مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ (ماہ اپریل۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)(قسط ششم)
اسلام
قیادت کا بحران :آج امت مسلمہ جہاں فقہی اورمسلکی تفریق کا شکارہے وہاں تصوف کی بنیاد پر بھی گروہی انتشار نظر آتاہےمثلاً براعظم افریقہ کے شمال مغرب میں واقع مسلم ملک مراکو /مراکش میں ایک صوفی سلسلہ ہے جسے البودشيشيہ (Boudchichiyya) کہا جاتا ہےجو ملک کی سب سے نمایاں اور بااثر صوفی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ دراصل قدیم صوفی سلسلہ القادریہ کی ہی ایک شاخ ہے، جس کی نسبت مشہور صوفی بزرگ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے ملتی ہے اور نام بودشییش خاندان کی نسبت سے آیا ہے جو اس سلسلے کی قیادت کرتا رہا ہے۔اس سلسلہ کے لکھوکھہا پیروکار مراکش سے باہر یورپ میں بھی موجود ہیں۔
اس صوفی فرقے کی جدید شناخت ۱۹۴۰ء کی دہائی میں مضبوط ہوئی تب نمایاں نام شیخ حمزہ القادری البودشيشی کا تھا اور ان کے بعد قیادت ان کے افراد خاندان میں منتقل ہوتی رہی، جس پر بعض اختلافات بھی سامنے آئے اور یہی ہماراآج کا موضوع ہے۔
مراکش میں اس صوفی طریقہ کو ایک اعتدال پسند مذہبی قوت سمجھا جاتا ہےکیونکہ حکومت وقت اسے شدت پسندی کے مقابلے میں مثبت گروہ کے طور پر دیکھتی ہے۔الغرض ملک کی سب سے مشہور اور سب سے بڑی اور اثر رکھنے والی صوفی تحریک کے سربراہ شیخ جمال الدین القادری بودشيش کی اگست ۲۰۲۵ء میں وفات کے بعد سوال پیدا ہوا کہ ان کے بعد قیادت کس کے پاس جائے گی۔ تب ایک بیٹے شیخ منیر کو جانشین قرار دیا گیا تھا، مگر انہوں نے دستبرداری اختیار کرلی تو پھر دوسرے بیٹے شیخ معاذ کے بارے میں بھی بعض الزامات سامنے آئے جس کی وجہ سے اس جماعت کے اندر اور باہر شدید بحث و اختلاف پیدا ہوا۔ جبکہ بعض تازہ خبروں کے مطابق کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور یہ تنازع ختم ہونے والاہے۔
لیکن یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ جب خدا تعالیٰ خود کسی سلسلہ کو قائم فرمائے، اس میں نظام خلافت جاری کرے ،خلیفہ کے انتخاب، اس کی حفاظت اور ہر آن مدد و نصرت کا وعدہ بھی اپنے ذمہ لے لے تو پھر دنیاوی حاکموں کی تدبیروں سے قائم ہونے والے نظام، تحریکیں اور گروہ گو بظاہر کچھ عرصہ شور برپا کر لیں، وقتی اثرات پیدا کر دیں، مگر انجامِ کار ناکامی، انتشار اور جگ ہنسائی ہی ان کا مقدر بنتی ہے۔کیونکہ خدائی جماعتوں کو ہی تائیدیافتہ امامت کے زیرسایہ استحکام، ترقی اور غلبہ نصیب ہوا کرتا ہے۔
رازق خدا:خبرہے کہ ایک ننھے پرندے نےمسلسل پروازکا عالمی ریکارڈ بناتےہوئے بغیر رکے، کھائے پیے یا سوئے، زمین کے تقریباً ایک تہائی حصے کے برابر پرواز کی۔پرندوں کی سالانہ موسمی ہجرتوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق Bar-tailed Godwit نے محض ۵ماہ کی عمر میں الاسکا سے آسٹریلیا کے تسمانیہ تک ۸,۴۲۵ میل کا فاصلہ صرف ۱۱ دن اور ایک گھنٹے میں طے کیاہے ۔اپنی زندگی کی پہلی ہجرت میں اس نے بغیر کسی وقفے کے بحرالکاہل عبور کیا۔ قدرتی طور پر اس پرواز سے پہلے پرندے کے جسم میں بڑی مقدار میں چربی ذخیرہ ہوئی، جبکہ وزن کم کرنے کے لیے کچھ اندرونی اعضاء سکڑ گئے اور اس نے پورے سفر میں مسلسل اپنے پَر پھڑپھڑائے۔ننھے پرندوں میں بےپناہ برداشت اور ہزارہا میل تک بغیر بھٹکے درست سمت میں کامیاب سفر کی خدا داد صلاحیت کی نئی مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورت ھود میں فرماتا ہے:وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا وَیَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَمُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ (ھود:۷)یعنی زمین میں ایسا کوئی بھی جاندار نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔اور ہر جاندار اپنی عارضی رہائش کی جگہ کوبھی اور اپنی مستقل رہائش کی جگہ کو فطری طورپر جانتا اور سمجھتا ہےیقیناً یہ سب کچھ ایک واضح کر دینے والی کتاب میں موجود ہے۔
اس پرندے نے ہزاروں میل کا سفربظاہر بغیر کسی ظاہری غذا یا پانی کے طے کیا، مگر حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظامِ رزق ہی پر چلتا رہا ہے۔ جسم میں چربی (fat)کا ذخیرہ ہونا، اعضاء کا عارضی طور پر سکڑنااور ناقابلِ یقین برداشت،یہ سب اسی رازق خدا کی تدبیر کا حصہ ہے۔ گویارزق صرف فوری کھانے پینے کا نام نہیں بلکہ پہلے سے مہیا کردہ وسائل بھی رزق ہی کی ایک شکل ہیں۔اس پرندے کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کے لیے اس کے حالات کے مطابق رزق کا بندوبست کرتا ہے۔
یہودیت
عید فسح:Passover یا عیدِ فسح یہودیوں کا ایک اہم مذہبی تہوار ہے جو بنی اسرائیل کی مصر کی غلامی سے نجات کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد حضرت موسیٰؑ کے زمانے کے اس تاریخی واقعہ پر ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرعون مصر کے ظلم سے بنی اسرائیل کو رہائی عطا فرمائی تب تاکیدکی گئی کہ ’’ اس دن کو ہر سال عید سمجھ کر منانا اور ہمیشہ ایسا کرنا‘‘ (خروج باب ۱۲ آیت ۱۷)
امسال یہ تہوار ماہ اپریل کے پہلے ہفتے میں منایا گیا (مختلف یہودی روایات میں مدت میں معمولی فرق ہو سکتا ہے) اس تہوارکے موقع پر یہودی لوگ خاص کھانے مثلاً بغیر خمیر کی روٹی استعمال کرتے ہیں، جو غالباً مصر سے بلا توقف نکلنے کی علامت ہے۔نیز گھروں میں خصوصی مذہبی اجتماع میں خروجِ مصر کی کہانی پڑھی اور بیان کی جاتی ہے۔
یوم ہاشواہ:یہودنے ۱۴ اپریل ۲۰۲۶ء کو’’ یوم ہاشواہ‘‘ بھی منایا جو ہولوکاسٹ کی یاد میں تھا۔ ہولوکاسٹ کا تجزیہ آئندہ کسی اچھے موقع پر ہوسکے گا۔ عام طور پر پڑھایا جاتا ہے کہ نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی کی گئی تھی۔
یوم ہاشواہ عبرانی کیلنڈرکے مہینہ ’نسان‘ کی ۲۷؍ تاریخ کو منایا جاتاہےجو عمومًا اپریل /مئی میں بنتاہے۔ میڈیا کے مطابق یوم ہاشواہ کا مقصد صرف ماضی کے ظلم کو یاد کرنا نہیں بلکہ انسانیت کو نفرت، نسل پرستی اور مذہبی تعصب کے خطرات سے خبردار کرنا بھی ہےاور یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب اخلاقی اقدار کمزور ہو جائیں اور طاقتور ظلم ڈھانے پر اتر آئے تو کس قدر بڑا انسانی المیہ جنم لیا کرتا ہے۔
ایک شاعر نے کہا تھا کہ
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
مگرطاقت اوراقتدارکے نشےمیں چُورلوگ کہاں سمجھتے ہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں امریکہ نے اسرائیل کوکئی سو ملین ڈالر کے فوجی سامان کی فروخت کی منظوری دی، جس میں گولہ و بارود کے ساتھ ساتھ بلڈوزر بھی شامل تھے۔جس پر امریکی کانگریس میں احتجاج بھی ہوا اور اس کے خلاف قرارداد پیش کی گئی جس میں خاص طور پر بلڈوزروں کی فروخت روکنے کا ذکر تھا۔اس پر سینیٹ میں ووٹنگ بھی ہوئی لیکن اکثریت نے اسے مسترد کر دیا، یوں فروخت رک نہ سکی۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ بلڈوزر کوئی عام تعمیرات وغیرہ کےلیے نہیں بلکہ فوجی مقاصد، خصوصاً عمارتیں گرانے اور زمین صاف کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور غزہ اور مغربی کنارے میں گھروں کی مسماری کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان کی فراہمی انسانی حقوق کے مسائل پیدا کرتی ہےاوریہ معاملہ صرف فوجی نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشی نوعیت کا بھی ہے۔
حضرت بانی اسلام ﷺ نے دفاعی جنگوں اوراپنے خلاف ہونے والی مسلسل فوجی کارروائیوں کے ماحول میں بھی صحابہ کرامؓ کو تاکیدی نصیحت فرمائی ہوئی تھی کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا اور کھیتیوں اور درختوں کو تباہ نہ کرنا اوریوں یہ اللہ کے خاص بندے اپنے محارب دشمن پر فتح پاکر بھی نہ تو ان کی کھیتیاں اور فصلیں تباہ کرتے، نہ عمارتیں ڈھاتے اور نہ بستیوں کو ویران کیا کرتے تھے۔
کسر صلیب:حال ہی میں جب اسرائیلی افواج دنیا وی قوانین، اداروں اور معاہدوں کے تقدس کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ہمسایہ ملک لبنان میں قیامت ڈھا رہی تھیں تو ایک تصویر آن لائن وائرل ہوئی جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے سے حضرت عیسیٰؑ کے ایک مجسمے پر وار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس پر اسرائیل کے وزیرِاعظم نے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کی ’شدید ترین الفاظ میں مذمت‘ کی اور کہا کہ وہ اوراسرائیلیوں کی بھاری اکثریت اس واقعے کے بارے میں جان کر ’دلبرداشتہ‘ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں واحد مقام ہے جہاں تمام مذاہب کے لیے عبادت کی آزادی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ ہم اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے پہنچنے والی کسی بھی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔
بیک وقت ذاتی کاروبار و تجارت بھی اور زمام حکومت چلانے والے ان سیاست دانوں کے بیانات کی اصل حقیقت تو دنیادیکھ ہی رہی ہے۔یاد رہے کہ یہ صرف اسلام ہی ہے جو مذاہب عالم کے معابد اور مقدسین کی حفاظت کا ضامن ہے ، فرمایا: وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا(الحج:۴۱)یعنی اگر اللہ ان کفار میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے شرارت سے باز نہ رکھتا تو گرجے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے سب برباد کر دیے جاتے۔
جنگ اور تنازعات کے ماحول میں اخلاقی اقدار مرتی ہیں اور انہی کی بحالی اصل امن کی بنیاد بنتی ہے۔
عیسائیت
پوپ اور ٹرمپ کے بیانات: عیسائی مذہب میں رومن کیتھولک پوپ کا مقام بہت زیادہ عزت و تکریم کاحامل سمجھا جاتاہے۔ مگر حال ہی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ لیو چہاردہم پر سخت تنقید کی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں، امریکی صدر نے لکھا کہ پوپ خارجہ پالیسی کے لیے ’انتہائی خراب‘ ہیں نیزکہا کہ میں ان کا بڑا مداح نہیں ہوں ۔
دراصل پوپ لیو نے ٹرمپ کی اس دھمکی پر تنقید کی تھی کہ اگر ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ نہ کیا تو ایک پوری تہذیب آج رات مر جائے گی اوراسے ’’واقعی ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا تھا کہ یقیناً بین الاقوامی قانون پر بھی سوالات موجود ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک اخلاقی سوال ہے۔
رومن کیتھولک پوپ نے کہا کہ مجھے ٹرمپ حکومت سے کوئی خوف نہیں اورمیں جنگ کے خلاف بولتا رہوں گااوردنیا کوچند ظالموں کے ہاتھوں سے تباہ ہوتا ہوا قرار دیااورجمہوریت کے اخلاقی زوال سے خبردار کیا نیز کہا کہ میں ٹرمپ سے جھگڑا نہیں چاہتا۔
پوپ کی تنقید بالکل بجا ہے کہ کچھ لوگ مذہب کو جنگ کے جواز کے لیے استعمال کرتے ہیں اور دوسری طرف ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنی ہوئی ایک ایسی تصویر شیئر کی جس میں وہ خود کو مذہبی علامت کے طور پر دکھا رہے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہب آج بھی سیاست میں طاقتور ہتھیار ہے۔
دورہ افریقہ:پوپ لیو کے حالیہ دورہ افریقہ کی بات کی جائے تو انہوں نے ۱۳اپریل ۲۰۲۶ء سے الجزائر،کیمرون، انگولا اور ایکویٹوریل گنی کا اپنا دس روزہ دورہ شروع کیا گو بظاہر اس دورے کا براعظم افریقہ میں عیسائیت کی تعداد بڑھنے سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے لیکن شاید چرچ کا مستقبل بڑی حد تک اسی براعظم سے وابستہ ہے کیونکہ یورپ اور ترقی یافتہ دنیا میں الوہیت مسیح، تثلیث اور کفارہ جیسے عقائد کا گورکھ دھندا سمجھنا اور یقین کروانا مشکل تر ہوتا جارہاہے۔
(اواب سعد حیات)
مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ




