ربوہ میں جشن آزادی قومی و ملی جوش و جذبے سے منایا گیا۔
(رپورٹ : ابو سدید)
۱۴۔اگست ۲۰۲۶ء کوربوہ سمیت ملک بھر میں 79واں جشن آزادی قومی و ملی جوش وجذبے، حب الوطنی اور حفاظتِ وطن کے عزم کے ساتھ منایا گیا۔ ملک بھر کے ساتھ ساتھ ربوہ میں بھی عام تعطیل رہی۔ دن کا آغاز نماز فجر میں ملکی ترقی، یکجہتی، امن اور خوشحالی کیلئے دعاؤں کے ساتھ ہوا۔ مشکل اور نامساعد حالات کے باوجود اہل ربوہ کا اپنے عزیز وطن کے لیے جوش و جذبہ کم نہیں ہوسکتا،اس لئے یوم آزادی کے موقع پر ربوہ کی گلیاں، محلے، چھوٹی بڑی مارکیٹیں، کوچہ و بازار قومی پرچم کے رنگوں میں رنگ گئے اور ہر طرف گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔ بازاروں اور دکانوں میں ملی نغمے گونجتے رہے۔ ربوہ کے مرکزی اور ذیلی تنظیموں کے دفاتر، سکولز، کالجز،سرکاری و نیم سرکاری اداروں، نجی عمارتوں،بازاروں اور محلہ جات کی بڑی چھوٹی مارکیٹوں اور دکانوں کوچراغاں، برقی قمقموں، جھنڈیوں اور سبز پرچموں سے سجایا گیا تھا۔بازار کی بات کی جائے تو اقصیٰ چوک سے لاری اڈے تک،گول بازار، کالج روڈ اور رحمت بازار کی مارکیٹوں اور دکانوں میں چراغاں کیا گیا اور تزئین و آرائش کی گئی۔
یہ بات اہم ہے کہ جماعت احمدیہ کی اپنے عزیز وطن کے لیے خدمات ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتی ہیں، قیام پاکستان، اس کی تعمیر و ترقی و خوشحالی اور دفاع کے میدانوں میں احمدی سپوتوں نے انتھک اور قربانیوں سے لبریز خدمات سر انجام دے کر تاریخ پاکستان میں ایک روشن مثال قائم کی ہے۔
جونہی یکم اگست کا سورج طلوع ہو ا،بازاروں سے لے کر گلی محلوں کی مارکیٹوں میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار آگئی۔ جشن آزادی کے حوالے سے مختلف چیزوں، بیجوں، جھنڈیوں، باجوں، بڑے چھوٹے جھنڈوں اور ان کو لگانے کے لیے بانس وغیرہ پر مشتمل سٹالز سجنا شروع ہوگئے۔ جوں جوں ۱۴۔اگست کی تاریخ نزدیک آتی گئی ان سٹالز کی رونقوں میں اضافہ اور بازاروں میں چہل پہل شروع ہوگئی۔ گھر اور دکانیں سجنا شروع ہوگئیں۔ اس اہم دن کے لیے لوگوں کی شاپنگز اور خریدو فروخت کا جوش و جذبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اقصیٰ روڈ پر اتنا رش ہوتا کہ ٹریفک تو دُور کی بات پیدل چلنا بھی مشکل ہونا شروع ہوگیا۔ ان رونقوں، چہل پہل اور رش کی انتہا ۱۳۔۱۴ کی شام اور رات کو ہوگئی جب ربوہ بھر کے شہری اور گردونواح کے لوگ ربوہ کے بازاروں اور مارکیٹوں میں اُمڈ آئے اور آزادی کا جشن منانے کیلئے سڑکوں پرنکل آئے۔ خاص طور پر عوام کا مرکز نگاہ اقصیٰ چوک تھا۔ اقصیٰ چوک کوسبز ہلالی پرچموں، جھنڈیوں، رنگوں اور روشنیوں سے سجایا گیا تھا، ان دنوں میں اقصی ٰ چوک کا المعروف فوارہ بھی چلایا گیا جو ہر ایک نگاہ کا مرکز تھا اور بلاشبہ ہر شخص اسی کی طرف کشاں کشاں کھنچا چلا جاتا تھا۔ جہاں تِل دھرنے کو جگہ نہ ملتی تھی۔ جشن آزادی کی رونقیں دیکھنے کے لیے شہریوں، فیملیز اور بچوں نے گھروں سے نکل کر بھرپور شرکت کی۔شام کے وقت جماعتی اور پرائیویٹ گھوڑوں کی دیگر گلیوں اور سڑکوں کے علاوہ چوک کے گردا گرد پریڈ بھی ہوئی جس میں ایک جیسے سفید کپڑوں میں ملبوس، سر پر سفید اور سبز پگڑیاں سجائے، ساتھ لوائے پاکستان بلند کئے گھڑ سواروں نے اقصی ٰ چوک کے کئی چکر لگائے، گھوڑوں کو بھی اس موقع کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا تھا۔ بعض نوجوان اپنی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر چھوٹے بڑے سبز ہلالی پرچم سجائے ریلیوں کی شکل میں اور چھوٹے گروپس میں گھومتے رہے۔ ہر طرف پاکستان زندہ باد کے نعروں، ملی نغموں، گیتوں اور باجوں کی آوازوں سے ماحول میں ہر طر شور سنائی دیتا تھا، کان پڑی آواز تک نہیں آتی تھی۔ یومِ آزادی کی خوشیوں میں شہریوں کی شرکت اور قومی ثقافت و یکجہتی کو اجاگر کرنا،جشن آزادی کا دن، وطن سے محبت، باہمی اتحاد اور پاکستان کے روشن مستقبل کے عزم کی تجدید کا دن ہے نوجوان اور ننھے بچے قومی رنگوں کے لباس پہنے اور سر پر ٹوپیاں اور ہیٹ سجائے سڑکوں پر خوشی کا اظہار کرتے رہے۔۱۴۔ اگست کے سٹالز، ہوٹلوں، جوس، برگر، شوارما، فروٹ چاٹ، دہی بھلے، گول گپے اور دیگر کھانے پینے کی دکانوں پر خوب رش لگا رہا۔
ربوہ میں ۱۴۔ اگست کا آغاز وقار عمل سے ہوا۔ اکثر محلہ جات میں تو خدام ربوہ نے رات کو ہی وقار عمل اور تزئین و آرائش کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔مختلف محلہ جات میں خدام و اطفال نے وقار عمل کے ذریعے گلیوں کو صاف کیا اور ان کو سجایا سنوارا، سڑک کے کناروں پر چونے سے لائنیں لگائی گئیں۔ محلے کے داخلی حصے میں سبز و سفید غباروں، جھنڈیوں اورمختلف آرائشی چیزوں سے گیٹ بنائے گئے اور راستوں کو سجایا۔
۱۴۔اگست کی صبح کوایوان ناصر کے سبزہ زار میں پرچم کشائی کی مرکزی تقریب منعقد ہوئی جس میں قومی پرچم لہرایا گیا اور ملک کی سلامتی، خوشحالی، استحکام اور امن و امان کے لئے دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر قومی ترانہ پڑھا گیا، بچے اور بچیاں سفید اور سبز لباس زیب تن کئے، ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم پکڑے، جوش و خروش اور خوشی سے لہراتے رہے۔ یہ سچ ہے کہ ۱۴۔ اگست کا دن قربانیوں، جدوجہد اور آزادی کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔ آج ہمیں اور غیروں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
