متفرق مضامین

حکایات ایثار و قربانی

(ولید احمد۔ متخصص تاریخ و سیرت جامعہ احمدیہ جرمنی)

(غزوات اور سرایا میں صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بے مثال قربانیاں)

’’انہوں نے کبھی اس بات کی پروا بھی نہیں کی کہ بیوی بیوہ ہو جائے گی یا بچے یتیم رہ جائیں گے بلکہ وہ ہمیشہ اسی آرزو میں رہے کہ خدا کی راہ میں ہماری زندگیاں قربان ہوں ‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

خوشی اور غم زندگی کے دو پہلو ہیں، اور ان میں سے ہر ایک ہی ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ خوشی شکر گزار ہونا سکھاتی ہے، اور غم صبر کا سبق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو یہ دونوں کیفیات اس لیے مہیا کی ہوئی ہیں کہ یہ ہمیں نہ صرف زندگی گزارنے کے سلیقے اور اسلوب سکھاتی ہیں، بلکہ یہ زندگی کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے بنیاد کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔ اگر ہم ایک لمحے کے لیےکسی ایسے معاشرے کا تصوّر کریں جس میں ہر انسان آزاد ہو، خوش ہو، مال و دولت کی فراوانی ہو، کسی قسم کا غم فکر پریشانی کا تصوّر بھی موجود نہ ہو، کوئی خوف، کوئی بیماری، کوئی دکھ موجود نہ ہو تو دوسرے ہی لمحے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسے حالات میں دنیا کے معاملات کس طرح چلیں گے۔ کوئی بھی شخص کیونکراپنے آرام دہ گھر اور بستر کو چھوڑ کر کسی کام، کسی پیشے، کسی علم کو سیکھنے کے لیےباہر نکلے گا کیونکہ یہ غم دوراں کے معاملات ہی تو ہیں جو انسانوں کوخوب سے خوب ترکی تلاش میں باہر نکلنے پر مجبور کرتے ہیں، خوشیوں کو غموں میں اور تکلیفوں کو آسانیوں میں بدلنے کی جدوجہد پر آمادہ کرتے ہیں اور اسی کا نام زندگی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: انسان انسان کی حیثیت سے کسی نہ کسی دکھ اور تردّد میں ہوتا ہے مگر جس قدر قربِ الٰہی حاصل کرتا جاتا ہے اور تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللّٰهِ سے رنگین ہوتا جاتا ہے اسی قدر اصل سکھ اور آرام پاتا ہے۔ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۲،۲۱،ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

پس حقیقی سکھ اور آرام انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب کے نتیجے میں ہی حاصل ہوا کرتا ہے اور اس کے لیےضروری ہے کہ ایک دانا انسان اللہ تعالیٰ کے احسانات ملنے پر اس کا شکر ادا کرے اور اس کے فضلوں پر خوش ہو لیکن جب بھی کوئی تکلیف آئے تو ابتلاؤں کے وقت بھی وہ ہر قربانی دینے کے لیےتیار رہے۔ تاریخ کے اوراق میں قربانی، صبر اور استقامت کی سب سے روشن مثالیں اگر کسی زمانہ میں تلاش کی جا سکتی ہیں تو ان کے کامل ترین نمونے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺ اور آپﷺ کے جاں نثار صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک زندگیوں میں نظر آتے ہیں۔ یہ وہ پاک وجود تھے جنہوں نے اپنی ہر خواہش کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دیا تھا۔ ان کی ہر خوشی خدا تعالیٰ کی حمد و ثنا سے ہو کر گزرتی تھی اور ہر غم اللہ تعالیٰ ہی کے آستانے پر جھکنے اور اس سے مدد مانگنے پر منتج ہوتا تھا۔

مکہ میں جب ان اصحاب رسولﷺ نے اسلام قبول کیا تو ان پر مخالفین کی طرف سے گویا ظلم کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ کون کون سے مظالم اور دکھ تھے جو ان وجودوں پر نہیں ڈھائے گئے۔ حضرت بلالؓ کو مکہ کی تپتی ریت پر لٹا کر ان کے سینے پر بھاری گرم پتھر رکھے جاتے، حضرت خبابؓ کو دہکتے انگاروں پر گھسیٹا جاتا اور آلِ یاسر کو نہایت بے دردی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ مگر ان تمام مصائب پر آپﷺ انہیں صبر کی تلقین فرماتے اور جنت کی عظیم بشارت دیتے۔

یہ ابتلا اس قدر شدید تھے کہ بعض اصحابؓ نے آنحضرتﷺ کو دشمن سے مقابلہ کرنے کا مشورہ بھی دیا لیکن آنحضرتﷺ نے اس شدید ظلم کے باوجود بھی یہی کہا کہ مجھے تو صرف عفو کرنے کا حکم ملا ہے، لڑائی کرنے کا حکم تو نہیں ملا۔ اسلام کی اس پر امن تعلیم کے باوجود آپﷺ کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ تھا کہ یہ ظلم واقعی بہت شدت اختیار کر چکا ہےاور انسانی استطاعت اور برداشت سے باہر ہوتا جارہا ہے۔

پس ان حالات میں جبکہ کفار کے مظالم اپنی انتہا کو پہنچ گئے نبی کریمﷺ نے عام مسلمانوں کو دین کی خاطر ہجرت کرجانے کا حکم بھی دے دیا اور کچھ صحابہؓ ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں جا کر آباد بھی ہوگئے جہاں رسول کریمﷺ نے بھی بعد ازہجرت رہائش اختیار کرنی تھی۔

مظالم کی آندھیوں سے گزرتے ہوئے ۱۳؍سال بیت گئے اور اہل مکہ کی ناانصافیاں اور ظلم بڑھتے چلے گئے تو بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریمﷺ کو بھی مدینہ ہجرت کرنے کا حکم ملا اور یوں اسلام کا مرکز مدینہ میں قائم ہوگیا۔ ہجرت کے بعد گو ابتدا میں تو ایسا محسوس ہوا کہ اب مسلمانوں کی مشکلات ختم ہوچکی ہیں اور انہیں امن و سکون نصیب ہوگیا ہے لیکن دشمنانِ اسلام ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے والے تو نہ تھے۔ مسلمانوں کو امن کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ میں آباد ہوتے ہوئے دیکھنا ان کے غیض و غضب کو مزید بھڑکا رہا تھا اور اب معاملہ انفرادی دشمنی کی بجائے اجتماعی حملوں میں تبدیل ہونے والا تھا۔ اب وہ مدینہ پر حملہ کرنے کی سازشیں کر رہے تھے اور اسلام کی ابھرتی ہوئی قوت کو مٹانے کے درپے تھے۔ان کی خواہش تھی کہ ایک ہی مرتبہ حملہ کر کے اسلام کا نام و نشان مٹا دیا جائے اور مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیا جائے۔ ایسے میں مسلمانوں کے لیےاپنے دین و ایمان کی حفاظت اور اپنے گھروں اور خاندانوں کے دفاع کے لیےاس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ دشمنوں کے خلاف نبرد آزما ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کے دو سال بعد انہیں دفاع کرنے کی اجازت عطا ہوئی، اور یوں ان پاک وجودوں کی دلیری بہادری، بے مثال قربانیوں، ایثار اور جاںنثاری کا وہ عظیم باب شروع ہوا جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں بہت کم ملتی ہے۔ میدانِ بدر، اُحد، خندق اور دیگر معرکوں میں صحابۂ کرامؓ نے جس اخلاص، بہادری اور فدائیت کا مظاہرہ کیا، وہ رہتی دنیا تک ایمان والوں کے لیے مشعلِ راہ بنا رہے گا۔

قرآن کریم مومنین پر آنے والے پانچ قسم کے ابتلاؤں کا ذکر کرتا ہے اور اس مضمون میں اِنہیں ابتلاؤں کے حوالے سے اسلامی جنگوں کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ان غزوات اور سرایا میں صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کون کونسی بے مثال قربانیاں پیش فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ۔ (البقرہ : ۱۵۶) اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے۔

پس مومنوں کو ان تمام حالتوں کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا گیا اور وہ ہر ایک امتحان سے کامیاب و کامران اور سرخرو ہو کر باہر نکلے۔

خوف کی حالت

جنگ اپنے ساتھ تباہی، خوف و ہِراس اور بے شمار تکالیف لے کر آتی ہے۔ کوئی بھی فہم و ادراک رکھنے والا شخص جنگ کا خواہشمند نہیں ہوا کرتا۔ اور یہ ایک فطری بات ہے کہ جنگ کا نام سن کر ہی دلوں میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا کہ مسلمان گو مکہ کے مظالم سے نکل کر مدینہ میں پناہ گزیں ہوچکے تھے مگر مشرکین کی طرف سے ملنے والی خبروں اور ان کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے ہر لمحہ یہ اندیشہ اور خوف موجود رہتا تھا کہ کفار مکہ کسی بھی وقت حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ جنگ کی ان آزمائشوں میں خوف کا ایک پہلو تو ضرور موجود تھا لیکن جب کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو جنگ کے میدانوں میں للکارا تو اللہ تعالیٰ نے بھی مومنوں کو کفار کے مقابل پر دفاع کرنے اور جنگ کے لیےنکلنے کی اجازت عطا فرما دی۔ ایسی حالت میں ان بظاہر کمزور نظر آنے والے وجودوں نے اپنے ایمان کی قوت سے اس خوف پر قابو پاتے ہوئے غیر معمولی جواں مردی اور ایسی ثابت قدمی کے نمو نے دکھلائے جن کی مثال تاریخ عالم میں بہت کم دکھائی دیتی ہے۔

سنہ ۲ ہجری میں میدان بدر سے بس کچھ ہی فاصلہ پر مسلمان لشکر کو اطلاع موصول ہوئی کہ مکہ سے ایک بڑا لشکر حملہ کے لیےآرہا ہے۔ رسول اللہﷺ نے مشورہ کے لیے اصحابؓ کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا آپؐ جو بھی ہمیں حکم دیں، ہم تو ہر خدمت، ہر قربانی کے لیےتیار ہیں۔ حضرت مقداد بن اسودؓ نے کہا : یا رسول اللہؐ! آپؐ جہاں جائیں گے ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی، آگے بھی اور پیچھے بھی۔ اسی طرح انصار مدینہ میں سے حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی یہی عرض کیا کہ آپؐ جہاں چلیں گے، ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ اگر آپ ہمیں ابھی سمندر میں بھی کود جانے کو کہیں گے تو ہم کود جائیں گے اور آپ ہمیں میدانِ جنگ میں ثابت قدم پائیں گے۔ اور یہ جوش اور بہادری محض الفاظ تک ہی محدود نہ تھی بلکہ ان اصحابؓ نے جنگ کے دوران اپنے عمل سے بھی اعلیٰ قربانیوں کا نمونہ پیش فرمایا۔ اور بدر کے میدان کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے باوجود کم تعداد اور وسائل کے محض اللہ کے سہارے ایک بڑے لشکر کو پچھاڑ کر رکھ دیا اور مشرکین کے بڑے بڑے سردار اس جنگ میں ہلاک ہو گئے۔ (تلخیص از سیرت خاتم النبیین صفحات ۴۰۱-۴۰۲، ۴۱۲)

جنگ بدر کے معرکے نے جہاں ایک طرف مشرکین کی کمر توڑ دی تھی وہیں دوسری جانب ان کے غیظ و غضب میں اور بھی اضافہ ہو گیا تھا کیونکہ مکہ کے ہر ایک گھر میں اس جنگ کے نتیجے میں ماتم کی سی کیفیت طاری تھی۔اس لیےاس عظیم الشان فتح کے بعد بھی مسلمانوں کو مشرکین کی طرف سے دوبارہ حملوں کا خوف موجود رہا اور اس خوف کے باعث کئی راتیں آنحضرتﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ نے جاگتے ہوئے گزاریں۔ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ مشرکین اپنے لاؤ لشکر لے کر پہلے احد اور پھر جنگ خندق کے لیےمسلمانوں کے مقابل پر صف آرا ہو گئے۔ غزوہ احزاب جو سنہ ۵ ہجری میں پیش آیا اس کے لیےدشمنانِ اسلام کا ایک بڑا لشکر مدینہ کے گرد جمع ہوچکا تھا۔ مدینہ کے ایک طرف خندقیں کھودی گئیں جن سے پار کفار مسلسل اس کوشش میں تھے کہ کسی طرح ہم اس خندق کو عبور کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوجائیں اور مسلمانوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیں۔

ایسے نازک وقت میں مدینہ کے مختلف حصوں میں صحابہ و صحابیات کا پہرہ موجود رہا۔ رات کی تاریکی اور شدید سردی بھی ان کے عزم و ہمت کو متزلزل نہیں کرسکی اور وہ اپنے محبوب آقاﷺ کے ساتھ اپنے دین کی حفاظت کے لیےسینہ سپر رہے۔

