جنگی حالات میں ایفائے عہدکے متعلق اسلامی تعلیمات اور رسول اللہ ﷺکانمونہ
جانی دشمنوں کے مقابل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی فتوحات کی دلربا کہانی
جب دشمن وعدے پر وعدے توڑ رہا تھا اور تمام انسانی حقوق سے آپؐ کو محروم کر رہا تھا۔ اس وقت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نہ صرف کیے گئے وعدے پورے کر رہے تھے بلکہ آپؐ کے اعلیٰ اخلاق یہ بھی تقاضا کرتے تھے کہ وہ جو انسانی توقع کسی کو آپ سے ہو سکتی تھی اس کو بھی پورا فرما رہے تھے۔ اس طرح آپؐ نے عہد کے مضمون کو اپنے آخری کمال تک پہنچا دیا
انسانوں کا خالق اور مالک یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے بندے آپس میں دست و گریباں ہوتے رہیں۔قرآن
کریم کی سورۃ الانفا ل میں جہاں جنگی احکامات اور حالات کا ذکر ہے شروع میں ہی فرمایا: فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ (الانفال:۲) پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنے درمیان اصلاح کرو اور آپس میں صلح صفائی رکھو۔ لیکن اگر اختلاف اور لڑائی کی صورت پیدا ہو جائے تو پھر صلح اور سلام میں پہل کرنے والا خدا کو زیادہ پسند ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الادب باب الھجرہ حدیث نمبر۶۰۷۷) اور اگر خدا کو ماننے والے اور منکرین میں جنگ کی نوبت آجائے تو خدا کی اپنے مومن بندوں کو یہ تلقین ہے کہ وہ اس حالت میں بھی اعلیٰ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں (مائدہ:۳) ان اخلاق میں ایفائے عہد کو اللہ نے نمایاں شکل میں بیان کیا ہے اس بارے میں سب سے اکمل تعلیم حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور سب سے برتر صورت میں آپؐ نے ہی عمل کر کے دکھایا۔
قرآنی تعلیمات
قرآن کریم نے ہر حال میں وفائے عہد پر زور دیا اور عہد توڑنے، بے انصافی کرنے اور ظلم کو سخت ناپسند کیا ہے۔ فرمایا: اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا۔( بنی اسرائیل :۳۵) عہد پورا کرو کہ عہد کے بارہ میں پرسش ہوگی۔ وہ جو عہد کو توڑتے ہیں انہیں خٰسِرُوۡن فرمایا( البقرہ: ۲۸)یعنی گھاٹا پانے والے۔ ان پر لعنت کی اور جہنم کی خبر دی۔ (الرعد:۲۶) حالتِ جنگ میں ایفائے عہد کے متعلق فرمایا۔اگر کسی قوم کے ساتھ تمہارا عہدوپیمان ہو اور وہ تم سے لڑائی نہیں کرنا چاہتےتو ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا کوئی جواز نہیں۔ (النساء :۹۱) اگرکسی معاہد قوم کا فرد کسی مسلمان سے غلطی سے بھی قتل ہو جائے تو اس کے اہل کودیت دینا اور ایک مومن غلام کا آزاد کرنا لازم ہے۔ اور جس کو یہ توفیق نہ ہو تو دو مہینے متواتر روزے رکھنا ہوں گے۔ (النساء :۹۳) اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد مانگے تو ان کی مدد کرو لیکن اس قوم کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو تو پھر اجازت نہیں ۔(الانفال: ۷۳) اور مشرکوں میں سے اگر کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے یہاں تک کہ وہ کلامِ الٰہی سن لے پھر اسے اس کی محفوظ جگہ تک پہنچا دے(التوبہ: ۶) اور اگر تُو کسی قوم سے عہد شکنی کا ڈر رکھتا ہو تو تُو اس طرح ان کا عہد ختم کر دے جس سے وہ سمجھ لیں کہ اب تم دونوں (فریق اپنی پابندیوں سے) آزاد ہو۔ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال: ۵۹)
یہ ایک خلاصہ ہے اس خوبصورت تعلیم کا جو نفرت کو محبت سے بدل سکتی ہے جس کے لیے خدا نے وعدہ کیا تھا اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ۔ (حٰم السجدۃ:۳۵) یعنی ایسی چیز سے دفاع کر کہ جو بہترین ہو۔ تب ایسا شخص جس کے اور تیرے درمیان دشمنی تھی وہ گویا اچانک ایک جاں نثار دوست بن جائے گا۔اور واقعۃً اس تعلیم نے اور اس مجسم قرآن نے اپنے عمل سے جانی دشمنوں کو جاں نثاروں میں بدل دیا۔
محمد رسول اللہ ﷺ کے مثالی نمونے
جو شخص آسمان اور زمین پر صادق اور امین ہو وہی سب سے بڑھ کر اس بات کا حقدار ہے کہ ایفائے عہد کرنے والا ہو کیونکہ صداقت اور امانت کے بغیر ایفائے عہد کا حق ادا کرنا ممکن نہیں اور اس معنیٰ میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر عہدوں کو پورا کرنے والے اور وفادار تھے اور عہد کی یہ پابندی صرف عمومی حالات میں یا محض اپنے دوستوں تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا دائرہ کار غیروں تک اور ان حالات میں بھی پہنچا ہوا تھا جب دشمن وعدے پر وعدے توڑ رہا تھا اور تمام انسانی حقوق سے آپؐ کو محروم کر رہا تھا۔ اس وقت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نہ صرف کیے گئے وعدے پورے کررہے تھے بلکہ آپؐ کے اعلیٰ اخلاق یہ بھی تقاضا کرتے تھے کہ وہ جو انسانی توقع کسی کو آپ سے ہو سکتی تھی اس کو بھی پورا فرما رہے تھے۔ اس طرح آپؐ نے عہد کے مضمون کو اپنے آخری کمال تک پہنچا دیا۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ جنگی حالات میں گزرا ہے۔ ایک تو وہ جنگ تھی جو دشمن نے آپؐ کے دعویٔ نبوت کے ساتھ ہی یکطرفہ شروع کر دی تھی اور مسلسل تیرہ سال تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا شکار بنایا جاتا رہا۔ ان حالات میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی امانتوں اور ان کے ساتھ کیے گئے عہدوں کو ادا کرتے رہے۔ مکہ سے مدینہ جانے کے بعد بھی رسول کریمؐ کی زندگی کے آخری مرحلے یعنی وفات سے دو سال پہلے ۹ہجری میں رسول اللہؐ کو غزوہ تبوک کے ایک لمبے اور کٹھن مرحلے سے گزرنا پڑا۔ اس کے علاوہ مدینہ کے اندر وہ یہودی بھی تھے جو مسلسل غداری پر تلے ہوئے تھے لیکن اگر ان سے بھی کوئی عہد تھا تو خدا کے رسولؐ نے اس کو بھی پورا کیا اور اگر کسی طرح کوئی مسلمان اپنی مرضی سے ان کے حقوق کو تلف کرنا چاہتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ عہد کو پورا کرو۔ اس مضمون میں ہم چند ایسے ہی واقعات کا جائزہ لیں گے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بظاہر نارمل حالات میں بھی اور خاص جنگی حالات میں بھی دشمنوں کے ساتھ کیے گئے عہدوں کو وفا کر رہے تھے۔
مکہ کے یک طرفہ جنگی حالات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جوانی میں معاہدہ حلف الفضول میں شرکت کی تھی جس کے سب شرکاء نے وعدہ کیا کہ ہم ہمیشہ ظلم کو روکیں گے اور مظلوم کی مدد کریں گے۔اس عہد کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بھی پاسداری کی۔ بلکہ سب سے بڑھ کر کی اور حقیقت میں ایفائے عہد کے شاندار نظارے بعثت کے بعد دکھلائے جب شدید دشمنوں اور ظالموں کے مقابل پررسول اللہ ﷺ نے اپنی جان اور عزّت کی کوئی پروا نہ کرتے ہوئے معاہدہ کے تحت مظلوموں کا حق دلوانے کی بھرپور سعی کی۔اس کی تائید میں یہ واقعہ ملاحظہ فرمایئے۔
اراش قبیلہ کا ایک فرد مکہ میں اونٹ بیچنے کے لیے لایا۔ ابوجہل نے اس سے اونٹ خریدا اور رقم ادا کرنے کے لیے ٹال مٹول کرنے لگا۔وہ شخص دہائی دیتا ہوا قریش کے سرداروں کی مجلس میں پہنچ گیا۔ انہوں نے اس شخص سے استہزا کرتے ہوئے رسول اللہؐ کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ شخص تجھے حق دلا سکتا ہے۔وہ شخص رسول اللہﷺ کے پاس پہنچا اور اپنی داستان سنائی۔ رسول اللہؐ اسے ساتھ لے کر ابوجہل کی طرف چلے گئے۔ اور فرمایا اس شخص کا حق ادا کرو۔ وہ کہنے لگا میں ابھی اس کی رقم لے کر آتا ہوں۔ چنانچہ وہ رقم لے آیا۔ وہ شخص واپس جاتے ہوئے اہل قریش کی اسی مجلس کے پاس ٹھہرا اور کہا اللہ محمد ؐکو جزا دے مجھے میرا حق مل گیا۔ایک شخص نےابوجہل کے متعلق سارا واقعہ بیان کیا تو سب سخت حیران ہوئے۔تھوڑی دیر بعد ابوجہل آیاتو سب نے اسے لعن طعن کی۔اس نے کہا جب مَیں محمد کے بلانے پر باہر آیا تھا تو میں نے دیکھا کہ محمد کے پیچھے قوی الجثہ خوفناک زبردست جبڑوں والا اونٹ ہے اور اگر میں انکارکرتا تووہ مجھے نگل جاتا (السیرة النبویہ ابن کثیر جلد اول صفحہ۴۶۹ قصة الاراشی داراحیاء التراث العربی بیروت)اس اَن کہی جنگ میں ابوجہل ہار گیا اور اخلاق محمدی جیت گئے۔ بظاہر کمزوری کے باوجود اللہ پر توکل کر کے ایفائے عہد کرنا آج بھی کمزور قوموں کے لیے اعلیٰ مثال ہے۔
مکہ کے لوگ برکت لینے کے لیے کبھی کبھی خانہ کعبہ کا دروازہ کھول کر اندر جا یا کرتے تھے۔ آنحضر ت ﷺ کی شدید مخالفت کے مکی دَور میں ایک بار آنحضر ت ﷺ نے بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اندر جانے کا ارادہ کیا تو کلید بردار کعبہ عثمان بن طلحہ نے آپؐ کو روک دیا۔اس پر رسول کریمﷺ نے فرمایاایک وقت آئے گا کہ خانہ کعبہ کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی اور مَیں جسے چاہوں گا دوں گا۔ یہ بات سن کر عثمان نے قہقہہ لگایا ہو گا۔ کفار نے مذاق اڑایا ہوگا۔ مگر آسمان کے خدا نے جو خبر رسول کریم ﷺ کو دی تھی وہ وقت کا انتظار کر رہی تھی۔۸ہجری میں رسول اللہ ﷺ فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ خانہ کعبہ کا طواف کیا اور فرمایا عثمان کو بلایا جائے۔ رسول کریم ﷺنے اس سے بیت اللہ کی کنجیاں منگوائیں۔اس نے لرزتے ہاتھوں سے چابیاں رسول اللہ ﷺ کے حوالے کر دیں۔حضرت علی ؓکی یہ درخواست گزاری تھی کہ آئندہ سے کلید برداری کی عزت بنو ہاشم کو عطا کی جائے مگر رسول اللہ ﷺنے عثمان سے فرمایا آج کا دن احسان اور وفا کا دن ہے۔اور اے عثمان! مَیں یہ چابیاں ہمیشہ کے لیے تیرے اور تیرے خاندان کے سپرد کرتا ہوں اور سوائے ظالم کے تم سے کوئی یہ چابیاں نہیں چھینے گا۔
عثمان صلح حدیبیہ کے زمانے میں کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کر چکا تھا مگر رحمت کی تیز دھار جب اس کے دل پر پڑی تو اس کا سر ادب اور احسان کے بوجھ سے جھک گیااور اس نے ایک دفعہ پھر صدق دل سے اعلان کیا کہ خدا ایک ہے اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔ (سیر ة ابن ہشام و سیر ة حلبیہ)۔ آج بھی یہ چابیاں عثمان کے خاندان میں موجود ہیں۔
ہجرت مدینہ کے وقت دشمن اور ظالم قوم کی امانتوں کو ادا کرنے لیے اپنے بھائی کی جان کو داؤ پر لگا دینا بھی وعدہ وفائی کی انتہا ہے۔ ہجرت مدینہ کا سفر بھی جنگی حالت کا ہی نمونہ تھا۔ سراقہ بن مالک تعاقب میں ناکام ہو گیا تو اس نے رسول اللہؐ کو آواز دی اور کہا کہ آپؐ مجھے امن کی تحریر لکھ دیں۔ اسے وہ تحریر لکھ دی گئی جب سراقہ واپس لوٹنے لگا۔ تو آپؐ نے اسے فرمایا: سراقہ! اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے؟ کہاں عرب کے صحرا کا ایک بدوی اور کہاں کسریٰ شہنشاہ ایران کے کنگن ! وہ زندگی اور کسریٰ کے کنگنوں کا وعدہ پا کر لوٹ گیا۔ آٹھ سال بعد حضورﷺ جنگ حنین سے فارغ ہو ئے۔ آپ اونٹنی پر سوار انصار کے ایک گھوڑ سوار دستے کے حفاظتی حصار میں تھے، وہ سراقہ کو پیچھے ہٹاتے تھے۔ اس نے اپنا ہاتھ بلند کرکے وہ تحریر رسول اللہﷺ کو دکھائی اور کہا میں سراقہ ہوں اور یہ آپؐ کی تحریر امن ہے۔رسول کریمؐ نے فرمایا :آج کا دن عہد پورا کرنے اور احسان کا دن ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا سراقہ کو میرے پاس لایا جائے۔ سراقہ آپ کے قریب ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔ (ابن هشام جلد ۱ صفحہ ۴۸۹)
رسول اللہؐ کی وفات کے بعد وعدہ وفائی کی شان دیکھو کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے کنگن بھی غنیمت کے مال کے ساتھ مدینہ میں آئے۔ حضرت عمرؓنے سراقہ کوبلایا اور اپنے سامنے اس کے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن جو بیش قیمت جواہرات سے لدے ہوئے تھے پہنائے۔ (اسد الغابہ، ذکر سراقہ)
میثاقِ مدینہ
سیاسی امن کے لیے رسول اللہؐ کے معاہدات بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ جب آپؐ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو مسلمانوں اور یہود کے مابین امن کا معاہدہ ہوا اور اس کے آغاز میں لکھا گیا کہ مسلمان اور یہودی (سیاسی لحاظ سے )امتِ واحدہ ہیں، سب مل کر رہیں گے اور مل کر دشمن کے حملہ کا جواب دیں گے۔ (عہد نبوی کا نظام حکمرانی صفحہ۹۹۔ از ڈاکٹر حمید اللہ )نبی کریمؐ نے ہمیشہ اس معاہدہ کا احترام کیا۔ ایک قتل کے مقدمے میں مسلمانوں کے مقابلے پر یہودیوں کے حق میں فیصلہ کیا۔(بخاری کتاب الجہاد) یہود کو مذہبی آزادی دی اور بعض مسلمانوں نے جب حضرت موسیٰ ؑپر رسول کریمؐ کی فضیلت و برتری ظاہر کی تو آپؐ نے معاہد قوم کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے موسیٰ پرفضیلت مت دوتا کہ اس کے نتیجے میں مدینہ کی امن کی فضا خراب نہ ہو۔(بخاری کتاب الخصومات باب مایذکر فی الاشخاص واالخصومۃ بین المسلم والیھود حدیث نمبر ۲۴۱۱ )
