اللہ کے گھر کی طرف قدم بڑھاؤ
اسلام عبادت کو صرف چند مخصوص اعمال تک محدود نہیں کرتا بلکہ پوری زندگی کو عبادت میں ڈھالنے کی تعلیم دیتا ہے۔ مومن کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا، محنت کرنا، سیکھنا، سکھانا، دوسروں کی خدمت کرنا، الغرض اس کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف ہو جائے تو اس کی زندگی کا ہر لمحہ عبادت بن جاتا ہے۔ یہی وہ حسین عمل ہے جسے قرآن کریم اور سنتِ نبویؐ نے مختلف انداز میں ہمیں سکھایا ہے۔
اسی قسم کی ایک مثال ہمیں نبی کریمﷺ کی اس حدیث میں ملتی ہے جس میں آپؐ نماز کے لیے مسجد کی طرف اٹھنے والے قدموں کو بھی ایک مسلمان کے لیے باعثِ رحمت قرار دیتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اپنے گھر میں اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کی طرف اللہ تعالیٰ کے ایک فرض کی ادائیگی کے لیے نکلتا ہے تو اس کے ایک قدم سے ایک گناہ مٹایا جاتا ہے اور دوسرے قدم سے ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ)

یہ حدیث بظاہر معمولی دکھائی دینے والے ایک عمل کو روحانی طور پر اہم قرار دیتی ہے۔ عام طور پر انسان سمجھتا ہے کہ عبادت مسجد میں پہنچ کر شروع ہوتی ہے، لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ عبادت کا آغاز تو اس لمحے سے ہو جاتا ہے جب ایک مومن اپنے گھر میں اُس کی نیت کر لیتاہے۔ گویا مسجد کی طرف اٹھنے والا ہر قدم بھی عبادت ہے، ہر قدم قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے، ہر قدم مغفرت کا وسیلہ ہے اور ہر قدم روحانی ترقی کا زینہ۔
باجماعت نماز وہ تصوّر ہے جس نے چودہ سو سال سے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کو ایک منفرد رنگ عطا کیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمان اپنی اپنی مساجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔ کہیں لوگ گاڑیوں میں مساجد پہنچتے ہیں، کہیں سائیکلوں پر، کہیں بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے، اور کہیں پیدل چل کر۔ مسلم اکثریت والے ممالک جہاں ہر محلے میں مساجد قائم ہیں، نماز کا وقت قریب آتے ہی گلیوں اور راستوں میں ایک خاموش مگر ایمان افروز منظر دکھائی دیتا ہے۔ گھروں کے دروازے کھلتے ہیں، بزرگ اپنی ٹوپی اور چھڑی سنبھالتے ہیں، نوجوان اپنے والدین کے ساتھ نکلتے ہیں اور ننھے بچے خوشی خوشی اپنے باپ یا دادا کی انگلی پکڑ کر مسجد کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔

مسجد تک کا یہ سفر محض چند منٹ کی پیدل مسافت نہیں ہوتی بلکہ نسلوں کی تربیت کی جانب ایک کوشش ہوتی ہے۔ کہیں درود شریف کی آواز فضا کو معطّر کر رہی ہوتی ہے، کہیں استغفار کی مدھم صدائیں سنائی دے رہی ہوتی ہیں، کہیں خاموش ذکرِ الٰہی جاری ہوتا ہے، کہیں باپ اپنے بیٹے کو اذان کے الفاظ یاد کرا رہا ہوتا ہے، کہیں دادا اپنے پوتے کو سمجھا رہا ہوتا ہے کہ نماز انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب کیسے لے جاتی ہے۔ یوں مسجد تک کا مختصر راستہ ایک ایسی خاموش درسگاہ بن جاتا ہے جہاں نہ کوئی رسمی استاد ہوتا ہے اور نہ کوئی نصاب، لیکن بزرگ اپنی آنے والی نسل کی کردار سازی کرتے نظر آتے ہیں۔
یہی وہ تربیت ہے جس کے نتیجے میں عبادت انسان کی طبیعت کا حصہ بن جاتی ہے۔ بچوں کو نماز صرف سکھائی نہیں جاتی بلکہ عمل کر کے سمجھائی جاتی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ والد اپنے کاروبار سے پہلے اللہ تعالیٰ کو مقدم رکھتے ہیں، بزرگ بڑھاپے اور کمزوری کے باوجود مسجد جانے کو سعادت سمجھتے ہیں، اور خاندان کے سب افراد ایک ہی مقصد کے لیے اپنے گھر سے نکلتے ہیں۔ یہی عملی نمونہ ان کے دلوں میں نماز کی محبت پیدا کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

