نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۸؍مارچ ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ اکبری بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم وزیر محمد صاحب مرحوم (ربوہ۔حال کر الی۔یوکے) اور مکرم محمد جلیل الرحمٰن جمیل صاحب ابن مکرم ڈاکٹر محمد حبیب الرحمٰن خان صاحب (یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
۱۔مکرمہ اکبری بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم وزیر محمد صاحب مرحوم (ربوہ۔حال کر الی۔یوکے)
24؍مارچ 2026ء کو 83 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نماز اور روزہ کی پابند، غریبوں کا خیال رکھنے والی، سادہ مزاج، ہمدرد، خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار، بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ چندوں کی ادائیگی باقاعدگی سے اور بروقت کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے، چار بیٹیاں، نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔
۲۔مکرم محمد جلیل الرحمٰن جمیل صاحب ابن مکرم ڈاکٹر محمد حبیب الرحمٰن خان صاحب (یوکے)
16؍مارچ2026ء کو 72 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم ہر دلعزیز شخصیت کے مالک، ایک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ آپ معروف شاعر بھی تھے۔آپ کے بہت سے ترانے ایم ٹی اے پر پڑھے جاتے ہیں۔ خلافت کے سا تھ گہر اعقیدت اور محبت کا تعلق تھا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بچے شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم کرنل (ر) اعجاز احمد منہاس صاحب ابن مکرم محمد اکرم منہاس صاحب(راولپنڈی )
28؍جنوری 2026ء کو 84سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت ولی داد خان صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑنواسے تھے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، بڑے شفیق، ہر دلعزیز شخصیت کے مالک، ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ خلافت سے گہرا وفا اور اخلاص کا تعلق تھا۔ آپ کو 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں وطن عزیز کی خدمت کا موقع ملا۔آپ نے جنرل سیکرٹری امارت راولپنڈی کینٹ وضلع کے علاوہ مقامی جماعت میں سیکرٹری امور عامہ، سیکرٹری رشتہ ناطہ، سیکرٹری جائیداد، ایڈیشنل سیکرٹری اصلاح و ارشاد دعوت الی اللہ اور صدر حلقہ پشاور روڈ شرقی کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو مقامی جماعت اور ضلع کی طرف سے جو بھی ذمہ داری سونپی جاتی اسے ہمیشہ اخلاص کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے شامل ہیں۔
۲۔مکرم میاں محمد اسلم عاصی صاحب ابن مکرم میاں عظمت علی صاحب (آف پتو کی حال ایڈیلیڈ، آسٹریلیا)
20؍جنوری 2026ء کو 86سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو 1963ء میں احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ احمدیت قبول کرنے سے قبل آپ ایک کٹر احراری خاندان کے اکیلے وارث تھے جو کہ تعویذ دھاگوں اور پیری مریدی جیسی بدعتوں میں جکڑا ہوا تھا۔ لیکن قبول احمدیت کے بعد سب کچھ چھوڑ دیا حتیٰ کہ اپنے والدکی گدی بھی قبول نہ کی۔ مرحوم نہ صرف پنجگانہ نمازوں کا باقاعدگی سے اہتمام کرتے بلکہ تہجد کی ادائیگی میں بھی شاذ و نادر ہی ناغہ ہوتا۔ روزانہ کم از کم قرآن مجید کے ایک پارے کی تلاوت ترجمہ کے ساتھ کیاکرتے تھے۔ سینکڑوں احمدی اور غیر احمدی افراد کو قرآن مجید پڑھایا۔ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطالعہ کی طرف بھی خاص توجہ تھی اور تین بار روحانی خزائن کا دور مکمل کر چکے تھے۔ ایم ٹی اے کے آغاز سے ہی نہ صرف خود خطبات جمعہ براہ راست سننے کا اہتمام کرتے بلکہ سب بچوں، عزیزوں اور احباب جماعت کو بھی مسلسل یاد دہانی کرواتے رہتے تھے۔ چندہ جات میں اس قدر باقاعدہ تھے کہ سیکرٹری مال کے پوچھنے سے پہلے ماہ بہ ماہ آغاز میں ہی اپنا چندہ ادا کر دیتے اور ہر مالی قربانی میں اپنی بساط سے بڑھ کر حصہ لیتے تھے اور اہل و عیال کو بھی اس کی تلقین کرتے رہتے تھے۔شادی کے بارہ سال تک آپ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تواس پر آپ کے تمام رشتہ دار اور گاؤں والے یہ کہنے لگے کہ یہ چونکہ قادیانی ہو گیا ہے لہٰذا ابتر ر ہے گا۔ اس اثناء میں آپ نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ کی خدمت میں تمام حالات لکھ کر دعا کی درخواست کی کہ خداتعالیٰ اولاد سےنوازے۔حضورؓ نے خط کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا اور ضرور نرینہ اولاد سے نوازے گا۔ اس دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار بیٹوں اور ایک بیٹی کے علاوہ پوتے،پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے نوازا۔ جو سب خلافت احمدیہ کے ساتھ گہری محبت اور اطاعت کےتعلق میں بندھے ہوئے ہیں اور کسی نہ کسی رنگ میں خدمت کی بھی توفیق پارہے ہیں۔ مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔
۳۔مکرم سردار ناصر الدین صاحب ابن مکرم سردار مجید الدین احمد صاحب (سابق صدر جماعت رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ)
16؍جنوری 2026ء کو 75سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت صوفی نبی بخش صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑنواسے تھے۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا مکرم رسالدار حاکم علی صاحب کے ذریعہ آئی۔ آپ کا گھرانہ گاؤں کے بڑے زمیندار وں میں شمار ہوتا ہے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند،سادہ مزاج، مہمان نواز، اچھے اخلاق کے مالک، ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ خلافت سے گہری عقیدت کا تعلق تھا۔ جماعتی کتب کے مطالعہ کا بہت شوق تھا۔چندوں میں باقاعدہ اور دیگر مالی تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، واقفین زندگی کا بہت احترام کرتے اور جماعتی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔زمانہ طالبعلمی میں کھیلوں میں بھی بڑی باقاعدگی سے حصہ لیتے رہے اور فٹ بال کے اچھے کھلاڑی تھے۔اسی طرح گھوڑ سواری کا بھی بہت شوق تھا۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں تین اہلیہ، تین بیٹے، دو بہنیں اور ایک بھائی شامل ہیں۔ آپ مکرم نصیرالدین ہمایوں صاحب (عملہ حفاظت خاص اسلام آباد یوکے) کے بڑے بھائی تھے۔
۴۔مکرم راشد محمود ڈوگر صاحب ابن مکرم عبدالرشید ڈوگر صاحب (آف Flieden، جرمنی)
23؍جنوری 2026ء کو 53سال کی عمر میں ایک حادثے میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا نظام جماعت اور خلافت کے ساتھ گہرا تعلق تھا اور جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔ مرحوم اچھے اخلاق کے مالک، بڑے مخلص اور نیک انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
۵۔مکرم پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ منگلا صاحب ابن مکرم غلام محمد منگلا صاحب (آف ورجینیا، امریکہ )
18؍جنوری 2026ء کو 81سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم عزیزالرحمٰن منگلا صاحب (مربی سلسلہ) کے بھائی تھے جن کے ذریعہ آپ اور آپ کی فیملی نے 1954ء میں بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ مرحوم نے ابتدائی تعلیم ربوہ سے حاصل کرنے کےبعد 1965ء میں پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کیا۔ پھر سکالرشپ پر Michigan State یونیورسٹی، امریکہ سے 1978ء میں معاشیات میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آئے۔ 1972ء میں آپ کی شادی مکرمہ عائشہ نصیر صاحبہ بنت مکرم پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب سے ہوئی۔ یہ رشتہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ نے تجویز فرمایا۔ 1981ء میں آپ کینیڈا چلے گئے اور 1985ء میں وہاں سے امریکہ منتقل ہوگئے جہاں 31 سال تک Western Michigan University میں بطور Finance پروفیسر تدریس کا کام کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 2018ء میں آپ اپنی بیٹی کے پاس ورجینیا منتقل ہو گئے اور وفات تک یہیں مقیم رہے۔ مرحوم کا خلافت کے ساتھ گہری وفا کا تعلق تھا۔ آپ بہت عاجز اور منکسرالمزاج طبیعت کے حامل تھے۔ مرحوم کو خدمتِ خلق کا بہت شوق تھا۔علمی اور عملی میدان میں بہت سے احمدی اور غیر احمدی افراد آپ سے مستفیض ہوتے رہے۔ پاکستان میں اپنے خاندان اور گاؤں کے افراد کا آپ بہت خیال رکھتے اوران کی معاونت کیاکرتے تھے۔ چک منگلا میں مسجد کی تعمیر کے لیے مالی قربانی کی بھی توفیق پائی۔مربیان اور واقفین زندگی کا بہت احترام کرتے تھے۔ بچوں کو خلافت اور نظام جماعت سے وابستہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ ہر ماہ جماعتی میٹنگز میں شمولیت کے لیے باقاعدگی سے مسجد جایا کرتے تھے۔ آپ کے گھر میں لمبے عرصہ تک نماز جمعہ ادا کی جاتی رہی۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