رسول کریمؐ نے فرمایا جو شخص بغیر کسی جائز وجہ کے کسی معاہدہ کرنے والے کو قتل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔ (ابو داؤد کتاب الجہاد باب فی الوفاء للمعاہد حدیث نمبر ۲۷۶۰)نیز فرمایا: لَا إِيْمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِيْنَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ(مسنداحمد حدیث نمبر ۱۲۴۱۰) جس کو امانت کا پاس نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس کو عہد کا پاس نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔
مفتوح اقوام سے سلوک
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مفتوح اقوام کی جان، مال اور عزت کو بھی امانت ہی سمجھا اور وعدہ کی پاسداری کی۔ فتح خیبر کے بعد ایک یہودی سردار نے رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر بعض مسلمانوں کی شکایت کی کہ وہ ہمارے جانور ذبح کرکے کھا رہے ہیں اور ہمارے پھل اجاڑ رہے ہیں اور عورتوں پر سختی کر رہے ہیں۔ وہ یہودی سردار رسول اللہؐ کے عدل و انصاف پر بھروسہ کرکے آیا تھا اور اس کی یہ توقع پوری ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فوراً صحابہ ؓکو اکٹھا کر کے تقریر فرمائی اور کہا اللہ تعالیٰ تمہیں بلااجازت اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے کی اور ان کے پھل کھانے کی اجازت نہیں دیتا جبکہ وہ حق ادا کررہے ہوں جو ان کے ذمہ ہے۔ (السیرة المحمدیہ صفحہ۳۲۸)
نبی کریمؐ نے یہودی جنازوں کا بھی احترام کیا اور ان کا جنازہ آتے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ کسی نے کہا کہ یہودی کا جنازہ ہے۔فرمایا:کیا وہ انسان نہیں تھا۔ (بخاری کتاب الجنائز باب من قام لجنازة یہودی حدیث نمبر ۱۳۱۲) مسلسل عہد شکنی کے نتیجے میں بالآخران کومدینہ بدر کرنا پڑا لیکن رسول اللہؐ پر کسی یہودی کو عہد شکنی کا الزام تک لگانے کی جرأت نہ ہوئی۔
حیرت انگیز مثالیں
حضرت حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں کہ مَیں غزوۂ بدر میں شامل نہ ہو سکا اس کی وجہ یہ تھی کہ مَیں اور میرا ایک ساتھی ابوحُسیَل سفر میں تھے کہ کفار مکہ نے ہمیں پکڑ لیا کہ تم محمدؐ کے پاس جا رہے ہو (تاکہ آپؐ کے لشکر میں شامل ہو جاؤ) ہم نے کہا ہم تو مدینہ جا رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے ہم سے یہ عہد لے کر چھوڑا کہ ہم مدینہ چلے جائیں گے اور کفار کے خلاف لڑائی میں شامل نہ ہوں گے۔ یہ عہد گو جارحانہ حملہ آوروں نے جبراً لیا تھا اور کسی معروف ضابطہ اخلاق میں اس کا ایفاء لازمی نہیں تھا مگر رسول اللہﷺ کو عہدکا اتنا پاس تھا کہ ایسے نازک وقت میں جبکہ ایک ایک سپاہی کی ضرورت تھی آپؐ نے فرمایا:’’تو پھر تم جاؤ اور اپنے عہد کو پورا کرو۔ ہم اللہ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور اسی کی نصرت پر ہمارا بھروسہ ہے۔‘‘ (صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر باب الوفاء بالعہد حدیث نمبر۳۳۴۲)
آپؐ نے گلہ بانوں کو بھی اپنے عمل سے وفاداری اورایفائے عہد کی تعلیم دی۔ جن دنوں اسلامی افواج نے خیبر کا محاصرہ کیا ہوا تھا ایک یہودی رئیس کا گلہ بان مسلمان ہو گیا اور اس نے کہا یارسول اللہؐ! مَیں تو اب ان لوگوں میں نہیں جاسکتا لیکن میرے پاس اپنے یہودی آقا کی جو بکریاں ہیں ان کے متعلق حضورؐ کا کیا ارشاد ہے۔ وہ بھوک اور فاقے کے ایام میں تھےمگر آپ نےچرواہے کا عہدپورا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا :بکریوں کا منہ یہودی قلعہ کی طرف کردو اور ان کو ادھر ہانک دو۔ اللہ تعالیٰ خود انہیں ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس پہنچ گئیں جہاں سے قلعہ والوں نے انہیں اندر داخل کرلیا۔ (سیرت ابن ہشام جلد۳ صفحہ ۳۵۸)