اس سال جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے موقع پر روزنامہ الفضل انٹرنیشنل کی سوشل میڈیا ٹیم نے اسی روحانی حقیقت کو نہایت خوبصورت انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا مہم کا عنوان
’’اللہ کے گھر کی طرف قدم بڑھاؤ‘‘
رکھا۔ یہ عنوان محض ایک بےمعنی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل روحانی پیغام تھا۔ سوشل میڈیا ٹیم نے جلسہ سالانہ میں شامل مختلف ممالک سے آنے والے مہمانوں، رضاکاروں، خدام، انصار، کارکنان اور نوجوانوں سے گفتگو کی۔ ان سے تعارف حاصل کیا، ان کے جذبات پوچھے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف اٹھنے والے قدموں کی اہمیت سے واقف ہیں؟
محض اللہ کا فضل ہے کہ الفضل کی اس عاجزانہ کاوش کو پسند کیا گیا جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے جلسہ سالانہ کے ایک ایسے پہلو کو نمایاں کیا جس کی طرف عموماً ہماری توجہ کم جاتی ہے۔ دراصل اس جلسے کا مقصد نماز کو درجۂ احسان پر پہنچانا اور حقیقی رنگ میں ادا کر کے رضائے الٰہی کا حصول ہے۔

یہاں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ایسے ممالک میں جہاں مسلمان کثیر تعداد میں آباد ہیں ہر محلے میں مساجد قائم ہیں اور گھروں سے مسجد تک کا سفر زیادہ تر پیدل طے ہوتا ہےلیکن ترقی یافتہ ممالک میں جہاں مسلمان آبادی کم ہے اور مساجد گھروں سے دور واقع ہیں کم لوگ ہی پیدل چل کر مسجد پہنچتے ہیں۔ جلسہ سالانہ میں دنیا بھر سے آنے والے مہمان اگرچہ اپنی گاڑیوں، بسوں یا ٹرینوں کے ذریعے جلسہ گاہ تک پہنچتے ہیں، لیکن جلسہ گاہ کے اندر ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں سے آگے کوئی سواری نہیں جا سکتی اور ہر شخص کو پیدل چل کر جلسہ گاہ کی طرف جانا پڑتا ہے۔ کتنا خوب صورت منظر ہوتا ہے کہ کوئی بزرگ چھڑی کے سہارے چل رہا ہے۔کوئی نوجوان اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے دوڑ رہا ہے۔ ماں اپنے ننھے بچے کا ہاتھ پکڑے چل رہی ہے۔ ایک طرف کوئی احمدی کسی مہمان کی راہنمائی کر رہا ہےتو دوسری طرف ایک خادم لوگوں کی مسجد کی طرف راہنمائی کر رہاہے۔ کوئی بچہ ایسا بھی ہے جو پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ میں آیا ہے اور حیرت سے اردگرد دیکھتے ہوئے اپنے والدین کے ساتھ نماز کی طرف جا رہا ہے۔ ظاہری طور پر یہ سب مختلف راستوں پر چلتے آ رہے ہیں لیکن ان کا مقصد اور ان کی منزل صرف ایک ہے، جلسے میں شمولیت، نماز کا قیام۔
یہی وہ منظر ہے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مبارک حدیث کی عملی تصویر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف اٹھنے والا کوئی قدم رائیگاں نہیں جاتا۔ ہر قدم آسمان پر لکھا جاتا ہے، ہر قدم مغفرت کا ذریعہ بنتا ہے اور ہر قدم بندے کو اپنے رب کے مزید قریب لے جاتا ہے۔
جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والا ہر احمدی شاید اس حقیقت کو الفاظ میں بیان نہ کر سکے لیکن اس کا دل ضرور اس کیفیت کو محسوس کرتا ہے کہ یہاں اٹھنے والے قدم، عام قدم نہیں رہتے؛ یہ اس منزل کی طرف بڑھتے ہیں جہاں بندہ اپنے خالق کے حضور جھکتا ہے، اس کا ذکر سنتا ہے، اس کے دین کا علم حاصل کرتا ہے اور اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہے۔
جلسہ سالانہ کی عظمت کا اندازہ صرف حاضرین کی تعداد، انتظامات کے حسن یا علمی خطابات سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اس اجتماع کی اصل روح وہ نمازیں ہیں جن کے گرد پورا جلسہ سالانہ گردش کرتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو جلسہ گاہ میں ہونے والی ہر سرگرمی، ہر خدمت، ہر انتظام اور ہر ملاقات کا مرکز نماز ہی ہوتی ہے۔ وقتِ نماز آتے ہی بازار خاموش ہو جاتے ہیں، نمائشیں رک جاتی ہیں، دفاتر اپنی مصروفیات سمیٹ لیتے ہیں، مہمان توجہ کرتے ہیں اور سب کے قدم ایک ہی سمت اٹھنے لگتے ہیں۔ گویا ہزاروں انسانوں کے دلوں کی دھڑکن ایک ہی مرکز پر جمع ہو جاتی ہے۔
یہی وہ منظر ہے جو جلسہ سالانہ کو دنیا کے دوسرے اجتماعات سے ممتاز کرتا ہے۔ یہاں لوگ کسی دنیاوی مفاد، سیاسی اجتماع یا معاشرتی تقریب کے لیے جمع نہیں ہوتے بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے، دین سیکھنے، اپنے ایمان کی تجدید کرنے اور خلافت کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔
اسی حقیقت کی طرف رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظیم الشان حدیث راہنمائی کرتی ہے جس میں اللہ کے پیاروں کی مجلس کا ذکر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ میرے بندے کیا کر رہے ہیں؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ وہ تیرا ذکر کررہے ہیں، تیری حمد بیان کر رہے ہیں اور تیری بڑائی کا اقرار کر رہے ہیں۔ آخر پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:هُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِھِم جَلِيْسُهُمْ (صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللّٰہ عزّوجلّ) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی محروم اور بدبخت نہیں رہتا۔
یہ حدیث ہمیں ایک نہایت خوب صورت بات سمجھاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ذکر کی محفلیں اس قدر بابرکت ہیں کہ ان میں اتفاقاً آ جانے والا شخص بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ پالیتا ہے، تو وہ اجتماع جہاں ہزاروں انسان دنیا کے دور دراز ممالک سے حسنِ نیت کے ساتھ عازمِ سفر ہو کر کئی دن تک خلافت کے زیرسایہ اس تربیتی کیمپ میں شمولیت کرتے ہیں،کس قدر روحانی برکات کا حامل ہو گا۔ جلسہ سالانہ کا ہر روز اس حدیث کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ صبح کی اذان سے لے کر رات کی آخری نماز تک سارا ماحول ذکرِ الٰہی سے معمور رہتا ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت، اجتماعی دعائیں، علمی تقاریر، اور سب سے بڑھ کر خلیفۂ وقت کی فرمودہ نصائح اور حضور کی امامت میں ادا کی جانے والی نمازیں ایک ایسی روحانی فضا پیدا کرتے ہیں جس میں انسان خود کو دنیا سے کٹا ہوا اور اپنے رب کے قریب محسوس کرتا ہے۔
یہاں ایک اور نہایت لطیف پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والوں میں ہر طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ بظاہر ان سب کے کام مختلف ہیں، لیکن اگر ان کی نیت اللہ تعالیٰ کی رضا ہو تو یہ سب عبادت ہی کے مختلف رنگ بن جاتے ہیں۔اسی لیے یہ خیال دل میں پیدا ہوتا ہے کہ جلسہ گاہ میں اٹھنے والا ہر قدم درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف اٹھ رہا ہوتا ہے۔ چاہے وہ قدم نماز کے لیے ہو، کسی کی بے لوث خدمت کے لیے ہو، کسی مہمان کی مدد کے لیے ہو یا علم حاصل کرنے کے لیے، اس کی بنیاد رضائے الٰہی کا حصول ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ جلسہ سالانہ سے واپس جانے والا ہر شخص اپنے ساتھ صرف یادیں نہیں لے جاتا بلکہ ایک نئی روحانی کیفیت بھی لے کر جاتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ان چند دنوں میں اس نے صرف تقریریں نہیں سنیں بلکہ اپنے قدموں سے بھی عبادت کی، اپنی محنت سے بھی عبادت کی اور اپنی خدمت سے بھی عبادت کی۔اور یہی دراصل ’’اللہ کے گھر کی طرف قدم بڑھاؤ‘ کے پہلو کو اجاگر کرنے کا بنیادی مقصد ہے۔ یہاں صرف ظاہری قدموں کی بات نہیں بلکہ اس دل کی کیفیت بھی بیان کی جا رہی ہے جو ہر لمحہ اپنے رب کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔
جلسہ سالانہ کا روحانی ماحول انسان کو ایک اور بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسلام میں عبادت صرف مسجد کی چاردیواری تک محدود نہیں۔ مسجد مومن کی روحانی تربیت کا مرکز ضرور ہے، لیکن اس تربیت کا مقصد یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کا مظہر بن جائے۔ اور نماز اس سفر کا نقطۂ آغاز ہے، نقطۂ اختتام نہیں۔
قرآن کریم بار بار انسان کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کراتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف سفر ہونا چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (سورۃ البقرۃ:۱۴۹) یعنی اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے، پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔
یہ آیت محض ظاہری سمت کا ذکر نہیں کرتی بلکہ انسان کی زندگی کے مقصد کی بابت بھی راہنمائی کرتی ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی منزل کی طرف سفر کر رہا ہے۔ کوئی دنیا کے پیچھے دوڑ رہا ہے، کوئی شہرت کے پیچھے، کوئی دولت کے حصول میں مصروف ہے، لیکن مومن کی منزل ان سب سے بلند ہے۔ اس کا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے، اس لیے اس کی دوڑ بھی نیکیوں کی طرف ہوتی ہے۔
جلسہ سالانہ میں جب ہزاروں انسان ایک ہی وقت میں نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو گویا اس آیت کی عملی تفسیر سامنے آجاتی ہے۔ مختلف زبانیں، مختلف رنگ، مختلف قومیں اور مختلف ثقافتیں رکھنے والے لوگ ایک ہی سمت رخ کرتے اور ایک ہی قبلے کی طرف منہ کر کے نماز بجا لاتے ہیں۔ ان کے دلوں کا مرکز بھی ایک ہوتا ہے اور ان کے سجدے کا مقصد بھی ایک۔
قرآن کریم ایک اور مقام پر فرماتا ہے:فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ (سورۃ البقرۃ:۱۱۶) یعنی پس تم جدھر بھی رخ کرو، وہاں اللہ کا چہرہ (یعنی اس کی رضا اور اس کی توجہ) موجود ہے۔یہ آیت مومن کی زندگی کے تصوّر کو بہت وسیع کر دیتی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ قبلے کی اہمیت ختم ہو گئی، بلکہ مراد یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو وہ زندگی کے ہر میدان میں اپنے رب کو سامنے رکھتا ہے۔ اس کی تجارت بھی اللہ کے لیے، اس کی ملازمت بھی اللہ کے لیے، اس کی خدمت بھی اللہ کے لیے، اس کا علم بھی اللہ کے لیے اور اس کی عبادت بھی اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے۔ اس کی اپنے بیوی بچوں اور والدین سے محبت بھی اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو اس سے جلسہ سالانہ کے موضوع ’اللہ کے گھر کی طرف قدم بڑھاؤ‘‘ کے مفہوم کا ایک اور زاویہ ہمارے سامنے آتا ہے۔کیونکہ صرف وہ قدم بابرکت نہیں جو نماز کے لیے اٹھے، بلکہ وہ ہر قدم بابرکت ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اٹھایا جائے۔
ایک خادم جب پانی کی بوتل کسی مہمان تک پہنچاتا ہے، اگر اس کی نیت اللہ کی رضا ہے تو وہ بھی عبادت ہے۔ایک رضاکار جب کسی مہمان کو راستہ دکھاتا ہے، اگر اس کی نیت اللہ کی رضا ہے تو وہ بھی عبادت ہے۔ایک والد جب اپنے بچے کو نماز کے لیے ساتھ لے جاتا ہے، اگر اس کی نیت اللہ کی رضا ہے تو وہ بھی عبادت ہے۔ایک ماں جب اپنی اولاد کی دینی تربیت کرتی ہے، اگر اس کی نیت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے تو وہ بھی عبادت ہے۔
اسلام نیت کو عمل کی روح قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ایک ہی کام دو مختلف انسان کریں تو ایک کے لیے وہ دنیاوی فائدے کے ساتھ ساتھ عبادت بن جاتا ہے اور دوسرے کے لیے محض دنیاوی فائدے کا باعث رہ جاتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارہا اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مومن کے ہر عمل کا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ انسان کی عبادت صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی کا نمونہ بن جانی چاہیے۔ جب انسان کا دل خدا تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے تو اس کی دنیا بھی دین بن جاتی ہے۔
صوفیاء نے اسی حقیقت کو ایک مختصر مگر جامع جملے میں بیان کیا ہے:’’دست باکار، دل بایار۔‘‘ یعنی ہاتھ دنیا کے کاموں میں مصروف ہوں، لیکن دل اپنے محبوبِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہے۔یہی اسلامی تعلیمات کا حسن ہے۔ اسلام رہبانیت نہیں سکھاتا، بلکہ معاشرے کے اندر رہ کر، ذمہ داریاں نبھا کر، محنت کر کے، خدمت کر کے اور رزقِ حلال کما کر بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اگر ہم غور کریں تو جلسہ سالانہ بھی اسی فلسفے کی ایک زندہ تصویر بن کر ابھرتا ہے۔ یہاں نماز پڑھنے والا تو عبادت کر ہی رہا ہے لیکن خدمت کرنے والا، علم حاصل کرنے والا، قرآن سننے والا، مہمان کی خدمت کرنے والا اور خلیفۂ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اطاعت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرنے والا احمدی چاہے وہ حضور کے تازہ ارشاد کی اطاعت میں پارکنگ کی ڈیوٹی پر مامور خادم کی ہدایات پر بلا چون و چرا عمل ہی کیوں نہ کر رہا ہواللہ تعالیٰ سے اپنے عمل کا اجر پا رہا ہے۔اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جلسہ گاہ میں اٹھنے والا ہر قدم اپنے اندر گویا بزبانِ حال ایک دعا سموئے ہوئے ہوتا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان چند دنوں میں انسان اپنے آپ کو ربّ دوجہاں کے اس قدر قریب محسوس کرتا ہے کہ دنیا کی بہت سی فکریں خود بخود اس سے دُور ہو جاتی ہیں۔ اس کے دل میں ایک نئی روشنی پیدا ہوتی ہے، اس کے ایمان میں تازگی آتی ہے اور اس کی زندگی کا مقصد پھر سے اپنے خالق کی رضا چاہنا بن جاتا ہے۔ اور یہی وہ منزل ہے جہاں اسلام انسان کو پہنچانا چاہتا ہے کہ عبادت صرف ایک وقت، ایک مقام یا ایک عمل کا نام نہ رہے بلکہ پوری زندگی عبادت میں ڈھل جائے، پوری زندگی خداتعالیٰ کے لیے وقف ہو جائے۔اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نہایت جامع الفاظ میں بیان فرماتا ہے:قُلْ إِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (سورۃ الانعام: 163) یعنی کہہ دے! یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
یہ آیت دراصل مومن کی پوری زندگی کا منشور ہے۔ اس میں صرف نماز کا ذکر نہیں بلکہ زندگی اور موت دونوں کو اللہ تعالیٰ کے لیے قرار دیا گیا ہے۔ گویا اسلام انسان سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ دن کے چند منٹ عبادت کرے اور باقی زندگی دنیا کے لیے گزار دے بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اس کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کا مظہر بن جائے۔جب اس زاویۂ نگاہ سے جلسہ سالانہ کو دیکھا جائے تو اس کی روح مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔یہاں آنے والا شخص محض چند تقاریر سننے نہیں آتا، بلکہ وہ اپنی روحانیت کو تروتازہ کرنے آتا ہے۔وہ اپنے ایمان کی تجدید کرنے آتا ہے۔وہ خلافت سے تعلق مضبوط کرنے آتا ہے۔وہ قرآن کے عشق کو نیا رنگ دینے آتا ہے۔ وہ دعاؤں کی قبولیت کے تازہ نشانات دیکھنے آتا ہے۔وہ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے آتا ہے جن کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنے قدم اٹھاتا ہے۔کسی نے شاید کبھی یہ نہ سوچا ہو کہ پارکنگ سے مارکی تک چلنے والا راستہ بھی عبادت بن سکتا ہے۔کسی نے شاید کبھی یہ محسوس نہ کیا ہو کہ ڈیوٹی پر جاتے ہوئے اٹھنے والے قدم بھی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو سکتے ہیں۔
آج کے دور میں جب رفتار زندگی کی علامت بن چکی ہے، انسان اپنی صحت کے لیے زیادہ سے زیادہ قدم چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے قدموں کو گنتا ہے، دوستوں، رشتہ داروں سے مختلف apps کے ذریعہ موازنہ کرتا ہےکہ کس نے زیادہ قدم چلے۔ اسلام ہمیں صرف چلنا نہیں سکھاتا بلکہ صحیح سمت میں چلنا سکھاتا ہے۔اس لیے سوال یہ نہیں کہ ہم روزانہ کتنے ہزار قدم چلتے ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے قدم کس مقصد کے لیے اٹھتے ہیں۔اگر ہماری تجارت دیانت داری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔اگر ہماری ملازمت ایمان داری کے ساتھ انجام دی جا رہی ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔اگر ہماری تعلیم خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کے لیے ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔اگر ہماری خدمتِ خلق، ہمارے کاروبار، ہمارے تعلقات، ہماری ذمہ داریاں اور ہماری محنت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہو تو ہماری پوری زندگی عبادت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
دست باکار، دل بایار شاید جلسہ سالانہ میں سیکھے جانے والی باتوں میں سے ایک اہم بات ہے۔ یہ چند دن ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتے کہ نماز کیسے ادا کرنی ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتے ہیں کہ نماز کی روح کو اپنی پوری زندگی میں کیسے جاری رکھنا ہے۔ اگر جلسہ سالانہ کے بعد بھی ہمارے قدم اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف اٹھتے رہیں، اگر ہمارے گھروں سے مساجد کا راستہ آباد رہے، اگر والدین اپنی اولاد کا ہاتھ پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف چلتے رہیں، اگر ہماری زبان ذکرِ الٰہی سے تر رہے، اگر ہماری نیت ہر کام میں رضائے الٰہی بن جائے، اگر ہماری دنیا بھی اللہ کے لیے ہو اور ہمارا دین بھی اللہ کے لیے تب ہم امید کر سکتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مبارک بشارت ہمارے شاملِ حال ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھنے والا کوئی قدم ضائع نہیں جاتا۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ جلسہ سالانہ کے بابرکت ایام صرف چند یادگار لمحے بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ہماری پوری زندگی کی سمت کو درست کر دیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہمارے قدم ہمیشہ نیکی کی طرف اٹھیں، ہماری زبان اس کے ذکر سے آباد رہے، ہمارے دل اس کی محبت سے منور رہیں، اور ہماری زندگی قرآنِ کریم کی اس جامع دعا کی عملی تفسیر بن جائے:یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہیں۔آمین
مزید پڑھیں: اداریہ۔ حقیقی امن دینے والےمحمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں




