متفرق مضامین

ریشات اسٹرکچر: صحرائے صحارا کی آنکھ

کیا آپ نے کبھی گوگل میپ کے ذریعہ ریشات اسٹرکچر (The Richat Structure) کا نظارہ کیا ہے؟ تو جلدی سے گوگل میپ پر اس پُراسرار دلچسپ نظارے کو دیکھیں۔ کیسے اربوں سال میں قدرت نے سطح زمین پر حسین کاریگری سے انسانی آنکھ کا عکس بنایا ہے۔

The Richat Structure دنیا کی سب سے حیران کن قدرتی زمینی ساختوں میں سے ایک ہے جو شمال مغربی افریقہ کے ملک موریطانیہ میں واقع ہے۔ یہ عظیم دائرہ نما ساخت تقریباً ۴۰؍ کلومیٹر قطر رکھتی ہے اور اپنی منفرد شکل کی وجہ سے خلا سے بھی واضح نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عام طور پر افریقہ کی آنکھ اور “صحرائے صحارا کی آنکھ” کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ خلا سے دیکھنے پر کسی دیوقامت آنکھ کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ یہ ساخت وسیع صحرائے صحارا کے درمیان واقع ہے اور نزدیک ہی تاریخی قصبہ اوَدانے موجود ہے، جو قدیم زمانے میں تجارتی قافلوں کا اہم پڑاؤ تھا۔

ریشات اسٹرکچر کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے حلقہ نما دائرے ہیں جو مرکز سے باہر کی طرف پھیلتے جاتے ہیں۔ یہ حلقے مختلف اقسام کے پتھروں پر مشتمل ہیں، جن میں ریتلا پتھر، کوارٹزائٹ اور کچھ آتش فشانی مادے شامل ہیں۔ مرکز قدرے نیچے دھنسا ہوا ہے جس سے اس کی آنکھ جیسی شکل مزید واضح ہوتی ہے۔ یہ ساخت محض خوبصورتی ہی نہیں بلکہ سائنسی لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے کیونکہ اس کے اندر مختلف ارضیاتی ادوار کی چٹانیں محفوظ ہیں، جن میں بعض چٹانیں ایک ارب سال پرانی ہیں۔ ان پرتوں کا مطالعہ زمین کی قدیم تاریخ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

ابتدائی دور میں سائنسدانوں نے خیال کیا کہ یہ کسی شہابیے کے ٹکرانے سے بنا ہوا گڑھا ہے، کیونکہ اس کی گول شکل عام طور پر ایسے اثرات کی نشانی ہوتی ہے۔ مگر بعد کی تحقیق میں وہ تمام شواہد نہیں ملے جو کسی شہابی تصادم کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس کے بعد ماہرین ارضیات نے اس نظریے کو مسترد کردیا اور اب عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ یہ ایک ارضیاتی گنبد (geological dome) ہے۔ اس نظریے کے مطابق زمین کی تہیں اندرونی دباؤ کے باعث اوپر کی طرف ابھریں اور پھر لاکھوں سال تک ہوا، بارش اور درجہ حرارت کے اثر سے نرم پرتیں کٹتی گئیں جبکہ سخت پرتیں باقی رہ گئیں، جس سے حلقہ نما شکل نمایاں ہو گئی۔

ریشات اسٹرکچر کی اہمیت صرف علم الارضیات تک محدود نہیں۔ اس کی غیر معمولی شکل نے صدیوں سے انسانوں کو حیران کیا ہے۔ قدیم مسافروں اور خانہ بدوش قبائل کے لیے یہ ایک نمایاں قدرتی نشان رہا ہوگا، کیونکہ ریگستانی علاقوں میں ایسی واضح زمینی علامتیں راستہ پہچاننے میں مدد دیتی تھیں۔ جدید دور میں یہ مقام سیاحوں، محققین اور فوٹوگرافروں کے لیے کشش رکھتا ہے، جبکہ خلائی مشنز میں بھی اسے ایک قدرتی حوالہ نقطہ (point of reference for satellite-based Earth observations)کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ خلا سے اس جیسی واضح ساختیں بہت کم نظر آتی ہیں۔

سائنسی نقطۂ نظر سے یہ جگہ ایک قدرتی تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں موجود چٹانیں مختلف ادوار کے موسمی حالات، سمندری ماحول اور صحرائی تبدیلیوں کا ریکارڈ محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالعہ زمین کے ارتقائی عمل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری زمین بظاہر ساکن ہونے کے باوجود مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔

ریشات اسٹرکچر قدرتی حسن، سائنسی تجسس اور تاریخی دلچسپی کا ایک منفرد امتزاج ہے۔ جو ہمیں باور کراتا ہے کہ زمین کی سطح پر موجود عجائبات محض خوبصورت نظارے نہیں بلکہ کروڑوں سال کی قدرتی قوتوں کی کہانیاں ہیں۔ صحرائے صحارا کی یہ عظیم “آنکھ” آج بھی ماہرین اور سیاحوں دونوں کے لیے حیرت اور تحقیق کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

تو ابھی تلاش کریں اپنے فون یا کمپیوٹر پر The Richat Structure۔

(ابو الفارس محمود)

مزید پڑھیں: وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button