ایلچی اور قاصد بھی ایک قوم کی امانت اور عہد کا نشان ہوتے ہیں۔ ابو رافع قبطی بیان کرتے ہیں کہ مجھے قریش نے رسول اللہ کی خدمت میں سفیر بنا کر بھیجوایا۔ رسول کریمؐ کو دیکھ کر میرے دل میں اسلام کی سچائی گھر کر گئی۔ مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ! مَیں قریش کی طرف لوٹ کر واپس نہیں جاتا چاہتا۔ رسول کریمؐ نے فرمایا :مَیں عہد شکنی نہیں کرتا۔ تم اس وقت بہرحال واپس چلے جاؤ پھر اگر بعد میں یہی ارادہ ہو کہ اسلام قبول کرنا ہے تو واپس آجانا۔ چنانچہ یہ قریش کے پاس لوٹ کر گئے اور بعدمیں آکر اسلام قبول کیا۔ (سنن ابوداؤد۔ کتاب الجہاد باب الامام یستجن بہ فی العھود حدیث نمبر۲۷۵۸)
۱۰ھ میں مسیلمہ کذاب نے جب رسول اللہ کے پاس قاصد بھیجے تو انہوں نے آنحضور ﷺ سے گستاخانہ گفتگو کی۔ اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا: اگر قاصدوں کو قتل کرنا روا ہوتا تو مَیں تم دونوں کی گردن مار دیتا۔ (سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الرسل باب فی الامام یتعبن بہ فی العھوم حدیث نمبر۲۷۵۸)
فتح حدیبیہ
صلح حدیبیہ میں ایک شرط یہ تھی کہ مکہ سے جو مسلمان ہو کر مدینہ چلا جائے گا وہ اہل مکہ کے مطالبہ پر واپس کر دیا جائے گا عین اس وقت جب معاہدہ کی شرطیں زیر تحریر تھیں اور آخری دستخط نہ ہوئے تھے مسلم حضرت ابوجندلؓ پابہ زنجیر اہل مکہ کی قید سے بھاگ کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد ی ہوئے۔ تمام مسلمان اس درد انگیز منظر کو دیکھ کر تڑپ اٹھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےمخاطب ہو کر فرمایا: اے ابوجندل! صبر کرو ہم بدعہدی نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ عنقریب تمہارے لیے کوئی راستہ نکالے گا۔ (صحیح بخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الجہاد حدیث نمبر۲۷۳۱۔۲۷۳۲) ابو جندل کو پھر اذیت ناک قید میں ڈال دیاگیا۔معاہدہ کے بعد بھی بعض مسلمان مکہ سے بھاگ کر مدینہ آئے تو رسول کریمؐ نے معاہدہ کے مطابق انہیں مکہ واپس بھجوادیا۔ مگر یہ شرط خود مکہ والوں کے لیے وبال جان بن گئی کیونکہ معاہدہ کے بعد مکہ سے مدینہ آنے والے ایک بہادرمسلمان ابو بصیرؓ کو جو مشرک گرفتار کرکے مدینہ سے دوبارہ مکہ لے جارہے تھے، راستے میں وہ ان کو قتل کر کےرہائی پانے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر ابوبصیر ؓنے واپس مدینہ آنے کی بجائے ساحل سمندر کے قریب اپنا اڈا بنالیا جہاں دیگر مسلمان بھی مکہ سے آکر اکٹھے ہونے لگے اور ایک جمعیت بن کر اہل مکہ کے لیے خطرہ بن گئے۔ جس پر مکہ والے خود یہ شرط چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
معاہدہ حدیبیہ کی ایک شق یہ تھی کہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کرنے مکہ آئیں گے اور تین دن کے اندر مکہ کو خالی کردیں گے۔ چنانچہ اگلے سال جب نبی کریمؐ عمرہ قضا کے لیے مکہ آئے تو قریش نے مکہ خالی کر دیا۔ ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں اور سہیل بن عمر و مکہ میں رہے تا کہ تین دن کے بعد مسلمانوں سے حسب معاہدہ مکہ خالی کرواسکیں جب تین دن گزر گئے تو ہم نے رسول اللہؐ کو یاد کروایا کہ آج شرط کے مطابق مسلمانوں کو مکہ خالی کرنا ہوگا۔ آنحضورؐ نے اسی وقت بلال کو حکم فرمایا کہ اعلان کر دیں کہ آج غروب آفتاب کے بعد کوئی مسلمان جو ہمارے ساتھ عمرہ کرنے مکہ آیا ہے مکہ میں نہ رہے اور بڑی سختی سے اس کی پابندی کی گئی۔ (مستدرک حاکم کتاب معرفۃ الصحابہ باب حویطب حدیث نمبر۶۰۸۴)
اسی معاہدہ کے دوران شہنشاہ روم ہرقل نے رسول اللہﷺ کا تبلیغی خط ملنے پراپنے دربار میں سردار قریش ابوسفیان کو بلا کر جب بغرض تحقیق کچھ سوالات کیے تو یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا اس مدعی رسالت نے بھی کوئی بدعہدی بھی کی ہے؟ ابوسفیان رسول اللہؐ کا جانی دشمن تھا مگر پھر بھی اسے ہر قل کے سامنے تسلیم کرنا پڑا کہ آج تک انہوں نے ہم سے کوئی بد عہدی نہیں کی۔ البتہ آجکل ہمارا اس سے ایک معاہدہ(حدیبیہ) چل رہا ہے دیکھیں وہ کیا کرتا ہے۔ ابو سفیان کہتا تھا کہ میں ہر قل کے سامنے اس سے زیادہ اپنی طرف سے کوئی بات اپنی گفتگو میں حضور کے خلاف داخل نہ کر سکا تھا۔ (بخاری باب بدء الوحی حدیث نمبر۷)
