شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
نمازوں کی پابندی اور تہجد میں شغف
پھرنمازوں کی پابندی اور تہجد کی ادائیگی کے بارہ میں بھی شرائط بیعت میں حکم آتاہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’مَیں دیکھتاہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقویٰ ترقی پذیر ہے۔ اور ایام مباہلہ کے بعد گویا ہماری جماعت میں ایک اور عالم پیدا ہوگیاہے۔ مَیں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرّع کرتے ہیں۔ ناپاک دل کے لوگ ان کوکافر کہتے ہیں اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں‘‘۔ (ضمیمہ انجام آتھم۔ روحانی خزائن۔ جلد ۱۱۔ صفحہ ۳۱۵۔ حاشیہ)

یہاں پھر میں گھانا کی ایک مثال دیتاہوں جہاں لوگوں نے ایسی تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کی ہیں جو خود میرے تجربے میں آئیں کہ لمبا سفر کرکے آئے ہیں اور رات کو لیٹ پہنچے، بارہ بجے کے قریب سونے کا موقعہ ملا۔ رات کو جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ڈیڑھ دو بجے کا وقت ہوگا۔ مسجد میں بیٹھے ہیں اور سجدہ ریزہیں۔
ایک روایت آتی ہے حضرت منشی محمد اسماعیلؓ فرماتے تھے کہ مجھے صرف ایک نماز یاد ہے جو میں باجماعت نہیں پڑھ سکا (سوائے مجبوری کے) وہ بھی مسجد سے ضروری حاجت کے لئے واپس آنا پڑا تھا۔ (اصحاب احمد۔ جلد اوّل۔ صفحہ ۱۹۶۔ مطبوعہ ۱۹۵۱ء)
حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ کے بارہ میں ہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرکے اپنے شہرسیالکوٹ واپس گئے تو یکدم لوگوں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی سابقہ لغوعادات یعنی تاش کھیلنا اور بازار میں بیٹھ کر گپیں ہانکنا سب چھوڑ دیاہے اور نماز تہجد باقاعدہ شروع کردی ہے۔ ان کے حالات میں اس قدر غیر معمولی تغیر دیکھ کر سب بہت حیران ہوئے۔ (تلخیص از اصحاب احمد۔ جلداول۔ صفحہ ۲۰۰۔ مطبوعہ ۱۹۵۱ء)
قادیان میں نمازوں اور تہجد کے ا لتزام کے بارہ میں حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ فرماتے ہیں کہ مَیں قادیان میں سورج گرہن کے دن نماز میں موجود تھا۔ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی نے نماز پڑھائی اور نماز میں شریک ہونے والے بے حد رو رہے تھے۔ اس رمضان میں یہ حالت تھی کہ صبح دو بجے سے چوک احمدیہ میں چہل پہل ہو جاتی۔ اکثر گھروں میں اور بعض مسجد مبارک میں آ موجود ہوتے جہاں تہجد کی نماز ہوتی، سحری کھائی جاتی اور اوّل وقت صبح کی نماز ہوتی اس کے بعد کچھ عرصہ تلاوت قرآن شریف ہوتی اور کوئی آٹھ بجے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیر کے لئے تشریف لے جاتے۔ سب خدام ساتھ ہوتے۔ یہ سلسلہ کوئی گیارہ بارہ بجے ختم ہوتا۔ اس کے بعد ظہر کی اذان ہوتی اور ایک بجے سے پہلے نماز ظہر ختم ہوجاتی اور پھر نمازعصر بھی اول وقت میں پڑھی جاتی۔ بس عصر اور مغرب کے درمیان فرصت کاوقت ملتا تھا۔ مغرب کے بعد کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر آٹھ ساڑھے آٹھ بجے نماز عشاء ختم ہوجاتی اور ایساہُو کا عالم ہوتاکہ گویا کوئی آباد نہیں مگر دوبجے سب بیدار ہوتے اور چہل پہل ہوتی‘‘۔ (اصحاب احمد۔ جلد ۲۔ صفحہ ۷۷۔ مطبوعہ ۱۹۵۲ء)
پھر نواب محمد عبداللہ خان صاحب کے بارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایک روایت لکھی ہے کہ ’’نماز کے عاشق تھے۔ خصوصاً نماز باجماعت کے قیام کے لئے آ پ کا جذبہ اور جدوجہد امتیازی شان کے حامل تھے۔ بڑی باقاعدگی سے پانچ وقت مسجد میں جانے والے۔ جب دل کی بیماری سے صاحب فراش ہوگئے تو اذان کی آواز کو ہی اس محبت سے سنتے تھے جیسے محبت کرنے والے اپنی محبوب آواز کو۔ جب ذرا چلنے پھر نے کی سکت پیدا ہوئی تو بسا اوقات گھر کے لڑکوں میں سے ہی کسی کو پکڑ کر آگے کھڑا کر دیتے اور باجماعت نماز ادا کرنے کے جذبہ کی تسکین کرلیتے۔ یا رتن باغ میں نماز والے کمرہ کے قریب ہی کرسی سرکا کر باجماعت نماز میں شامل ہوجایا کرتے۔ جب ماڈل ٹائون والی کوٹھی لی تووہیں پنجوقتہ باجماعت نماز کا اہتمام کرکے گویا گھر کو ایک قسم کی مسجد بنا لیا۔ پانچ وقت اذان دلواتے۔ موسم کی مناسبت سے کبھی باہرگھاس کے میدان میں ، کبھی کمرے کے اندر چٹائیاں بچھوانے کا ا ہتمام کرتے اور بسا اوقات پہلے نماز ی ہوتے جو مسجد میں پہنچ کردوسرے نمازیوں کا انتظار کیا کرتے۔ مختلف الانواع لوگوں کیلئے اپنی رہائش گاہ کو پانچ وقت کے آنے جانے کی جگہ بنا دینا کوئی معمولی نیکی نہیں۔ خصوصاً ایسی حالت میں اس نیکی کی قیمت اَور بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ صاحبِ خانہ کا رہن سہن کا معیار خاصا بلند ہو (اور) معاشرتی تعلقات کا دائرہ بہت وسیع ہو‘‘۔ (اصحاب احمد۔ جلد ۱۲۔ صفحہ۱۵۲-۱۵۳۔ مطبوعہ ۱۹۶۵ء)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۰۹تا۲۱۲)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: غضِّ بصر سے کام لو، اپنی نظروں کو نیچا رکھو




