قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
تا نگردد عجز در نفست عیاں
نورِ حقّانی چساں تابد بر آں
جب تک تیرے نفس میں عاجزی پیدا نہ ہوگی۔تب تک خدائی نور اس پر کیونکر روشنی ڈالے گا
تا نمیرد دانۂ اندر زمیں
کے ز یک صد میشود تو خود بہ بیں
تو خود سوچ ! جب تک دانہ زمین میں داخل ہو کر مرے گا نہیں۔تب تک ایک سے سو کیونکر بنے گا؟
نیست شو تا بر تو فیضانے رسد
جاں بیفشاں تا دِگر جانے رسد
نیست ہوجا تاکہ تجھ پر فیضان نازل ہو۔جان قربان کر تا کہ دوسری زندگی ملے
تا تو زار و عاجز و مضطر نهٔ
لائقِ فیضانِ آں رہبر نۂ
جب تک تو کمزور عاجز اور مضطر نہیں تب تک اس رہبر کے فیضان کے قابل بھی نہیں
چیست ایماں وحدہٗ پنداشتن
کارِ حق را با خدا بگذاشتن
ایمان کیا ہے؟ خدا کو ایک یقین کرنا اور خدا کے کام کو خدا ہی کے سپر د کرنا
چوں ز آموزش خرد را یافتی
پس ز تعلیمش چرا سر تافتی
جب تُو نے اسی کے سکھائے علم سے عقل کو پایا۔پھر اس کی تعلیم سے کیوں روگردان ہے
اندرونِ خویش را روشن مداں
آنچه می تابد بتابد ز آسماں
اپنے سینے کو روشن نہ سمجھ جو کچھ بھی روشن ہے وہ آسمان ہی کی بدولت ہے
کور ہست آں دیده کش ایں نور نیست
گور ہست آن سینه کز شک دُور نیست
وہ آنکھ نابینا ہے جس میں یہ نور نہیں۔اور وہ سینہ قبر ہے جو شک سے خالی نہیں
صالحین و صادقین و اتقیا
جمله ره دیدند از وحیٔ خدا
صالح ، صادق اور متقی ان سب لوگوں نے خدا کی وحی سے ہی سیدھا راستہ پایا
آں کجا عقلے که از خود داندش
فہمد آں شخصے که او فماندش
وہ کون سی عقل ہے جو خود اس کی معرفت رکھتی ہے۔یہ وہی سمجھ سکتا ہے جسے خدا خود سمجھائے
عقل بے وحیش بُتے داری براہ
بُت پرستی ہا کُنی شام و پگاه
اس کی وحی کے بغیر عقل تیرے راستے میں ایک بت کی طرح ہے اور تو صبح و شام بت پرستی کر رہا ہے
پیشِ چشمت گرشدے ایں بُت عیاں
از سرشکِ تو شدے جُوئے رواں
اگر تیری آنکھوں کے سامنے یہ بت ظاہر ہو جاتا تو تیری آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری ہو جاتی
(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۷۱-۱۷۲ بحوالہ درثمین فارسی مترجم صفحہ ۹۴-۹۵)
مزید پڑھیں: مَیں بھی ہوں تیرے نشانوں سے جہاں میں اک نشاں



