جماعت احمدیہ گیمبیا کے اڑتالیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا کامیاب انعقاد
٭… ’’قرآن کریم-عصر حاضر کے چیلنجز کا حل‘‘ کے مرکزی موضوع پر منعقدہ جلسہ سالانہ میں روحانی و علمی موضوعات پر تقاریر کا سلسلہ
٭… دو خاندانوں کے بارہ افراد کو بیعت کرکے احمدیت کی آغوش میں آگئے
محض اللہ تعالیٰ کے فضل سےجماعت احمدیہ گیمبیا کو اپنا ۴۸واں جلسہ سالانہ ’’قرآن کریم-عصر حاضر کے چیلنجز کا حل‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۱۰تا۱۲؍اپریل ۲۰۲۶ء بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار جماعتی سکول نصرت احمدیہ سینئر سیکنڈری سکول بانجل/کومبو میں منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

جلسہ کی تیاری کے لیے مکرم کیمو سونکو صاحب افسر جلسہ سالانہ کی نگرانی میں مختلف شعبہ جات کی کمیٹیاں قائم کی گئیں جن میں انصار، خدام اور اطفال شامل تھے۔ تمام کارکنان نے بھرپور محنت سے بروقت تیاری مکمل کی۔ جلسہ گاہ اور رہائش کی تیاری کے لیے وقارِ عمل کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہو چکا تھا جس میں اطفال، خدام اور انصار نے حصہ لیا۔ ملک بھر سے خدام ایک ہفتہ قبل پہنچ کر مسلسل وقارعمل میں مصروف رہے جبکہ ممبرات لجنہ اماءاللہ و ناصرات بھی پیش پیش رہیں۔ مکرم بابا ایف تراولے صاحب امیر جماعت احمدیہ گیمبیا نے جلسہ سے ایک روز قبل جمعرات کو جلسہ گاہ کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا اور کارکنان کو نصائح کیں۔
جلسہ میں شرکت کے لیے آمد کا سلسلہ ایک روز قبل یعنی جمعرات سے شروع ہوگیا تھا۔ ملک بھر سے افراد جماعت قافلوں اور انفرادی طور پر سفر کرتے ہوئے دوپہر سے رات تک جلسہ گاہ پہنچتے رہے جبکہ بعض احباب جمعہ کی صبح پہنچے۔ نومبائعین سے خصوصی رابطہ کر کے انہیں شرکت کی تحریک کی گئی جس پر انہوں نے بہت عمدہ ردعمل دکھایا اور ایک اچھی تعداد میں شامل ہوئے۔
پہلا دن:مورخہ ۱۰؍اپریل بروز جمعۃ المبارک صبح نماز تہجد و فجر باجماعت ادا کی گئیں۔ فجر کے بعد درس حدیث ہوا۔ کچھ وقت آرام کے بعد تمام شاملین کی ناشتے سے تواضع کی گئی۔ اس کے بعد نماز جمعہ کی تیاری کا وقت تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے طول وعرض سے احباب کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔

دوپہر بارہ بجے تمام حاضرین نے جلسہ گاہ میں بیٹھ کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ براہ راست سنا جس کا ساتھ ساتھ انگریزی ترجمہ بھی نشر ہوا۔ دوپہر دو بجے نماز جمعہ کا وقت تھا۔ خطبہ جمعہ مکرم محمود احمد طاہر صاحب مبلغ انچارج گیمبیا نے دیا جس میں آپ نے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کی اہمیت وبرکات و دعائیں از ارشادات حضرت مسیح موعودؑ وخلفائے کرام بیان کیں۔
نمائش:جلسہ کے موقع پر مختلف نمائشیں بھی لگائی گئیں جن میں جماعتی کتب، جماعتی میگزین الاسلام، جماعتی رفاہی ادارہ ہیومینٹی فرسٹ اور گیمبیا میں نیا شروع ہونے والے ادارے ’مرزا غلام قادر آئی۔ ٹی‘ کی نمائشیں شامل تھیں۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مکرم امیر صاحب وفد کے ہمراہ ان تمام نمائشوں میں تشریف لے گئے اور باقاعدہ افتتاح کرنے کے بعد ان کی حوصلہ افزائی کی، لاگ بک میں اپنے تاثرات لکھے اور نمائشوں کی کامیابی کےليےدعا کی۔
