متفرق مضامین

غزوات کے دوران آنحضورﷺ کا حُسنِ اخلاق

(’ایچ ایم طارق‘)

ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰﷺکے مکارم اخلاق کی یہی عظمت ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں اپنے نئے حسین جلوے دکھاتے نظر آتے ہیں۔ حالت امن ہو یا جنگ، مشکلات کے پہاڑ اور مصائب کے طوفان اس کوہِ استقامت کو ہلا نہیں سکے۔ فتوحات اور کامرانیوں کے نظارے اس کوہ ِوقار میں ذرّہ برابر جنبش پیدا نہیں کرسکے

اسلام امن وسلامتی کا مذہب ہے اورعام حالات میں جنگ وجدال سے منع کرتا ہے، تاہم جب دشمن حملہ آور ہوکر آجائے تودوسرے فریق کو بھی اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ بانی ٴاسلامؐ کو بھی ایسی دفاعی جنگوں کا سامناکرناپڑا۔

نبی کریمﷺنے ایک سپاہی کے طور پربھی غزوات میں حصہ لیااوردفاعی جنگوں میں بطور جرنیل اپنے لشکر کی کمان کر کے بھی کامل نمونہ پیش فرمایا۔ جنگوں میں اکثر فتح پائی اور کبھی ساتھیوں کے پاؤں اکھڑبھی گئے۔ مگر ہمیشہ اور ہر حال میں آپؐ کے پاکیزہ اخلاق نئی شان کے ساتھ ظاہر ہوئے۔

ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰﷺکے مکارم اخلاق کی یہی عظمت ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں اپنے نئے حسین جلوے دکھاتے نظر آتے ہیں۔ حالت امن ہو یا جنگ، مشکلات کے پہاڑ اور مصائب کے طوفان اس کوہِ استقامت کو ہلا نہیں سکے۔ فتوحات اور کامرانیوں کے نظارے اس کوہ ِوقار میں ذرّہ برابر جنبش پیدا نہیں کرسکے۔ تکلّف اور تصنّع سے پاک ایسے کامل اور سچے اخلاق میں بلا شبہ خدائی شان جلوہ گر نظر آتی ہے اور ہر صاحب بصیرت انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ اے آقاؐ!تیرے روشن و تاباں چہرے میں ایسی شان اور عظمت ہے جو انسانی شمائل اور اخلاق سے کہیں بڑھ کرہے۔

رسول اللہﷺکے خلق عظیم کا طرہٴ امتیاز ہمیشہ یہ رہا کہ آپؐ ہر امکانی حد تک فساد سے بچتے اور ہمیشہ امن کی راہیں اختیار کرتے تھے۔ مکّہ کا تیرہ سالہ دورِ ابتلا گواہ ہے کہ آپؐ اور آپؐ کے صحابہؓ نے سخت اذیتیں اور تکالیف اٹھائیں لیکن ہمیشہ صبر سے کام لیا۔ جانی اور مالی نقصان اٹھائے اور برداشت کیے اور مقابلہ نہ کیا۔ اپنے مظلوم ساتھیوں سے بھی یہی کہا کہ اِنِّیْ اُمِرْتُ بِا لْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوْا کہ مجھے عفو کا حکم ہو اہے۔ اس لیے تم لڑائی سے بچو۔ (سنن النسائي، کتاب الجهاد، باب وجوب الجهاد)

پھر جب دشمن نے شہر مکّہ میں جینا دوبھر کردیااور آپؐ کے قتل کے منصوبے بنائے تو آپؐ اورآپؐ کے ساتھیوں نے عزیز واقارب اور مال و جائیداد کی قربانیاں دے کر دکھی دل کے ساتھ وطن کو بھی خیر باد کہہ دیا اور مدینہ میں پناہ لی۔ دشمن نے وہاں بھی چین کا سانس نہ لینے دیا۔

اہل مکّہ مسلمانانِ مدینہ پر حملہ آور ہونے لگے۔ تب ہجرتِ مدینہ کے ایک سال بعد اِذن جہاد کی وہ آیت اُتری جس میں مظلوم مسلمانوں کو اپنے دفاع اور مذہبی آزادی کی خاطر تلوار اُٹھانے کی اجازت دی گئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔ (الحج:۴۰) وہ لوگ جن سے(بلاوجہ) جنگ کی جارہی ہے اُن کو بھی(جنگ) کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیات سے اسلامی جنگوں کی غرض و غایت ظاہر و باہر ہے اور صاف پتہ چلتا ہے کہ جنگ کی ابتدا کفار کی طرف سے ہوئی۔ دوسرا یہ کہ مسلمان دین کی وجہ سے مظلوم ہوکر رہ گئے تھے۔ تیسرا کفار کا مقصد دین اسلام کو نابود کرنا تھا۔ چوتھا مسلمانوں کو محض خود حفاظتی اور اپنے دفاع کی خاطر تلوار اُٹھانی پڑی۔

اسلامی جنگوں میں ضابطہٴ اخلاق

قرآن شریف نبی کریمﷺکے زمانےکی مستند ترین مسلّمہ دستاویز ہے، اس میں اسلامی جہادکے آداب بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ۔ (البقرة:۱۹۱)یعنی اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔ اسی طرح فرمایا کہ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ (التوبہ:۱۳) کہ جنگ میں پہل کفار مکّہ کی طرف سے ہوئی تھی۔

اس کے باوجود مسلمانوں کو یہی حکم تھا کہ اگر دشمن اب بھی صلح کی خواہش کرے تو مصالحت کرلو۔ فرمایا: وَاِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔ (الانفال:۶۲) کہ اگر وہ(دشمن) صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کے لیے جھک جاؤ۔

نبی کریمﷺان اصولی اسلامی احکام کی روشنی میں ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو یہ تعلیم دیتے رہے کہ دشمن سے مقابلےکی خواہش کبھی نہ کریں۔ خداسے ہمیشہ عافیت اور امن و امان کے طالب ہوں۔ ہاں جب دشمن حملہ آور ہو اور اس سے مقابلہ ہوجائے تو پھر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرواور حد سے تجاوز نہ کرو۔ اور جان لو کہ جنّت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ (صحيح البخاري، کتاب الجهاد، باب الجنة تحت بارقة السيوف)

حضرت بُریدہ  سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺجب کسی دستہ پرکوئی امیر مقرر فرماتے یا کوئی مہم بھجواتے تو اسے سب سے اہم ہدایت یہ فرماتے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا۔ پھر فرماتے خدا کا نام لے کر اللہ کی راہ میں نکلا کرو۔ ان سے جنگ کرو جو اللہ کے منکر ہیں۔ جہاد کرو اور کسی قسم کی خیانت کے مرتکب نہ ہونا۔ بد عہدی نہ کرنا۔ دشمن کی نعشوں کا مُثلہ نہ کرنا(یعنی کان ناک وغیرہ اعضاء کاٹ کر بے حرمتی نہ کرنا)۔ بچوں کو قتل نہ کرنا۔(صحیح مسلم كتاب الجهاد والسير باب تَأْمِيرِ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ وَوَصِيَّتِهِ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْوِ وَغَيْرِهَا،حدیث نمبر ۳۲۴۷)

وہ مشرک جو فتح مکّہ کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ نبردآزما اور حالت جنگ میں تھے ان کے متعلق فرمایا: “جب مشرکوں میں سے اپنے کسی دشمن سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان کو تین باتوں میں سے کسی ایک کی طرف بلاؤ۔ ان میں سے کسی ایک بات کو بھی وہ قبول کرلیں تو ان پر حملے سے رُک جاؤ اول انہیں اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ قبو ل کرلیں تو ان پر حملہ کرنے سے گریز کرو۔ پھر ان کو اپنے وطن سے مسلمانوں کے دارالہجرت کی دعوت دیں اگر وہ اسے قبول کریں تو جو حقوق اور فرائض مہاجرین کے ہیں وہ ان کے ذمہ ہوں گے۔ اگر وہ ہجرت پر آمادہ نہ ہوں تو انہیں بتاؤ کہ خانہ بدوش مسلمانوں کی طرح ان کے حقوق ہوںگے۔ مومنوں پر جو احکام لاگو ہیں وہی ان پر بھی ہوںگے۔ اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے تو مالِ غنیمت وغیرہ سے حصہ پانے کے حقدار ہوںگے۔ اگر اس بات سے بھی انکار کریں تو ان سے اپنے مذہب پر قائم رہ کر اسلامی حکومت کی اطاعت کرتے ہوئے جزیہ کا مطالبہ کرو اگر وہ قبول کرلیں توتم بھی اسے قبول کرکے حملہ سے رُک جانا لیکن اگر وہ ان تمام شرائط صلح سے انکاری ہوں تو پھر اللہ کا نام لے کر ان سے جنگ کرو۔ ‘‘(صحيح مسلم؛ کتاب الجهاد، باب تَأْمِيرِ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ وَوَصِيَّتِهِ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْوِ وَغَيْرِهَا)

رسول کریمﷺنے یہاں تک تفصیلی ہدایات دیں کہ سفر جہاد پر جاتے ہوئے راستے میں کسی کو تکلیف نہ پہنچنے پائے۔ چنانچہ حضرت جابر کی روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:“اگر رات کو تم پر کوئی شب خون مارے تو اذان کہہ کر اپنے اسلام کا اعلان کرو اور راستے کے درمیان میں نماز نہ پڑھو۔ نہ ہی اس پر پڑاؤ کرو۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل؛ الجزء ۳، صفحہ ۳۰۵، طبعة القاهرة)

حضرت عبدالرحمٰن بن عائذ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ“ عام طور پر لوگوں سے نرمی اور محبت کا سلوک کرو۔ اور اس وقت تک ان پر حملہ نہ کرو جب تک تم ان کو صلح کی دعوت نہ دے لو۔ ”

پھر فرمایا:“اگر تم اہل زمین کو مطیع کر کے اور مسلمان بناکر میرے پاس لے آؤ تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے بنسبت اس کے کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بناؤ اور مردوں کو قتل کرو۔‘‘ (كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال؛ الجزء ۴، صفحہ ۴۶۹، طبعة بیروت)

رسول کریمﷺنے اپنے صحابہؓ  کو جنگ کے آداب اور مستقل ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ “جنگ کے دوران کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو،کم سن بچے کواورعورت کو قتل نہ کرو۔ خیانت کرتے ہوئے مال غنیمت پر قبضہ نہ کرو۔ حتّی الوسع اصلاح اور احسان کا معاملہ کرو اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ” (سنن ابوداؤد، كتاب الجهاد، باب في دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ)

اسی طرح حکم دیا کہ“ دشمن پر رات سوتے میں حملہ نہ کرنا اور شب خون نہ مارنا۔ ”(صحيح البخاري، کتاب المغازي، باب غزوة خيبر)

رسول کریمﷺکے بیان فرمودہ ان آداب جنگ کی تعمیل حضورؐ کے زمانے میں نہایت پابندی سے کی گئی اور آپؐ کے بعد بھی خلفائے راشدین نے اس ضابطہٴ اخلاق کا بے حد خیال رکھا۔ بلکہ اس پاکیزہ تعلیم کی روح مدنظر رکھتے ہوئے،حسبِ حال مزید ہدایات جاری فرمائیں۔جو آج بھی اسلامی ضابطہٴ جنگ کا حصہ ہیں کیونکہ مسلمانوں کو رسول اللہﷺکے ساتھ خلفائے راشدین کی پیروی کا بھی حکم ہے۔ حضرت ابوبکر نے یہ ہدایات دیں کہ جن لوگوں نے اپنی خدمات کسی بھی مذہب کے لیے وقف کی ہوں،اُن سے میدان جنگ میں تعرض نہ کیا جائے۔ اُن کے مذہب کی مقدس چیزوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ کوئی پھل دار درخت نہ کاٹا جائے۔ نہ ہی کسی آبادی کو ویران کیا جائےاورکسی جانورکو ذبح بھی نہ کریں سوائے اس کے جسے کھانا مقصودہو۔ کسی کو آگ سے نہ جلائیں۔(موطأ امام مالك، کتاب الجهاد، باب النهی عن قتل النساء والولدان)

الغرض رسول کریمﷺکودشمن کے حملے سے مجبور ہوکر اپنا دفاع کرنے کے لیے جب تلوار اُٹھانا پڑی تو جنگ کی حالت میں جہاں دنیا سب کچھ جائز سمجھتی ہے، آپؐ نے پہلی دفعہ دنیا کو آداب جنگ سے روشناس کرایا۔ اس ضابطہٴ اخلاق کے ساتھ جب آپؐ جنگ کے لیے نکلتے توپھر آپؐ کا تمام تر توکّل اور بھروسہ خدا کی ذات پرہوتا تھا۔ حضرت انس بیان کرتے ہیں رسول کریمﷺجب کسی غزوہ کے لیے نکلتے تو یہ دعا کرتے اَللّٰھُمَّ اَنْتَ عَضُدِیْ وَاَنْتَ نَصِیْرِیْ وَبِکَ اُقَاتِلُ۔(مسند احمد بن حنبل؛ الجزء ۳، صفحہ ۱۸۴، طبعة القاهرة) اے اللہ! تُو ہی میرا سہارا، تُو ہی میرا مددگار ہے۔ اور تیرے بھروسہ پر ہی میں لڑتا ہوں۔

غزوہٴ بدر میں خُلق عظیم

ایک بہترین جرنیل کی طرح رسول اللہﷺکی گہری نظر اپنی سپاہ پر ہوتی تھی۔ غزوہٴ بدر کے موقع پر جب رسول اللہﷺاور آپؐ کے صحابہؓ نے میدان بدر میں مشرکین سے پہلے پہنچ کر ڈیرے ڈالے تو آپؐ نے فرمایا:“کوئی شخص از خود کسی بات میں پہل نہ کرے جب تک مَیں اجازت نہ دوں۔”پھر جب تک دشمن کی طرف سے حملہ نہیں ہوا، آپؐ نے مقابلہ کے لیے صحابہؓ  کو دعوت نہیں دی۔ جب دشمن سامنے صف آرا ہوئے توصحابہؓ  کو فرمایا:“اب اُس جنّت کے حصول کے لیے اُٹھ کھڑے ہو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔” پھرصحابہؓ نے اپنی جانیں خدا کی راہ میں خوب فداکیں۔(مسند احمد بن حنبل، الجزء ۳، صفحہ ۱۳۶، طبعة القاهرة)

