خطبہ عید الفطر سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ31؍مارچ 2025ء
اگر رمضان میں اپنی برائیاں چھوڑ کر ہم نے نیکیوں کی طرف قدم بڑھایا ہے تو ہم واقعی حقیقی خوشی منانے کے حقدا ر ہیں۔ اگر ہماری عبادتوں کے معیار رمضان میں بلند ہوئے اور ہم نے خدا کو پایا تو ہم واقعی حقیقی خوشی اور عید منانے کے حقدار ہیں۔ اگر ہم نے حقوق العباد ادا کرنے کی طرف پوری توجہ دی تو ہم حقیقی خوشی منانے کے حقدار ہیں
یہ عید صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ یہ عہد کرنے کا بھی دن ہے کہ اب ہم ان سب باتوں کو جاری رکھیں گے جن کو ہم رمضان کے دوران بجا لاتے رہے۔ تب ہی حقیقی عید ہے
ہمیں آج عید کے اس دن کو صرف کھیل کود یا کھانے پینے یا نئے کپڑے پہننے یا شور شرابے پر نہیں لگادینا چاہیے بلکہ اس بات کو بھی سوچنا چاہیے کہ عید ہمارے لیےایک پیغام لے کر آئی ہے اور ایک سبق لے کر آئی ہے کہ ہم نے نیک باتوں کو جاری رکھنا ہے اور بُری باتوں کو چھوڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حق بھی ادا کرنے ہیں۔ اس کے بندوں کے حق بھی ادا کرنے ہیں۔ نیکیوں پر قائم رہنا ہے اور پھر ان کو ہمیشہ اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے تا کہ ہم خود بھی اور ہماری آئندہ نسلیں بھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والی ہوں اس کے فیض سے فیض اٹھانے والی ہوں
اگر آج عید منانے کے بعد ہم پھر اسی حالت میں واپس چلے گئے جو رمضان سے پہلے بعض لوگوں کی حالت تھی یا ہم میں سے بعض کی حالت تھی اور ہمارے قدم ترقی کی طرف نہیں بڑھ رہے تو یہ ایک ایسی بات ہے جو مومن کی شان کے خلاف ہے۔ حقیقی مومن تو وہی ہے جو نیکیوں میں ترقی کرتا ہے اور آگے بڑھتا چلا جاتا ہے
عید کا دن صرف خوشی کا دن نہیں ہے بلکہ عبادتوں کا بھی دن ہے کیونکہ عام دنوں میں تو ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں لیکن عید کے دن ہم پر چھ نمازیں فرض ہو جاتی ہیں آپ سب کو بھی، دنیا کی سب جماعتوں کے افراد جماعت کو بھی عید مبارک ہو
خطبہ عید الفطر سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ31؍مارچ 2025ءبمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، (سرے) یوکے
(خطبہ عید کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
رمضان کل ختم ہوا اور آج ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے عید الفطر منا رہے ہیں۔ خوشی کا دن منا رہے ہیں۔ اس لیےکہ جن نیکیوں کو ہم نے اس رمضان میں کیا اور جن کے بجا لانے کا عہد کیا، جن کی ہم نے تجدید کی ان کی خوشی آج منا رہے ہیں۔ پس
یہ عید صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ یہ عہد کرنے کا بھی دن ہے کہ اب ہم ان سب باتوں کو جاری رکھیں گے جن کو ہم رمضان کے دوران بجا لاتے رہے۔ تب ہی حقیقی عید ہے اور وہی تقویٰ ہے۔
جیسا کہ میں نے خطبہ جمعہ میں بھی کہا تھا کہ حقیقی مومن وہی ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی فرمایا کہ جو اس بات کو جاری رکھے اور اس پر قائم رہے کہ میں نے نیکیوں کو جاری رکھنا ہے اور برائیوں سے بچنا ہے۔

صرف برائیوں سے بچناکوئی تقویٰ نہیں ہے بلکہ نیکیوں کو جاری رکھنا بھی اصل تقویٰ ہے۔
پس آج کے دن اس عید پر ہم اس بات کا دوبارہ اعادہ کر رہے ہیں کہ رمضان کے جو سبق ہم نے حاصل کیے ہیں ان کو ہم جاری رکھیں گے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے جو فرائض ہم رمضان میں ادا کرتے رہے ان کو ہم آئندہ بھی جاری رکھیں گے اور اس خوشی میں کہ ہم نے یہ عہد کیا ہے ہم آج خوشی کا دن منا رہے ہیں۔ پس یہ عید جو ہے یہ ہمیں اپنے عہدوں پر توجہ دلانے کے لیےایک موقع آیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان کے بعد مہیا فرمایاہے۔
ہمیں آج عید کے اس دن کو صرف کھیل کود یا کھانے پینے یا نئے کپڑے پہننے یا شور شرابے پر نہیں لگادینا چاہیے بلکہ اس بات کو بھی سوچنا چاہیے کہ عید ہمارے لیےایک پیغام لے کر آئی ہے اور ایک سبق لے کر آئی ہے کہ ہم نے نیک باتوں کو جاری رکھنا ہے اور بری باتوں کو چھوڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حق بھی ادا کرنے ہیں۔ اس کے بندوں کے حق بھی ادا کرنے ہیں۔ نیکیوں پر قائم رہنا ہے اور پھر ہمیشہ ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے تا کہ ہم خود بھی اور ہماری آئندہ نسلیں بھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والی ہوں اس کے فیض سے فیض اٹھانے والی ہوں۔
پس اس بات کو آج ہمیں سوچنا چاہیے اور جب ہم یہ سوچیں گے کہ جو کام ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر رمضان میں کیے اور بعض جائز کام بھی ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر رمضان میں چھوڑے تو اس کی برکات ہم تبھی حاصل کرسکتے ہیں جب ہم اس کو مستقل اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور جیسا کہ میں نے کہا یہ عید اس بات کے اعادے کا دن ہے، اسی بات کو دوبارہ دہرانے کا دن ہے کہ ہم نے جو کام اللہ تعالیٰ کی خاطر چھوڑے تھے آج اللہ تعالیٰ کی اجازت سے وہ جائز کام ہم دوبارہ کر رہے ہیں اور اب ہم ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے رہیں گے اور ہم حقوق اللہ بھی ادا کریں گے اور حقوق العباد بھی ادا کریں گے۔
پس یہ بات ہمیں ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ انسان کی اصل زندگی اسی میں ہے اور اس کی کامیابیاں، ایک مومن کی کامیابیاں اسی میں ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کریں اور اس پر عمل کرنے کے لیےہمیں کامل اطاعت کے اعلیٰ نمونے دکھانے ہیں تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کو حاصل کر سکیں اور ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی کی نعمتیں عطا ہوتی رہیں۔
اگر آج عید منانے کے بعد ہم پھر اسی حالت میں واپس چلے گئے جو رمضان سے پہلے بعض لوگوں کی حالت تھی یا ہم میں سے بعض کی حالت تھی اور ہمارے قدم ترقی کی طرف نہیں بڑھ رہے تو یہ ایک ایسی بات ہے جو مومن کی شان کے خلاف ہے۔ حقیقی مومن تو وہی ہے جو نیکیوں میں ترقی کرتا ہے اور آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
پس آج یہ عہد بھی ہم نے کرنا ہے اور اسی عہد کے لیےہم یہاں جمع ہوئے ہیں، اسی کی تجدید کرنے کے لیےہم یہاں عید والے دن اکٹھے ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں کہ ہمارے قدم جو رمضان میں نیکیوں کی طرف بڑھے تھے وہ اب بڑھتے چلے جائیں گے اور اس خوشی میں ہم آج جمع ہیں۔ دعائیں بھی کر رہے ہیں اور خوشی بھی منا رہے ہیں۔ صرف کپڑے پہننا یا اچھے کھانے کھانا خوشی نہیں بلکہ خوشی اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو نیکیاں کرنے کی توفیق دی تھی اس کو ہم جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں اور ہماری خوشی تب حقیقی خوشی ہو گی جب ہم اس کو جاری رکھیں گے۔
ہماری حقیقی عید تب ہو گی جب ہم ان نیکیوں کو جاری رکھیں گے اور اپنی استعدادوں کے مطابق ہمارے قدم آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔ ورنہ اگر یہ نہیں تو آج ہماری عید کی جو خوشیاں ہیں یہ سطحی اور عارضی خوشیاں ہیں۔ اس کا ہماری زندگیوں پر اور ہماری روحانی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
کھانا پینا اور زندگی گزار لینا یہ تو کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ یہ تو عام دنیا دار بھی اس طرح کرتا ہے بلکہ جانور بھی یہی کرتے ہیں۔ تو یہ ایسی بات نہیں ہے جو قابل ذکر ہو، جس سے انسان کو فائدہ پہنچتا ہو اور نہ ہی عارضی دنیاوی خوشیاں منانا انسان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

ایک مومن کو، ایک حقیقی احمدی کو فائدہ تب پہنچتا ہے جب اس کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہوں اور وہ یہ عہد کرے کہ میں نے یہ پاک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کر کے پھر ہمیشہ ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔ ورنہ پھر ایک احمدی اور ایک غیر میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔
ایک احمدی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے اور خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا ہے کہ وہ تمام برائیوں سے توبہ کرتا ہے اور نیکیوں کی طرف توجہ کرے گا اور اپنی زندگی کو پاک صاف بنائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ اگر تم میں تبدیلی پیدا نہیں ہو رہی تو تمہارے اور غیر میں کیا فرق ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 188 ایڈیشن 1984ء)تم تو پھر دہرے گناہ کے مرتکب ہورہے ہو۔ ایک عہد توڑنے کے گناہ کے اور ایک اپنی حالت کو نہ بدلنے کے گناہ کے۔ غیر جو ہیں وہ تو صرف اپنی حالت نہ بدلنے کے گناہ کے مرتکب ہیں لیکن تم تو پھر دہرے گناہ کے مرتکب ہو کیونکہ تم نے ایک عہد کیا ہے۔ پس اس بات کو ہمیں آج عید کے دن ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے جو عہد کیے ہیں ان کا پاس کرنا بھی ہمارا بڑا فرض ہے اور بڑی فکر سے ہمیں اس عہد پر قائم رہنے کے لیےحتی الوسع کوشش کرنی چاہیے۔ آج کے دن ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا ہم اس عہد کو پورا کرنے کے لیےحقیقت میں اپنے آپ کو تیار پاتے ہیں۔ کیا ہم حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اصولاً تو یہ ہونا چاہیے کہ آج کے دن عید الفطر ہمیں یہ دکھائے کہ ایک ماہ کے روزوں سے ہمیں خدا مل گیا ہے اور جب خدا مل جائے تو نیکیوں کی ترقی ہونی چاہیے۔
عید کا دن صرف خوشی کا دن نہیں ہے بلکہ عبادتوں کا بھی دن ہے کیونکہ عام دنوں میں تو ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں لیکن عید کے دن ہم پر چھ نمازیں فرض ہو جاتی ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کے لیےبھی یہ خاص دن ہے جس کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ چھ نمازیں جو فرض کر دیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کے دن عبادت کی ادائیگی کے فرائض بھی ہم پر بڑھ گئے ہیں اور اس لیےبڑھ گئے تا کہ ہم آئندہ زندگی میں اس بات کو یاد رکھیں کہ اس دن ہم نے ایک عہد کیا تھا اور اس کی خوشی بھی منائی تھی۔ اس عہد کو پورا کرنے کے لیےہم اپنی عبادتوں کے معیار بڑھاتے چلے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے بندوں کے حقوق بھی ادا کریں گے کیونکہ بندوں کے حقوق ادا کرنا بھی ایک قسم کی عبادت ہے۔ پس ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اگر ہم یہ نہیں کر رہے اور ہم نے حق ادا نہیں کیے، ہم نے خدا تعالیٰ کو پانے کے لیےکوشش نہیں کی، ہمیں خدا تعالیٰ نہیں ملا تو پھر صرف خوشیاں منانا تو کوئی بات نہیں۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کی مثال دی کہ جس کو خدا نہ ملے اور وہ ظاہری دنیاوی باتوں پر خوش ہو جائے۔ اس کی مثال تو ایسی ہے جیسے اس پاگل کی جس کو ہیرے جواہرات اور روپے کی قدر کا پتہ ہی نہیں ہے اور ہر چمکتی ہوئی چیز کو اور شیشے کے ٹکڑے کو یہ سمجھتا ہے کہ یہ بہت قیمتی چیز ہے یا صاف پتھر لے کر وہ سمجھتا ہے کہ اس کی بہت قیمت ہے۔
(ماخوذ از خطباتِ محمود جلد اوّل صفحہ 212)

پس حقیقی قیمت تو اس کو نظر آتی ہے جس کو حقیقی ہیروں کی پہچان بھی ہو اور حقیقی جواہرات کی پہچان ہو۔ پس اسی طرح روحانیت کا حال ہے کہ جسے حقیقی عبادت اور نیکی کی پہچان ہو وہی حقیقی مومن ہے۔ اور یہ پہچان کرنے کے لیےانسان کا اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا ہونا چاہیے تبھی وہ روحانی طور پر اپنے آپ کو تراش خراش کے ہیرا اور جواہربنا سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ نہیں تو ایک پاگل میں اور ایک انسان میں جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا کوئی فرق نہیں ہوتا۔ دنیا دار کے لیےتو دنیا کمانا ہی اصل مقصد ہے اور جب ہم دنیا کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ انہوں نے دولت کو ہی اپنا معبود اور خدا بنایا ہوا ہے اور اسی کی خاطر اپنی جانوں کو ہلکان کیا ہوتا ہے۔ مالی نقصان ہو جائے تو پاگل ہو جاتے ہیں۔ دماغ پر اثر ہو جاتا ہے۔