پرچم کشائی:سہ پہر پانچ بجے جلسہ کی باقاعدہ کارروائی پرچم کشائی کے ساتھ شروع ہوئی۔ مکرم امیر صاحب نے لوائے احمدیت جبکہ گیمبیا کا جھنڈا مکرم ایلمن نیانگ صاحب صدارتی مشیر برائے مذہبی امور نے لہرایا۔ لوائے احمدیت کے فضا میں بلند ہوتے ہی ماحول نعرہ ہائے تکبیر سے گرمایا۔
افتتاحی اجلاس:پرچم کشائی کے بعد جلسہ کے پہلے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جوکہ مکرم لامین نیابلی صاحب مبلغ سلسلہ نے کی۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کا قصیدہ بانجل کومبو کے خدام نے پڑھا۔ امسال جلسہ کے موقع پر بہت سے حکومتی ارکان شامل ہوئے۔ مکرم امیر صاحب نے سب کو خوش آمدید کہا اور وقت کی مناسبت سے بعض کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے ليے موقع دیا۔
تقسیم اعزازات: دوران سال تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے احمدی طلبہ میں جماعتی روایت کے مطابق اعزازات تقسیم کرنے کی تقریب ہوئی۔ مکرم الحاجی باہ صاحب نیشنل سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ طلبہ کو قرآن کریم، اسناد، میڈل اور نقد رقم بطور تحفہ دی جائے گی اور یہ انعامات گریڈ ۹، گریڈ ۱۲، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کو ديے جائیں گے۔ طلبہ کو انعامات یہاں سٹیج پر جبکہ طالبات کو لجنہ ہال کے سٹیج پر صدر صاحبہ لجنہ دیں گی۔ اس کے بعد انہوں نے طلبہ کو بلایا اور معزز مہمانان نے ان کو یہ تحائف پیش کيے۔
اس تقریب کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ جماعت کا مقصد اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعلیم کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا ہے اور جماعت احمدیہ یہ کام امن اور محبت کو فروغ دیتے ہوئے جاری رکھے ہوئے ہے۔
مکالمہ:بعد از نماز مغرب وعشاء دو علماء نے ’شرائط بیعت پر عمل‘ کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی جس میں شرائط بیعت پر عمل کرنے کی اہمیت بیان کی اور بعد میں سوالات کے جواب بھی دیے۔
دوسرا روز:جلسہ کے دوسرے دن کا آغاز حسب معمول نماز تہجد، فجر اور درس حدیث سے ہوا۔
دوسرا اجلاس:صبح دس بجے جلسہ کے دوسرے اجلاس کا آغاز مکرم شیخ نبیل احمد صاحب مبلغ سلسلہ و نمائندہ امیر صاحب سینیگال کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کی سعادت مکرم سلیمان تانجا صاحب مبلغ سلسلہ کو ملی۔ اس کے بعد مکرم روحان احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے نظم پیش کی۔ بعدازاں مکرم محمود احمد طاہر صاحب مبلغ انچارج نے ’’قرآنی تعلیم کے ذریعہ اخلاقی اصلاح‘‘ اور مکرم عبدالرحمٰن چام صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات کی روشنی میں سوشل میڈیا کا مفید استعمال‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ ان تقاریر کے بعدتین نومبائعین کو سٹیج پر بلایا گیا جنہوں نے اپنے قبول احمدیت کی داستان اور قبول احمدیت کے بعد ہونے والی مخالفت میں ثبات قدم کے واقعات سنائے۔ یہ واقعات بہت جذباتی اور ایمان افروز تھے۔ حاضرین اس حصہ اجلاس سے بہت محظوظ ہوئے۔ آخر پر مکرم صدر اجلاس نے احادیث کی روشنی میں جلسہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے نصیحت کی کہ ہم سب کو ان تقاریر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہيے۔ اس اجلاس کے بعد تیاری نماز کا وقت تھا۔ بعدازاں نماز ظہر وعصر جمع کرکے ادا کی گئیں پھر ظہرانہ پیش کیا گیا۔
