شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
پنجگانہ نماز کے التزام کے بارہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیخ حامد علی صاحب ؓکے بارہ میں فرماتے ہیں: ’’حبی فی اللہ شیخ حامد علی۔ یہ جوان صالح اور ایک صالح خاندان کا ہے اور قریباًسات آٹھ سال سے میری خدمت میں ہے اورمَیں یقیناً جانتاہوں کہ مجھ سے اخلاص اور محبت رکھتاہے۔ اگرچہ دقائق تقویٰ تک پہنچنابڑے عرفاء اور صلحاء کاکام ہے۔ مگر جہاںتک سمجھ ہے اتباع سنت اور رعایت تقویٰ میں مصروف ہے۔ مَیں نے اس کو دیکھاہے کہ ایسی بیماری میں جونہایت شدید اور مرض الموت معلوم ہوتی تھی اور ضعف اور لاغری سے میّت کی طرح ہو گیاتھا۔ التزام ادائے نماز پنجگانہ میں ایسا سرگرم تھاکہ اس بیہوشی اور نازک حالت میں جس طرح بن پڑے نماز پڑھ لیتا تھا۔ مَیں جانتاہوں کہ انسان کی خدا ترسی کا ا ندازہ کرنے کے لئے اس کے التزام نماز کو دیکھناکافی ہے کہ کس قدر ہے اورمجھے یقین ہے کہ جو شخص پورے پورے اہتمام سے نمازادا کرتاہے اورخوف اور بیماری اورفتنہ کی حالتیں اس کو نماز سے روک نہیں سکتیں وہ بے شک خداتعالیٰ پرایک سچا ایمان رکھتاہے۔ مگر یہ ایما ن غریبوں کو دیا گیا۔ دولتمند اس نعمت کو پانے والے بہت ہی تھوڑے ہیں‘‘۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن۔ جلد ۳۔ صفحہ ۵۴۰)
پھر یہ جو شرط ہے کہ ’بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول ادا کرتا رہے گا‘۔ اس کے بارہ میں ایک بزرگ مولوی فضل الٰہی صاحب بیان کرتے ہیںکہ حضرت مرزاایوب بیگ صاحب رضی اللہ عنہ کاکیا نمونہ تھا۔ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب ؓسے بڑی محبت تھی۔ ایک دن مَیں نے مغرب کی نماز مرزا ایوب بیگ صاحب کے ڈیرے پر پڑھی۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی وہیں تھے۔ مرزا ایوب بیگ صاحب کی نماز اَلصَّلٰوۃُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ کا رنگ رکھتی تھی۔ وہ جب نماز پڑھتے تھے تو دنیا کے خیالات سے لاپرواہ ہوتے اور ان کی آنکھوں سے آنسو گر اکرتے تھے۔ اس دن انہوں نے غیر معمولی طورپر نماز لمبی پڑھی۔ نمازکے بعد سب لوگ بیٹھ گئے تو مرزا صاحب سے پوچھا گیا کہ آج نماز تو آپ نے بہت لمبی پڑھی ہے اس کی کیا وجہ ہے۔ پہلے تو آ پ نے نہ بتلایا مگر اصرار ہونے پرکہاکہ جب مَیں درُود پڑھنے لگا تو مجھے کشف ہوا کہ آنحضرتﷺایک پلیٹ فارم پرٹہل رہے ہیں اور دعا مانگ رہے ہیں۔ مرزا صاحب نے عربی الفاظ بھی بتلائے اوردعا کا ترجمہ بھی بتلایا۔ اس کا مطلب یہ تھاکہ اے خدا ! میری امت کو ضلالت سے بچا اور اس کی کشتی کو پار لگا۔ مَیں اس دعا کے ساتھ آمین کہتارہا۔ پھر مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اے خدا! محمد رسول اللہﷺ کی دعائیں قبول فرما اور آپ کی امت کو گردابِ ضلالت سے بچا۔ پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا ختم کی تو مَیں نے بھی نماز ختم کردی‘‘۔ (اصحاب احمد۔ جلد ۱۔ صفحہ ۱۹۴-۱۹۵۔ مطبوعہ ۱۹۹۷ء)
تو یہ انقلاب ہے کہ جاگتے میں بھی دیدار ہو رہاہے۔
پھر حضرت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ؓاور حضرت مرزا ایوب بیگ صاحبؓ پر حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کا کیا اثر ہوا۔ اس بارہ میں ایک روایت یہ ہے بلکہ وہ خود ہی بتاتے ہیں کہ ’’ہمارے والد صاحب نے اپنے دوست کو بتایا کہ جب میرے یہ دونوں لڑکے ۱۸۹۲ء اور ۱۸۹۳ء کے موسم گرما کی تعطیلات میں میرے پاس بمقام ککرہٹہ ضلع ملتان میں آئے تو مَیں نے ان کی حالت میں ایک عظیم تبدیلی دیکھی جس سے مَیں حیران رہ گیا اور مَیں حیرت میں کہتاتھا کہ اے خدا !تُو نے کون سے اسباب ان کے لئے میسر کردئے جن سے ان کے دلوں میں ایسی تبدیلی ہوئی کہ یہ نُوْرٌ عَلٰی نُوْر ہو گئے۔ یہ ساری نمازیں پڑھتے ہیں اور ٹھیک وقت پر نہایت ہی شوق اور عشق اور سوزوگداز کے ساتھ اور نہایت رقّت کے ساتھ کہ ان کی چیخیں بھی نکل جاتیں۔ اکثر ان کے چہروں کو آنسوئوں سے تر دیکھتا اورخشیّت الٰہی کے آثار ان کے چہروں پر ظاہر تھے۔ اس وقت ان دونوں بچوں کی بالکل چھوٹی عمرتھی۔ داڑھی کاآغاز تھا۔ مَیں ان کی اس عمر میں یہ حالت دیکھ کر سجدات شکر بجا لاتا نہ تھکتا تھا اور پہلے جو اُن کی روحانی کمزور ی کا بوجھ میرے دل پرتھا وہ اتر گیا۔
والد صاحب نے اس دوست سے کہا کہ ان کی اس غایت درجہ کی تبدیلی کا عقدہ مجھ پر نہ کھلا کہ اس چھوٹی سی عمرمیں ان کو یہ فیض اور روحانی برکت کہاںسے ملی۔ کچھ مدت کے بعد یہ معلوم ہوا کہ یہ رُشد اِنہیں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی بیعت سے حاصل ہوئی ہے اور والد صاحب کو حضرت صاحب کی بیعت میں شامل کرنے کا ایک بڑا بھاری ذریعہ ہماری تبدیلی تھی۔ (یعنی بچوں کی تبدیلی سے والد احمدی ہوئے) جس نے ان کو حضرت اقدس کی طہار ت اور انفاس طیبہ کی نسبت اندازہ لگانے کا اچھا موقعہ دیا‘‘۔ (اصحاب احمد۔ جلد ۱۔ صفحہ ۱۸۶۔ مطبوعہ ۱۹۹۷ء)
حضرت چوہدری نصراللہ خان صاحب ؓکا نمونہ،جو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے والد تھے۔ ان کے ایک بیٹے کہتے ہیں کہ:’’میری طبیعت پر بچپن سے یہ اثرتھاکہ والد صاحب (چوہدری نصراللہ خان صاحبؓ)نماز بہت پابندی کے ساتھ اور سنوار کر ادا فرمایا کرتے تھے اورتہجد کاالتزام رکھتے تھے۔ مَیں اپنے تصور میں اکثروالد صاحب کو نمازپڑھتے یا قرآ ن کریم کی تلاوت کرتے دیکھتاہوں۔ بیعت کرلینے کے بعد فجرکی نمازکبوتراں والی مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ مسجد ہمارے مکان سے فاصلے پرتھی اس لئے والد صاحب گھرسے بہت اندھیرے ہی روانہ ہو جایا کرتے تھے۔ ‘‘(اصحاب احمد۔ جلد ۱۱۔ صفحہ ۱۶۳۔ مطبوعہ ۱۹۶۲ء)
پھر بلاناغہ نمازوں کی پابندی کے بارہ میں حضرت بابوفقیر علی صاحب رضی اللہ عنہ کا ایک نمونہ پیش کرتاہوں۔ آپ’’دل بہ یا ر دست بہ کار‘‘ پرعمل پیرا تھے۔ ایم بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس زمانہ میں انگریزوں کا رعب داب بھی بہت تھا۔ وہ کہتاتھا مولوی صاحب! کو ئی حادثہ کروا دو گے۔ ہروقت نماز پڑھتے رہتے ہو۔ آپ اس کی ایسی باتوں سے بہت تنگ پڑے۔ ایک روز دروازہ اورکھڑکی آپ نے بند کی (دفتر کی ) اور اس کے قریب ہو کر بات کرنے لگے۔ تو وہ گھبرا گیا مباد ا آپ حملہ کردیں۔ آپ نے اسے اطمینان دلایا کہ میرا ایساارادہ نہیں۔ مَیں علیحدگی میں بات کرنا چاہتا ہوں جو یہ ہے کہ آپ دفترمیں قضائے حاجت پروقت صرف کرتے ہیں۔ اسی طرح چائے سگریٹ پینے پر بھی۔ پھرمجھ پر معترض کیوں ہیں؟ کہنے لگا یہ امور تو مقتضائے طبیعت ہیں۔ آ پ نے کہا: مَیںآپ کے ماتحت ہوں ،آ پ کی فرمانبرداری کروں گا لیکن صرف انہی احکام میں جو فرض منصبی سے متعلق ہوں۔ دیگر امور کے متعلق اطاعت مجھ پر فرض نہیں۔ اس لئے نمازوں سے آپ کے کہنے پرمَیں رُک نہیں سکتا۔ میر ی غفلت سے حادثہ رونما ہو یاٹرین میں تاخیرہو جائے تو بے شک آ پ مجھ سے نرمی کا سلوک نہ کریں۔ یہ کہہ کر آپ نے دروازہ اورکھڑکی کھول دی۔ وہ آپ کی گفتگو سے بہت حیران ہوا۔ … اس گفتگو کا اس پر ایسااثر ہوا کہ آپ کے لوٹے کو ہاتھ ڈالتے ہی وہ کہتا:مولوی صاحب آپ تسلی سے نماز پڑھیں ،مَیں آپ کے کام کاخیال رکھوں گا۔ ایک دن آپ کا روکھا سوکھا کھانا دیکھ کربھی اس پربہت اثر ہوا کہ ان کا یہ حال ہے ‘‘۔ (اصحاب احمد۔ جلد ۳۔ صفحہ ۶۱۔ طبع ثانی بعد اضافہ۔ قادیان، بھارت)
یہاں انگلستان میں ایک ہمارے پرانے احمدی بلال نٹل صاحب جب احمدی ہوئے تو انہوں نے اپنے لئے ’’بلال‘‘ نام کا انتخاب کیا اور پھرحضرت بلالؓ ہی کے تتبع میں انہوں نے نماز کی خاطر بلانے میں(اذان دینے میں) ایک خاص نام پیدا کیا۔ انہیں سچ مُچ نماز کے لئے بلانے کا از حد شوق تھا۔ (تلخیص از ماہنامہ انصاراللہ۔ جون ۱۹۶۵ء۔ صفحہ ۳۶)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۱۲تا۲۱۶)
مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں



