مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ(مارچ ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب) (قسط سوم)
اسلام
عالم اسلام اس وقت رمضان المبارک کے دوسرے عشرہ ’’مغفرت ‘‘ کے اختتام کے بعد ’’جہنم سے نجات‘‘ سے عبارت تیسرے عشرہ میں داخل ہوچکا ہے۔ یوں تو یہ سارا مہینہ ہی خصوصی عبادات کرنے، رحمتوں کے نزول اورزمینی و آسمانی برکات سمیٹنے کا وقت ہوتا ہےلیکن آج دجال کی ایک نہایت پیچیدہ اور خطرناک چال میں گرفتار ہوکر امت مسلمہ کو پےدرپے نقصانات کا سامنا ہے۔
زمینی صورت حال یوں ہے کہ وہ تمام اسلامی سلطنتیں اور امارات جو برسوں تک اپنے ہمسایہ میں برسائی جانے والی آگ و بارود کی بارش سے بے نیاز رہیں اور انہوں نے ہزار ہا ہزار خاک نشینوں کے اڑتے چیتھڑوں کو دوبارہ مڑ کر بھی نہ دیکھا، اور یہی سمجھتے رہے کہ دست قاتل تو ہمارا حلیف ہے، وہ کبھی ہم تک نہیں پہنچے گااور فلاں پہاڑ مجھے بچا لے گا۔
ایسے نازک وقت میں امام جماعت احمدیہ امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ ۶؍مارچ کوا پنے خطبہ جمعہ میں نہ صرف موجودہ حالات کا بصیرت افروز، گہرا اور جامع تجزیہ فرمایا بلکہ امت مسلمہ کے ليے کامیابی اور نجات کی راہ بھی نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی۔ اس خطبہ جمعہ کا خلاصہ الفضل کے مورخہ۹؍مارچ۲۰۲۶ء کے شمارے میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ معروف اردو شاعر حسیب سوز نے اپنی ایک غزل میں کہا تھا کہ
یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے، کیا ہے
یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجرکے ہوتے ہوئے
عیسائیت
’’چرچ آف انگلینڈ‘‘انگلستان کے مسیحیوں کا مذہبی نظام ہے۔ انگریزی کلیسیا پہلے پاپائے روم کے ساتھ ملحق تھا مگر پروٹسٹنٹ اصلاحات کے دوران پوپ کے جوئے کوگردن سے مکمل طور پر اتار پھینکا گیا اور شاہ انگلستان ’’محافظ دین‘‘ قرار پایا۔
Justin Welby(جسٹن پورٹل ویلبی) ۲۰۱۳ء سے ۲۰۲۵ء تک اس چرچ کے روحانی پیشوا یعنی ’’آرچ بشپ آف کینٹربری‘‘کے عہدہ پر فائز رہے۔
معروف ایٹن کالج اور کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ان صاحب نے مذہبی خدمت میں آنے سے پہلے کئی برس تک تیل کی صنعت میں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا اور ۱۹۹۲ء میں پادری مقرر ہوئے او راپنے مذہبی کیریئر کے دوران مختلف گرجاگھروں میں خدمات انجام دینے کے بعد ۲۰۱۳ء میں انہیں اس چرچ کے سب سے بڑے منصب پر یعنی آرچ بشپ آف کینٹربری مقرر کیا گیا۔
یہ مذہبی راہنما اکتوبر ۲۰۱۷ء میں مسجد فضل لندن میں تشریف لاچکے ہیں، جہاں ان کی ملاقات حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بھی ہوئی تھی اور اپنےاسی دورے کے دوران انہوں نے مورڈن میں واقع مسجد بیت الفتوح کا بھی دورہ کیاتھا۔
شائع شدہ رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں دونوں مذہبی راہنماؤں نے دنیا میں مذہبی آزادی اور مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پر گفتگو کی تھی اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے معاشرے میں رواداری اور باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیا تھا اور ملاقات کے اختتام پر حضورِ انور نے آرچ بشپ کو قرآن کریم (عربی متن اور انگریزی ترجمہ) بطور تحفہ پیش کیاتھا اور آرچ بشپ جسٹن ویلبی نے اس ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ہز ہولی نس سے ملنا میرے ليے اعزاز تھا۔…
جسٹن ویلبی کے دورسربراہی میں انگلستان میں متعدد بڑے بڑے مذہبی اور قومی مواقع آئےجہاں انہوں نے برطانوی شاہی خاندان کی اہم تقریبات کی قیادت کی۔ یہ موقع خواہ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم کی آخری رسومات ہوں یا موجودہ بادشاہ شاہ چارلس سوم کی تاج پوشی کی تقریب ہو نیز شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی شادی کی مذہبی تقریب وغیرہ۔
لیکن اسی دوران چرچ آف انگلینڈ میں کئی متنازع مذہبی اور سماجی مباحث بھی ہوئے، جیسے خواتین بشپ کی تقرری اور ہم جنس جوڑوں کے ليے دعائیہ تقریبات کی اجازت دینا وغیرہ اور جب ۲۰۲۴ء میں چرچ آف انگلینڈ میں جنسی بدسلوکی کے ایک بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کے بعدجسٹن ویلبی پر شدید تنقید ہوئی کہ انہوں نے الزامات کی مناسب تحقیقات نہیں کروائیں۔ اس دباؤ کے نتیجے میں انہوں نے نومبر۲۰۲۴ء میں استعفیٰ دے دیا۔
اب جسٹن ویلبی آرچ بشپ کے عہدے سے تو سبکدوش ہو چکے ہیں اور ان کے بعد چرچ آف انگلینڈ میں نئے آرچ بشپ کی تقرری بھی ہوچکی ہے اور ویلبی اب ایک سابق مذہبی راہنما کی حیثیت سے کبھی کبھار اپنی رائے دیتے ہیں۔
حال ہی میں ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والے کالم میں مصنفہ نے اس خبر پر تبصرہ کیا ہے کہ سابق آرچ بشپ آف کینٹربری Justin Welby ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے ليے علاج کروا رہے ہیں۔
اس کالم نگار نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک بڑے مذہبی راہنما کو بھی ذہنی سکون کے ليے معالج کی ضرورت پڑ رہی ہے تو پھر مذہب کی عملی افادیت کیا رہ جاتی ہےجبکہ عمومی تاثربھی یہی ہے کہ اب جدید مغربی معاشرے میں مذہب کی جگہ آہستہ آہستہ نفسیاتی معالجین اور تھراپی لے رہی ہے۔
اس کالم نگارنے اس تبدیلی کو مغربی معاشرے میں مذہب کے کمزور ہوتے کردار کی علامت قرار دیا۔ لیکن یہاں ایک بنیادی مغالطہ بھی نظر انداز ہورہا ہے۔
یاد رہے کہ روحانیت اور نفسیاتی علاج ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ بہت سے مذہبی افراد اور راہنما بھی ذہنی دباؤ یا صدمے کا شکار ہوسکتے ہیں، یہ بات مذہب کی ہی مکمل ناکامی کی دلیل نہیں بنتی۔ اور ایسے میں جب Justin Welby نے خود بتایا کہ وہ چرچ کے ایک بڑے سکینڈل اور اپنی ذمہ داریوں کے احساس کے باعث ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے تھراپی سے مدد لی۔
درحقیقت مذہب انسان کو اس دنیا میں درست اخلاقی سمت، مکمل روحانی راہنمائی اور ایک مربوط لائحہ عمل سمیت ایک خاص روحانی سکون، امید اور اطمینان فراہم کرتا ہے جبکہ نفسیاتی معالج ذہنی دباؤ کے علاج کے سائنسی طریقے فراہم کرتے ہیں۔
ہندو مت
ہولی ہندومت کا ایک معروف اور صدیوں پرانا تہوار ہے جسے عموماً رنگوں کا تہوار کہا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر ہندوستان، نیپال اور دنیا کے دیگر حصوں میں رہنے والی ہندو برادری میں بڑی خوشی اور جوش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
ہولی کا تہوار عام طور پر فروری کے آخر یا مارچ کے آغاز میں ہندی قمری تقویم کے آخری یعنی بارھویں مہینہ پھاگن کی چاند کی چودھویں رات پر منایا جاتا ہے، امسال یہ تہوار ۴؍مارچ کو منایا گیا۔
ہولی کی بنیاد ایک قدیم داستان پر ہے جس میں اس کے کرداروں کے مخصوص جادوئی لباس اور برائی پر نیکی کی فتح وغیرہ کا ذکر ہے۔
اس تہوار کے موقع پر لوگ ایک دوسرے پر رنگ اور رنگین پانی ڈالتے ہیں، گیت گاتے اور رقص کرتے اورمٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملتے ہیں۔ اس دن کو عموماً سماجی رنجشیں بھلا کر خوشی اور میل ملاپ کا دن سمجھا جاتا ہے۔ گو صدیوں پرانے اس تہوار کی بنیاد میں زراعت پر انحصار کرنے والے معاشروں میں اچھی فصل پر شکرگزاری، آپسی رابطوں کو بحال رکھنے اور سماجی دوریاں مٹانے کا تصور ہے مگر عصر حاضر میں یہ تہوار بھی اپنی اصل روح کھو کر محض ہلڑ بازی اور راگ رنگ کا موقع بنتا جا رہا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک کشف میں بھی ہولی کے تہوار کا ذکر ہے، فرمایا:’’تیرہ۱۳ مارچ ۱۹۰۴ء کو میں نے دیکھا کہ گویا ہولیوں کے دن ہیں۔ بہت ہندو سیاہ کپڑے پہنے ہوئے ہولی میں مشغول ہیں…‘‘ (تذکرہ صفحہ ۴۷۳)
ہر سال ہی ایسے تہوار مناتے ہوئے دیگر مذاہب والوں کے ساتھ بعض ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے اور خبروں کا مصالحہ بنتے ہیں۔
یاد رہے کہ حضرت مصلح موعود ؓ نے ۱۹۴۲ء میں اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ایسی باہمی کشمکش اور شدید منافرت کا نوٹس لیتے ہوئےاس کے مٹانے کا طریق یوں بیان فرمایا تھا کہ’’… اگر ہرشخص اور ہر قوم یہ سمجھے کہ دوسرے کے معاملات میں دخل نہیں دینا تو کوئی جھگڑا پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ اگر ہندو ایک دوسرے پر رنگ پھینکنا چاہیں تو کسی کا حق نہیں کہ انہیں روکے بلکہ اگر کوئی اپنے اوپر نیل کا مٹکا بھی گرانا چاہے تو کسی کو روکنے کا حق نہیں۔ لیکن اگر کوئی مسلمان اسے ناپسند کرتا ہے اور اس میں اپنی ذلت سمجھتا ہے تو اس پر کیوں پھینکا جائے…(خطبات محمود، جلد ۲۳صفحہ ۱۸۳)
(اواب سعد حیات)
مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم: خبریں اور تجزیہ




