خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۰؍ستمبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: جنگ احزاب میں آنحضرتﷺکی سیرت کے حوالے سے ذکر ہو رہا تھا۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خندق کی کھدائی کے دوران رونما ہونے والےبرکت کےمعجزات کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:غزوہ خندق کے موقع کی ایک روایت ہے۔حضرت بشیر بن سعدؓ کی بیٹی بیان کرتی ہیں کہ میری ماں عَمْرَہ بنت رَوَاحَہ نے میرے کپڑوں میں تھوڑی سی کھجوریں دے کر کہا کہ بیٹی !یہ اپنے باپ اور ماموں کو دے آؤ اور کہنا یہ تمہارا صبح کا کھانا ہے۔ وہ کہتی ہیں مَیں ان کھجوروں کو لے کر چلی اور اپنے والد اور ماموں کو ڈھونڈتی ہوئی رسول اللہﷺکے پاس سے گزری تو رسول اللہﷺنے فرمایا: اے لڑکی! یہ تیرے پاس کیا چیز ہے؟ میں نے عرض کیا :یا رسول اللہﷺ! یہ کھجوریں ہیں۔ میری ماں نے میرے والد بشیر بن سعد اور میرے ماموں عبداللہ بن رواحہ کے لیے بھیجی ہیں ۔ رسول اللہﷺنے فرمایا:یہ لاؤ مجھے دے دو۔ میں نے وہ کھجوریں آپﷺکے دونوں ہاتھوں میں رکھ دیں ۔ آنحضرتﷺنے اُن کھجوروں کو ایک کپڑے پر ڈال دیا اور پھر ان کو ایک اَور کپڑے سے ڈھانپ دیا اور ایک شخص سے فرمایا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے بلا لو۔ چنانچہ تمام خندق کھودنے والے جمع ہوگئے اور ان کھجوروں کو کھانے لگے اور وہ کھجوریں زیادہ ہوتی گئیں یہاں تک کہ جب سب کھا چکے تو کھجوریں کپڑے کے کنارے سے نیچے گر رہی تھیں ۔

کھانے میں برکت کے مزید واقعات بھی ہیں ۔ عُبَیداللّٰہ بن ابی بُرْدَہ روایت کرتے ہیں کہ اُمِّ عامر اَشْھَلِیہ نے رسول اللہﷺکی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں حَیس تھا ۔حَیس ایسا کھانا ہے جو کھجور ،گھی اور پنیر سے بنایا جاتا ہے ۔ آپﷺاپنے خیمے میں حضرت ام سلمہؓ کے پاس تھے۔ حضرت ام سلمہؓ نے اپنی ضرورت کے مطابق اس سے کھایا ۔پھر رسول اللہﷺاس برتن کو لے کر باہر تشریف لے گئے اور رسول اللہﷺکے منادی نے کھانے کے لیے بلایا تو اہل خندق نے اس کو کھایا یہاں تک کہ اس سے سیر ہوگئے اور وہ کھانا پہلے کی طرح تھا جیسے کچھ بھی نہ کم ہوا ہو۔

سوال نمبر۳: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درجہ لقا میں ظاہرہونےوالےامور کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الٰہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاءﷺنے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑاکہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہو گئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا … اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرتﷺنے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی۔ کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کردیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزارہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کردیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا اور بعض اوقات شور آب’’ یعنی کڑوا نمکین پانی کے ‘‘کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کر دیا اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر’’ یعنی زخمیوں پر ‘‘اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جا پڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کیے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الٰہی مخلوط تھی۔‘‘

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جنگ خندق میں شامل مسلمانوں کی تعداد کی بابت کیا تفصیل بیان فرمائی ؟

جواب: فرمایا:حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’اِس موقع پر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کے بارہ میں مؤرخین میں سخت اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس لشکر کی تعداد تین ہزار لکھی ہے بعض نے بارہ تیرہ سو اور بعض نے سات سو۔ یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ اس کی تاویل بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے اور مؤرخین اسے حل نہیں کر سکے۔ لیکن مَیں نے اس کی حقیقت کو پالیا ہے اور وہ یہ کہ تینوں قسم کی روایتیں درست ہیں ۔ یہ بتایا جاچکاہے کہ جنگ اُحد میں منافقین کے واپس آجانے کے بعد مسلمانوں کا لشکر صرف سات سو افراد پر مشتمل تھا۔ جنگ احزاب اس کے صرف دو سال کے بعد ہوئی ہے اور اس عرصہ میں کوئی بڑا قبیلہ اسلام لا کر مدینہ میں آکر نہیں بسا۔ پس سات سو آدمیوں کا یکدم تین ہزار ہو جانا قرین قیاس نہیں۔‘‘یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ سات سو آدمی جو تھے وہ ایک دم تین ہزار ہو گئے جبکہ باہر سے بھی کوئی نہیں آیا۔ ’’دوسری طرف یہ امر بھی قرین قیاس نہیں کہ اُحد کے دو سال بعد تک باوجود اسلام کی ترقی کے قابلِ جنگ مسلمان اتنے ہی رہے جتنے احد کے وقت تھے۔‘‘ کچھ نہ کچھ تعداد بڑھی ہوگی۔ ’’پس اِن دونوں تنقیدوں کے بعد وہ روایت ہی درست معلوم ہوتی ہے کہ لڑنے کے قابل مسلمان جنگ احزاب کے وقت کوئی بارہ سو تھے۔اب رہا یہ سوال کہ پھر کسی نے تین ہزار اور کسی نے سات سو کیوں لکھا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دو روایتیں الگ الگ حالتوں اور نظریوں کے ماتحت بیان کی گئی ہیں ۔جنگ احزاب کے تین حصے تھے۔ ایک حصہ اس کا وہ تھا جب ابھی دشمن مدینہ کے سامنے نہ آیا تھا اور خندق کھودی جارہی تھی۔اس کام میں کم سے کم مٹی ڈھونے کی خدمت بچے بھی کر سکتے تھے اور بعض عورتیں بھی اس کام میں مدد دے سکتی تھیں ۔ پس جب تک خندق کھودنے کاکام رہا مسلمان لشکر کی تعداد تین ہزار تھی مگر اِس میں بچے بھی شامل تھے اور صحابیہ عورتوں کے جوش کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اِس تعداد میں کچھ عورتیں بھی شامل ہوں گی جو خندق کھودنے کا کام تو نہیں کرتی ہوں گی مگر اوپر کے کاموں میں حصہ لیتی ہوں گی۔‘‘آپؓ فرماتے ہیں یہ میرا خیال نہیں ہے بلکہ ’’تاریخ سے بھی میرے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جب خندق کھودنے کا وقت آیا سب لڑکے بھی جمع کر لیے گئے اور تمام مرد خواہ بڑے تھے خواہ بچے خندق کھودنے یا اس میں مدد دینے کا کام کرتے تھے۔ پھر جب دشمن آگیا اور لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہﷺنے ان تمام لڑکو ں کو جو پندرہ سال سے چھوٹی عمر کے تھے چلے جانے کا حکم دیا اور جو پندرہ سال کے ہو چکے تھے، انہیں اجازت دی کہ خواہ ٹھہریں خواہ چلے جائیں ۔اِس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خندق کھودنے کے وقت مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور جنگ کے وقت کم ہو گئی کیونکہ نابالغوں کو واپس چلے جانے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ پس جن روایتوں میں تین ہزار کا ذکر آیا ہے وہ خندق کھودنے کے وقت کی تعداد بتاتی ہیں جس میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے اور جیسا کہ میں نے دوسری جنگوں پر قیاس کر کے نتیجہ نکالا ہے کچھ عورتیں بھی تھیں ۔‘‘کیونکہ باقی جنگوں کی روایات میں ملتا ہے ناں کہ عورتیں شامل ہوتی تھیں ’’لیکن بارہ سو کی تعداد اس وقت کی ہے جب جنگ شروع ہوگئی اور صرف بالغ مرد رہ گئے۔اب رہا یہ سوال کہ تیسری روایت جو سات سو سپاہی بتاتی ہے کیا وہ بھی درست ہے؟ ‘‘تو اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ابن اسحٰق مؤرخ نے بیان کی ہے جو بہت معتبر مؤرخ ہے اور ابن حزم جیسے زبردست عالم نے اِس کی بڑے زور سے تصدیق کی ہے۔ پس اس کے بارہ میں بھی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ یہ بھی صحیح ہو گی۔ ’’اور اس کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ تاریخ کی مزید چھان بین سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جنگ کے دوران میں بنو قُریظہ کفار کے لشکر سے مل گئے اور انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ مدینہ پر اچانک حملہ کر دیں اور ان کی نیتوں کا راز فاش ہو گیا تو رسول کریمﷺنے مدینہ کی اس جہت کی حفاظت بھی ضروری سمجھی جس سمت بنوقریظہ تھے اور جو سمت پہلے اس خیال سے بےحفاظت چھوڑ دی گئی تھی کہ بنو قریظہ ہمارے اتحادی ہیں یہ دشمن کو اِس طرف سے نہ آنے دیں گے۔ چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بنوقریظہ کے غدر کا حال معلوم ہواتو‘‘چونکہ مستورات بنو قریظہ کے اعتبار پر اس علاقہ میں رکھی گئی تھیں جدھر بنو قریظہ کے قلعے تھے اور وہ بغیر حفاظت تھیں رسول کریمﷺنے اب ان کی حفاظت ضروری سمجھی اور دو لشکر مسلمانوں کے تیار کر کے عورتوں کے ٹھہرنے کے دونوں حصوں پر مقرر فرمائے۔ مَسْلَمَہ ابن اَسْلَمؓ  کو دو سو صحابہ دے کر ایک جگہ مقرر کیا اور زید بن حارثہؓ  کو تین سو صحابہ دے کر دوسری جگہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہتے رہا کریں تاکہ معلوم ہوتا رہے کہ عورتیں محفوظ ہیں ۔ اِس روایت سے ہماری یہ مشکل کہ سات سو سپاہی جنگ خندق میں ابن اسحاق نے کیوں بتائے ہیں حل ہو جاتی ہے۔کیونکہ بارہ سو سپاہیوں میں سے جب پانچ سو سپاہی عورتوں کی حفاظت کے لیے بھجوا دیئے گئے تو بارہ سو کا لشکر صرف سات سو رہ گیا اور اس طرح جنگ خندق کے سپاہیوں کی تعداد کے متعلق جو شدید اختلاف تاریخوں میں پایا جاتا ہے وہ حل ہو گیا۔‘‘

سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جنگ خندق کےموقع پربنوقریظہ کی غداری اورمسلمانوں کے ردعمل کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:حضرت عمر بن خطابؓ کو بنو قریظہ کے عہد توڑنے کی خبر ملی تو انہوں نے رسول اللہﷺکو اس کی اطلاع دی تو آپﷺنے سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادہؓ کو بھیجا۔ یہ دونوں اپنی قوم کے سردار تھے اور ان دونوں کے ساتھ عبداللہ بن رَوَاحہؓ اور خَوَّات بن جُبَیر ؓکو بھی بھیجا۔ ایک روایت کے مطابق ساتھ میں اُسَید بن حُضَیر ؓکو بھی بھیجا اور فرمایا کہ تم جاؤ اور جا کر دیکھو کہ اس قوم کے بارے میں جو ہمیں خبر ملی ہے وہ سچی ہے یا نہیں ۔ اگر یہ خبر سچی ہو تو سب لوگوں کے سامنے یہ بات نہ بتانا بلکہ اشارے کنائے میں مجھے بتانا مَیں جان لوں کہ یہ خبر سچی ہے ۔اور اگر وہ معاہدے میں قائم ہوں اور یہ خبر جھوٹی ہو تو علی الاعلان یہ بات سب کے سامنے بتا دینا۔ چنانچہ یہ وفد بنو قریظہ کے پاس گیا۔ وہاں جب کعب اور اس کے ساتھیوں سے بات ہوئی تو ان کے تیور ہی بدلے ہوئے تھے۔ جب کعب سے کہا گیا کہ تم نے محمدﷺسے معاہدہ کیا ہوا ہے تو اس نے بڑی حقارت سے کہا کہ کون رسول؟ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ میں نے اس معاہدے کو ایسے توڑ دیا جیسے جوتے کے تسمے کو توڑ دیا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق اس موقع پر فریقین کی طرف سے سخت کلامی بھی ہوئی۔ بہرحال یہ وفد واپس آیا اور اشارے سے بات کرتے ہوئے نبی اکرمﷺکی خدمت میں عرض کر دیا تو ایسے اعصاب شکن اور ہوش و حواس کھو دینے والے لمحات کے موقع پر رسول اللہﷺنے کچھ دیر خاموشی کے بعد فرمایا۔آپؐ پہ کوئی اثر نہیں ہوا۔ عام آدمی کے تو اعصاب ٹوٹ جاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: أَبْشِرُوْا یامَعْشَرَالْمُؤْمِنِینَ بِنَصْرِاللّٰہِ تَعَالٰی وَ عَوْنِہٖ۔ اے مومنوں کی جماعت! اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے ساتھ خوش ہوجاؤ۔ پھر فرمایا: مجھے یقین ہے کہ ایک وقت آئے گا جب میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہوں گا اور اس کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی اور کسریٰ اور قیصر ضرور ہلاک ہو جائیں گے اور ان کے مال اللہ کے راستے میں خرچ کیے جائیں گے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ہیو مینٹی فرسٹ کے تیس سال مکمل ہونے پر اس کی خصوصی انٹرنیشنل کانفرنس سے بصیرت افروز خطاب کا خلاصہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button