کی۔ان تقاریر کے بعد بچیوں میں تعلیمی ایوارڈز تقسیم کئے گئے۔
دوسرا سیشن بھی محترمہ نیشنل صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ یوایس اے کی زیر صدارت شروع ہوا۔تلاوت نظم اور ان کے تراجم کے بعد پہلی تقریر محترمہ ملیحہ احمد صاحبہ آف جارجیا نے ’’مذہبی اقدار‘‘ پر کی کہ کیا اس زمانے اور اس سوسائٹی میں مذہبی اقدار کو جگہ دی جا سکتی ہے!
اس کے بعد محترمہ SAMANTHA KESSENICH آف ملواکی نے ’’اسلام احمدیت میرا انتخاب‘‘ کے عنوان پر اپنے احمدیت میں داخل ہونے کے تاثرات بیان کئے۔ پھر ایک نظم پیش کی گئی جس میں نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہا گیا۔ اس نظم کا انگریزی میں بھی ترجمہ پیش کیا گیا۔
آخر میں محترمہ صالحہ ملک صاحبہ نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ یو ایس اے نے اختتامی تقریر کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا کہ ’’بہنوں کو آپس میں کس طرح اخوت، پیار محبت اور ہمدردی کے ساتھ رہنا چاہئے اور یہ سب کچھ بغیر کسی امتیاز کے ہونا چاہئے‘‘۔
خدا تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کے تمام پروگرام و تقاریر اور انتظامات احسن رنگ میں انجام پذیر ہوئے۔ ایک علمی و روحانی ماحول تھا۔ خدا کرے ہم سب حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی دعائوں کے وارث بنیں اور جلسہ سے پوری طرح مستفیض ہوں۔ الحمدللہ
نمائش اور بکسٹال
ہر سال کی طرح امسال بھی جلسہ سالانہ میں نمائش لگانے کا اہتمام کیا گیا ۔ مکرم کرنل فضل احمد صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ نے اپنی ٹیم کے ساتھ مسلسل انتھک محنت کر کے نمائش لگائی جو تاریخی طور پر خلفاء مسیح موعود کی مصروفیات اور امریکہ میں جماعتی ترقی اور فنکشنز اور شوری کی تصاویر پر شامل تھیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک بک سٹال بھی لگایا گیا تھا جس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے امریکہ میں شائع ہونے والی کتب و رسائل کے علاوہ انگلستان ، جرمنی اور ہندوستان سے شائع ہونے والی کتب اور لٹریچر موجود تھیں۔ احباب نے حتی المقدور اس سے بھی استفادہ کیا۔
خصوصی پروگرامز
جلسہ کے پروگرامز کے علاوہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جب کہ حاضرین پورے ملک سے تشریف لائے تھے۔بعض خاص اجلاسات بھی ہوئے ان میں سے ایک اجلاس واقفین نو بچوں کا پروگرام تھا۔ سیکرٹری نیشنل وقف نو حافظ سمیع اللہ چوہدری صاحب اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ واقفین نو بچوں کو اس موقع پر انعامات بھی دئیے گئے۔ (بچوں اور بچیوں کے الگ الگ پروگرام ہوئے)۔
اس کے علاوہ ایک اور پروگرام آمین کی تقریب کا بھی تھا۔ اس کی نگرانی نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن مکرم ڈاکٹر ظہیر الدین منصور احمد صاحب نے کی۔ اور اس سال قرآن کریم کا پہلا دور ختم کرنے پر بہت سارے بچوں اور بچیوں کو انعامات دیئے گئے۔
ایک اور خاص اجلاس ’’رشتہ ناطہ‘‘ کے بارہ میں تھا جو کہ مکرم ڈاکٹر فاروق پیدرو صاحب نے کیا۔ اس میں بھی بہت سے لوگوں نے دلچسپی سے شمولیت کی۔ اور رشتہ ناطہ میں جو مشکلات اور دشواریاں پیش آ رہی ہیں ان کا ذکر کیا اور احباب کو قرآن کریم کے ارشاد کی روشنی میں تقوی اختیار کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدائت کی روشنی میں مذہبی اقدار کو ترجیح دینے کی طرف توجہ دلائی گئی۔
جلسہ کی خاص باتیں
امریکہ میں جلسہ کی ساری کارروائی انگریزی زبان میں ہوتی ہے۔ ایک لمبے عرصہ سے اس بات کی بھی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ کئی مرد و خواتین ایسے بھی ہیں جنہیں انگریزی نہیں آتی۔ ان سب کی سہولت کے لئے اس سال اردو میں انگریزی تقاریر کے تراجم کا انتظام کیا گیا تھا۔ ایسے سب احباب و خواتین کو ایک وائرلیس سیٹ مہیا کیا گیا جس سے وہ اردو ترجمہ سن رہے تھے۔
اس کے ساتھ ساتھ اس قسم کا انتظام سپینش بولنے والوں کے لئے بھی کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ سب کارکنان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور جلسہ کی برکات سے تمام شاملین کو وافر حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔