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ بھی اپنے اصحابؓ کے ساتھ پہرہ دیا کرتے تھے ۔ سردی اس قدر شدید تھی کہ جب آپﷺ تھک جاتے تو واپس بستر پر تشریف لے آتے اور کچھ دیر آرام کے بعد دوبارہ نکل جاتے۔ اس متواتر بے آرامی اور سخت سردی کے باعث ایک دن آپﷺ کے جسم مبارک پر ایسا اثر ہوا کہ آپﷺ نے فرمایا کہ کاش کوئی مخلص صحابی ہوتا تو مَیں کچھ دیر آرام سے سو جاتا۔ اتنے میں باہر سے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی آواز آئی۔ آپؐ نے پوچھا کیسے آئے ہو؟ انہوں نے کہا آپؐ کا پہرہ دینے آیا ہوں۔ آپؐ نے بڑے ہی شفقت بھرے انداز میں فرمایا مجھے پہرے کی ضرورت نہیں۔ تم فلاں جگہ جہاں خندق کا کنارا ٹوٹ گیا ہے جاؤ اور اس کا پہرہ دو تا مسلمان محفوظ رہیں۔ چنانچہ حضرت سعدؓ اس جگہ کا پہرہ دینے چلے گئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے سو گئے۔ (ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحہ ۲۷۹)

اسی جنگ کے دوران آنحضرتﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبد المطلبؓ  کی بہادری کا ایک واقعہ بھی ملتا ہے۔ آپﷺ نے اس جنگ کے دوران مسلمان عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے پیش نظر انہیں فارع نامی قلعہ میں منتقل کردیا تھا اور حضرت حسان بن ثابت ؓکو ان کی نگرانی کے لیےمقرر فرمایا تھا۔ قلعہ کے قریب ہی بنو قریظہ کی آبادی تھی جو ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ میں تو تھے لیکن غزوۂ احزاب کو غنیمت جان کر انہوں نے بھی مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کردی تھیں۔ چنانچہ اس قبیلہ کا ایک شخص اس قلعہ کے متعلق معلومات لینے کی کوشش کرنے لگا جس میں عورتیں اور بچے محفوظ تھے۔ حضرت صفیہ ؓنے حقیقت کو بھانپ لیا اور اسے دیکھتے ہی یہ سمجھ لیا کہ یہ شخص جاسوس ہے۔ حضرت صفیہ ؓنے فوراً حضرت حسان ؓکو مطلع کیا اور کہا کہ فوراً اس جاسوس کو روکا جائے ورنہ وہ خبر عام کردے گا کہ اس قلعہ میں صرف خواتین اور بچے ہیں۔ حضرت حسانؓ نے لڑائی کے خوف سے تامل کا اظہار کیا۔ حضرت صفیہ ؓنے جب حضرت حسانؓ کا یہ رویہ دیکھا تو نہایت بہادری اور بے خوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود ہی اس شخص کا مقابلہ کیا اور تن تنہا اسے مار گرایا۔ یوں آپ نے مسلمان عورتوں اور بچوں کو دشمن کے بد منصوبے سے بچا لیا۔ (تذکار صحابیات۱۶۳۔۱۶۴)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام صحابہ کرامؓ کی قربانیوں کے حوالے سے فرماتے ہیں: ’’کسی دشمن کی دشمنی کی انہیں پروا تک بھی نہ تھی۔ وہ تو خدا تعالیٰ کی راہ میں سب طرح کی تکالیف اٹھانے اور ہر طرح کے دکھ برداشت کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ ‘‘(ملفوظات جلد ۹صفحہ ۳۱۰ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

بھوک کی آزمائش

جنگ کے موقع پر جن چیز وں کی قربانی دینی پڑتی ہے ان میں بھوک بھی شامل ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس آزمائش کے حوالے سے بیان کیا کہ بعض لوگ لڑائی کے لیےتو تیار ہوجاتے ہیں مگر ان سے بھوک برداشت نہیں ہوتی، فوجوں میں سپاہیوں کی بھی یہی حالت ہوا کرتی ہے۔ مگر ذرا صحابہؓ و صحابیاتؓ کے حالات پر غور کریں وہ تو خدا تعالیٰ کی خاطر ہر تکلیف کو برداشت کرنے کے لیےتیار تھے۔

آپؓ فرماتے ہیں:’’مومن کی یہ حالت نہیں ہوتی وہ خدا کے لیےبھوکا رہنے کو بھی تیار ہوجاتا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ ؓکو باہر بھیجا تو ان میں سے کسی نے بھی یہ نہ پوچھا کہ ہم کھائیں گے کیا۔ چنانچہ وہ پتے کھا کر گزارہ کرتے تھے۔ اسی طرح ایک دفعہ انہوں نے کھجوروں کی گٹھلیاں کھا کر گزارہ کیا۔(سنن نسائی کتاب الصید و الذبائح باب میتۃ البحر)۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد ۳ صفحہ ۵۸)

یہ سریہ جس کا حضور نے ذکر فرمایا ہے جیش الخبط کے نام سے مشہور ہے جو ۸ ہجری میں واقع ہوا۔ اس جنگ کے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ کھانے کی قلت کی وجہ سے صحابہ کرام کو پتوں یعنی خبط پر گزارا کرنا پڑا۔ عربی میں خبط کے معانی پتوں کے گرنے کے ہیں۔

غزوۂ احزاب جس کا اوپر ذکر گزر چکا ہے اس میں مسلمانوں کو شدید تنگی اور خوف کے علاوہ بھوک کی قربانی بھی دینی پڑی۔ حضرت جابرؓ اس معرکہ کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں کہ جب ہم دفاع کی غرض سے مدینہ کے گرد خندقیں کھود رہے تھے تو ہم میں سے بہت سے افراد کی کیفیت فقر و فاقہ تک پہنچ گئی۔ رسول کریمﷺ کی بھی یہی حالت تھی یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ آپﷺ نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے یہ حالت دیکھی نہیں گئی اور فوراً میں آپﷺ سے اجازت لے کر گھر گیا اور اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ کیا گھر میں کچھ کھانے کو موجود ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ گھر پر تو معمولی سا کھانا ہے اور ایک بکری ہے۔ حضرت جابر نے کہا ٹھیک ہے، رسول کریمﷺ کے لیےکھانا تیار کردو۔چنانچہ ان کی اہلیہ نے حضرت جابر کے کہنے پر کھانا تو تیار کردیا مگر ساتھ ہی کہا کہ بہت معمولی سا کھانا ہے۔ حضرت جابر آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ گھر پر کچھ کھانا تیار کیا ہے پس آپؐ اپنے دو تین اصحاب کے ساتھ میرے گھر تشریف لے آئیں۔ تب آنحضرتﷺ نے تمام اصحابؓ سے جو وہاں موجود تھے فرمایا کہ اٹھو !ہم جابرکے گھر کھانے کے لیےجارہے ہیں۔ حضرت جابرؓ بڑی پریشان حالت میں واپس اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور بتایا کہ آپﷺ ان تمام اصحاب کے ساتھ آرہے ہیں جو وہاں موجود تھے۔ حضرت جابرؓ کی اہلیہ نے پوچھا کہ کیا آپﷺ نے کھانے کی مقدار کے بارے میں دریافت فرمایا تھا، اس پر حضرت جابرؓ نے کہا کہ ہاں پوچھا تو تھا۔ آپؓ کی اہلیہ نے تسلی دی کہ پھر فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ چنانچہ آپﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف لائے اور اس کھانے میں ایسی برکت پڑی کہ سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور کچھ کھانا بچ بھی گیا اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ باقی جو رہ گئے ہیں انہیں بھی یہ کھانا پہنچا دو کیونکہ وہ بھی شدید بھوک کا شکار ہیں۔ (صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق وھی الاحزاب)

اموال کی قربانی

جنگ کے دیگرامتحانات میں سے ایک مالی بحران بھی ہوا کرتا ہے۔ جنگ میں ہمیشہ دونوں فریقوں کو ہی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ دولت، وسائل اور رسد (provisions) ضائع ہو جاتی ہیں، تجارت متاثر ہوتی ہے، اور معاشی استحکام کمزور پڑ جاتا ہے۔ مہاجر اصحاب تو پہلے ہی اپنا تمام گھر بار چھوڑ کر مکہ سے مدینہ آئے تھے۔ ان کی تمام جائیدادیں جو انہوں نے اور ان کے باپ دادا نے اکٹھی کی تھیں ایک لمحہ میں ان سے چھن گئی تھیں۔ مگر وہ یہ جانتے تھے کہ یہ کوئی معمولی وقت نہیں ہے بلکہ ایک عظیم مقصد کے لیےہم یہ قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور یہ بالآخر ہمارے ہی فائدہ کے لیےہیں۔

یہی نہیں بلکہ ان کی قربانیوں کا تو یہ حال تھا کہ ان اصحاب نے باوجود غربت کے ہمیشہ مختلف تحریکات پر اپنے اموال پیش فرمائے۔ سنہ ۹ ہجری، غزوہ تبوک کے موقع پر جب آنحضرتﷺ نے جنگ کی تیاری کے لیےصحابہ کرامؓ کو مالی قربانی کی تحریک فرمائی تو آپؐ کے اصحاب نے بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش فرمائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کے آدھے حصہ کی قربانی کی تو دوسری طرف حضرت ابو بکرؓ نے سب گھر بار رسول کریمﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ یہ تو بڑے مخلص صحابہ کا نمونہ تھا مگر ان قربانیوں میں غریب مسلمان بھی پیچھے نہ رہے۔ حضرت ابو عقیلؓ ان صحابہ کرام میں سے تھے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تو وہ ساری رات کام کرتے اور جو کچھ اس کام کے عوض ملتا وہ صدقہ کر دیتے۔ چنانچہ بخاری میں آپ کے متعلق آتا ہے کہ حضرت ابو مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں صدقہ کا حکم ہوا تو ہم اس وقت اجرت پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ حضرت ابوعقیلؓ رسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں کل رات بھر دو صاع کھجور کے عوض کنویں سے ڈول کھینچتا رہا ہوں اور اس میں سے ایک صاع میں نے اپنے گھر والوں کے لیےرکھ دیا ہے اور یہ دوسرا صاع آپؐ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ ایک صاع میں تقریباً دو کلو کھجور ہوگی۔ آپ چونکہ غریب تھے اور رات بھر کی محنت سے جو بھی معاوضہ حاصل ہوا تھا اس کا بھی آدھا حصہ خدمت اسلام کے لیےقربان کردیا تھا جو دنیا داروں کے نزدیک بہت معمولی تھا اس لیےمنافقین اس قربانی پر ہنستے اور کہتے کہ کیا اتنی معمولی قربانی کی بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت ہے ؟ لیکن اللہ تعالیٰ جو نہایت ہی قدردان ہے اور اپنے بندوں کی ادنیٰ سی کاوش کو بھی ضائع نہیں کرتا اس نے ہمیشہ کے لیےان کے اس طنز کا جواب قرآن کریم میں درج فرمادیا کہ کیا وہ ان مومنین پر طنز کرتے ہیں جو گو کمزور ہیں محتاج ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے لیےقربانی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اَلَّذِیۡنَ یَلۡمِزُوۡنَ الۡمُطَّوِّعِیۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَالَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ اِلَّا جُہۡدَہُمۡ فَیَسۡخَرُوۡنَ مِنۡہُمۡ۔ (التوبۃ: ۷۹) یعنی یہ منافق ہیں جو مومنوں میں سے خوشی سے بڑھ بڑھ کر صدقے دینے والوں پر طنز کرتے ہیں اور ان پر بھی جو سوائے اپنی محنت کی کمائی کے کوئی طاقت نہیں رکھتے۔ (صحیح البخاری کتاب التفسیر باب الذین یلمزون المطوعین … الخ جلد ۱۰ صفحہ ۳۷۱ حدیث ۴۶۶۸)

اور بالآخر ان قربانیوں کے نتیجے میں ان اصحاب کو کیسا غیر معمولی اجر ملا، اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’آنحضرت کے زمانہ میں ابوبکرؓ وغیرہ کے املاک ہی کیا تھے؟ ایک ایک دو دوسویا کچھ زیادہ روپیہ کسی کے پاس ہو گا مگر اس کا اجر ان کو یہ ملا کہ خدا نے بادشاہ کر دیا اور قیصر و کسریٰ کے وارث ہو گئے۔‘‘ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۱۶۵، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

جان کی قربانی

پھر جنگ کے دوران جانوں کی قربانی بھی پیش کرنا پڑتی ہے،جو بہت ہی عظیم قربانی ہے کیونکہ انسان کے لیےاپنی جان سے بڑھ کر اور کوئی چیز عزیز اور قیمتی نہیں ہوا کرتی۔ لیکن جب ہم صحابہ کے نمونوں کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسولﷺ نے دین کے عظیم مقاصد کے حصول کے لیےاور اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے نہایت اعلیٰ اور بے مثال قربانیوں کے نمونے پیش فرمائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’صحابہ کرامؓ کے حالات کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ گرمی دیکھی نہ سردی اپنی زندگی کوتباہ کردیا نہ عزت کی پروا کی نہ جان کی بکری کی طرح ذبح ہوتے رہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۱۶۴، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

سنہ ۲ ہجری، جنگ بدر کے موقع پر دو مخلص کم عمر صحابہؓ کے واقعہ سے تو ہم سب خوب واقف ہیں۔ جنہوں نے مل کرکفارمکہ کے سردار اور اسلام کے شدید ترین دشمن ابو جہل پر حملہ کر کے اسے ہلاک کیا تھا اور اس حملہ کے نتیجہ میں ان دونوں نوجوانوں معاذؓ اور معوذؓ نے اپنی جان کی قربانی بھی پیش کر دی تھی۔ (تلخیص از سیرت خاتم النبیین صفحہ ۴۱۱)

اسی غزوہ میں ایک صحابی حضرت عمیر بن حمام ؓکی شہادت کا واقعہ بھی مذکور ہے۔ جنگ کے موقع پر جب مشرکین قریب آگئے تو رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ جنت کو پانے کے لیےآگے بڑھو۔ حضرت عمیر ؓاس وقت کھجوریں نکال کر کھا رہے تھے۔ جونہی یہ عظیم بشارت آپؓ کے کانوں میں پڑی آپؓ نے فرمایا کہ اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ کہتے ہی آپؓ نے فوراً کھجوریں پھینکیں اور کفار سے لڑنے کے لیےنکل گئے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپؓ انصار میں سے سب سے پہلے شہید تھے۔(صحیح مسلم كتاب الإمارة حدیث نمبر ۳۵۰۶ )

سنہ ۳ ہجری میں جنگ احد ہوئی جو رسول کریمﷺ کی زندگی کے سخت ترین ایام میں سے ایک دن تھا۔ اس روزمسلمانوں کے ایک گروہ کی غلطی کے باعث دشمن کو دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے مسلمانوں کے لشکر کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف اٹھانا پڑی اور آپؐ بھی زخمی ہوگئے۔ ایسے میں صحابہ و صحابیات کرام نے رسول کریمﷺ کی حفاظت کی خاطر بےلوث قربانیاں پیش فرمائیں۔ حضرت طلحہ ؓسمیت دیگر اصحاب نے اس قدردلیری کا مظاہرہ کیا کہ آپﷺ کی طرف آنے والے تیروں کو اپنے ہاتھوں اور جسموں سے روکتے رہے۔ گویا کہ وہ رسول اکرمﷺ کی حفاظت کے لیےایک مضبوط ڈھال بن گئے۔ آپﷺ نے ایک صحابی حضرت شماس بن عثمانؓ کے بارے میں فرمایا کہ جنگ احد کے دن میں نے انہیں ڈھال کی مانند پایا اور وہ بڑی جانفشانی سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں زخمی حالت میں مدینہ لایا گیا مگر تکلیف اور کمزوری اتنی زیادہ تھی کہ مدینہ پہنچ کر آپ صرف ایک دن زندہ رہے اور ۳۴ سال کی عمر میں شہادت کے عظیم رتبہ پر فائز ہوگئے۔(الطبقات الکبریٰ جلد ۳صفحہ ۱۳۱مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۹۹۶ء)

شہدائے احد کی تعداد کے متعلق اکثر علماء کا اتفاق ہے کہ اس روز کُل ستّر اصحاب شہید ہوئے، جن میں سے چار مہاجرین تھے اور باقی انصار صحابہ تھے۔

قربانیوں کا ثمر

جنگ کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور قربانیوں کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ عمومی طور پر دونوں فریقوں کے لیےجنگ کا نتیجہ نفع بخش نہیں ہوا کرتا۔ جنگ میں مال و دولت کا نقصان ہوتا ہے، وسائل صَرف ہوتے ہیں اور جانوں کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ تاہم صحابہ کرامؓ نے ان ظاہری نتائج کو کبھی بھی اپنی قربانیوں کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ ان کی تمام قربانیاں محض اللہ تعالیٰ کی رضااور اس کے دین کی سربلندی کے لیےتھیں۔ وہ بخوبی اس حقیقت سے آشنا تھے کہ اگر ایک طرف انہوں نے مال، وسائل اور دنیاوی فوائد کی قربانی دی ہے، تو دوسری طرف انہیں ایمان، روحانیت، قربِ الٰہی اور محبتِ خداوندی جیسی عظیم نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔ پس ان کی اخلاص بھری قربانیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق اپنی رضا کا اعلان فرمادیا اور صحابۂ کرامؓ کی ان قربانیوں کا سب سے بڑا ثمر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، روحانی ترقی اور دائمی روحانی کامیابی کا حصول بن گیا۔

ان قربانی کی راہوں پر جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ پوری جواں مردی سے گامزن تھے وہیں عورتیں بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں تھیں۔ مدینے کی عورتوں کے صبر اور رضائے الٰہی کے نمونے کے حوالے سے بھی ایک مثال پیش ہے۔

غزوہ اُحد کے موقع پر مدینہ میں جب یہ افواہ پھیلی کہ آپﷺ شہید ہوگئے ہیں تو دوسری عورتوں کے ساتھ حضرت ہندؓ  بھی گھبرائی ہوئی گھر سے نکلیں۔ صحابہ کرامؓ تعزیت کی غرض سے ان صحابیہ کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ آپ کے خاوند، بھائی اور والد جنگ احد میں شہید کردیے گئے ہیں۔ یقیناً یہ تمام خبریں ہی ایسی تھیں جو کسی مضبوط سے مضبوط انسان کی کمرہمت توڑنے کے لیےکافی تھیں لیکن ان صحابیہ کا عجیب نمونہ تھا کہ جب بھی انہیں ان کے کسی نہایت عزیز رشتےدار کی شہادت کی خبر دی جاتی تو وہ ہر مرتبہ یہ پوچھتیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ رسول کریمﷺ کہاں ہیں ؟ کیا آپؐ خیریت سے ہیں؟ جب لوگوں نے بتایا کہ ہاں الحمدللہ آپؐ ٹھیک ہیں تب بھی اپنے پیاروں کی خبر گیری کرنے کی بجائے انہوں نے بڑے اصرار سے یہ کہا کہ نہیں پہلے مجھے دکھاؤ کہ حضورؐ کہاں ہیں ؟ لوگوں نے جب ان کو رسول کریمﷺ کی طرف اشارہ کر کے دکھایا اور انہوں نے یقین کر لیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے ہیں تو بے اختیار وہ پکار اٹھیں کہ كُلُّ مُصِيبَةٍ بَعْدَكَ جَلَلٌ یعنی اگر آپؐ خیریت سے ہیں تو پھر ہر مصیبت آپﷺ کے بعد معمولی ہے۔ (سیرت ابن ہشام مطبع مصطفیٰ البابی بمصر ۱۹۵۵ جزء ۲ صفحہ ۹۹)

حضرت مصلح موعود ؓان صحابیہ کے حوالے سے فرماتے ہیں: ’’صحابۂ  کرام میں اس بہادری کی مثالیں بہت کثرت سے ملتی ہیں۔ دنیوی لوگوں میں تو کروڑوں لوگوں اور سینکڑوں ملکوں میں سے ایک آدھ ایسی مثال مل سکے گی مگر چند ہزار صحابہ میں سینکڑوں مثالیں ہیں۔ کیسی اعلیٰ درجہ کی وہ مثال ہے جو ایک عورت سے تعلق رکھتی ہے اور جسے میں نے پہلے بھی بار ہا سنایا ہے اور جو اس قابل ہے کہ ہر مجلس میں سنائی جائے اور اس کی یاد کو تازہ رکھا جائے …اس کے تو دل پر بھی کوئی صدمہ نہ تھا اور یہ ایسی شاندار مثال ہے کہ دُنیا کی تاریخ اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کر سکتی اور بتاؤ اگر ایسے لوگوں کے متعلق یہ نہ فرمایا جاتا کہ مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَہٗ تو دُنیا میں اَور کونسی قوم تھی جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جاتے۔ میں جب اس عورت کا واقعہ پڑھتا ہوں تو میرا دل اس کے متعلق ادب اور احترام سے بھر جاتا ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس مقدس عورت کے دامن کو چھوؤں اور پھر اپنے ہاتھ آنکھوں سے لگالوں کہ اس نے میرے محبوب کے لیےاپنی محبت کی ایک بے مثل یادگار چھوڑی ہے۔‘‘ (خطبات محمود جلد ۲۰ صفحہ ۵۴۲۔۵۴۳)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام صحابہ کرام کی عظیم قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’انہوں نے کبھی اس بات کی پروا بھی نہیں کی کہ بیوی بیوہ ہو جائے گی یا بچے یتیم رہ جائیں گے بلکہ وہ ہمیشہ اسی آرزو میں رہے کہ خدا کی راہ میں ہماری زندگیاں قربان ہوں۔

مجھے ہمیشہ خیال آتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا نقش دل پر ہو جاتا ہے اور کیسی با برکت وہ قوم تھی اور آپ کے قوت قدسیہ کا کیسا قوی اثر تھا کہ اس قوم کو اس مقام تک پہنچا دیا۔ غور کر کے دیکھو کہ آپ نے ان کو کہاں سے کہاں پہنچادیا۔‘‘ (ملفوظات جلد ۸ صفحہ ۱۳۳ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: تنزانیہ کے تین دلچسپ واقعات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button