نومبائعین کی امیر صاحب سے ملاقات:اجلاس کے اختتام کے بعدLower River Regionسے آنے والے نومبائعین کی مکرم امیر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کو ایک ہفتہ قبل احمدیت قبول کرنے کی سعادت ملی تھی۔ ان میں سے ایک نَومبائع نے بتایا کہ ہم احمدیت کو مکمل طور پر سمجھ کر احمدی ہوئے ہیں اور اب ہمارے ذہنوں میں کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ امیر صاحب نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ خواہ کوئی ایک ہفتہ پہلے احمدی ہوا ہے خواہ دس سال پہلے ہوا ہے، خلافت کے سایہ تلے ہم سب ایک اور برابر ہیں۔ اس ليے اب جماعتی کتب پڑھ کر اپنےعلم کو بڑھاتے رہیں اور یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ اس کے بعد امیر صاحب کےساتھ نومبائعین کا گروپ فوٹو ہوا اور امیر صاحب نے دعا کروائی۔
تیسرا اجلاس: دوپہر کے کھانے کے بعد سہ پہر چار بجے تیسرے اجلاس کا آغاز ہوا جس کی صدارت مکرم جم جاؤ صاحب نائب امیر سوم نے کی۔ تلاوت قرآن کریم مکرم عبدالسلام والی صاحب نے پیش کی اور مکرم سعید سمبا سو صاحب نے مقامی زبان میں نظم پیش کی۔ اس اجلاس میں درج ذیل تقاریر ہوئیں: ’’مختلف النوع معاشروں میں معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ذرائع‘‘ از مکرم کیمو سونکو صاحب اور ’’ختم نبوت کا حقیقی تصور‘‘ از مکرم ابراہیم کمارا صاحب مبلغ سلسلہ۔ ان تقاریر کے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا جس کے بعد نماز مغرب وعشاء جمع کرکے ادا کی گئیں۔
جلسہ مستورات:جلسہ کے دوسرے دن جلسہ گاہ مستورات میں مستورات کا اپنا پروگرام اور تقاریر ہوئیں جو کہ سارا دن جاری رہیں۔ صبح دس بجے جلسہ گاہ مستورات میں پہلا اجلاس مکرمہ مریم جاٹا صاحبہ نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ گیمبیا کی صدارت میں ہوا جس میں تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد درج ذیل عناوین پر تقاریر ہوئیں: افتتاحی تقریر از صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ گیمبیا، ’’قرآن کریم موجودہ دور کے مسائل کا مکمل ہدایت نامہ ہے‘‘ از مکرمہ فاطمۃ باہ صاحبہ اور ’’محبت سے تربیت اولاد کے بارے میں اسلام کی راہنمائی‘‘ از مکرمہ ایمن روحان صاحبہ۔
اس کے بعد اجلاس کا اختتام ہوا اور نماز ظہر وعصر جمع کرکے ادا کی گئیں۔
بعد از ظہرانہ دوسرا اجلاس تلاوت قرآن کریم اور نظم سے شروع ہوا۔ اس اجلاس میں درج ذیل تقاریر ہوئیں: ’’اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سوشل میڈیا کا مثبت استعمال مفید ہوسکتا ہے‘‘ از مکرمہ حناۃ اللہ اکوموپائی صاحبہ اور ’’قرآن کریم-ایک مکمل ضابطہ حیات‘‘ از مکرمہ نورمن فاتح صاحبہ۔
اس کے بعد نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات کو انعامات و اسناد سے نوازا گیا۔ آخر پر مکرم امیر صاحب گیمبیا نے تقریر کی اور اجتماعی دعا کرائی۔
تیسرا روز:جلسہ کے تیسرے دن کا آغاز بھی باجماعت تہجد اور نماز فجر کے بعد درس سے ہوا۔