خدا کی تقدیر دیکھیے کہ رسول کریمؐ نے معاہدہ حدیبیہ کی ایک ایک شق پر عمل کر کے دکھایا۔ معاہدہ توڑنے کے مرتکب بھی پہلے قریش ہی ہوئے اور پھر عہد شکنی کا انجام بھی ان کو بھگتنا پڑا۔ جب کہ رسول کریمؐ نے ایفائے عہد کی برکات سےحصہ پایا اور سب سے بڑی برکت فتح مکہ کی صورت میں آپ کو عطا ہوئی۔صلح کے زمانے میں مسلمانوں کی غیر معمولی کامیابیاں دیکھ کر قریش نے معاہدہ امن تو ڑ نا چاہا اور قریش مکہ کے ایک گروہ نے اپنے حلیف بنو بکر سے ساز باز کر کے ایک تاریک رات میں مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کر دیااور ان کے کئی آدمی نہایت بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔ قبیلہ بنوخزاعہ کا چالیس شتر سواروں کا ایک وفد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اورمدد کے طالب ہوئے۔ آپؐ نے ایفائے عہد کے جذبہ سے سرشار ہو کر فرمایا: تم محمدکو عہد پورا کرنے والا اور باوفا پاؤ گے۔ تم دیکھو گے کہ جس طرح مَیں اپنی جان اوربیوی بچوں کی حفاظت کرتا ہوں اسی طرح تمہاری حفاظت کروں گا۔ (السیرۃ الحلبیہ باب فتح مکہ جلد۳ صفحہ ۱۰۳) چنانچہ رسول کریم ﷺنے بنو خزاعہ کے ساتھ کیا گیا عہد پورا فرمایا اور دس ہزار قدوسیوں کو ساتھ لے کر ان پر ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ کی شاندار فتح عطا فرمائی۔
رسول کریمؐ نے تو مسلمان عورت کے عہد کا بھی پاس کیا۔ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب نے فتح مکہ کے موقع پر رسول کریمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ انہوں نے اپنے سسرال کے بعض مشرک لوگوں کو پناہ دی ہے۔ حالانکہ حضرت علیؓ اس کے خلاف تھے۔ رسول کریمؐ نے فرمایا: اے ام ہانی ! جسے تم نے امان دے دی اسے ہم نے امان دی۔ (سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی امان الْمَرْأَة حدیث نمبر۱۷۶۳)
عیسائیوں سے ایفائے عہد
فتح مکہ کے بعد جن مختلف قبائل عرب نے مدینہ آ کر صلح و امن کے معاہدے کیے ان میں نجران اور یمن کے عیسائی بھی تھے۔ نجران کے عیسائیوں نے معاہدہ صلح کے بعد رسول کریمؐ سے درخواست کی کہ اس معاہدہ کے ایفاء کے لیے آپؐ اپنا کوئی ایسا نمائندہ مقرر کریں جو دیانتداری سے معاہدہ کی شقوں پر عمل کروائے۔ چنانچہ نبی کریمؐ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓکو ’’امین الامت‘‘ کا خطاب دیتے ہوئے تکمیل معاہدہ کے لیےنگر ان مقررفرمایا اور انہوں نے ایفائے عہد کا حق ادا کر دکھایا۔ (بخاری کتاب المغازی بَابُ قِصَّةِ أَهْلِ نَجْرَانَ حدیث نمبر۴۳۸۰) اس کے علاوہ بھی رسول اللہؐ نے متعدد معاہدے کیے اور ہر ایک کو نہایت عمدگی سے نبھایا اور کسی کو انگلی اٹھانے کی ہمت بھی نہیں ہوئی۔
دین میں کوئی جبر نہیں
آپؐ نے اعلان اوروعدہ فرمایا تھا: اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ (الکہف: ۱۱۱)کہ مَیں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ اور حالتِ جنگ میں یہ بھی فرمایا کہ لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ(البقرہ:۲۵۷)دین میں کوئی جبر نہیں۔ اس وعدہ کو ہمیشہ پورا کیا ۔ کسی فرد کو بھی جبراً مسلمان نہیں بنایا۔ عام تمدنی اور معاشرتی تعلقات میں کسی قوم کا فرق نہیں کیا سب کو سلام کرتے تھے۔ (بخاری کتاب الاستیذان) غیر مسلم مہمان کو سات بکریوں کا دودھ پلایا اور اپنے اہل خانہ کو بھوکا رکھا۔ (ترمذی کتاب الاطعمہ) یہودی عورت کی دعوت بھی قبول کی جس نے کھانے میں زہر ملا دیا تھا۔ (السیرۃ الحلبیہ) ایک یہودی مخیریق کے باغ کا تحفہ بھی قبول کیا۔ (روض الانف جلد ۲ صفحہ ۱۴۳) یہودی بیمار نوجوان کی عیادت بھی کی۔ (بخاری کتاب الجنائز باب عیادۃ المشرک) بدر میں مقتول دشمنوں کو دفن کرایا۔(بخاری کتاب المغازی)خندق میں ہلاک ہونے والے سردار نوفل کی لاش کو واپس کرنے کے لیے کفار نے دس ہزار درہم کی پیشکش کی مگر آپ نے بغیر کسی رقم کے واپس کر دی۔(سیرۃ ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۲۷۳) یہودیوں سے لین دین اور قرض کا سلسلہ بھی جاری رہا اور بوقت وفات بھی آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔(بخاری کتاب المغازی) مخالفین ، بدوؤں اور یہودیوں کی سختی اور بدتمیزی بھی برداشت کی ۔ مدینہ کے دو یہودی قبیلوں بنو قینقاع اور بنو نضیر کو ان کے جرائم کی پاداش میں جلا وطن کیا تو سارا سامان ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی حتیٰ کہ ان کے وہ بچے بھی جو نذر کے طور پر یہودی بنائے گئے تھے اور درحقیقت یہودی نہ تھے وہ بھی ساتھ لے گئے۔ (ابو داؤدکتاب الجہاد بَابٌ فِي الْأَسِيرِ يُكْرَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ حدیث نمبر ۲۶۸۲)
