ربوہ کا موسم(۵تا۱۱؍جون ۲۰۲۶ء)
۵؍جون جمعۃ المبارک کو نماز فجر کے وقت ہلکی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اس ہوا میں دو پہر تک خنکی قائم رہی لیکن پھر یہ لُو میں تبدیل ہوگئی۔ شدید گرمی کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے۔ شام کے وقت یہ ہلکی ہوا بھی بند ہوگئی اور قدرے حبس بن گیا۔ ہفتہ کو صبح کے وقت ہلکی خنک ہوا چل رہی تھی۔ آسمان بادلوں سے خالی ہونے کی وجہ سے دوپہر کو دھوپ خوب نکلی رہی، عصر کے وقت آسمان پر بادل دکھائی دیے، ایسے لگتا تھا کہ آندھی کے ساتھ بارش ہوجائے گی۔ لیکن یہ بادل آندھی اور بارش کے بنا ہی رفو چکر ہوگئے اور اپنے پیچھے درمیانی رفتار کی خوشگوار ہوا چھوڑ گئے۔ یاد رہے کہ سورج کے گرمی بکھیرنے کی وجہ سے ربوہ کے بعض لوگ احتیاطی تدابیر کے ساتھ ضروری کاموں کے لیے ہی گھر سے باہر نکلتے ہیں، وہ بھی سر پر کپڑا لپیٹ کر اور گہرے رنگ کے شیشوں والی عینک لگا کر، تاکہ گرمی کے بد اثرات سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رہا جاسکے۔ اس موسم میں ٹھنڈے مشروبات اور پانی کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے۔ اتوار کو صبح کے وقت ہوا بالکل بند تھی، دوپہر کو ہلکی لُو چلنا شروع ہوگئی جو شام تک چلتی رہی۔ رات کو قدرے نارمل ٹمپریچر میں بدل گئی۔ سوموار کو بھی کافی گرم دن تھا۔ دوپہر کو لُو چلتی رہی اور شدید گرمی نے اپنا قبضہ کیے رکھا۔
منگل کو صبح کے وقت تو کسی حد تک ہوا جاری تھی لیکن دوپہر کو ہلکی لُو کی شکل اختیار کرگئی۔ لیکن شام کے وقت وہ بھی بند ہوگئی اور حبس نے اُس کی جگہ لے لی۔ بدھ کو صبح ہی سے تیز ہوا رواں دواں تھی جس کی وجہ سے دوپہر سے قبل تک موسم ٹھیک رہا لیکن پھر اس ہوا کے لُو بنتے ہی گرمی کی لہر آگئی۔ رات دس بجے کے قریب تیز آندھی آگئی اور گھروں میں ہر طرف مٹی کی چادر چھاگئی اور ہر چیز نے یہ چادر اوڑھ لی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد مٹی اس ہوا میں سے غائب ہوگئی اور ٹھنڈی ہوا چلتی رہی جس کی وجہ سے رات ٹھنڈی گزری۔ جمعرات کی صبح کو گذشتہ رات والی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ دوپہر تک تو وقت خوب اچھا گزرا کیونکہ بعد دوپہر یہ گرم ہوا میں ڈھل گئی۔ شام کے وقت آندھی نے بھی اپنی حاضری لگوائی جو گھنٹہ بھر جاری رہی پھر تیز اور ٹھنڈی ہوا رات بھر چلتی رہی۔ کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والوں کے لیے یہ سرد ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھی۔ اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سےزیادہ ۴۲؍۔ اور کم سے کم ۳۷؍۔ درجہ سینٹی گریڈ رہا۔(ابو سدید)



