کینیا کے نارتھ کوسٹ ریجن کی ملولا (Mlola) جماعت میں نو تعمیر شدہ مسجد کا بابرکت افتتاح
مکرم بشارت احمد طاہر صاحب انچارج نارتھ کوسٹ ریجن، کینیا تحریر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو کینیا کے نارتھ کوسٹ ریجن میں ملولا (Mlola) کے مقام پر ایک خوبصورت دیدہ زیب پختہ مسجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے مبلغ دس ہزار ڈالرز کی خطیر رقم امریکہ میں مقیم ایک مخلص احمدی خاتون مکرمہ عطیۃ الباری صاحبہ نے پیش کی تھی، فجزاہااللّٰہ خیراً۔ مسجد کی تعمیر کے کام کی نگرانی اور میٹیریل کی خریداری کی ذمہ داری نبھانے کی سعادت خاکسار (ریجنل انچارج و مبلغ سلسلہ) کو حاصل ہوئی۔

ملولا گاؤں ممباسہ سے تقریباً ۴۰؍کلومیٹر مغرب میں ممباسہ سےکیاگو جانے والی سڑک پر واقع ہے۔ یہاں احمدیت کا پیغام سال ۲۰۲۲ء میں خاکسار اور مکرم معلم جمعہ عبد اللہ صاحب کے ذریعہ پہنچا اور ا للہ تعالیٰ کے فضل سے ابتدا ہی میں تین درجن سے زائد مرد و زن کو قبول احمدیت کی توفیق ملی اور پھر جلد ہی یہاں ایک مضبوط جماعت قائم ہوگئی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک
اللہ تعالیٰ کے فضل سے کچھ ہی عرصہ بعد کاؤنٹی گورنمنٹ کی طرف سے نصف ایکڑ رقبہ پر مشتمل ایک نہایت موزوں پلاٹ مسجد کی تعمیر کے لیے جماعت احمدیہ کو مل گیا جس پر فوری طور پر ایک کچی مسجد تعمیر کر کے نمازوں کا انتظام کیا گیا۔ امسال ماہ جولائی میں مکرم ناصر محمود طاہر صاحب امیر و مبلغ انچارج کینیا نے یہاں پختہ مسجد کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھا جو ماہ نومبر میں اپنی تکمیل کو پہنچی۔ الحمدللہ

اس نو تعمیر شدہ مسجد کی لمبائی ۳۰؍فٹ اور چوڑائی ۲۴؍فٹ ہے جس میں تقریباً ۱۰۰؍نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس ہال میں پارٹیشن لگا کر مردوں اور مستورات کے لیے الگ الگ نماز ادا کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اسی طرح وضو کے لیے بھی علیحدہ علیحدہ مناسب انتظام ہے۔ مسجد کی چھت پر آئرن شیٹس جبکہ سیلنگ کے لیے پی وی سی شیٹس استعمال کی گئی ہیں۔ چو نکہ علاقہ ہٰذا میں بجلی کی سہولت مہیا نہیں اس لیے مسجد میں لائٹنگ اور لاؤڈ سپیکر کے لیے سولر سسٹم لگایا گیا ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی ایم ٹی اے کی سہولت بھی مہیا کی جائے گی۔ مسجد میں پانی مہیا کرنے کے لیے دس ہزار لیٹر کا ایک واٹر ٹینک رکھا گیا ہے جسے پائپ لگا کر مسجد کی چھت سے جوڑا گیا ہے تا کہ بارشوں کا پانی ضروریات کے لیے جمع کیا جاسکے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب مسجد ہٰذا کی تعمیر کا کام شروع ہوا تو عین انہی ایام میں کاؤنٹی کونسل کی طرف سے اس علاقے کے لوگوں کو پانی مہیا کرنے کے لیے پائپ بچھانا شروع کیے تھے جو بہت جلد مکمل ہو گئے اور علاقے کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا ہو گیا۔

۲۱؍دسمبر بروز اتوار ساڑھے گیارہ بجے مسجد کے افتتاح کے پروگرام کا آغاز ہوا۔ مکرم امیر و مبلغ انچارج صاحب نے اس مسجد کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ملولا جماعت کے احباب کے علاوہ ارد گرد کی جماعتوں سے بھی بڑی تعداد میں احباب تشریف لائے ہوئے تھے۔ کاؤنٹی گورنمنٹ کی اسمبلی کے مقامی ممبر کے سیکرٹری مکرم سلمان ڈوریا صاحب، ایریا چیف مکرم علی جیا صاحب اور مقامی انتظامیہ کے عہدیداران کے علاوہ سنی مسجد کے امام مکرم موسیٰ صاحب بھی اس بابرکت تقریب میں شامل ہوئے۔ مکرم امیر صاحب نے احباب جماعت اور مہمانان کرام کے ہمراہ دیوار میں نصب یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی اور پھر فیتہ کاٹ کر مسجد کا باقاعدہ افتتاح کیا اور دعا کروائی۔ بعدہٗ آپ مہمانوں کے ہمراہ مسجد کے اندر تشریف لے گئے اور مسجد دیکھی۔ مکرم امیر صاحب اور مہمانان کرام نے مسجد کے احاطے میں مختلف اقسام کے پودے لگائے۔ مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے ساتھ ہی یہاں معلم صاحب کی تعیناتی کر دی گئی ہے جو بفضل خدا جامعہ احمدیہ تنزانیہ کے فارغ التحصیل ہیں۔ فی الحال ان کی رہائش کے لیے ایک مکان کرائے پر لیا گیا ہے۔ ان شاءاللہ جلد ہی مسجد کے ایریا میں مشن ہاؤس تعمیر کر کے انہیں مسجد میں منتقل کردیا جائے گا۔
مسجد کے کمپاؤنڈ میں ہی مکرم امیر صاحب کی زیرصدارت ایک مختصر تقریب منعقد ہوئی جس میں نظم اور تلاوت قرآن مجید کے بعد مقامی جماعت کے صدر صاحب نے مکرم امیر صاحب اور تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پھر خاکسار نے احمدیت کا تعارف پیش کرنے کے بعد مسجد کی تعمیر کی رپورٹ پیش کی۔ سنی مسجد کے امام صاحب نے مسجد کی تعمیر پر جماعت کو مبارکباد پیش کی اور جماعت کے کام کو سراہا۔ پھر ممبر کاؤنٹی اسمبلی کے نمائندہ نے مختصر تقریر کی جس میں انہوں نے مسجد کی تعمیر پر مبارکباد دیتے ہوئے جماعت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے علاقہ میں نیکی اور اصلاح کے لیے ایک اور مستقل پلیٹ فارم مل گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ جماعت احمدیہ اہالیان علاقہ اور خصوصاً نوجوانوں کی اصلاح اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اس کے بعد ایریا چیف نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے مسجد کی تعمیر کو علاقہ ہٰذا کے لیے باعث برکت قرار دیا اور یہ امید ظاہر کی کہ جماعت احمدیہ علاقہ ہٰذا میں مذہبی رواداری، باہمی اخوّت و محبت اور تعاون کو فروغ دے گی۔
آخر میں امیر صاحب نے مختصر تقریر کی اور مسجد کی تعمیر پر مقامی جماعت کو مبارکباد دی نیز سرکاری افسران اور خاص طور پر مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں کاؤنٹی گورنمنٹ کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ علاوہ ازیں آپ نے اس مبارک تقریب میں شامل ہونے والے تمام مہمانوں اور احمدی احباب کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے مسجد کے آداب، اسلامی معاشرہ میں اس کا مقام اور پنجگانہ نمازوں کی اہمیت بیان کرنے کے بعد دعا کروائی جس کے بعد یہ پُروقار تقریب اختتام پذیر ہوئی اور نماز ظہرو عصر ادا کی گئیں۔ نمازوں کے بعدتمام احباب کی ظہرانہ سے تواضع کی گئی۔ اس مبارک تقریب میں تقریباً ۲۵۰؍افراد شامل ہوئے۔
اللہ تعالیٰ اس مسجد کو علاقہ ہٰذا کے لیے منبع رشد و ہدایت بنائے اور اسے سعید فطرت اور مخلص نمازیوں سے بھر دے۔ آمین
(رپورٹ:محمد افضل ظفر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ گوادیلوپ کے زیر اہتمام ایک بین المذاہب عشائیہ




