شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
[گذشتہ سے پیوستہ۔ تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۴؍جون ۲۰۲۶ء]
دین کو دنیا پر مقدم رکھنا …
قربانی کا اعلیٰ معیار
پھردین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے لئے آٹھویں شرط میں یہ ہے کہ اپنی جان، مال، عزت ہر چیزکو قربان کرے گا۔ اور جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دین کو دنیا پرمقدم کرنے کے نظارے ہمیں نظر آتے رہتے ہیں۔ مائیں اپنے بچے پیش کرتی ہیں ، باپ سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر لا رہے ہوتے ہیںکہ یہ اب جماعت کا ہے اورجہاں چاہے جماعت اس کی قربانی لے لے۔ بچے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کررہے ہوتے ہیں کہ ہم بھی حضرت اسماعیل کی طرح اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ اور یہ نظارے پہلے بھی تھے اور اب بھی قائم ہیں اس کی ایک مثال دیتاہوں۔
۱۹۲۳ء میں ہندوؤں نے شدھی تحریک شروع کی تو اس کے خلاف احمدیہ جماعت کی کوششوں میں بچے بھی بڑوں سے پیچھے نہیں رہے۔ پانچ سالہ بچے بھی ملکانہ کے علاقوں میں جانے کے لئے تیار ہوگئے۔ ایک بارہ سالہ بچے نے اپنے والد کو لکھا کہ دین حق کی خدمت کرنا بڑوں کا ہی نہیں ہمارا بھی فرض ہے۔ اس لئے جب آپ دعوت الی اللہ کے لئے جائیں تو مجھے بھی لے چلیں اور اگر آپ نہ جائیں تو مجھے ضرور بھیج دیں۔ (تلخیص از تاریخ احمدیت۔ جلد نمبر۵۔ صفحہ۳۳۶۔ مطبوعہ ۱۹۶۴ء)
یہ باتیں جیساکہ مَیں نے پہلے کہا کوئی پرانے قصے ہی نہیں اب بھی یہ نظارے نظر آتے ہیں اور آج بھی واقفین نوبچے جب مجھے ملنے آتے ہیں اس ماحول میں بھی جب ان سے پوچھا جاتاہے کہ بڑے ہو کرکیاکرناہے، کیا بنناہے۔ یہی جوا ب ان کا ہوتاہے کہ جو آپ کہیں گے ہم وہی بننے کی کوشش کریں گے۔ اور جماعت بتائے کہ ہم نے کیاکرناہے۔ یہ جذبہ ہے احمدی بچے کا۔ اور جب تک یہ جذبہ قائم رہے گا اور ان شاءاللہ قیامت تک یہ جذبہ قائم رہے گا۔ تو جماعت کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔
حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنا دیاہے اور اپنے ہم وطنوں سے ہجر ت کرکے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب سے علیحدہ ہو کر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائیگی میں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ ‘‘ (اصحاب احمد۔ جلد پنجم۔ حصہ سوم۔ صفحہ ۱۳۰۔ مطبوعہ ۱۹۶۴ء)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’حبی فی اللہ مولوی حکیم نوردین صاحب بھیروی۔ …ان کے ما ل سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے مَیں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پربیان کر سکوں۔ مَیں نے ان کو طبعی طورپر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جان نثار پایا ہے۔ اگرچہ ان کی روزمرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے کہ وہ ہر یک پہلو سے اسلام اور مسلمانوں کے سچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اوّل درجہ کے نکلے‘‘۔ (ازالہ اوہام۔ صفحہ ۷۷۷۔ روحانی خزائن۔ جلد ۳۔ صفحہ ۵۲۰)
پھر حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کے بارہ میں فرماتے ہیں:’’ان کی عمر ایک معصومیت کے رنگ میں گزری تھی اور دنیا کے عیش کا کوئی حصہ انہوں نے نہیں لیا تھا۔ نوکری بھی انہوں نے اسی واسطے چھوڑدی تھی کہ اس میں دین کی ہتک ہوتی ہے۔ پچھلے دنوں میں ان کو ایک نوکری دو سو روپے ماہوار کی ملتی تھی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ خاکساری کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی گزاردی۔ صرف عربی کتابوں کے دیکھنے کا شوق رکھتے تھے۔ اسلام پر جو اندرونی بیرونی حملے پڑتے تھے ان کے اندفاع میں عمر بسر کر دی۔ باوجود اس قدر بیماری اور ضعف کے ہمیشہ ان کی قلم چلتی رہتی تھی۔ ‘‘(سیرت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ از محمود مجیب اصغر۔ صفحہ ۱۰۸)
حضرت نوا ب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اپنے بھائی کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ:’’جن امور کے لئے مَیں نے قادیان میں سکونت اختیار کی ہے مَیں نہایت صفائی سے ظاہر کرتاہوں کہ مجھ کو حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود کی بیعت کئے ہوئے بار ہ سال ہوگئے اور مَیں اپنی شومئی طالع سے گیارہ سال گھر میں ہی رہتاتھا اور قادیان سے مہجور تھا صرف چند دنوں گاہ گاہ یہاں آتارہا اور دنیا کے دھندوں میں پھنس کر بہت سی اپنی عمر ضائع کی۔ آخر جب سوچا تو معلوم کیا کہ عمر تو ہوا کی طرح اڑ گئی اور ہم نے نہ کچھ دین کا بنایا اور نہ دنیا کا۔
یہا ںمَیں چھ ماہ کے ا رادہ سے آیا تھا (یعنی قادیان )مگر یہاں آ کر مَیں نے اپنے تمام معاملات پر غور کیا تو آخر یہی دل نے فتویٰ دیا کہ دنیا کے کام دین کے پیچھے لگ کر تو بن جاتے ہیں مگر جب دنیا کے پیچھے انسان لگتاہے تو دنیا بھی ہاتھ نہیں آتی اور دین بھی برباد ہوجاتاہے اور مَیں نے خوب غور کیا تو مَیں نے دیکھا کہ گیارہ سال میں نہ مَیں نے کچھ بنایا اور نہ میرے بھائی صاحبان نے کچھ بنایا۔ اور دن بدن ہم باوجود اس مایوسانہ حالت کے دین بھی برباد کر رہے ہیں۔ آخر یہ سمجھ کر کہ کار دنیا کسے تمام نہ کرد ، کوٹلہ کو الوداع کہا اور مَیں نے مصمم ارادہ کر لیاکہ مَیں ہجرت کرلوں۔ سو الحمدللہ مَیں بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتاہوں کہ مَیں نے کوٹلہ سے ہجرت کرلی ہے اور شرعاً مہاجر پھر اپنے وطن میں واپس اپنے ارادہ سے نہیں آسکتا۔ یعنی اس کو گھر نہیں بنا سکتا۔ ویسے مسافرانہ وہ آئے تو آئے۔ پس اس حالت میں میراآنامحال ہے۔ مَیں بڑی خوشی اور عمدہ حالت میں ہوں۔ ہم جس شمع کے پروانے ہیں اس سے الگ کس طرح ہو سکتے ہیں…۔
میرے پیارے بزرگ بھائی! مَیں یہاں خدا کے لئے آیاہوں اور میری دوستی اور محبت بھی خدا ہی کے لئے ہے۔ مَیں کوٹلہ سے الگ ہوں مگر کوٹلہ کی حالت زار سے مجھ کو سخت رنج ہوتاہے۔ خداوندتعالیٰ آپ کو ہماری ساری برادری اور تمام کوٹلہ والوں کو سمجھ عطا فرمائے کہ آپ سب صاحب اسلام کے پورے خادم بن جائیں اور ہم سب کا مرنا اور جینا محض اللہ ہی کے لئے ہو۔ ہم خداوند تعالیٰ کے پورے فرمانبردار مسلم بن جائیں۔ … ہماری شرائط بیعت میں ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور اپنی مہربان گورنمنٹ کے شکرگزار ہوں ، اس کی پوری اطاعت کریں۔ یہی چیز مجھ کو یہاں رکھ رہی ہے کہ جوں جوں مجھ میں ایمان بڑھتا جاتاہے اسی قدر دنیا ہیچ معلوم ہوتی جاتی ہے اوردین مقدم ہوتا جاتاہے۔ خداوند تعالیٰ اور انسان کے احسان کے شکر کا احساس بھی بڑھتا جاتاہے اسی طرح گورنمنٹ عالیہ کی فرمانبرداری اورشکرگزاری دل میں پوری طرح سے گھر کرتی جاتی ہے۔ ‘‘(اصحاب احمد۔ جلد ۲۔ صفحہ ۱۲۶تا ۱۲۹۔ مطبوعہ ۱۹۵۲ء)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۴۲تا۲۴۵)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ پکڑ میں جلدی نہیں کرتا