ایفائے عہد کا بلند پرچم۔ خلفائے راشدین کے نمونے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال صرف یہ نہیں کہ آپؐ نے ایفائے عہد کے شاندار نمونے قائم کیے اور کہانی ختم۔بلکہ آپؐ نے ایک ایسی امت کی بنیاد ڈالی جس نے ایفائے عہد کا عَلَم بلند رکھا اور دشمنوں کے دلوں پر نہ صرف گہرے نقوش چھوڑے بلکہ ان کے دلوں میں اسلام کو راسخ کرتے چلے گئے۔ آیئے خلفائے راشدین کے چند واقعات ملاحظہ کریں۔
پروفیسر تھامس واکر آرنلڈ (Thomas Walker Arnold) اپنی کتاب The Preaching of Islam میں صحابۂ رسولؐ کی جنگوں کے لائحہ عمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’لڑائیوں کے زمانہ میں اسلامی فاتحین کا ضبط طبیعت اور رحم ایسا تھا جس نے لوگوں میں اہلِ اسلام کا نہایت وقار پیدا کیا ہو گا اور ان پر فرض کر دیا ہو گا کہ لشکرِ اسلام کے استقبال کے لیے آگے بڑھیں۔ یہ لشکر ان انصاف و اعتدال کے اصولوں کا پابند تھا جن کو حضرت ابوبکرؓ نے ابتدائی معرکہ شام میں پابندی کے لیے اس طرح نافذ فرمایا تھا کہ انصاف کرنا۔ وعدہ خلافی نہ کرنا۔‘‘ (دعوتِ اسلام صفحہ ۶۶، مطبوعہ مسعود پبلشنگ ہاؤس ۱۹۶۴ء)
۱۳ھ میں حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایرانیوں کے ساتھ جنگ نمارق میں سالارِ اسلام صحابیٔ رسولؐ حضرت ابوعبیدہؓ نے دشمن سالار جابان کو شکستِ فاش دی اور وہ زندہ گرفتار ہو گیا لیکن جس مسلمان نے اسے گرفتار کیا وہ اسے پہچانتا نہ تھا۔ اِس لیے جابان نے دو غلام دے کر رہائی حاصل کر لی۔ بعض مسلمانوں نے اسے پہچان کر دوبارہ گرفتار کرا دیا مگر حضرت ابوعبیدہؓ نے یہ کہہ کر چھڑا دیا کہ جس کو ایک مسلمان رہا کر چکا ہے اس سے بدعہدی نہیں کی جا سکتی۔(تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ ۶۳۵)
ایرانیوں کا ایک سردار ہر مزان نامی تھا۔ مسلمانوں نے اسے شکست دی تو اس نے اطاعت قبول کر لی۔ مگر کئی دفعہ بغاوت کی یہاں تک کہ آخری بار شکست کھا کر اس نے کہا کہ مَیں صلح کرتاہوں مگر شرط یہ ہے کہ مجھے مدینہ میں حضرت عمرؓ کے پاس بھیجا جائے۔ حضرت عمرؓ نے اس سے بدعہدی کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگا مجھے پیاس لگی ہے۔ پانی لایا گیا تو پیالہ پکڑ کر کہنے لگا آپ مجھے پانی پینے کی حالت میں قتل کر دیں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا جب تک تم یہ پانی نہ پی لو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ یہ سُنتے ہی اس نے پیالہ ہاتھ سے رکھ دیا اور کہا کہ مَیں اسے پیتا ہی نہیں۔ اب آپ مجھے وعدہ کے مطابق قتل نہیں کر سکتے۔ ایک عمومی رنگ میں بات کی گئی جسے دشمن توڑ مروڑ کر فائدہ اُٹھا رہا تھا۔ مگر حضرت عمرؓ کا کردار یہ تھا کہ آپؓ نے فرمایا تم نے مجھے دھوکہ دیا تھا مگر مَیں وعدہ خلافی نہیں کروں گا۔ بدعہدی کے مقابلے میں عہد کی پابندی اور قدرت رکھنے کے باوجود عفو اور احسان کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ ہر مزان نے کلمۂ توحید پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔(العقد الفرید لابن عبد ربہ جزنمبر ۱صفحہ ۱۲۵ کتاب الفریدۃ فی الحرب باب المکیدۃ فی الحرب)
حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایرانیوں کے ساتھ جنگیں ہورہی تھیں۔ مسلمان شہر باج کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور شہر فتح ہونے کے قریب تھا کہ کفّار نے عین جنگ کے دَوران میں دھوکے سے ایک حبشی غلام مسلمان سے معاہدہ کر لیا اور انہوں نے قلعے کے دروازے کھول دیے۔ جب لشکر آگے بڑھتا کہ قلعے میں داخل ہو تو انہوں نے کہا ہمارا تو تم سے معاہدہ ہو چکا ہے۔ کمانڈر نے کہا میرے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا انہوں نے کہا ہم نے ایک حبشی سے معاہدہ کر لیا تھا اور اس نے بعض شرائط پر ہمیں امن دے دیا تھا۔ کمانڈر نے کہا اُسے معاہدے کا کیا اختیار تھا۔ جب یہ اختلاف بڑھا تو اسلامی فوج کے کمانڈر نے حضرت عمرؓ کو یہ تمام واقعہ لکھ دیا۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے وفائے عہد کو بڑی عظمت و اہمیت دی ہے۔ سو تم اس عہد کو پُورا کرو اور اس وقت تک اس عہد پر قائم رہو جب تک کہ فریق ثانی خود اس کی خلاف ورزی نہ کرے۔(طبری جلد ۵ صفحہ ۲۵۶۸۔تفسیر کبیر جلد ۷ صفحہ ۱۳۴ جلد ۱۰ صفحہ ۳۲۹)
رومیوں کی گواہی
حضرت عمر ؓکے دَور میں رومیوں سے جنگیں ہو رہی تھیں کہ ایک جنگ میں رومی شکست کھا کر قیصرِ روم کے پاس انطاکیہ جاپہنچے۔ ہرقل نے ان سے پوچھا مسلمان تمہارے جیسے انسان ہیں۔ تم تعداد میں ان سے زیادہ ہو پھر تمہاری شکست کا کیا سبب ہے۔لشکر کے سرداروں میں سے ایک بوڑھے نے جواب دیا مسلمان اِس لیے غالب آتے ہیں کہ وہ راتوں کو جاگ کر خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ دن کو خدا کے لیے روزہ رکھتے ہیں۔ کوئی عہد کریں تو اسے وفا کرتے ہیں…مگر ہم لوگ ہیں کہ شراب پیتے ہیں، زنا کرتے ہیں، حرام کاری کرتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں…تو ہم لوگ کس طرح غالب آ سکتے ہیں۔(البدایہ والنہایہ جلد ۷صفحہ ۱۵)
اہلِ فارس کی گواہی
روم کے ساتھ ساتھ دوسری بڑی طاقت ایران تھا۔ مسلمان بیک وقت خلافتِ راشدہ کی راہنمائی میں اور صحابہؓ کی سالاری میں ان دونوں کے ساتھ نبردآزما تھے مگر ان کی اصل فتح تو اخلاقی قوّتوں کی تھی۔ اہل روم کے بعد اب اہلِ فارس کی گواہی بھی سُن لیجیے۔ ۲۲ھ میں ایرانی مہمات کے دَوران جب ایرانی فوجیں ہر محاذ سے پسپا ہو رہی تھیں تو یزدگرد شاہِ ایران نے چین کے بادشاہ سے مدد طلب کی۔ قاصد نے مسلمانوں کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ’’مسلمان وعدہ کی پابندی کرتے ہیں۔ لڑنے سے پہلے صلح کی طرف بلاتے ہیں۔…ایسی صفات کا تذکرہ سُن کر شاہِ چین مرعوب ہو گیا تو اس نے یزدگرد کو لکھا کہ مَیں تجھےبہت بڑا لشکر بھیج سکتا ہوں مگر وہ قوم جس کی صفات تیرے قاصد نے بیان کی ہیں اگر یہ پہاڑوں کو گرانے کا ارادہ کرے گی تو ان کو بھی گرا دے گی۔ اِس لیے تم ان سے صلح کر لو اور ہتھیار ڈال دو۔‘‘(تاریخ طبری جلد ۳ صفحہ ۲۴۹)
۱۷ھ میں حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ذمّیوں کے ایک وفد سے پوچھا گیا کہ شاید مسلمان تم کو ستاتے ہوں گے تو سب نے ہم آواز ہو کر کہا :مَا نَعْلَمُ إِلَّا وَفَاءً وَحُسْنَ مَلَكَةٍ۔ ہم پابندیٔ عہد اور شریفانہ اخلاق کے سوا کچھ نہیں جانتے۔(تاریخ طبری جلد ۳ صفحہ ۱۸۴ مطبوعہ ۱۹۳۹ء)
اور اسی صداقت پر شام کے عیسائیوں نے مُہرِ تصدیق ثبت کی۔ حضرت عمرؓ جب شام گئے تو اذرعات کے عیسائی اپنے طریقِ استقبال کے مطابق خوشی سے ہاتھوں میں تلواریں لیے پُھول برساتے اور باجے بجاتے ان کے استقبال کے لیے شہر سے باہر آ گئے۔
امن عالم کا چارٹر
آج کل انسان عالمی امن کے لیے پریشان ہے۔ ہر وہ قدم جو امن کے لیے اٹھایا جاتا ہے وہ مزید بد امنی پیدا کرتا ہے اور یہ اس وقت تک ہوتا رہےگا جب تک محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ ان میں سے ایک بنیادی خلق عہد کی پابندی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔ پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو جو زیادتی کررہی ہے اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف لوٹ آئے۔ پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کرو۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ مومن تو بھائی بھائی ہی ہوتے ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (الحجرات: ۱۰ و۱۱)اس میں براہ راست مومنوں سے خطاب ہے لیکن دراصل تمام نوع انسانی کو سبق دیا جا رہا ہے کیونکہ صلح اور انصاف کے لیےایفائے عہد پہلا مرحلہ ہے
آؤ لوگو! کہ یہیں نورِ خدا پاؤگے!!
لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے
(درثمین صفحہ۱۸)
مزید پڑھیں: جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے



