متفرق مضامین

چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۱۵)

(امۃ الباری ناصر)

۱۲۲۔وہ کہتے ہیں یہ کوچہ مسدود ہے

تلاش اس کی عارف کو بے سود ہے

مسدود masdood: روکا گیا، بند کیا گیا Closed, shut, stopped

عارف a’aref: عرفان رکھنے والا ‘علم والاOne who delves deep into the secret of things

وہ کہتے ہیں کہ الہام کا راستہ بند ہوگیا ہے۔ اب کوئی سمجھ بوجھ رکھنے والا خدا کی تلاش کرنا چاہے تو اس کو کوئی فائدہ نہ ہوگا وہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کی توقع نہ رکھے۔ راستہ بند ہے۔

۱۲۳۔وہ غافل ہیں رحماں کے اس داب سے

کہ رکھتا ہے وہ اپنے احباب سے

غافل ghaafel: بے پروا، بے خبر Ignorant

داب daab: آداب ، طرز، ڈھنگ، سلوک Manner, way

احباب ahbaab: (حبیب کی جمع) پیارے دوست Friends, lovers, dear ones

وہ بے خبر ہیں یعنی وید وں کو اس بات کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سےسلوک کا طریق کیا ہے۔ وہ اپنے بندوں سے کیسا مہربان ہے۔ اپنی مخلوق سے کتنا پیار کرتا ہے انہیں اپنے کلام کی نعمت سے محروم نہیں رکھتا۔

۱۲۴۔اگر ان کو اس رہ سے ہوتی خبر

اگر صدق کا کچھ بھی رکھتےاثر

صدق sidq: سچائی Truth, honesty, sincerity

اگر انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا علم ہوتا اور وہ مکالمہ الہی کے شرف کو جانتے اور سچائی کا کچھ اثر رکھتے۔

۱۲۵۔تو انکار کو جانتے جائے شرم

یہ کیا کہہ دیا وید نے ہائے شرم

وید Ved: ہندوؤں کی مذہبی کتاب Vedas, the religious book of Hindus

تو الہام سے انکار کرنے میں انہیں شرم محسوس ہوتی۔ وہ اس ناقص تعلیم پر نادم اور شرمسار ہوتےکہ کیسی جاہلانہ بات کی ہے۔

۱۲۶۔نہ جانا کہ الہام ہے کیمیا

اسی سے تو ملتا ہے گنج لقاء

الہام ilhaam: اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں ڈالی گئی بات، القاء Divine revelation

کیمیا keemiyaa: نہایت مفید ، تیر بہدف، نایاب نادر شے , alchemy Unique

گنج لقا gaNj-e-leqaa: گنج یعنی خزانہ، لقا یعنی ملاقات، وصل الٰہی کی نعمت Treasure of union with God

انہیں یہ علم نہیں تھا کہ الہام تو وہ نادرو نایاب تیر بہدف نسخہ ہے جس سے وصل الہی کی نعمت میسر آتی ہے۔ اپنے معبود سے ملاقات کی قیمتی دولت ملتی ہے

۱۲۷۔اسی سے تو عارف ہوئے بادہ نوش

اسی سے تو آنکھیں کھلیں اور گوش

بادہ نوش baadah nosh: عرفانِ الٰہی کی شراب پینے والا Began to drink the wine of Divine knowledge, insight and awareness

گوش gosh: کان، شنوائی Ears, hearing

اسی کی بدولت علم و عرفان رکھنے والے اللہ کے عشق کی شراب پینے لگے یعنی اس کے عشق میں گرفتار ہوگئے۔اسی سے ان کی آنکھیں روحانی امور دیکھنے اور کانوں کو نیک باتیں سننے کی صلاحیت ملی۔

۱۲۸۔یہی ہے کہ نائب ہے دیدار کا

یہی ایک چشمہ ہے اسرار کا

نائب naa’ib: بدل ، ماتحت A substitute

اسرار asraar: (سرّ کی جمع) راز، پوشیدہ بات Divine secrets, mysteries

الہام سے خدا تعالیٰ کے وجود کا ایسے علم ہوتا ہے گویا آدھی ملاقات ہوگئی۔ دیدار نہ سہی گفتار کی نعمت تو مل گئی۔ روحانی آنکھوں سے خدا کو دیکھنے کی ایک متبادل صورت میسر آگئی۔ یہی ایک چشمہ ہے جس سے اس ہستی کافیضان پھوٹ پھوٹ کر نکلتاہے۔ اور اس کی صفات کا علم ہوتا ہے۔

۱۲۹۔ اسی سے ملے ان کو نازک علوم

اسی سے تو ان کی ہوئی جگ میں دھوم

نازک naazuk: لطیف، خوب صورت Delicate, subtle

عُلوم’uloom: علم کی جمع ، جاننا Knowledge, information

اسی نعمت کی بدولت ان کو لطیف اور دقیق معلومات ملیں۔ اسی سے دنیا میں ان کی شہرت ہوئی۔

۱۳۰۔خدا پر خدا سے یقیں آتا ہے

وہ باتوں سےذات اپنی سمجھاتا ہے

یقیں yaqeeN: بھروسہ، اعتقاد، ایمان، حتمی اعتماد، Certitude

خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین خدا تعالیٰ خود دلاتا ہے اس کے کلام سے اس کے ہونے کا پتہ لگتا ہے۔اور اس کی صفات اور قدرتوں سے شناسائی ہوتی ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: حضرت مالک بن عوفؓ کے اشعار

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button