نبی کریمﷺکسی سواری پربیک وقت تین آدمیوں کاسوارہوناپسند نہیں فرماتے تھے کہ یہ بھی جانور پرزیادتی ہے۔ بدر میں رسول اللہﷺکے صحابہؓ کے پاس چنداونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ ایک اونٹ کی سواری میں تین تین اصحاب شریک تھے، جو باری باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔ حضرت علی اورحضرت ابولبابہ یا ابومرثد غنوی نبی کریمﷺکی سواری میں شریک تھے۔ جب رسول اللہﷺکی باری ہوتی تو یہ دونوں کہتے ہم دونوں آپؐ کی خاطر پیدل چلیں گے آپؐ سوار رہیں۔ رسول کریمؐ نےفرمایا:“تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتورنہیں ہو اور نہ میں تم دونوں کی نسبت اجر سے بےنیاز ہوں۔ ”مجھے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور اجر کی ضرورت ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، الجزء ۳، صفحہ ۴۱۱، طبعة القاهرة)

رسول اللہﷺاور آپؐ کے صحابہؓ کا اپنے جانی دشمنوں اور ان کے ساتھ جنگ میں شکست کھاکر قیدہونے والوں سے سلوک بھی ایسا شاندار تھا کہ مستشرقین بھی اس کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکے۔

سرولیم میور اپنی کتاب’’Life of Mahomet‘‘ میں مسلمانوں کے اسیرانِ بدر کے ساتھ سلوک کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں: (ترجمہ)حضرت محمد (ﷺ) کی حکومت میں اہالیانِ مدینہ اور وہ مہاجرین جنہوں نے یہاں اپنے گھر بنالیے تھے کے پاس جب (بدرکے)قیدی آئے تو انہوں نے ان سے نہایت عمدہ سلوک کیا۔ بعد میں خود ایک قیدی کہاکرتا تھا کہ اللہ رحم کرے مدینہ والوں پر۔ وہ ہمیں سوار کرتے تھے اور خودپیدل چلتے تھے۔ ہمیں کھانے کے لیے گندم کی روٹی دیتے تھے جسکی اس زمانہ میں بہت قلت تھی اور خود کھجوروں پرگزاراکرتے تھے۔ اس لحاظ سے یہ بات تعجب خیز نہیں ہونی چاہیے کہ بعد میں جب ان قیدیوں کے لواحقین فدیہ لے کر انہیں آزاد کروانے آئے۔ ان میں سے کئی قیدیوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا اور ایسے تمام قیدیوں کو رسول اللہؐ نے فدیہ لیے بغیر آزاد کردیا۔ ( Life of Mahomet; Sir William Muir, Vol.1, page 242. New edition 1877, London)

اپنے صحابہؓ  کی حوصلہ افزائی اور دلداری

ایک بہترین سپہ سالار کی طرح رسول اللہﷺنہایت باریک بینی سے اپنے سپاہیوں کی کارکردگی ملاحظہ فرماتے۔ اور اپنے ساتھیوں کی مناسب رنگ میں حوصلہ افزائی فرماتے رہتے تھے۔

حضرت علینے غزوۂ احد سے واپسی پر اپنی تلوار حضرت فاطمہ کے سپرد کی کہ اسے سنبھال رکھیں کہ آج یہ جنگ میں خوب کام آئی ہے۔ رسول اللہﷺنے سنا تو فرمایا ہاں! اے علی! آج تم نے بھی خوب تلوار زنی کی ہے،مگرعاصم بن ثابت، سہل بن حُنیف، حارث بن صمّہ اور ابودجانہ نے بھی کمال کر دکھایا ہے۔ ( مجمع الزوائد للهیثمي، الجزء ۶، صفحہ ۱۷۸، طبعة بیروت)

دعاؤں پر بھروسہ

نبی کریمﷺکی تمام فتوحات دراصل دعاؤں کا نتیجہ تھیں۔ حضرت علی  کی ایک روایت میں یوں ہے کہ بدر میں کچھ دیر لڑنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ دیکھوں رسول اللہﷺکا کیا حال ہے ؟آکر دیکھا تو آپؐ سجدے میں پڑے ہوئے اپنے مولیٰ کے حضور مسلسل گریہٴ وزاری کررہے تھے۔ یَاحَيُّ یَاقَيُّومُ۔یعنی اے زندہ ہستی خود قائم اور دوسروں کو قائم رکھنے والے!آپؐ یہی پڑھتے جاتے تھے اور اس سے زیادہ کچھ نہ کہتے تھے۔ مَیں پھرجا کر لڑائی میں مشغول ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر حضورﷺ کا خیال آیا اور آپؐ کا پتہ کرنے لوٹا تو آپؐ اسی حالت میں سجدہ میں پڑے خدا کو اس کی صفت حَيُّ وقَيُّومُ کے واسطے دے رہے تھے۔ مَیں پھر میدانِ کارزار میں چلاگیا۔جب تیسری بارواپس لوٹا تو بھی آپؐ کو اسی حالت میں دعا کرتے پایا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی دعاؤں کے طفیل ہمیں فتح عطافرمائی۔ (مجمع الزوائد للهیثمي؛ الجزء ۱۰، صفحہ ۲۲۰، طبعة بیروت)

کامیابی پر حمد

رسول کریمﷺکو جب جنگ میں کامیابی حاصل ہوتی تو بھی کسی بڑائی کے اظہار کی بجائے خدا کی حمد بجالاتے۔ اور اسی کی کبریائی اور عظمت کے نعرے بلند کرتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل کو قتل کرنے اور اس پر آخری وار کرنے کے بعد میں نے نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضرہوکر اطلاع کی کہ ابوجہل ہلاک ہوچکا ہے۔ آپؐ نے اس وقت بھی نعرہ توحید بلند کیا اور فرمایا :کیا اللہ تعالیٰ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟میں نے اثبات میں جواب دیا کہ بے شک اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

احسان کا پاس

غزوات میں رسول اللہﷺکا احسان اور وفا کاخلق بھی بڑی شان سے ظاہر ہوا۔ ایک واقعہ قریش کے مشرک سردار مُطعِم بن عدی کا ہے، جو بنو نوفل کا سردار اورقریش کی سربرآوردہ شخصیات میں سے تھا۔

رسول کریمﷺ کے قبیلہ بنو ہاشم اور مسلمانوں کو شِعب ابی طالب میں محصور کر کے بائیکاٹ کرنے کا جو معاہدہ لکھ کر خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا، اس کو ختم کرانے کی مہم میں مُطعِم نے نمایاں خدمت انجام دی تھی۔ اسی طرح آنحضرتﷺجب مکّہ والوں سے مایوس ہوکر تبلیغ اسلام کے لیے طائف تشریف لے گئے تھے تو عرب کے دستور کے مطابق آپؐ کو مکّہ میں واپس آنے سے پیشتر کسی سردار کی پناہ میں آنا ضروری تھا،جسے جوار یعنی پناہ کہتے تھے۔ رسول اللہﷺنے کئی سرداروں کو پناہ لینے کے لیے پیغام بھیجا، سب نے انکار کیا، مُطعِم بن عدی وہ شریف النفس سردارتھا جس نے رسول اللہﷺکو مکّہ میں دوبارہ داخلے کے لیے اپنی پناہ دی۔ اس کے چاروں بیٹے تلواروں کے سایہ میں رسول اللہﷺکو مکّہ لائے اور آپؐ کو امان دینے کا اعلان کیا۔ افسوس کہ اس منصف مزاج سردار کو اسلام قبول کرنے کی توفیق نہ ملی اور بدر سے پہلے ہی سو سال کے لگ بھگ عمر پاکر وفات پاگیا۔

بدرکی فتح کے بعد جب ستّر مشرکین مکّہ بطور قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے تو نبی کریمﷺاُس وقت بھی مُطعِم بن عدی کا احسان نہیں بھولے اور فرمایا:“اگر آج مُطعِم زندہ ہوتا اوران قیدیوں کو آزاد کرنے کے لیے مجھے سفارش کرتا تو مَیں ان تمام قیدیوں کو اُس کی خاطر آزادکردیتا۔ ‘‘ ( صحيح البخاري، کتاب فرض الخمس، باب ما من النبي ؐ على الأسارى من غير أن يخمس عمدة القاری شرح بخاری للعینی؛ ۲۲، صفحہ ۳۰۷)

جنگ میں سپاہیوں کی مدداور تالیف قلب

حضرت ابو طلحہ بڑے جی دار اور بہادر تھے،زبردست تیر انداز۔ طاقتور ایسے کہ کمان کو زور سے کھینچتے تو ٹوٹ کر رہ جاتی۔ احد میں آپ نے دو یاتین کمانیں توڑ ڈالیں۔ ایسی تیزی سے آپ تیر اندازی کررہے تھے کہ تیر بانٹنے والا جب اپنا ترکش لے کر حضورؐکے پاس سے گذرتا تو آپؐ فرماتے ارے!ابوطلحہؓ کے لیے تیر پھیلا دو۔ ( صحيح البخاري،کتاب المغازي، باب إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا واللّٰه وليهما وعلى اللّٰه فليتوكل المؤمنون)

حضرت سعدؓ بن ابی وقاص بیان فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن رسول کریمﷺنے اپنا ترکش میرے لیے پھیلا دیا تھا۔ آپؐ (میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے) فرماتے تھے کہ “اے سعد! تیر چلاؤ۔ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔‘‘ (صحيح البخاري، کتاب المغازي، باب إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا واللّٰه وليهما وعلى اللّٰه فليتوكل المؤمنون)

غزوہٴ احد میں جب مشرکین پسپا ہورہے تھے تو(ان میں سے) کسی شیطان نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے آواز بدل کر یہ نعرہ لگایا اے اللہ کے بندو! پیچھے پلٹو۔ یعنی پیچھے سے تم پر حملہ ہوگیا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کا اگلا دستہ پیچھے کو پلٹ کر حملہ آور ہوا اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے ایسا الجھ کر رہ گیا کہ اپنے پرائے کی تمیز اور ہوش نہ رہی۔ حضرت حذیفہ نے اچانک دیکھا تو ان کے والد حضرت یمان(جومخلص صحابی تھے) خود مسلمانوں کے نرغے میں، ان کی تلواروں کی زد میں تھے۔ وہ بے چارے چلّاتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرا باپ ہے،یہ میرا باپ ہے! اس کو بچانا۔ ان کی آواز شور میں دب کر رہ گئی اور حضرت حذیفہ کے والد حضرت یمان مسلمانوں کے ہاتھوں ہی احد میں شہید ہوگئے۔ (صحيح البخاري، کتاب المغازي، باب إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا واللّٰه وليهما وعلى اللّٰه فليتوكل المؤمنون)رسول کریمﷺ نے اپنے اس صحابی کی تالیف قلب فرمائی اور ان کے والد کی دیت انہیں دلوائی۔

شجاعت

جنگ احد میں درّہ پر مشرکین کے حملہ سےمسلمانوں کے ستّر افراد شہید ہوئے اور مشرکین فتح کی خوشی مناتے واپس لوٹے اور روحاء مقام پر پہنچے تو ابوسفیان مشرکین مکّہ کو طعنہ دیتے ہوئے کہنے لگا کہ نہ تو تم نے محمدﷺکو قتل کیا،نہ عورتوں کو قید کیا۔ پھراحد کے معرکہ کو فتح کیسے قرار دے سکتے ہو؟ ( مجمع الزوائد للهیثمي، الجزء ۶، صفحہ ۱۷۶، طبعة بیروت)

چنانچہ مشرکین مکّہ نے دوبارہ مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیا۔ رسول کریمﷺکو اس کی خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کہ ہم اہل مکّہ کو مدینہ پر حملہ آور ہونے کا موقع نہ دیں گے، بلکہ آگے جاکر دشمن کا تعاقب کریں گے۔اُحد کی شہادتوں اور وقتی ہزیمت کے بعد یہ فیصلہ اتنا کٹھن تھا کہ اسے سن کر صحابہؓ ایک دفعہ تو سنّاٹے میں آگئے۔ وہ سوچتے ہوںگے کہ زخموں اور غم سے نڈھال ہونے کی حالت میں دشمن کا مقابلہ کیسے کریں گے، تب رسولِ خداﷺکی شجاعت، مردانگی، پختہ عزم توکّل علیٰ اللہ اور قائدانہ صلاحیت کا عجیب نظارہ صحابہؓ نے دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ مَیں دشمن کو مدینہ پر دوبارہ حملہ کا موقع دینا نہیں چاہتااس لیے اُن کے تعاقب کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اگر ایک آدمی بھی میرا ساتھ نہ دے تو مَیں بہر حال دشمن کے پیچھے جاؤں گا اور اس راہ میں اپنی جان بھی فدا کرنی پڑے توکر گزروں گا۔ صحابہؓ نے اپنے سپہ سالارِ اعظم ؐکا یہ حوصلہ دیکھا تو والہانہ لبیک کہتے ہوئے آپؐ کے ہمرکاب ہوکر چل پڑے۔ کئی صحابہؓ زخموں سے چور تھے کہ انہیں اُٹھا کر حمراء الاسد لے جایا گیا۔ کفار کو مسلمانوں کی اس پیش رفت کا پتہ چلا تو وہ مکّہ واپس لوٹ گئے۔ ( سیرة ابن هشام،الجزء ۲، صفحہ ۱۰۱، ۱۰۲، طبعة بیروت)

غزوہٴ احزاب میں خلقِ عظیم

جنگ احد کے بعد جنگ احزاب مسلمانانِ مدینہ کا ایک بہت سخت اور کڑا امتحان تھا۔ جس میں مدینہ سے نکالے گئے یہود بنی نَضیر کے اُکسانے پر قبائل عرب بنو غطفان، بنوسُلیم وغیرہ نے قریش مکّہ کے ساتھ مل کر مدینہ پر اجتماعی حملہ کا خوفناک منصوبہ بنایا۔ رسول اللہﷺنے لشکر کی اطلاع پاکر صحابہؓ سے مشورہ کیا اور حضرت سلمان فارسیکی رائے قبول کرتے ہوئے مدینہ کی حفاظت کے لیے اس کے گرد ایک خندق کھودنے کا فیصلہ ہوا۔

اس نہایت نازک موقع پر رسول اللہﷺکی قائدانہ صلاحیتیں خوب نکھر کر سامنے آئیں۔ہر چندکہ یہ موقع مسلمانوں کی زندگی کے سب سے بڑے خطرے کا تھا۔ قرآن شریف کے بیان کے مطابق ان کی زندگیوں پر ایک زلزلہ طاری تھا اور جانیں حلق تک پہنچی ہوئی تھیں۔ مگر رسولِ خدا تھے کہ سب کے لیے ڈھارس، حوصلے اور سہارے کا موجب تھے۔

پہلے توآپؐ صحابہؓ کے ساتھ مل کر خندق کی کھدائی میں مصروف نظرآتے ہیں۔ کبھی کوئی سخت چٹان حائل ہوجاتی ہے، جو کسی سے نہیں ٹوٹتی تو خود خدا کا رسولؐ وہاں پہنچتا ہے۔ حال یہ ہے کہ فاقہ سے دو پتھر پیٹ پر باندھ رکھے ہیں مگر کدال لےکر تین ضربوں سے پتھر کو ریزہ ریزہ کر چھوڑتے ہیں۔ اس نازک موقع پر بھی خدا کے وعدوں پر ایمان و یقین کا یہ عالم ہے کہ وحی الٰہی کی روشنی میں صحابہؓ کے حوصلے بڑھاتے اور انہیں بتاتے ہیں کہ ہرضرب پر جو اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا گیا تو شام و ایران اور صنعاء و یمن کے محلات مجھے دکھائے گئے اور ان کی چابیاں مجھے عطا کی گئیں۔ (مسند احمد بن حنبل، الجزء ۴، صفحہ ۳۰۳، طبعة القاهرة)

یہ سن کر ان فاقہ کشوں کے حوصلے کتنے بلند ہوئے ہوںگے جنہیں جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔

فتح خیبر میں خلقِ عظیم

مسلمانانِ مدینہ کو جنوب کی سمت سے اہل مکّہ کے حملہ کا خطرہ رہتا تھاتو شمال سے یہودِخیبرکا۔ صلح حُدیبیہ اس طرح فتح خیبر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی کہ مسلمان اس معاہدہ صلح کے باعث اہل مکّہ کے خطرہ سے امن میں آگئے۔ اب اُن کے لیے یہودِ خیبر کے شمالی خطرے سے نبٹناآسان تھا۔ چنانچہ آپؐ نے یہ ہدایت فرمائی کہ حُدیبیہ میں شامل افراد ہی خیبر میں شامل ہوں گے، جو خلوص نیت سے حج اور عمرہ کے ارادہ سے نکلے تھے اوررسول اللہﷺکے ہاتھ پرموت پر بیعت کر کے ہر حال میں آپؐ کی فرمانبرداری کا عہد تازہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کے پاکیزہ ارادوں پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے انہیں ایک فتح قریب کی بشارت بھی عطافرمائی تھی۔ (الفتح :۱۹)

خیبر میں دس ہزار مسلح قلعہ بند یہودیوں کے مقابل پر اپنے لشکر کو محض حُدیبیہ کے چودہ سواصحاب میں محدود کردیناجنگی نقطہ نگاہ سے بظاہر مناسب نظر نہیں آتالیکن آنحضرتﷺکے پیش نظریہ ضابطہٴ اخلاق تھاکہ محض مالِ غنیمت کی نیت سے کوئی شخص ہمارے لشکر میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ (السیرة الحلبیة، الجزء ۳، صفحہ ۱۵۷، طبعة بیروت)

یہ پاکیزہ نمونہ بڑی شان کے ساتھ ہمیشہ اس الزام کی نفی کرتا رہے گا کہ اسلامی جنگوں کا مقصد محض لوٹ مار اور حصول غنیمت تھا۔

صنفِ نازک کی عزت افزائی

قدیم زمانہ میں رواج تھا کہ جنگ میں مردوں کا حوصلہ بڑھانے، رنگ و طرب کی محفلیں سجانے اور دل بہلانے کے لیے عورتیں بھی شریک جنگ ہوتی تھیں لیکن رسول اللہﷺنے عورت کاجو تقدس اور احترام قائم فرمایا اس لحاظ سے آپؐ کو یہ طریق سخت ناپسند تھا۔ خیبر کے موقع پر آنحضرتﷺنے بطورِ خاص کچھ خواتین کو زخمیوں کی مرہم پٹی، تیمارداری اور دیکھ بھال کے لیے ساتھ چلنے کی اجازت فرمائی۔

چنانچہ امیہ بنت ابی الصلت بیان کرتی ہیں کہ بنو غفار کی ایک عورت نے انہیں بتایا کہ میں بنو غفار کی عورتوں کے ساتھ آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ہم نے کہا کہ ہم آپؐ کے ساتھ خیبر کی طرف سفر میں اس غرض سے جانا چاہتی ہیں کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کریں اور جہاں تک ہم میں طاقت ہے مسلمانوں کی مدد کریں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برکت ڈالے۔ چنانچہ ہم آپؐ کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ ( مسند احمد بن حنبل، الجزء ۶، صفحہ ۳۸۰، طبعة القاهرة)

شاید تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی لشکر کے ساتھ عورتیں نرسنگ کی خدمات اور زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے شامل ہوئیں، ورنہ اس سے پہلے جنگ میں عورت سے تحریضِ جنگ اور حظِ نفس کے سواکوئی کام نہیں لیا جاتا تھا۔ عورت سے درست اور جائز خدمات لینے کے بارے میں اب تک کسی نے نہ سوچا تھا کہ میدان جنگ میں تیمارداری اور بیماروں کی دیکھ بھال کی بہترین خدمت عورت انجام دے سکتی ہے۔

خیبر میں حسن سلوک

حضرت عرباض بن ساریہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ غزوۂ خیبر میں شریک تھے۔ حاکمِ خیبر درشت رو اور بے لحاظ انسان تھا۔ (فتح کے بعد) اس نے رسول اللہﷺکے پاس آکر کہا اے محمد ؐ! کیا تم لوگوں کو حق پہنچتاہے کہ ہمارے جانور ذبح کرو،ہمارے پھل کھاؤ اور ہماری عورتوں کو مارو۔ نبی کریمﷺیہ سن کر بہت ناراض ہوئے اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے فرمایا کہ آپؓ گھوڑے پر سوار ہوکر یہ اعلان کریں کہ جنّت میں صرف مومن ہی داخل ہوںگے نیز لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیاجائے۔ جب وہ اکٹھے ہوگئے تو آپؐ نے صحابہؓ سے خطاب فرمایا :کیا تم میں کوئی تکیہ پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ نے سوائے اس کے جو قرآن میں ہےکوئی چیز حرام نہیں کی۔ سنو !مَیں نے بھی کچھ احکام دیے ہیں اور بعض باتوں سے روکا ہے وہ بھی قرآن کی طرح ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جائز نہیں رکھا کہ تم اہل کتاب کے گھر وں میں بلا اجازت داخل ہو۔ نہ ہی ان کی عورتوں کو مارنے کی اجازت دی ہے اورنہ ان کے پھل کھانے کی۔ جب (معاہدہ کے مطابق )وہ تمہیں وہ کچھ دے رہے ہوں جو ان کے ذمہ ہے یعنی جزیہ۔ (سنن ابوداؤد،كتاب الخراج، باب فِى تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ)

فتح مکّہ میں ظاہر ہونے والے خلقِ عظیم

فتح مکّہ کے موقع پر ایک دفعہ پھر رسول کریمﷺکی خلق عظیم پر فائز ہونے کی بے نظیر شان دنیانے دیکھی۔ ہر چند کہ قریش مکّہ نے صلح حُدیبیہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے حلیف بنی خزاعہ پر شب خون مار کر معاہدہ توڑدیا۔ پھربھی رسول اللہﷺقریش سے صلح کی طرح ڈالتے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ آپؐ نے معاہدہ شکنی کرنے والوں کی طرف اپنا سفیر تین شرائط میں سے کسی ایک شرط پر صلح کی پیشکش کے ساتھ بھیجا کہ ہمارے حلیف خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہاادا کردو یا بنو بکر کی طرف داری سے الگ ہوجاؤ یا حُدیبیہ کی صلح توڑنے کا اعلان کردو۔ مسلمانوں کے اس سفیر کو جواب ملا کہ ہم حُدیبیہ کی صلح توڑتے ہیں۔ (شرح الزرقاني علی المواهب اللدنية؛ الجزء ۲، صفحہ ۲۹۲، طبعة بیروت. كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال؛ الجزء ۱۰، صفحہ ۵۲۴-۵۲۶، طبعة مصر)

افشائے راز کا خطرہ اور شفقت بے پایاں

فتح مکہ کے موقع پرلشکر اسلام کی خاموش تیاری کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس سے مکّے پرچڑھائی کا راز کھل جانے کا سخت خطرہ پیداہوگیا۔ ہوا یوں کہ ایک صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے مکّہ جانےوالی ایک عورت کے ذریعے قریش کو خط لکھ کر یہ اطلاع بھجوادی کہ آنحضرتﷺکا لشکر تیار ہے۔ یہ معلوم نہیں کہاں کا قصد ہے مگر تم اپنا بچاؤ کرلو۔ میرا مقصد اس خط سے تم پر ایک احسان کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی رسول اللہﷺکو اس مخبری کی اطلاع کردی۔ آپؐ نے گھوڑ سواروں کا ایک دستہ حضرت علی  کے ساتھ اس عورت کے تعاقب میں بھیجاجو یہ خط واپس لے آئے۔ رسول کریمﷺنے حاطب  کو بلا کر پوچھا تم نے یہ کیاکیا؟ حاطب نے سچ سچ کہہ دیا کہ یا رسول اللہﷺ!مَیں قریش میں سے نہیں ہوں مگر اس خط کے ذریعے میں قریش پر احسان کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ مکّے میں میرے گھر بار کی حفاظت کریں۔ حضرت عمرؓ اس مجلس میں موجود ہیں وہ کہنے لگے۔ یارسول اللہﷺ!مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ مگر جانتے ہووہ رحیم و کریم رسول کیا خوب جواب دیتے ہیں کہ نہیں نہیں! حاطب سچ کہتا ہے۔اسے کچھ نہ کہو۔ حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ!اس نے مومنوں کے ساتھ خیانت کی ہے مجھے اس کی گردن مارنے دیجیے۔ ( صحيح البخاري، کتاب المغازي، باب غزوة الفتح)

حضرت رسول کریمﷺنے ایک طرف عمر کی سختی پر تحمل سے کام لیا تو دوسری طرف حاطب کی معافی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:عمر! تم جانتے نہیں یہ شخص جنگ بدر میں شامل ہوا تھا اور عرش کا خدا جو اصحاب بدر کے حالات سے خوب واقف ہے اور ان کے حق میں فرماتا ہے اِعْمَلُوْا مَاشِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَکُمُ الْجَنَّةُ کہ جو چاہو کرو تمہارے لیے جنّت واجب ہوچکی ہے۔ (صحيح البخاري، کتاب المغازي، باب غزوة الفتح)یعنی اللہ تعالیٰ نے بدریوں کے دلوں میں گناہ کی ایسی نفرت ڈال دی ہے کہ بالارادہ ان سے کوئی گناہ نہیں ہوسکتا۔

اس رؤف و رحیم رسول کی شفقت بے پایاں کا یہ حیرت انگیز نظارہ دیکھ کرحضرت عمربے اختیار رونے لگے۔ ان کی حیرانی بجاتھی کہ اپنی زندگی کے اہم نازک ترین اور تاریخ ساز موڑ پر توکوئی بھی فاتح اپنے مقصد کی راہ میں حائل ہونے والی کسی بھی روک کو قطعاً برداشت نہیں کیا کرتا۔ ایسے مواقع پر تو سابقہ خدمات کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی اور آئندہ خطرے سے بچنے کے لیے کم ازکم احتیاط یہ سمجھی جاتی ہے کہ ایسے قومی مجرم کو زیر حراست رکھا جائے، لیکن دیکھو اس دربار عفو و کرم کی شان دیکھو جس سے حاطب کے لیے بھی مکمل معافی کا اعلان جاری ہوا۔

حیرت ناک حکمت عملی

مرّالظہران کے وسیع میدان میں رسول کریمﷺنے خداداد فراست کو کام میں لاتے ہوئے جنگی حکمت عملی کا ایک حیرت انگیز منصوبہ بنایا۔ آپؐ نے صحابہؓ  کو حکم دیا کہ وہ مختلف ٹیلوں پر بکھر جائیں اور ہر شخص آگ کا ایک الاؤ روشن کرے۔ اس طرح اس رات دس ہزار آگیں روشن ہوکر مرّالظہران کے ٹیلوں پر ایک پر شکوہ اور ہیبت ناک منظر پیش کرنے لگیں۔ (صحيح البخاري، کتاب المغازی، باب أين ركز النبيؐ الراية يوم الفتح)

عربوں کے دستور کے مطابق لشکر کے دس آدمیوں کی ایک ٹولی اپنی آگ روشن کرتی تھی۔ اب یہاں دس ہزار لشکر کے اتنے ہی آگ کے الاؤ مسلمانوں کے لشکر کی اصل تعداد کوکہیں زیادہ ظاہر کررہے تھے۔

ابو سفیان کو معافی

اُدھر ابو سفیان اور اس کے ساتھی سردار رات کو شہر مکّہ کی گشت پر نکلے تو یہ ان گنت روشنیاں دیکھ کر واقعی حیران و ششدر رہ گئے۔ ابو سفیان کہنے لگا خدا کی قسم !مَیں نے آج تک اتنا بڑا لشکر اور آگیں نہیں دیکھیں۔ وہ ابھی یہ اندازے ہی لگا رہے تھے کہ اتنا بڑا لشکر کس قبیلے کا ہوسکتا ہے؟ کہ حضرت عمر کی سرکردگی میں مسلمانوں کے گشتی دستے نے ان کو پکڑ لیا اور آنحضرتﷺکی خدمت میں پیش کیا۔ اس موقع پرحضرت عمرنے دشمن اسلام ابو سفیان کو قتل کرنا چاہا لیکن آنحضرتﷺتو اس کے لیے پہلے امن کا اعلان کر چکے تھے کہ ابو سفیان بن حرب کسی کو ملے تو اسے کچھ نہ کہا جائے۔ (سیرة ابن هشام، الجزء ۲، صفحہ ۴۰۱، طبعة بیروت)

چنانچہ حضرت عباسنے ابو سفیان کو پناہ دی۔ صبح جب ابو سفیان دوبارہ آپؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا:“ابو سفیان! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم گواہی دو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔”تب ابوسفیان نے بے ساختہ یہ گواہی دی کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان آپؐ نہایت حلیم، شریف اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ اگر خدا کے سوا کوئی اور معبود ہوتاوہ ضرور ہماری مدد کرتا البتہ آپؐ کی رسالت کے قبول کرنے میں ابھی کچھ تامّل ہے۔( سیرة ابن هشام؛ الجزء ۲، صفحہ ۴۰۱، طبعة بیروت)

حضرت عباسکوارشادِ رسول ہوا کہ جب اسلامی لشکرمکّہ کی جانب روانہ ہو تو ابو سفیان کو کسی بلندجگہ سے لشکر کی شان و شوکت کا نظارہ کرایا جائے، شایدیہ دنیا دار شخص اس سے مرعوب ہوکر حق قبول کر لے۔ دس ہزار قدوسیوں کا لشکر چلا، ہر امیرِ فوج جھنڈا بلند کیے دستہ کے آگے تھا۔ انصاری سردار سعد بن عُبادہ اپنادستہ لےکر ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو جوش میں آکرکہہ گئے۔

اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَلْحَمَةِ

اَلْیَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْکَعْبَةُ

آج جنگ و جدال کا دن ہے آج کعبہ کی عظمت قائم کرنے کا دن ہے۔(صحيح البخاري، کتاب المغازي، باب أين ركز النبيؐ الراية يوم الفتح)

نبی کریمﷺ نے اپنے اس کمانڈر کوجو ایک طاقتورقبائلی سردارتھا معزول کردیا کہ اس نے حرمت کعبہ کے بارے میں ایک ناحق بات کیوں کہہ دی اور ابو سفیان کا دل بھی دُکھایا۔ ہاں! اس دشمن اسلام ابو سفیان کا جو مفتوح ہو کر بھی ابھی آپؐ کی رسالت قبول کرنے میں متامل تھا۔ اے دنیا والو! دیکھو اس عظیم رسول کے حوصلے تو دیکھو، عین حالت جنگ میں جرنیلوں کی معزولی کے تمام خطروں سے آگاہ ہوتے ہوئے یہ فیصلہ سناتے ہیں کہ سعدسے اسلامی جھنڈا واپس لے لیا جائے۔ ( سیرة ابن هشام؛ الجزء ۲، صفحہ ۴۰۶، طبعة بیروت)

مگر ہاں اس محسنِ اعظم کے احسان پر بھی تو نظر کرو کہ غیرت اسلام کے جوش میں سر شار ایسا نعرہ بلند کرنے والے جرنیل سعد کا بھی آپؐ کس قدر لحاظ رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی دوسرا حکم یہ صادر فرماتے ہیں کہ سعد کی بجائے سالارِ فوج ان کے بیٹے قیس بن سعد کو مقرر کیا جاتا ہے۔ (السیرة الحلبیة، الجزء ۳، صفحہ ۲۶۸، طبعة بیروت)

کیا جنگوں کی ہنگامہ خیزیوں میں بھی کبھی اپنے خدام کے جذبات کا ایسا خیال رکھاجاتاہے؟ نہیں نہیں یہ صرف اس رحمةللعالمینؐ کا ہی خلقِ عظیم تھا جو سزا میں بھی رحمت و شفقت اور احسان کا پہلو نکال لیتے تھے۔

فتح مکّہ۔ عظمتِ اخلاق کا بلند ترین مینار

فاتحین عالم کے اس دستور سے کون ناواقف ہوگا کہ شہروں میں داخلے کے وقت آبادیوں کو ویران اور ان کے معزز مکینوں کوبے عزت اور ذلیل کردیا جاتا ہے، لیکن رحمةللعالمینﷺکی زندگی کی عظیم ترین فتح کو بھی تو دیکھو جہاں آپؐ کی عظمتِ اخلاق کا سب سے بلند اور روشن ترین مینار ایستادہ ہے۔

جب دس ہزار قدوسیوں کا لشکر مکّہ کے چاروں اطراف سے شہر میں داخل ہوا تو قتل و غارت کا بازار گرم ہوا نہ قتل عام کی گرم بازاری بلکہ امن و سلامتی کے شہنشاہ کی طرف سے یہ فرمان شاہی جاری ہوا کہ “آج مسجد حرام میں داخل ہونےوالے ہر شخص کو امان دی جاتی ہے۔ امان دی جاتی ہے ہر اس شخص کو جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے یا اپنے ہتھیار پھینک دے اپنا دروازہ بند کر لے اور ہاں جو شخص ابو رویحہؓ (جسے آپؐ نے خود بلالؓ کا بھائی بنایا تھا) کے جھنڈے کے نیچے آجائے اسے بھی امان دی جاتی ہے۔ ” (سیرة ابن هشام؛ الجزء ۲، صفحہ ۴۰۱، طبعة بیروت. السیرة الحلبیة؛ الجزء ۳، صفحہ ۲۶۵، طبعة بیروت)

حضرت بلالؓ کے جذبات کا خیال

اس فتح کے موقع پر آنحضورﷺ کا حضرت بلالؓ کےدینی بھائی ابو رویحہؓ کےجھنڈے کو امن کا نشان قرار دینا بھی علم النفس کے لحاظ سے آپؐ کے اخلاق فاضلہ کی زبردست مثال ہے، ایک وقت تھا جب مکّے کے لوگ بلالؓ کو سخت اذیتیں دیا کرتے تھے اور مکّے کی گلیاں بلالکے لیے ظلم و تشدّد کی آماجگاہ تھیں۔ رسول کریمﷺنے سوچا آج بلالؓ کا دل انتقام کی طرف مائل ہوتا ہوگا، اس وفا دار ساتھی کا انتقام لینا بھی ضروری ہے۔ لیکن ہمارا انتقام بھی اسلام کی شان کے مطابق ہونا چاہیے مگر آپؐ نے گردنیں کاٹ کر بلالؓ کا انتقام نہیں لیا بلکہ بلال جو کبھی مکّہ کی گلیوں میں ذلت اور اذیت کا نشان رہ چکا تھا۔(السیرة الحلبیة، الجزء ۳، صفحہ ۱۱۶، طبعة بیروت. سیرة ابن هشام، الجزء ۱، صفحہ ۳۱۷ و ۵۰۴، طبعة بیروت)کیسا شاندار یہ بدلہ تھا اور کیساحسین یہ انتقام تھا۔ جب بلالؓ بلند آواز سے یہ اعلان کرتا ہو گا کہ اے مکّہ والو! آؤ میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو جاؤ تمہیں امن دیا جائے گا تو اُس کا دل خود ہی انتقام کے جذبات سے خالی ہوتا جاتا ہو گا اور اُس نے محسوس کر لیا ہوگا کہ جو انتقام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تجویز کیا ہے اس سے زیادہ شاندار اور اس سے زیادہ حسین انتقام میرے لیے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ (دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ ۲۱۲-۲۱۳۔ السیرة الحلبیة، الجزء ۳، صفحہ ۱۱۶، طبعة بیروت)

یہ کتنا بڑا فخرہے جو آنحضرتﷺنے اس غلام کو بخشا کہ اس پر ظلم کرنے والے اس کی پناہ میں آنے سے بخشے جائیں گے۔ یہ پاک نمونہ بلا شبہ شرفِ انسانی کے قیام کی زبردست علمی شہادت ہے۔

فتح مکّہ پر عجزو انکسار کا عجیب منظر

ہمارے سیدو مولیٰﷺکے شہر میں داخل ہونے کا منظر بھی دیکھنے کے لائق تھا۔ شہر کا شہر اس عظیم فاتح کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بےتاب اورمنتظرتھا۔ اہل شہر سوچتے ہوںگے کہ فاتح مکّہ آج فخر سے سر اونچا کیے شہر میں داخل ہوگا لیکن جب محمد مصطفیٰﷺکی شاہی سواری آئی تو وہاں کچھ اَور ہی منظر تھا۔رب جلیل کایہ پہلوان حفاظتی خود کے اوپرسیاہ رنگ کا عمامہ پہنے اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھا اور سرخ رنگ کی یمنی چادر پہلو پر تھی۔ سواری پر پیچھے اپنے وفادار غلام زیدکے بیٹے اسامہ کو بٹھایا ہوا تھا۔ دائیں جانب ایک وفادار ساتھی حضرت ابوبکر تھے اور بائیں جانب حضرت بلال  اور اُسید بن حضیرانصاری سردار تھے۔( السیرة الحلبیة، الجزء ۳، صفحہ ۲۷۴، طبعة بیروت)

فتح مکّہ کے دن امن کے اعلانِ عام کی خاطررسولِ خدا نے سفید جھنڈا لہرایا جب کہ بالعموم آپؐ کا جھنڈا سیاہ رنگ کا ہوا کرتا تھا۔ مکّہ میں داخلہ کے وقت رسول اللہﷺسورة الفتح کی آیات تلاوت فرمارہے تھے اور آپؐ کی سواری شہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ (السیرة الحلبیة، الجزء ۳، صفحہ ۱۲۲ و۱۲۳، طبعة بیروت) پھروہ موڑ آیا جس سے مکّہ میں داخل ہوتے ہیں وہی موڑ، جہاں آٹھ سال پہلے مکّہ سے نکلتے ہوئے آپؐ نے وطن عزیز پر آخری نگاہ کرتے ہوئے اسے اس طرح الوداع کہا تھا کہ“اے مکّہ! تُو میرا پیارا وطن تھا اگر تیری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز نہ نکلتا۔” ( سنن الترمذي، كتاب المناقب عن رسول اللّٰه، باب في فضل مكة)

اس موقع پر مفتوح قوم نے ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی فتح کے دن غرور اور تکبر کے کسی اظہار کی بجائے خدا کے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ کر اس عظیم فاتح کا سر عجزوانکسار اور شکر کے ساتھ جھک رہا تھا حتّٰی کہ جھکتے جھکتے وہ اونٹنی کے پالان کو چھونے لگا دراصل آپؐ سجدہٴ شکر بجالا رہے تھے اور یہ فقرہ زبان پر تھا: اَللّٰھُمَّ لَاعَیْشَ اِلَّاعَیْشَ الْآخِرَةِ کہ اے اللہ! اصل زندگی تو آخرت کی ہے۔ دنیا کی فتوحات کی کیا حقیقت ہے۔ (سیرة ابن هشام، الجزء ۱، صفحہ ۴۹۵، طبعة بیروت)

خانہ کعبہ میں آپؐ نے دوستونوں کے درمیان دو نفل ادا فرمائے پھر باہر تشریف لا کر بیت اللہ کے دروازے اور حجراسود کے درمیان دو نفل ادا کیے پھر اندر تشریف لے گئے اور کافی دیر کھڑے دعا کرتے رہے حتّٰی کہ خانہ کعبہ کے ہر کونے میں کھڑے ہوکر آپؐ نے دعا کی۔ (السیرة الحلبیة، الجزء ۳، صفحہ ۱۲۶، طبعة بیروت)

فتح مکّہ میں جانی دشمنوں سے عفو

حضورﷺطواف سے فارغ ہوکر جب باب کعبہ کے پاس تشریف لائے تو آپؐ کے تمام جانی دشمن آپؐ کے سامنے تھے۔ آپؐ نے اس جگہ وہ عظیم الشان تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر آپؐ نے فرمایا:“اے مکّہ والو! اب تم خود ہی بتاؤ مَیں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟” یہاں ذرا ٹھہریے اور دیکھیے رسول کریمﷺکن لوگوں سے مخاطب تھے؟ ان خون کے پیاسوں سے جن کے ہاتھ گذشتہ بیس سال سے مسلمانوں کے خون سے لالہ رنگ تھے۔ ہاں! مسلمان غلاموں کو مکّہ کی گلیوں میں گھسیٹنے والے، مسلمان عورتوں کو بےدردی سے ہلاک کرنے والے، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے والے اور خود ہمارے آقا و مولیٰ کو تین سال تک ایک گھاٹی میں قید کر کے اذیتیں دینے والے، مسلمانوں پر حملہ آور ہوکر ان کی نعشوں کا مُثلہ کرنے والے، آپؐ کے چچا حمزہ  کا کلیجہ چبانے والے،آپؐ کی صاحبزادی زینب پر حملہ کر کے حمل ساقط کرنے والے، لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہیں کس سلوک کی توقع ہے تو کہتے ہیں:آپؐ جوچاہیں کرسکتے ہیں مگر آپؐ جیسے کریم انسان سے ہمیں نیک سلوک کی ہی امید ہے اس سلوک کی جو حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اِذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ کہ جاؤ تم سب آزاد ہو صرف میں خود تمہیں معاف نہیں کرتا ہوں بلکہ اپنے رب سے بھی تمہارے لئے عفو کا طلب گار ہوں۔( السیرة الحلبیة، الجزء ۳، صفحہ ۱۴۱، طبعة بیروت)

نفس پر فتح حاصل کرنے کا دن

مشہور مستشرق سٹینلےلین پول (Stanley Lane Poole) لکھتا ہے کہ اب وقت تھا کہ پیغمبر ( صلی اللہ علیہ وسلم) خونخوار فطرت کا اظہار کرتے۔ آپؐ کے قدیم ایذا دہندے آپؐ کے قدموں میں آن پڑے ہیں۔ کیا آپؐ اس وقت بےرحمی اور بیدردی سے ان کو پامال کریں گے۔ سخت عذاب میں گرفتار کریں گے یا ان سے انتقام لیں گے ؟ یہ وقت اس شخص کے اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہونے کا ہے۔ اس وقت ہم ایسے مظالم کے پیش آنے کی توقع کرسکتے ہیں جن کے سننے سے رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور جن کا خیال کر کے اگر ہم پہلے سے نفرین و ملامت کا شور مچائیں تو بجا ہے مگر یہ کیا ماجرا ہے کیا بازاروں میں کوئی خونریزی نہیں ہوئی؟ہزاروں مقتولوں کی لاشیں کہاں ہیں؟ واقعات سخت بیدرد ہوتے ہیں، کسی کی رعایت نہیں کرتے اور یہ ایک واقعی بات ہے کہ جس دن محمدﷺکو اپنے دشمنوں پر فتح حاصل ہوئی وہی دن آپؐ کی اپنے نفس پر فتح حاصل کرنے کا دن تھا۔ قریش نے سال ہا سال تک جوکچھ رنج اور صدمے دیے تھے اور بے رحمانہ تحقیر و تذلیل کی مصیبت آپؐ پر ڈالی تھی۔ آپؐ نے کشادہ دلی کے ساتھ ان تمام باتوں سے در گذر کی اور مکّہ کے تمام باشندوں کو ایک عام معافی نامہ دے دیا۔ (Selection From the Kuran, Stanley Lane Poole; p 67. London 1879)

لیا ظلم کا عفو سے انتقام

عَلَیْکَ الصَّلٰوةُ عَلَیْکَ السَّلَام

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى محمّد وَعَلٰى آلِ محمّد كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى محمّد وَعَلٰى آلِ محمّد كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: عقل مندی و حاضر دماغی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button