سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

پروفیسرمارگولیتھ جواسلام کے بڑے مخالف اوربڑے مصنف ہیں وہ ایک دفعہ مجھ سے ملنے کے لئے قادیان آئے اور کہنے لگے ۔کوئی ایسی بات پیش کریں جومیرے لئے حجت ہو۔میں نے ان انعامات کاذکرکیاجوحضرت مرزاصاحب نے مخالفین اسلام کے لئے پیش کئے ہیں ۔اس پرکہنے لگے اگرمیں جواب لکھوں توکون انعام دے گا۔کیونکہ مرزاصاحب توفوت ہوچکے ہیں میں نے کہا، بےشک حضرت مرزاصاحب فوت ہوچکے ہیں مگرآپ کاسلسلہ تو فوت نہیں ہوا۔آپ جواب دیں مَیں آپ کوانعام دوں گا۔ (حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ)

[گذشتہ سے پیوستہ]

اب ہر معترض بشمول مولوی ابوالحسن صاحب ندوی دیکھ لیں کہ یہاں تو کتاب کی قیمت واپس کرنے کے لئے یہ بھی اعلان کردیا کہ اگر کوئی خریدار فوت ہوچکاہے تو اس کے وارث مجھ سے قیمت واپس لے لیں ۔یہ اشتہار ۱۸۹۳ء کا ہے اورمولوی صاحب نے کتنے سال بعد یہ شوشہ چھوڑاکہ خریداروں کی بڑی تعدادفوت ہوگئی ۔جبکہ حضرت اقدسؑ تو فوت شدہ کے وارثوں کو بھی قیمت دینے کا اعلان کررہے تھے۔اب اعتراض میں سے کیا باقی رہ گیا سوائے اس کے کہ اس ارشاد ربانی پر عمل کرتے ہوئے ان سے کنارہ کشی کرلی جائے فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ (الانعام: ۱۱۲) پس تُوان کوبھی اوران کے جھوٹ کو بھی نظر اندازکردے۔

حضرت اقدس علیہ السلام کی ذات پر براہین احمدیہ کا پیسہ کھانے کا الزام لگانے والوں کے لیے تفصیلی جواب امیدہے کافی ہوگا بشرطیکہ ذرہ برابر بھی ان کے دل میں خوفِ خدا اور دل ونظر میں انصاف کی رمق ہوگی۔ان کی خدمت میں یہ بھی عرض ہے کہ براہین احمدیہ کے ان خریداروں کی ایک کثیر تعداد تو ویسے بھی حق قبول کرنے کی سعادت پاتے ہوئے احمدیت کی آغوش میں آچکی تھی اور ان کی طرف سے قیمت کامطالبہ نہ ہوانہ ہوسکتاتھا اور جو اس سعادت سے محروم رہے ان کے لیے قیمت کی واپسی کا اعلان براہین احمدیہ شائع ہونے کے دوسال بعد سے لے کر مسلسل ہوتارہایہاں تک کہ ان کے وارثوں کو وہ قیمت واپس لینے کا اختیاردیا گیا ۔

اس لیے حضرت بانی سلسلہ پر براہین احمدیہ کی قیمت اور اس ضمن میں روپیہ اکٹھا کرنے اور قیمت کھاجانے اور بددیانتی کا الزام لگانا ایک اتہام ہے اور ایک دیانت دار معصوم سادہ اور پاک دل پر یہ اتہام لگانے والے یقینا ً خداکے حضور مجرم کے طور پر پیش ہوں گے اس طرح کہ ’’لُعِنوا فی الدنیاوالآخرة۔‘‘

اس ضمن میں ایک اور بہت ہی اہم بات جو ہمیں کبھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے وہ یہ کہ خدا کے یہ فرستادے اَلْقَوِيُّ الْأَمِينُ ہواکرتے ہیں ۔ان کی امانت ودیانت کا عالَم ہی کچھ اورہوتاہے ۔اس جگہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کے اس خوبصورت اورحیرت انگیز واقعہ جو آپؑ کی اسی سیرت اور شیشہ دل کی عکاسی کرنے والا ہے کے بیان سے رہ نہیں سکتا۔

حضرت منشی ظفراحمدؐ صاحب جو کہ حضرت اقدسؑ کےایک قدیم صحابی ؓ تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام لیٹے ہوئے تھے اور سید فضل شاہ صاحب مرحوم حضور کے پاؤں دبارہے تھے ۔اورحضرت صاحب کسی قدر سوگئے ۔فضل شاہ صاحب نے اشارہ کرکے مجھے کہا کہ یہاں پر جیب میں کچھ سخت چیز پڑی ہے ۔میں نے ہاتھ ڈال کرنکالی توحضور کی آنکھ کھل گئی ۔آدھی ٹوٹی ہوئی گھڑے کی چپنی اور ایک دوٹھیکرے تھے۔میں پھینکنے لگا تو حضور نے فرمایا کہ یہ میاں محمود نے کھیلتے کھیلتے میری جیب میں ڈال دئے ۔آپ پھینکیں نہیں ۔میری جیب میں ہی ڈال دیں ۔کیونکہ انہوں نے ہمیں امین سمجھ کر اپنے کھیلنے کی چیز رکھی ہے ۔وہ مانگیں گے توہم کہاں سے دیں گے ۔پھروہ جیب میں ہی ڈال دئے ۔(سیرت المہدی جلد دوم روایت نمبر۱۰۹۱)

یہ ہے ان امین لوگوں کا اسوہ اب جو چندٹھیکریوں کو امانت سمجھ کر سنبھالے ہوئے ہے۔ تھے تو چند درہم ودینار۔گو کہ یہ بھی ان لوگوں کے نزدیک ٹھیکریوں سےکچھ زیادہ حیثیت نہیں رکھتے کی امانت کا پاس کیوں نہ کیاہوگا۔یقیناً کیااورہم نے حضرت اقدسؑ کی تحریرات سے ہی ثابت کیاہے کہ ایک ایک خریدار کو آپؑ نے کتاب ارسال کی اور اگر کسی نے اعتراض کیا تو اس کو قیمت واپس کرنے کا اس طرح اعلان کیاکہ معاہدہ ٔ بیع کی رُو سے اگر وہ قیمت واپس لینے کا استحقاق نہیں بھی رکھتا تھا تو بھی اس کو حق دیا کہ قیمت واپس لے لے اور اگر وہ فوت ہوگیاہے تو اس کے وارثوں کو حق دیا کہ آؤ تم قیمت واپس لے لو۔ ایسا امین اور دیانت دار انسان کہاں سے ملے گا۔

؂ڈھونڈوگے اگر مُلکوں مُلکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے براہین احمدیہ کے ہرخریدارکوجوکہ دراصل اب خریداران معنوں میں رہابھی نہیں جیساکہ تفصیل اوپربیان ہوچکی لیکن پھربھی آپؑ نے فرمایاکہ جوچاہے وہ کتاب واپس کرکے اپنی پیشگی دی ہوئی قیمت واپس لے لے ۔ اوراگرکوئی خریدار فوت ہوچکاہے اوراس کو کتاب نہیں ملی تو معتبرگواہوں کی شہادت کے ساتھ ہمیں لکھے اورہم اس کوقیمت واپس کرنے کوتیارہیں۔ ایک سو انتیس سال ہونے کوآئے ۔ نہ کوئی ایساخریدارسامنے آیا اورنہ ان کے وارث…آج ایک بارپھراشتہاراور اعلان ہے ہرایسے متاثرہ فریق سے کہ وہ آج بھی اپنے کسی مورث کی طرف سے دی گئی قیمت کوواپس لینے کاشوق پوراکرسکتاہے۔اسی طریق پرجوکہ حضرت اقدسؑ نے بیان فرمایاتھا اور ہم یہ نہیں کہتے کہ اس کوپانچ روپے واپس کئے جائیں گے ۔نہیں ! انصاف کاتقاضا ہے کہ جوویلیواس وقت ان پانچ روپے کی تھی اس کے مطابق رقم دی جائے گی ۔ سوخاکسارنے ایک جگہ یہ حساب کیاتھا کہ اس زمانہ میں ۲۰ روپے تولہ سوناتھا۔ تویہی معیار رہے گا ان پانچ روپے کی قدرکا۔ سوکتاب لائیں ،واپس کریں، یارسیددکھائیں اور پانچ روپے کے برابر رقم جوبھی بنتی ہے آج بھی واپس لے لیں۔

حضرت مصلح موعودؓ نے ایک وقت اسی قسم کے تمام چیلنجزکی بابت ایک اصولی بات فرمائی تھی ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : ” اس زمانے میں دس ہزار کے معنی آج کے لحاظ سے لاکھوں روپیہ کے تھے ۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ چیلنج دیا مگرآج تک کسی نے اسے قبول نہیں کیا۔اب بھی وہ کتاب موجودہے اور اس کے چیلنج کوہم آج بھی تسلیم کرتے ہیں…

پروفیسرمارگولیتھ جواسلام کے بڑے مخالف اوربڑے مصنف ہیں وہ ایک دفعہ مجھ سے ملنے کے لئے قادیان آئے اور کہنے لگے،کوئی ایسی بات پیش کریں جومیرے لئے حجت ہو۔ میں نے ان انعامات کاذکرکیاجوحضرت مرزاصاحب نے مخالفین اسلام کے لئے پیش کئے ہیں ۔اس پرکہنے لگے اگرمیں جواب لکھوں تو کون انعام دے گا۔ کیونکہ مرزا صاحب توفوت ہوچکے ہیں میں نے کہا،بے شک حضرت مرزا صاحب فوت ہوچکے ہیں مگرآپ کاسلسلہ تو فوت نہیں ہوا۔ آپ جواب دیں میں آپ کوانعام دوں گا۔‘‘ (تحقیق حق کاصحیح طریق، انوارالعلوم جلد ۱۳ صفحہ ۴۱۰)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: یوم مصلح موعودؓ منانے کے اغراض و مقاصد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button