مَیں جب گھانا میں تھا تو میں نے وہاں ایک شخص دیکھا تھا، بیچارہ دماغی طور پر معذور اور پاگل پن کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کسی دنیاوی صدمہ کی وجہ سے ہی پاگل ہوا ہو۔ عموماً تو یہی ہوتا ہے لیکن جو حرکتیں کرتا تھا وہ یہ تھیں کہ اسے دولت اکٹھی کرنے کا شوق تھا اور اس سے ظاہر یہی لگتا ہے کہ اس کو کوئی مالی نقصان ہوا تھا اور اس کے لیے، دولت اکٹھی کرنے کے لیے وہ پیسے مانگتا رہتا تھا۔ اس کو اگر سکّے دو تو وہ نہیں لیا کرتاتھا بلکہ کہتا تھا مجھے نوٹ دو۔ نوٹ لوں گا۔ ایک دن اس طرح ہی پھر رہا تھا تو ہم نے اشارے سے اس کو بلایا کہ یہ پیسے لے لو۔ کہنے لگا نہیں آج مجھے روپوں کی ضرورت نہیں ہے، رقم کی ضرورت نہیں ہے۔ آج میرے پاس بہت دولت آ گئی ہے۔ اور دولت کیا تھی؟ اس نے سگریٹ کی ڈبیوں کو کاٹ کاٹ کے موٹی سی تھدیاں بنائی ہوئی تھیں، بنڈل سے بنائے ہوئے تھے کہ یہ میرے پاس نوٹوں کی تھدیاں ہیں اور آج میرے پاس نوٹوں کی بھرمار ہے اس لیےمجھے رقم کی ضرورت نہیں ہے۔ گتے کے ٹکڑوں کو ہی وہ نوٹ سمجھ رہا تھا اور یہی کہہ رہا تھا کہ دیکھو آج میرے پاس کتنی دولت آ گئی ہے اور بڑا لہرا لہرا کر بتاتا تھا کہ میرے پاس یہ نوٹ دیکھو، یہ میری دولت ہے۔ آج میں بڑا امیر ہو گیا ہوں اور اپنے آپ کو یہی سمجھ رہا تھا۔ ان کاغذ کے ٹکڑوں کو ہی وہ سمجھ رہا تھا کہ میرے پاس دولت ہے۔ یہی دماغی طور پر بیچارے پر اثر تھا۔
تو اصل بات یہی ہے کہ جو انسان ہے وہ ظاہری چمک دمک کو جس طرح کہ خلیفہ ثانی نے فرمایا کہ چمک دمک کو دیکھ کر یا ظاہری ٹکڑوں کو دیکھ کے یا جیساکہ میں نے بتایا کہ گتے کے ٹکڑوں کو دیکھ کے یہ سمجھ لے کہ میں امیر ہو گیا ہوں اور میرے پاس دولت آگئی ہے تو اس کو پھر پاگل ہی کہیں گے۔ بیچارے کو دماغی معذور ہی کہیں گے۔ جوغلط باتوں پر خوش ہو رہا ہے اُسے اَور کیا کہا جا سکتا ہے۔
ایک مومن کی حقیقی خوشی تو تبھی ہے جب اس کو حقیقت میں خدا مل جائے، وہ حقیقی دولت کو پا لے
نہ کہ گتے کے ٹکڑوں کو یا کنکروں کو یا شیشے کے ٹکڑوں کو سمجھے کہ یہ جواہرات ہیں اور یہ دولت ہے۔
پس ایک مومن کو جو رمضان کے روزوں سے گزر کر آیا ہے اور آج عید منا رہا ہے اس کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی مَیں حقیقی عید منا رہا ہوں؟ خدا کی قربت کے کچھ نظارے مجھے نظر آ رہے ہیں؟ رمضان میں مَیں نے کچھ فائدہ اٹھایا بھی ہے کہ نہیں؟ اور اگر نہیں اٹھایا اور ظاہری بھوک پیاس ہی رہی تو پھر ہماری حالت بھی اس پاگل جیسی ہے جو صرف کاغذ کے ظاہری ٹکڑوں کو ہی دولت سمجھتا رہا ہے۔ لیکن اگر ہم نے حقیقت میں کچھ پایا ہے تو پھر ہمارا خدا سے ایک تعلق پیدا ہونا چاہیے اور یہ تعلق پھر آج اس عید کی حقیقی خوشی کے منانے کے لیے ایک اظہار ہے۔ یہ عید اس بات کا اظہار ہو گی کہ حقیقت میں ہم نے خدا کو پا لیا اور پھر ہم آئندہ اپنی زندگی کے سفر میں اس کو ایک سنگِ میل سمجھیں گے اور یہ عید ہمیں نئے راستوں کی طرف لے جانے والی ہو گی کیونکہ ہم نے رمضان میں خدا کو پایا اور اس کی خوشی آج ہم نے منائی۔
پس اگر ہماری عید اس سوچ کے ساتھ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو پانے کے لیےرمضان میں جو کوششیں کی تھیں اس کا کچھ نہ کچھ حصہ ہم نے حاصل کر لیا تو ہم حقیقی طور پر ان راستوں پر چلنے والے ہو جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہیں۔ اس دولت کو حاصل کرنے والے ہو جائیں گے جو حقیقی دولت ہے، جو اللہ تعالیٰ کے در سے عطا ہونے والی دولت ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والی دولت ہے جس سے ہم نے اللہ تعالیٰ کو پا لیا۔
