حالاتِ حاضرہ

مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ ماہ اپریل اور مئی ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب (قسط ہفتم)

اسلام

احمد اور احمدی:حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۱ءمیں ازالہ اوہام کے حصہ اول کی تصنیف کرتےہوئے لکھا کہ’’ اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اورکسی شخص کانام غلام احمد نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالاگیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کےتمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں…‘‘(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۹۰)

چونکہ آپ علیہ السلام کے والد محترم کا نام ’’غلام مرتضیٰ‘‘ اور آپ کے بڑے بھائی کا نام ’’غلام قادر‘‘ تھا۔ اس لحاظ سےگھراور خاندان میں آپ کے نام کا منفردحصہ ’’احمد ‘‘تھا۔ اورآپ کی مذکورہ بالا تحریر کا سیاق یوں ہےکہ آپؑ نے اپنے مقدس نام کی اس ندرت کو استعمال کرتےہوئے علم الاعداد کی رو سے ۱۳۰۰ء کا عدد اور مسیح کی تیرہویں صدی پورےہونے پر ظاہر ہونے ایمان افروز نشان کا ذکر فرمایاہے۔

احمدکے بعد احمدی یا احمدیہ/احمدیت کی بات کریں توحضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحب اپنی تصنیف ’’تذکرۃ المہدی‘‘ حصہ اوّل میں بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ نماز عشاء کے وقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ بہت سے لوگوں کے ہر شہر و دیارسے خط آرہے ہیں کہ مردم شماری ہورہی ہے ہم اپنا کیا نام لکھوائیں۔ ہماری جماعت اور سلسلہ کانام بھی ہونا چاہيے۔

اس پر پیر صاحب نے عرض کیا کہ میرا مشورہ ہے کہ ہمارا نام پہلے محمدی تھا ا ب احمدی رکھا جاو ے اورمحمد و احمد آنحضرتﷺ کے نام ہیں تو گویا ہم دونوں پہلوؤں سے محمدی احمدی ہوجائیں گے… اس پر حضورؑ نے فرمایا کہ درست ہے احمدی فرقہ دنیا میں کوئی نہیں ہےاور احمدی نام پر بہت بزرگوں کے نام ہیں مگر کسی فرقہ یاکسی سلسلہ کا نام احمدی نہیں ہے… اس پر حضرت اقدس علیہ السلام مجلس سے اٹھ کر چل دیے اور دوسرے روزایک اشتہار لکھ کر لائے جس میں اپنی جماعت کا نام مسلمان فرقہ احمدی رکھا… (صفحہ ۱۴۶-۱۴۷) اشتہارکا لنک:

https://new.alislam.org/library/books/ishtaharat-v3?option=options&page= 152

یوں آج دنیا میں جماعت احمدیہ مسلمہ دو سو سے زیادہ ممالک میں قائم، معروف اورترقی کی منازل طے کررہی ہے۔ ایسے میں خبرآئی کہ انگلستان میں ایک مذہبی گروپ کے بعض افراد کو سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ تب پاکستان میں اس حوالے سے خبریں گردش کرنے لگیں کہ یہ مذہبی گروپ ’’احمدیہ مسلم جماعت‘‘ ہے۔ یہ خبریں سوشل میڈیا کے علاوہ پاکستان کے بڑے میڈیا ہاؤس جنگ گروپ نے بھی شائع کی اور کہا کہ ’برطانیہ میں قادیانیوں کے مراکز پر چھاپے میں جنسی زیادتی کے الزامات پر نو افراد کو گرفتار کیا گیا‘۔ تاہم بعدمیں اس خبر کے حوالے سے جنگ گروپ نے معذرت کر لی۔

دراصل پولیس نے ’احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ‘ (AROPL) نامی ایک گروپ کے خلاف تحقیقات کے ليےچھاپے مارے تھےاوراس فرقے کی بنیاد عراق کے شہر بصرہ میں ۱۹۹۰ء کی دہائی کے اواخر میں رکھی گئی تھی جس کے بانی احمد الحسن نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے بذات خود امام مہدی سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں مذہبی مشن سونپا تھا۔

اے آر او پی ایل کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ بنی نوع انسان اب آخری دور میں ہے اور ۱۲ویں امام واپس آ چکے ہیں۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک حقیقی عالمگیر مذہب ہے اور اس کے ارکان مبینہ طور پر خدا کے منتخب کردہ لوگ ہیں۔ یہ فرقہ اب کئی ممالک میں فعال ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اب تک اندازاً سات ہزار لوگ رابطے میں آئے ہیں۔ اس تحریک کا سویڈن میں ایک مرکز تھا لیکن اب اس کا ہیڈ کوارٹر انگلستان میں ہے۔

الغرض جس ملک اور معاشرے میں سنسنی خیزی اور غیرذمہ دارانہ رپورٹنگ کوہی صحافت سمجھ لیا جائےوہاں حقائق مسخ ہونا بعید نہیں۔ تاہم تاریخ، مستند حوالہ جات اور خود حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیمات اس امر کو روز روشن کی طرح واضح کرتی ہیں کہ جماعت احمدیہ کی شناخت، اس کا نام اور اس کی بنیاد سراسر اسلام، احیاء اسلام اور خدمت اسلام ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر خبر کو تحقیق، دیانت اور انصاف کے اصولوں پر پرکھا جائے۔

یہودیت

اب عیسائی بھی زیر عتاب ہیں:اسرائیل کے یہودیوں کے ہاتھوں پورے خطّے میں بسنے والے معصوم مسلمانوں پرہونے والے مظالم پر دنیا خاموش رہی۔ نسل کشی کے الزامات لگے، شواہد پیش کيے گئے مگر اہل دنیا نے سنی ان سنی کردی۔ اب اسی اسرائیل میں عیسائی مذہب کے ماننے والوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ ان خبروں کا مزید شواہد سامنے آنےپر ٹھیک تجزیہ ہوسکے گا۔ فی الحال کچھ بات ہوجائے فریسیوں کی۔

فریسی کون؟:خبر یہ ہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع کی بےرحم اور بےسمت جنگی پالیسیوں پر میڈیاوالے اور سیاست دان جب ان سے اختلاف کرتے ہیں تو یہ صاحب اپنے ناقدین کو فریسی کہہ دیتے ہیں جوبائبل کا لفظ ہے۔

صدوقیوں کی طرح فریسی بھی یہودیوں کا ایک قدیم مذہبی اور سماجی گروہ تھاجو بزرگوں کے اقوال کی تقلید کو بھی ضروری خیال کیا کرتا تھا اور عہد نامہ جدید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے یہودیوں کوفقیہی اور فریسی گروہوں کے افراد کےطورپر مخاطب کیا کرتے تھے۔ تب اس فرقہ کی حالت کے مطابق فریسی کا مطلب تھا : ریاکار، ظاہردار یا مذہبی منافقت سے بھرا شخص اور آج امریکہ کا وزیر دفاع اپنے ناقدین کو “modern-day Pharisees” کہہ رہا ہےکیونکہ ان صاحب کے مطابق یہ سیاست دان اور صحافی بظاہر تو مذہبی آزادی اور سماجی مسائل اور اخلاقیات کی بات کرتے ہیں مگر عملی طور پر ان کی حالت اس کے برعکس ہے۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج مذہبی اصطلاحات کا سیاسی استعمال دنیا میں موجود گہری تقسیم اور اشتعال کومزید بڑھارہا ہےاور سیاست و توسیع پسندی میں مذہب کااستعمال بطور ایک ہتھیار بھی سب کے سامنے ہے۔

عیسائیت

زمرہ مقدسین:ایک خبر کے مطابق رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو نے پانچ افراد کو’’ زمرہ مقدسین‘‘ میں شامل کرنے یعنی ان کو سینٹ یامقدس/ ولی قرار دیے جانے کے عمل کو آگے بڑھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ کیتھولک چرچ میںSainthood کے ذریعہ چرچ کی طرف سے کسی متوفی شخص یا عورت کو باضابطہ طور پر اس عظیم مرتبہ پر فائزکیاجاتاہےاور یہ اس بات کا اعلان ہے کہ وہ شخص اپنی زندگی میں مثالی مسیحی خوبیوں کا حامل تھا اور اب جنت میں خدا کے حضور ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سینٹ وہ ہستیاں ہیں جو روائتی کیتھولک عقیدے کے مطابق آسمان پر خدا کے حضور ہیں اور زمین پر موجود مومنین کے لیے خدا سے شفاعت /دعا کر سکتی ہیں۔

چرچ ایک طویل کارروائی اور گہری تحقیق و تفتیش کے بعد کسی فرد کو سینٹ کا درجہ دیتا ہے، اس میں اس شخص کی زندگی کے نیک اعمال اور معجزات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہےاور رومن کیتھولک کے سالانہ کیلنڈر میں ہر سینٹ کا ایک خاص دن (Feast Day) ہوتا ہے جس دن ان کی یاد منائی جاتی ہے۔

بدھ مت

بدھ مت براعظم ایشیا کا ایک قدیم مذہب ہے جس کی بنیاد سدارتھ گوتم بدھ نے چھٹی صدی قبل مسیح میں رکھی۔ اس کا مرکزی مقصد انسانی زندگی کے دکھ کا خاتمہ اور نجات کا حصول ہے۔ بدھ مت کی بنیادی تعلیمات چار عظیم حقائق اورمخصوص آٹھ راستوں پر مشتمل ہیں، جن کے ذریعے انسان اپنی خواہشات، لالچ اور نفسانی کمزوریوں پر قابو پا کر روحانی سکون حاصل کرسکتا ہے۔

اسی طرح بدھ مت عدم تشدد، سچائی، ہمدردی، ضبط نفس اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک پربہت زور دیتا ہے اورشائد یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بدھ مت کو ایک پرامن اور اخلاقی نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہےاورترقی یافتہ دنیا میں بعض لوگ بدھ مت کو فیشن کے طور پر اختیار کرتے ہیں، جہاں صرف مراقبہ یامحض ظاہری علامات کو اپنایا جاتا ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود فرماتےہیں کہ’’مذہب کی صداقت اس میں ہے کہ انسان خدا سے کسی حالت میں بھی الگ نہ ہو۔ وہ مذہب ہی کیا ہے اور زندگی ہی کیسی ہے کہ تمام عمر گذر جائے مگر خدا کانام درمیان کبھی بھی نہ آوے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ سارےنقائص صرف بےقیدی اورآزادی کی وجہ سےہیں اور یہ بے قیدی ہی ہے کہ جس کی وجہ سے مخلوق کا بہت بڑا حصہ اس طرززندگی کو پسند کرتاہے۔

آج ہی ایک کتاب ہم نے دیکھی ہے جس میں بدھ کی زندگی کے حالات لکھےہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ خداکا قائل ہی نہیں تھا۔ اور کہ جو کچھ ہے یہی دنیا ہی ہے آئندہ کچھ نہیں۔

ایسے بے قید اورآزاد عقائد ہی ہیں جن کی وجہ سے کہا جاتاہے کہ دنیا کا ۴/۱ یا ۵/۱ حصہ بدھ عقائد کا پابند ہے یا ان عقائد کو پسند کرتاہے۔ مذہب کا دائرہ جتنا تنگ ہوگا اتنا ہی اس میں داخل ہونے والےلوگ بھی کم ہوں گے اور اتنی ہی نسبتاً پاکیزگی اورطہارت اس میں موجود ہوگی۔‘‘(ملفوظات جلد دہم صفحہ۳۰۱،۳۰۰، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

بدھ مت کے حوالے سے ایک خبر کے مطابق سری لنکا میں دو بدھ راہبوں کو گرفتار کیا گیاہے کیونکہ ان کے سامان سے تقریباً ۱۱۰؍کلوگرام منشیات برآمد ہوئی ہےاس واقعہ نے مقامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی کیونکہ راہب عام طور پر مذہبی تقدس اور اخلاقی معیار کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سری لنکا میں بدھ مت ماننے والوں کی تعداد ایک کروڑ ۵۴؍لاکھ سے زائد ہے، جو ملک کی کل آبادی کاسترفیصد سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔

مذکورہ بالاگرفتاری کے واقعہ کے بعدوہ دوہرا معیار بھی سامنے آتاہے جو عالمی میڈیا میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ایسا جرم کرے تو اسے مذہب سے جوڑ دیا جاتا ہے جبکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے واقعات میں اسے فرد کا عمل قرار دیا جاتا ہے حالانکہ انصاف کا تقاضا ہے کہ ایک ہی اصول سب پر لاگو ہو۔

ہندو مت/سکھ مت

بیساکھی سکھ مت اور پنجاب کی ثقافت کا ایک اہم تہوار ہے جو ہر سال عموماً ۱۳ یا ۱۴؍اپریل کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن سکھوں کے لیے اس وجہ سے بھی خاص ہے کہ ۱۶۹۹ء میں گروگوبند سنگھ نے خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھی اور سکھ شناخت کو ایک روحانی و اجتماعی رنگ دیااورایک سکھ کی نشانی کے طور پر معروف ’’پانچ ککے ‘‘یا پانچ ککار بھی متعارف کروائے۔

بیساکھی کا تہوار فصل ربیع کی کٹائی کی خوشی کا بھی اظہار ہے، اس لیے پنجاب کے دیہاتی و زراعت پر انحصار کرنے والے معاشروں میں اس کی خاص اہمیت ہے اس موقع پر گردواروں میں عبادات، شکرانے کی دعائیں، لنگر اور جلوس منعقد کیے جاتے ہیں۔ پنجابی کیلنڈر کے ساتھ یہ مہینہ ہندو بکرمی تقویم میں بھی ہے۔ جو وسط اپریل سے شروع ہوکر وسط مئی تک جاری رہتا ہے اور ہندو مذہب میں بھی ویساکھ بوجوہ خاص سمجھا جاتا ہے۔

(اواب سعد حیات)

مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ (ماہ اپریل۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)(قسط ششم)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button