بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۲)
٭… جب ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں اور نیت یہ ہوتی ہے کہ اس کے پڑھنے سے فوت شدہ عزیز کی مغفرت ہوگی۔ کیا ایسا کرنے سے کسی کی مغفرت ہو جاتی ہے، یا اس کا ثواب فوت شدہ عزیز کو پہنچتا ہے؟
٭… ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ کیا شادی کرنا فرض ہے؟ ۲۔ رسول اللہﷺکا یہ فرمان کہ جس نے شادی کی اس نے آدھا دین سیکھ لیا، اس کا کیا مطلب ہے؟
۳۔ آریہ سماج ہندو تھے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنی خوابیں اور الہامات ان کے سامنے بیان کرنا کیوں ضروری تھا؟ ۴۔میں نے اپنی پڑھائی، نمازوں اور دینی کتب کے مطالعہ کے لیے ایک شیڈیول بنایا ہوا ہے، میں اس شیڈیول میں کیسے تسلسل رکھ سکتا ہوں اور اپنے دنیوی معاملات اور دین میں توازن کس طرح رکھ سکتا ہوں؟
٭…جنّ کیا ہوتے ہیں؟ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے دو واقعات سنے ہیں، جن میں آپ نے جناّت کو دیکھنے کا ذکر کیا ہے۔ کیا یہ حقیقت ہے؟
٭… کیا خواتین گھر پر اعتکاف کر سکتی ہیں؟
٭…کیا کانوں میں زیادہ سوراخ کروانا حرام ہے؟
سوال: پاکستان سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ جب ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں اور نیت یہ ہوتی ہے کہ اس کے پڑھنے سے فوت شدہ عزیز کی مغفرت ہوگی۔ کیا ایسا کرنے سے کسی کی مغفرت ہو جاتی ہے، یا اس کا ثواب فوت شدہ عزیز کو پہنچتا ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۷؍اپریل ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔ حضورانور نے فرمایا:
جواب:کسی کے لیے صرف قرآن کریم پڑھنے سے اس کی مغفرت ہونے والی بات تو درست نہیں۔ اور ویسے بھی مغفرت کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے۔ کسی انسان کو اس بات کا اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی کی مغفرت کے لیے کوئی عمل بجا لائے۔ ہاں کسی شخص کی وفات کے قریب اس کو سکون پہنچانے کے لیے اس کے پاس سورت یٰسین کی تلاوت کرنے کا حکم ضرور احادیث میں ملتا ہے(سنن ابی داؤد کتاب الجنائز بَاب الْقِرَاءَةِ عِنْدَ الْمَيِّتِ) لیکن کسی فوت شدہ کے لیے قرآن کریم پڑھنے کی بات صرف ایک بدعت ہے، اس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔پھر ویسے بھی کسی فوت شدہ کے لیے قرآن کریم پڑھنےکا جو طریق عوام الناس میں رائج ہے، اس میں کئی لوگ تو قرآن پڑھتے بھی نہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے پڑھ لیا ہے۔ پس یہ ایک ایسا اختراء ہے جو آنحضورﷺ اور آپ کے صحابہ سے ہرگز ثابت نہیں۔

ہاں اپنے فوت شدہ عزیزوں کے لیے دعا ضرور کرنی چاہیے، جو اللہ تعالیٰ قبول بھی فرماتا ہے اور اس کا ثواب اس فوت شدہ عزیز کو بھی پہنچاتا ہے، جس کے حق میں وہ دعا کی جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: میّت کو صدقہ خیرات جو اس کی خاطر دیا جاوے پہنچ جاتا ہے لیکن قرآن شریف کا پڑھ کر پہنچانا حضرت رسول کریم ؐ اور صحابہؓ سے ثابت نہیں ہے۔ اس کی بجائے دعا ہے جو میت کے حق میں کرنی چاہیے۔ میت کے حق میں صدقہ خیرات اور دعا کا کرنا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی سنت سے ثابت ہے۔ لیکن صدقہ بھی وہ بہتر ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے دے جائے۔ کیونکہ اس کے ذریعہ سے انسان اپنے ایمان پر مہر لگا دیتاہے۔ (ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۲۳۰، ایڈیشن۲۰۲۲ء)
سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ کیا شادی کرنا فرض ہے؟ ۲۔ رسول اللہﷺکا یہ فرمان کہ جس نے شادی کی اس نے آدھا دین سیکھ لیا، اس کا کیا مطلب ہے؟ ۳۔ آریہ سماج ہندو تھے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنی خوابیں اور الہامات ان کے سامنے بیان کرنا کیوں ضروری تھا؟ ۴۔ میں نے اپنی پڑھائی، نمازوں اور دینی کتب کے مطالعہ کے لیے ایک شیڈیول بنایا ہوا ہے، میں اس شیڈیول میں کیسے تسلسل رکھ سکتا ہوں اور اپنے دنیوی معاملات اور دین میں توازن کس طرح رکھ سکتا ہوں؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۱؍مئی ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے ۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب:شادی کرنا فرض تو نہیں لیکن آنحضورﷺکی ایسی سنت ہے، جس کی حضورﷺنے بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنی مثال دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں نے بھی شادیاں کی ہیں، پس جس نے میری اس سنت سے بےرغبتی اختیار کی اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ (صحیح بخاری کتاب النکاح بَاب التَّرْغِيبِ فِي النِّكَاحِ۔ شرح بخاری جلد ۱۳ صفحہ ۳) علاوہ ازیں حضورﷺنے شادی کی اہمیت کے پیش نظر اپنے متبعین کو یہ بھی تاکید فرمائی کہ جو تم میں سے شادی کی توفیق رکھتا ہے اسے لازمی شادی کرنی چاہیے کیونکہ شادی نظریں نیچی رکھنے اور پاکدامن رہنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جس میں شادی کے لیے مالی استطاعت نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ رکھنے سے شہوت کم ہوجاتی ہے۔(صحیح بخاری کتاب الصوم بَاب الصَّوْمِ لِمَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزْبَةَ۔ شرح بخاری جلد۳ صفحہ۵۷۱)
پس بلا وجہ حضورﷺکی اس سنت سے بے رغبتی اختیار کرنا اور مجردانہ زندگی گزارنے کی کوشش کرنا ہر گز درست اور مناسب فعل نہیں ہے۔
۲۔ آپ کا دوسرا سوال کہ شادی سے آدھا دین مکمل ہو جاتاہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جب ایک بندہ شادی کرتا ہے تو اس کا نصف دین مکمل ہو جاتا ہے۔ پس چاہیے کہ باقی نصف دین کے معاملات میں بھی وہ تقویٰ سے کام لے۔ (المعجم الاوسط للطبرانی باب الميم من اسمه محمد، حدیث نمبر ۷۸۶۲) اس حدیث میں بھی دراصل شادی ہی کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ انسان کی جنسی خواہش اور پیٹ کی بھوک اس کی دو ایسی ضرورتیں ہیں جن کی وجہ سے اس کے دین کےبگڑنے کا ڈر ہوتا ہے۔ شادی کے ذریعہ چونکہ انسان بے حیائی کے فتنہ سے بچ جاتا ہے اور اس لحاظ سے وہ شیطان کے حملہ سے محفوظ ہو کر دین کے اس حصہ کی تکمیل کر لیتا ہے۔ اس لیے حضورﷺنے فرمایا کہ اس سے اس کا نصف دین مکمل ہو جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جنسی بے راہ روی کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بری راہ ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لیے سخت خطرناک ہے۔ اور جس کو نکاح میسر نہ آوے چاہیے کہ وہ اپنی عفت کو دوسرے طریقوں سے بچاوے۔ مثلاً روزہ رکھے یا کم کھاوے یا اپنی طاقتوں سے تن آزار کام لے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد۱۰ صفحہ۳۴۲)
۳۔ باقی آریہ سماج کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الہامات و کشوف اور خوابیں بیان کرنے کے بارے میں آپ کا سوال ہی غلط ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ آپ دین اسلام کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر کے دکھا دیں اور خدا تعالیٰ کی توحید کو ساری دنیا پر پھیلا دیں۔ اس کے لیے جہاں آپ نے اپنے الہامات و کشوف اور خوابیں جو اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عطا ہونے والے تازہ بتازہ نشانات پر مشتمل ہوتے تھے، مشرق و مغرب کے تمام ادیان کے سامنے پیش فرمائے، وہاں آریہ سماج والوں پر بھی اسلام کی برتری اور حقانیت ثابت کرنے کے لیے آ پ نے ان نشانوں کو ان کے سامنے پیش فرمایا، تا وہ بھی دین اسلام کی سچائی کو پہچان کر اس طرف قدم بڑھائیں اور خدائے واحد کے آستانہ پر اپنا سر جھکائیں۔
۴۔ دینی و دنیوی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں توازن رکھنے کے متعلق آپ کے سوال کے جواب میں تحریر ہے کہ پڑھائی، نمازوں اور مطالعہ کتب کے شیڈیول پر عمل کرنے کے لیےضروری بات یہ ہے کہ ہر کام کو وقت پر کرنے کی عادت ڈالیں، کاموں میں توازن قائم رکھیں۔ ان کاموں کے لیے ایک حد تک مشقت اور مجاہدہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور سب سے زیادہ ضروری چیز دعا ہے، اس سے مدد حاصل کریں۔
سوال: پاکستان سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ جنّ کیا ہوتے ہیں؟ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے دو واقعات سنے ہیں، جن میں آپ نے جناّت کو دیکھنے کا ذکر کیا ہے۔ کیا یہ حقیقت ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۱ مئی ۲۰۲۴ء میں اس بارےمیں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: قرآن کریم اور حدیث میں جنّ کا لفظ کثرت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔جس کے معنی مخفی رہنے والی چیز کے ہیں۔ جو خواہ اپنی بناوٹ کی وجہ سے مخفی ہو یا اپنی عادات کے طور پر مخفی ہو ۔ اور یہ لفظ مختلف صیغوں اور مشتقات میں منتقل ہوکر بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور ان سب معنوں میں مخفی اور پس پردہ رہنے کا مفہوم مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔
جماعتی لٹریچر بالخصوص حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت کی تحریرات و تقاریر میں جنّ کا لفظ عموماً اسی مفہوم میں بیان ہوا ہے۔ اور اس سارے کلام میں عوام الناس کے ذہنوں میں پائے جانے والے جنّات کے بارہ میں ہر ایسے تصوّر اورمفہوم کی نفی کی گئی ہےجو انسانوں پر قبضہ کرلیں ، عورتوں کو چمٹ جائیں، لوگوں کو ستائیں یا ان کے قابو میں آجائیں اور انہیں ان کی پسند کی چیزیں لا لا کر دیں۔ ایسے جن ّ وہمی لوگوں کے دماغوں کی تخلیق ہے، جنہیں اسلامی تعلیم تسلیم نہیں کرتی۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی جنّوں کے متعلق ہمیشہ یہی موقف بیان فرمایا ہے کہ قرآن و حدیث میں ایسے جنّوں کا کہیں ذکر نہیں ملتا جو مولویوں کے دماغوں کے جنّ ہیں اور جو ان کے کہنے پر راتوں رات کسی شخص کو اٹھا کر ان کے سامنے حاضر کر دیں۔چنانچہ حضور اپنی معرکہ آراء تصنیف ’’الہام، عقل، علم اور سچائی‘‘ میں فرماتے ہیں: اب ہم سائنسی تناظر میں از منۂ قدیم کے قصّے کہانیوں میں مذکور جنّ کی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں۔… جنّ کا لفظ کسی پوشیدہ، غیر مرئی، الگ تھلگ اور دور کی چیز پر دلالت کرتا ہے۔ اس میں گہرے اور گھنے سائے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے جَنَّۃٌ کے لفظ کو (جو اسی مادہ سے نکلا ہے) جنت کے لیے استعمال کیا ہے جو ایسے گھنے باغات پر مشتمل ہے جن کے سائے بہت ہی گہرے ہیں۔ جنّ کے لفظ کا اطلاق سانپوں پر بھی ہوتا ہے جو فطرتاً پوشیدہ اور چھپ کر رہنا پسند کرتے ہیں جس کے لیے وہ الگ تھلگ بلوں اور چٹانوں میں موجود سوراخوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ جنّ کا لفظ با پردہ عورتوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور ایسے سرداروں اور بڑے لوگوں کے لیے بھی جو عوام سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح دوردراز اور دشوارگزار پہاڑی علاقوں میں بسنے والے لوگوں پر بھی جنّ کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ المختصر عام انسانی نگاہ سے اوجھل اور پوشیدہ ہر چیز پر جنّ کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔
جنّ کے لفظ کا مذکورہ بالا مفہوم آنحضرتﷺ کی اس حدیث کے عین مطابق ہے جس میں آپﷺ نے لوگوں کو خشک گوبر اور ہڈیوں سے استنجا کرنے سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ یہ جنّوں کی خوراک ہے۔ جس طرح آج کل صفائی کے لیے ٹائلٹ پیپر استعمال کئے جاتے ہیں اسی طرح پرانے زمانہ میں لوگ صفائی کے لیے مٹی کے خشک ڈھیلے، پتھر یا قریب پڑی کوئی اور خشک چیز استعمال کیا کرتے تھے۔ پس ہم بآسانی یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں جس جنّ کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد کوئی غیر مرئی مخلوق ہی ہے جس کا گزارہ ہڈیوں اور فضلہ وغیرہ پر ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت دنیا میں بیکٹیریا اور وائرس کا کوئی تصوّر موجود نہیں تھا اور کوئی شخص اس قسم کی غیر مرئی اور خوردبینی مخلوق کا تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس مخلوق کی طرف آنحضرتﷺ نے اشارہ فرمایا ہے، عربی زبان میں اس کے لیے جنّ سے بہتر اور کوئی لفظ نہیں ہے۔(الہام، عقل، علم اور سچائی صفحہ۳۱۱ ،۳۱۲)
باقی جنّوں کے بارہ میں میرا ایک تفصیلی جواب’’ بنیادی مسائل کے جوابات ‘‘ کی قسط نمبر ۱۷ میں الفضل انٹرنیشنل میں اردو میں اور الحکم میں انگریزی میں شائع ہو چکا ہے۔ اسے بھی پڑھ لیں۔
سوال: کینیڈا سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ کیا خواتین گھر پر اعتکاف کر سکتی ہیں؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۴؍مئی ۲۰۲۴ء میں اس مسئلہ کے بارے میں درج ذیل ہدایت عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: قرآن کریم نے اعتکاف کو مساجد کے ساتھ ہی جوڑا ہے۔ (البقرہ:۱۸۸) اور آنحضور ﷺ کی سنت متواترہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ مسجد میں ہی اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور آپ کی ازواج بھی آپ کے ساتھ مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں۔(صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب اعتکاف النساء۔ شرح بخاری جلد۳ صفحہ۷۰۴)
پس مسنون اعتکاف کے لیے ضروری ہے کہ مسجد میں ہی ہو۔ لیکن انتہائی مجبوری کی صورت میں گھر پر بھی اعتکاف ہوسکتا ہے مگرایسی صورت میں مسجد والا ثواب نہیں مل سکتا۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا گھر میں اعتکاف ہو سکتا ہے؟ آپؓ نے فرمایا: مسجد کے باہر اعتکاف ہو سکتا ہے مگر مسجد والا ثواب نہیں مل سکتا۔ (فرمودات مصلح موعودؓ دربارہ فقہی مسائل صفحہ ۱۷۱)
ثواب کے اس فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مرد کے لیے نماز باجماعت اور نماز جمعہ کی ادائیگی فرض ہے، لیکن جب وہ گھر پر ا عتکاف کرے گا تو نماز باجماعت اور نماز جمعہ جیسے فرائض کی ادائیگی نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ ان نیکیوں کے ثواب سے محروم رہ جائے گا۔
باقی جہاں تک عورتوں کے اعتکاف کا مسئلہ ہے تو جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ حضورﷺ کی ازواج مطہرات حضورﷺ کے ساتھ مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ اسی لیے جماعتی انتظام کے تحت بھی ماہ رمضان میں اس مسنون اعتکاف کا عورتوں کے لیے مساجد میں انتظام کیا جاتا ہے اور یہ انتظام مسجد کے اس حصہ میں ہوتا ہے جہاں عورتیں نماز ادا کرتی ہیں۔ لیکن اگر کسی عورت کو مسجد میں جگہ نہ ملے یا کسی اورمجبوری کی وجہ سے وہ گھر پر اعتکاف کرے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
فقہاء نے بھی اس مسئلہ کے بارہ میں مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ حضرت امام شافعیؒ نے عورتوں کے لیے مسجد میں اعتکاف کو مکروہ قرار دیا ہے،کہ وہاں مردوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک عورت اپنے گھر کی مسجد میں معتکف ہو سکتی ہے۔احناف کے نزدیک عورت کاگھر میں اعتکاف کرنا افضل اور مسجد میں مکروہ تنزیہی ہے۔ البتہ حضرت امام ابو حنیفہؒ اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا فتویٰ ہے کہ عورت اپنے خاوند کے ساتھ مسجد میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے۔ محمد بن عمر مالکی ؒ کے نزدیک ہر جگہ میں اعتکاف ہو سکتا ہے۔ مسجد کی تخصیص نہیں۔ (شرح بخاری از حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جلد سوم صفحہ ۷۰۰،۶۹۹و ۷۰۴۔ کتاب الاعتکاف)
سوال: یوکے سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ کیا کانوں میں زیادہ سوراخ کروانا حرام ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۴؍مئی ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: حدیث میں آتا ہے کہ آنحضورﷺ نے ایک موقعہ پر عورتوں کو صدقہ کرنے کی تحریک فرمائی تو عورتوں نے بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر حضورﷺ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ (صحیح بخاری کتاب العلم بَاب عِظَةِ الْإِمَامِ النِّسَاءَ وَتَعْلِيمِهِنَّ۔ شرح بخاری جلد۱ صفحہ ۱۷۳)
اس حدیث سے اہل علم نے عورتوں کے لیے کان چھدوانے کے جواز کا استدلال کیا ہے۔ پس زیور پہننے کے لیے عورتوں کے کان اور ناک کی حد تک Piercingکروانے کا رواج شروع سے چلا آتا ہے اور اس میں کسی قسم کی قباحت اور ممانعت نہیں پائی جاتی۔
اسلام نے چیزوں کی حلت و حرمت کے احکامات کے علاوہ بعض اشیاءکے طیب و غیر طیب ہونے اور بعض کاموں کے لغو ہونے کے بارہ میں بھی تعلیمات دی ہیں۔اسی طرح ہر کام کی ایک حد مقرر فرما دی ہے، جب اس حد سے تجاوز کیا جائے تو ایک جائز کام بھی بعض اوقات ناجائز یا لغو کے زمرہ میں شامل ہو جاتا ہے۔ جس میں پڑنے سے ایک مومن کو منع کیا گیا ہے۔ (المومنون:۴)
پس پردہ کے التزام کے ساتھ لڑکیوں کے لیے ناک اور کان میں زیور کے استعمال کے لیے ایک مناسب اور جائز حد تک Piercingکروانے کی اجازت ہےلیکن اگر اس میں حد سے تجاوز کیا جائے اور زمانہ کی بے راہروی میں بہہ کر اس کام میں مبالغہ شروع کر دیا جائے تو ایسی صورت میں پھر عورتوں کے لیے بھی یہ کام لغو اور ناجائز کے زمرہ میں آئے گا۔
مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط ۱۲۱)