اگر ہم نے رمضان میں اپنی برائیاں چھوڑ کر نیکیوں کی طرف قدم بڑھایا ہے تو ہم واقعی حقیقی خوشی منانے کے حقدا ر ہیں۔ اگر رمضان میں ہماری عبادتوں کے معیار بلند ہوئے اور ہم نے خدا کو پایا تو ہم واقعی حقیقی خوشی اور عید منانے کے حقدار ہیں۔ اگر ہم نے حقوق العباد ادا کرنے کی طرف پوری توجہ دی تو ہم حقیقی خوشی منانے کے حقدار ہیں۔
اور اس خوشی کے ساتھ پھر ہمیں یہ عہد بھی کرنا ہو گا کہ ہم اس خوشی کو دائمی خوشی بنانے کے لیےہمیشہ ان باتوں پر عمل بھی کرتے رہیں گے اور جب ہم میں یہ ہو گا تو ہم اپنی زندگی کے مقصد کو بھی حاصل کرنے والے ہوں گے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری تبدیلیوں سے اور نیکیوں کے راستوںپر چلنے سے حقیقی طور پر خوشی ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص جس کا سامان سے لدا ہوا اونٹ جنگل میں گم ہو جائے اور اس شخص کے پاس اور کوئی وسیلہ اور ذریعہ نہ ہو۔ اونٹ گمنے کی وجہ سے وہ پریشان ہو۔ اونٹ کو تلاش کر کر کے لیٹ جائے اور لیٹے ہوئے اس کو نیند آجائے۔ آخر تھک کے لیٹ گیا اور بڑی پریشانی کی حالت میں لیٹا ہوا ہو۔ اسی حالت میں اس کی آنکھ بھی لگ جائے اور جب آنکھ کھلے تو دیکھے کہ سامنے اونٹ کھڑا ہے تو اس حالت میں جو خوشی اس کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ کو بندے کے اپنی طرف آنے سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوشی پہنچتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ میرا بندہ توبہ کر کے میری طرف آیا اور اس نے مجھے حاصل کرنے کی کوشش کی۔
(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب التوبۃ حدیث 6308)
اسی طرح ایک جگہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ ایک ماں کو اپنے گم شدہ بچے کے ملنے سے جو خوشی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کو اس سے کہیں زیادہ خوشی کسی شخص کے اللہ تعالیٰ کی طرف واپس آنے سے ہوتی ہے۔
(صحیح مسلم کتاب التوبۃ باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ …… حدیث 2754)
پس رمضان میں ہم میں سے جن لوگوں نے ایسی کوشش کی کہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں وہ فیض پہنچاتا رہے گا جن کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کے اس طرح واپس آنے سے خوش ہوتا ہے اور جب یہ ہو گا تو پھر ہم آج کے دن اس خوشی کا اظہار کرنے کے حقدار ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ عید کا دن بیشک مبارک دن ہے لیکن ایک دن اس سے بڑھ کر مبارک اور خوشی کا دن ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ لوگ نہ تو اس دن کا انتظار کرتے ہیں نہ اس کی تلاش اس طرح کرتے ہیں جو کرنی چاہیے۔ ورنہ اگر اس کی برکات اور خوبیوں سے لوگوں کو اطلاع ہوتی تو وہ اس کی پرواہ کرتے اور حقیقت میں وہ دن ان کے لیےبڑا ہی مبارک اور خوش قسمتی کا دن ثابت ہوتا اور لوگ اسے غنیمت سمجھتے۔ آپؑ نے فرمایا کہ
وہ دن کونسا دن ہے جو جمعہ سے اور عیدین سے بھی بڑھ کر مبارک دن ہے۔ فرمایا کہ میں بتاتا ہوں۔وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے جو ان سب سے بہتر ہے اور ہر عید سے بڑھ کر ہے۔
کیوں ؟ اس لیےکہ اس دن وہ بداعمال نامہ جو انسان کو جہنم کے قریب کرتا جاتا ہے اندر ہی اندر غضب الٰہی کے نیچے اسے لا رہا ہوتا ہے دھو دیا جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں اس سے بڑھ کر انسان کے لیےاور کونسا خوشی اور عید کا دن ہو گا جو اسے ابدی جہنم اور ابدی غضب الٰہی سے نجات دے دے۔ توبہ کرنے والا گناہگار جو پہلے اللہ تعالیٰ سے دور اور اس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا ہے اور جہنم سے اور عذاب سے دور کیا جاتا ہے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 7صفحہ147-148 ایڈیشن1984ء)
پس آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے دنوں میں توبہ کے دروازے کھولے تھے۔ تم نے ان کو حاصل کیا اور اگر توبہ قبول ہو گئی تو یہی تمہارے لیےعید کا دن ہے۔ آج عید کا یہ دن تو اس کا ایک اظہار ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لیےکوشش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو قبول کر لیا اور اس کے اظہار کے لیےآج ہمیں کہا کہ تم اس کی ظاہری خوشی بھی مناؤ اور صاف کپڑے پہنو۔ خوشبو لگاؤ۔ اچھے کھانے بھی کھاؤ کہ میں نے تمہیں یہ موقع دیا کہ تمہیں نیکی کی توفیق ملی۔ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی توفیق ملی اور حقوق العباد ادا کرنے کی توفیق ملی۔ اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانے کی توفیق ملی۔ آپ نے فرمایا کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری شرط ہے ورنہ محض توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ پس جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ انسان اپنی بدکرتوتوں سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا عہد صلح باندھ لے اور اس کے احکام کے لیےاپنا سر خم کر دے تو کیا شک ہے کہ وہ اس عذاب سے جو پوشیدہ طور پر اس کی بدعملیوں کی پاداش میں تیار ہو رہا تھا بچایا جائے گا اور اس طرح وہ چیز پا لیتا ہے جس کی گویا اسے توقع اور امید ہی نہ رہی تھی۔
پس اس سوچ کے ساتھ ہمیں عید منانی چاہیے کہ اس رمضان میں بہت سی برائیوں سے بچتے ہوئے اور نیکیاں اختیار کرتے ہوئے جو میں اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر جھکا ہوں۔ تو اصل عید کا دن میرے لیےوہی تھا کیونکہ اللہ کی پناہ میں آنے کی کوشش کی۔ آج کے دن میں اللہ کے حکم کے مطابق اس خوشی کو سب کے ساتھ مل کر منا رہا ہوں۔ پس سچی توبہ کے بعد اگر کسی کےدل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی چنگاری بھی پیدا ہوتی ہے تو یہ بڑی روشنی کی شکل اختیار کر لے گی اور پھیلتی جائے گی اور انسان کا دل بھی روشن ہوتا چلا جائے گا اور گناہوں سے بچتا چلا جائے گا اور پھر ایسے شخص کا ہر کام، ہر فعل آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو گا اور جب انسان ایساہو تو اس کے ماحول پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے، اس کے بیوی بچوں پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے اور اس طرح سے پھر وہ لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا اور جب لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا تو پھر ایک پرامن اور روحانی ماحول اس کے ارد گرد بنتا چلا جائے گا۔
یہی اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا مقصد بتایا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو پیدا کیا ہے تو اس لیےپیدا کیا ہے کہ نیکیوں میں بڑھو اور میری عبادت کے معیاروں کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کرو تا کہ میرا قرب پاؤ
اور جب تم میرا قرب پاؤ گے تو جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے ایسی خوشی ہوگی جیسی کسی انسان کو ریگستان میں اس کے گمے ہوئے سامان اور سواری کے ملنے سے ہوتی ہے یا ایک ماں کو اپنے بچے کے ملنے سے ہوتی ہے۔
دنیا میں آجکل اتنی غلاظتیں ہیں۔ ان دنوں میں جب ایک مومن اللہ تعالیٰ کی خاطر روزے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر بھی بہت زیادہ دیتا ہے کیونکہ وہ خالصتاًایسے ماحول کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیےیہ سب کچھ کر رہا ہوتا ہے۔ پس اگر ہم اس بات کو اپنے ذہن میں رکھیں تو صرف رمضان کے دنوں میں ہی نہیں بلکہ ہم آئندہ اپنی زندگیوں میں بھی ان نیکیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کرتے رہیں گے کہ کس طرح ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کریں ۔ کس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو طلب کرنے والے بنیں اور اپنی نسلوں میں بھی اس فیض کو جاری رکھیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری بقا کے لیےجاری فرمایا ہے، ہماری نسلوں کی بقاکے لیےجاری فرمایا ہے اور کس طرح ہم اپنے آپ کو جہنم سے بچانے والے بنیں اور اللہ تعالیٰ کی جنت کے قریب کرنے والے بنیں۔ اور جب یہ ہماری سوچیں ہوں گی اور یہ سوچیں ہمارے ماحول میں بھی پیدا ہو جائیں گی تو تبھی ہم حقیقی عید بھی منا رہے ہوں گے اور ہمارا ماحول بھی وہی حقیقی عیدمنا رہا ہوگا۔ ہمارا خاندان ہمارے بچے بھی وہی حقیقی عید منا رہے ہوں گے۔
پس یہ چیز اگر ہم میں پیدا ہو جائے تو سمجھیں کہ ہم نے مقصد کو پا لیا اور اس عید کے مقصد کو پا لیا جس کی خاطر آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اور آج اس خوشی میں ہم نے اپنے اندر اپنی ظاہری حالت کو بھی صاف ستھرا رکھا ہوا ہے اور اچھے کھانے کھانے کی طرف بھی ہماری توجہ ہو رہی ہے۔ پس اللہ کرے کہ ہم لوگ اس مقصد کو حاصل کرنے والے بنیں۔ اپنی نمازوں کو قائم کرنے والے بنیں۔ اگر پہلے مسجدوں میں تہجد کے لیےآتے تھے۔ تراویح کے لیےآتے تھے تو اب کم از کم گھروں میں کچھ نہ کچھ وقت نوافل اور تہجد کے لیےبھی دینے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کی خاطر مال خرچ کرنے والے بھی بنیں۔ حقوق العباد ادا کرنے والے بنیں۔ آپس کے جھگڑوں کو ختم کرنےو الے بنیں۔ روزوں میں جو نیکیاں ہم نے جاری رکھی تھیں ان کو ہمیشہ جاری رکھنے والے بنیں۔ گھریلو تعلقات ہیں، میاں بیوی کے تعلقات ہیں، ساس بہو کے تعلقات ہیں، نند بھابھی کے تعلقات ہیں، بہن بھائیوں کے تعلقات ہیں یا احمدیوں کے آپس میں تعلقات ہیں یا اپنے دوستوں کے ساتھ تعلقات ہیں ان کو ایک مثالی تعلق بنانے کی کوشش کریں تا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو اور یہ سمجھے کہ یہ لوگ میری رضا کی خاطر یہ کام کر رہے ہیں تو میں ان کی ضروریات بڑھ کر پوری کروں گا اور اگر کسی سے کوئی وقتی دنیاوی نقصان کا احتمال بھی ہے تو اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگوں کے وقتی نقصان کو بھی پورا فرما دیتا ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ جی مجھے اس وجہ سے فلاں شخص سے نقصان ہو رہا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو میں نقصان پورا کردوں گا اگر تم میری خاطر اس سے صلح صفائی کرو اور اس کی طرف پیار اور دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے اس کو پتہ ہے کہ یہ انسان میری خاطر اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پھرجب یہ حالت ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف وہیں محدود نہیں رہتا بلکہ ماحول پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اس انسان میں جو یہ پاک تبدیلی پیدا ہوئی ہے تو اس کی کوئی وجہ ہے اور یقینا ًاس کو اس سے کچھ نہ کچھ حاصل ہو رہا ہے تبھی اس نے یہ پاک تبدیلی پیدا کی ہے۔ اگر انسان کو فائدہ نہ ہو تو وہ کام کیوں کرے؟ کوئی فائدہ ہے تبھی کر رہا ہے۔
پس یہ اثر پھر دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔ خدا کرے کہ اللہ تعالیٰ یہ پاک تبدیلی ہمارے اندر پیدا کرتا چلا جائے اور وہ وقت کبھی نہ آئے کہ جب ہم رمضان سے حاصل کی ہوئی پاک تبدیلیوں کو ضائع کرنے والے ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ سے دور جانے والے بن جائیں بلکہ اللہ کرے کہ ہم وہ لوگ بنیں جو ان پاک تبدیلیوں کو اپنی زندگیوں کا مستقل حصہ بنا لیتے ہیں اور تبھی ہم حقیقی عید منانے والے ہوں گے، تبھی ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا حق ادا کرنے والے ہوں گے اور تبھی ہم معاشرے کو پرامن بنانے والے ہوں گے اور تبھی ہم اسلام کی حقیقی تعلیم کو پھیلانے والے بھی ہوں گے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔ یہی ایک احمدی کا مقصد ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔

دعائیں بھی کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام احمدیوں کو اپنے فضلوں کی چادر میں لپیٹ لے۔
بہت سی جگہوں پر بہت سے مجبور احمدی ہیں جو بلاوجہ قانون کی گرفت میں ہیں۔ جیسا کہ پاکستان میں نام نہاد قانون کی گرفت میں
جو مذہبی آزادی سے عیدیں بھی نہیں پڑھ سکتے۔
اللہ تعالیٰ ان کو موقع مہیا فرمائے کہ وہ حقیقی عید منانے والے ہوں۔ جہاں وہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کر کے اپنے آپ کو خدا کے قریب لانے والے ہوں وہاں وہ ظاہری خوشیاں بھی منانے والے ہوں اور آزادی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں۔ ایک دوسرے کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والے بھی ہوں۔
اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات جلد دور فرمائے۔ آج اس دن بھی عید پڑھنے کی وجہ سے ان پر خوف کی حالت ہے۔
انہوں نے بڑی خوف کی حالت میں عید پڑھی ہے اور وقت بدل بدل کے پڑھی اور جگہیں بدل بدل کے پڑھی۔ اپنی مرکزی مساجد میں نہیں پڑھ سکے۔ بعض جگہ مختلف جگہوں میں پڑھنی پڑی۔ کراچی میں اور بعض جگہوں پہ پولیس نے اور انتظامیہ نے ان کو نمازوں سے بھی روکا اور مخالفین نے مسجد پر حملے بھی کیے۔ اس پر بجائے اس کے کہ مخالفین کو روکتے انہوں نے ہماری مسجدوں کو تالے لگا دیے۔
اللہ تعالیٰ جلد ان مخالفین کی پکڑ کے بھی سامان کرے۔ بیمار بھائیوں کے لیےدعا کریں، اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی رحمتوں اور فضلوں کی بارش برسائے جو کسی نہ کسی رنگ میں انسانیت کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان پر بھی رحم فرمائے، فضل فرمائے جو انسانیت کی خاطر مالی قربانی بھی دے رہے ہیں۔ جماعت کی خاطر مالی قربانی دے رہے ہیں، اشاعتِ اسلام کے لیےمالی قربانی دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو بے انتہا نوازے۔
شہداء کے بچوں کے لیےبھی دعا کریں
اللہ تعالیٰ ان کے ایمان مضبوط رکھے اور ان کو ان کے بڑوں کی قربانیوں کے انعامات ملتے رہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ واقفینِ زندگی کو بھی اپنے فضل سے نوازتا رہے۔
ان کے لیےبھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے وقف قبول فرمائے۔ ان کو حقیقی معنوں میں واقف زندگی بن کر خدمت دین کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
عمومی طور پر امت مسلمہ کے لیےبھی دعائیں کریں۔
آج کل ان پر بڑے سختی کے دن ہیں اور جو دجالی قوتیں ہیں وہ ان کو نقصان پہنچانے کے لیے پورا زور لگا رہی ہیں لیکن مسلمان بھی اپنے ایمان میں کمزور ہیں۔ وہ بھی نظر آ رہا ہے۔ وہ ایمان میں اتنا قوی ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والے ہوں کہ ان دجالی طاقتوں کے چنگل سے بچ سکیں تبھی ان کو فائدہ ہو گا کہ اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بھی عقل دے اور سمجھ دے کہ یہ لوگ بھی اس بات کو سمجھیں اور حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑنے کی کوشش کریں۔
اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو جو بھیجا ہے تو اس کو ماننے کی بھی ان کو توفیق ملے تا کہ یہ بھی حقیقی خوشیاں منا سکیں۔
اسیرانِ راہ مولیٰ کے لیےدعا کریں۔
اللہ تعالیٰ جلد ان کی رہائی کے سامان پیدا فرمائے اور دشمن جو ان کی خوشیاں ختم کرنے کی کوششوں میں ہے اللہ تعالیٰ دشمن کو، مخالفین کو خائب و خاسر کرے اور ہمیں حقیقی معنوں میں اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نوازتا چلا جائے تا کہ ہم حقیقی عید کی خوشیاں منانے والے ہوں۔
(خطبہ ثانیہ کے بعد حضورِانور نے فرمایا)اب ہم دعا کریں گےاور جو مَیں نے بتایا ہے ان دعاؤں کو یاد رکھیں۔ دعا کر لیں۔
(دعا کے بعد حضورِانور نے فرمایا)
آپ سب کو بھی، دنیا کی سب جماعتوں کے افراد جماعت کو بھی عید مبارک ہو۔
میں نے کہا تھا پاکستان کے لوگوں کو مستقل دعاؤں میں یاد رکھیں ۔کافی سخت حالات ہیں۔ اللہ تعالیٰ حقیقی معنوں میں ان کے لیےعید مبارک کرے۔ ان سب کو بھی عید مبارک ۔ بیچارےگھروں میں بیٹھے ہیں، بظاہر مایوسی ہے لیکن
ان کو فکر نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ انشاء اللہ جلد حالات بدلے گا۔
اللہ تعالیٰ ان سب کے لیےعید مبارک فرمائے۔ السلام علیکم
٭…٭…٭