اختتامی اجلاس:جلسہ سالانہ کا چوتھا اور اختتامی اجلاس بروز اتوار صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوا جس کی صدارت مکرم امیر صاحب گیمبیا نے کی۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد مقامی زبان میں ’’جلسہ سالانہ کی برکات اور امام مہدی کو ماننےکے بعد بدعات کو ترک کرنا‘‘ کے موضوع پر ایک نظم پیش کی گئی۔ نظم کے بعد مکرم لامین جابی صاحب منسٹر آف کمیونیکیشن اینڈ ڈیجیٹل اکانومی نے اپنے اظہار خیال میں جماعتی سکول ناصر احمدیہ بصے سے اپنی وابستگی کا ذکر کیا، امیر صاحب اور جماعت کی خدمات اور جماعت کے ماٹو ’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘ کو سراہا۔ بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے اختتامی تقریر میں موجودہ مسائل کے پیش نظر اہل خانہ کی حفاظت اور قرآن کریم کو حرز جاں بنانے کی تلقین کی نیز ملکی انتخابات کے پُرامن انعقاد کے لیے دعا کی درخواست کی اور آخر میں منتظمین و کارکنان کا شکریہ ادا کیا۔ لوکل زبانوں میں دونوں تقاریر کا خلاصہ پیش کیا گیا۔ آخر پر امیر صاحب نے دعا کرائی اور یوں جلسہ کا باقاعدہ اختتام ہوا۔
روانگی احباب:دعا کے بعد جلسہ شاملین کی واپسی شروع ہوئی۔ احباب اجتماعی دعا کے بعد قافلوں کی صورت میں روانہ ہوئے۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام احباب بخیر وعافیت اپنی منازل پر پہنچ گئے۔ الحمدللہ
مفت میڈیکل کیمپ:جلسہ سالانہ کے دوران جماعتی ہسپتال کی طرف سے مفت میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا جس میں شاملین کو چیک اَپ اور ادویات مہیا کی گئیں۔
نئی بیعتیں:جلسہ کے روحانی ماحول سے متاثر ہوکر اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو خاندانوں کی بارہ سعید روحوں نے بیعت کرکے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک
مختلف ممالک کی نمائندگی و تاثرات:اس جلسہ میں مختلف ممالک سے نمائندگان شامل ہوئے جن میں سینیگال، گنی بساؤ، امریکہ، کینیڈا، یوکے اور جرمنی کے نمائندے شامل ہیں۔ یوں ایک لحاظ سے یہ جلسہ بین الاقوامی بن گیا۔ الحمدللہ
گیمبیا کے ایک نومبائع مکرم کیبا جوب صاحب نے کہا کہ یہ ان کا پہلا جلسہ تھا جو توقعات کے برعکس ایک خالص مذہبی و روحانی تجربہ ثابت ہوا۔ انہوں نے مہمان نوازی اور پردے کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں انہوں نے خدا پر سچا یقین اور تہجد کی پابندی سیکھی اور سب کو جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کی تلقین کی۔
میڈیا کوریج:اس جلسہ کو ای ٹی اے گیمبیا نے نہ صرف کور (cover)کیا بلکہ فیس بک اور یوٹیوب پر اس کی لائیو ٹرانسمیشن بھی دی۔ یوںیہ جلسہ دنیا کے مختلف کونوں میں بیٹھے احمدیوں اور غیراحمدیوں نے براہ راست دیکھا۔ جماعتی رسالہ الاسلام (Alislam) جس کی چھپائی گیمبیا میں ہی ہوتی ہے، نے بھی جلسہ کی کارروائی کی ساتھ ساتھ رپورٹ اپنے سوشل میڈیا چینل پر جاری کی۔
جماعتی میڈیا کے علاوہ جلسہ کو ملک کےتقریباً تمام ریڈیو اور ٹی وی چینلز، الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا نےکور(cover)کیا اور جلسہ کے متعلق پروگرام اور خبریں بھی بہت اچھے طور پرپیش کیں۔ اسی طرح مختلف چینلز نے جلسہ کے بارے میں ڈاکومنٹری کی طرز پر رپورٹ بھی شائع کی۔
اللہ تعالیٰ تمام شاملین کے حق میں حضرت مسیح موعودؑ کی جلسہ کے بارے میں کی گئی تمام دعائیں قبول فرمائے اور سب شاملین کو اس جلسہ سے بھر پور مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ:مسعود احمد طاہر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: مجلس انصاراللہ جرمنی کی ماہ فروری ۲۰۲۶ء میں بعض مساعی




